را کی خبر بارے مزید ثبوت
کچھ لوگ یہ کہہ رہے کہ کیا گارنٹی ہے کہ یہ را ہی ہے؟ اسکے لیے یہ دو کلپس غور سے دیکھیں اور سنیں۔
پہلا کلپ واٹس ایپ کی conversation ہے۔ 27 فروری سے پہلے تک بات ہورہی تھی پہلا آرٹیکل چھپوانے کی جو کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کیخلاف تھا۔ میں پورے فروری کے مہینے ان سے پیسوں کا تقاضا کرتا رہا کہ پیسے ایڈوانس دیں تاکہ فنانشل ٹرانزکشن کا ثبوت آئے۔
یہ آج اور کل پر ٹال رہے تھے۔ پھر 27 کو ایک بڑا امپورٹنٹ ایونٹ ہوتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں جھڑپیں ہوتی ہیں۔ اسی دن یہ ایڈوانس پیمنٹ کی رقم ایزی پیسہ کے ذریعے بھیجتے ہیں اور اسکے ساتھ ہی ایک اور کام کرتے ہیں۔
مجھ سے کہتے ہیں کہ کوئی current situation کے متعلق معلومات اگر ہیں تو وہ شہیر کریں۔ وہ معلومات ویڈیوز تصاویر جو میڈیا پر نہ ہوں۔ یہ بارڈر کی صورتحال کا اور جنگ کا ایک PR فرم سے کیا تعلق۔
دوسرا کلپ میری واٹس ایپ کال کی ریکارڈنگ کا ہے (یہ کال پہلے 8 مہینوں کے مسلسل رابطے کی بعد خبر چھاپنے کی وقت کی) جب ہم نے اپنے خبر مکمل کرلی تو انکو confront کرنے کے لیے فیصلہ کیا کہ اب ان کو صاف صاف بتاتے ہیں کہ ہمیں پتہ ہے آپ PR فرم نہیں بلکہ را ہیں ایک تو اس سے انکا موقف آ جائے گا دوسرا انکی حقیقت بھی سامنے آجائے گی کہ وہ اصل میں کون ہیں۔ اس کلپ میں آپ سن سکتے ہیں کہ پہلے اس نے کہا نہیں ہم PR ہی جب میں نے یہ کہا میں بچہ نہیں تو اسکے بعد وہ برطانیہ شفٹ کرنے اور دوسری آفرز پر آگئی۔
نوٹ: جو حقیقی صحافت کرتے اور سمجھتے ہیں انکو ان ثبوتوں سے سمجھ آجائے گی باقی جنہوں نے نہیں سمجھنا انکے سامنے سو ثبوت بھی رکھ دیں انہوں نے نہیں ماننا۔ اس لیے میں اپنا مزید وقت اس پر لگانے کی بجائے اب اگلی خبر پر توجہ دینا چاہتا ہوں۔ جن دوستوں نے سپورٹ کیا انکا تہہ دل سے شکرگزار ہوں۔
ٹیلی نار ہیڈ آفس کی نام پلیٹ اتار دی گئی — پاکستان میں ایک دور کا اختتام
ٹیلی نار پاکستان کا سفر اپریل 2004 میں شروع ہوا، جب ناروے کی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ٹیلی نار گروپ نے پاکستان میں جی ایس ایم موبائل سروس کا لائسنس 291 ملین ڈالر میں حاصل کیا۔ 15 مارچ 2005 کو اسلام آباد، راولپنڈی اور کراچی سے باقاعدہ کمرشل سروسز شروع کی گئیں، جبکہ چند ہی دن بعد لاہور، فیصل آباد، حیدرآباد اور کراچی تا حیدرآباد ہائی وے تک نیٹ ورک کو وسعت دے دی گئی۔
2006 میں نوجوانوں کے لیے ڈی جوس متعارف کرایا گیا۔ 2009 میں ٹیلی نار پاکستان اور تعمیر مائیکروفنانس بینک نے مشترکہ طور پر ایزی پیسہ شروع کیا، جسے پاکستان کی پہلی برانچ لیس موبائل منی ٹرانسفر سروس قرار دیا جاتا ہے۔ ایزی پیسہ نے رقم بھیجنے، بل ادا کرنے اور مالیاتی خدمات تک رسائی کا طریقہ بدل دیا، خصوصاً ان لوگوں کے لیے جن کے پاس روایتی بینک اکاؤنٹ موجود نہیں تھا۔
یہ کہنا تکنیکی طور پر درست نہیں کہ ٹیلی نار نے ان تمام ٹیکنالوجیز کو خود “ایجاد” کیا، البتہ کمپنی نے پاکستان میں متعدد ڈیجیٹل خدمات کو پہلی مرتبہ یا بڑے پیمانے پر متعارف کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان میں ایزی پیسہ، موبائل زرعی معلومات، محفوظ انٹرنیٹ آگاہی، معذور افراد کے لیے اوپن مائنڈ پروگرام، بچوں کی ڈیجیٹل برتھ رجسٹریشن، خواتین کسانوں کے لیے خوشحال آنگن، نوجوان کاروباروں کے لیے ٹیلی نار ویلاسٹی اور دور دراز علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ کی توسیع شامل ہیں۔
2014 میں ٹیلی نار نے پاکستان میں 3G سروسز شروع کیں۔ 2015 میں کنیکٹڈ ڈیوائس منصوبے کے ذریعے انٹرنیٹ آف تھنگز پر کام کیا، جبکہ خوشحال زمیندار کے ذریعے کسانوں کو مقامی موسم، فصلوں، مویشیوں، منڈی اور زرعی مشوروں کی معلومات فراہم کی گئیں۔ 2016 میں پاکستانی اسٹارٹ اپس کے لیے ٹیلی نار ویلاسٹی پروگرام شروع ہوا اور 2017 میں یونیسیف اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ڈیجیٹل برتھ رجسٹریشن منصوبے کو آگے بڑھایا گیا۔
ٹیلی نار کے سرکاری تاریخی ریکارڈ کے مطابق کمپنی 2019 میں پاکستان میں VoLTE فعال کرنے والی پہلی موبائل آپریٹر بنی، گلگت بلتستان میں 4G سروس شروع کی اور پاکستان کا پہلا Narrowband Internet of Things یعنی NB-IoT نیٹ ورک متعارف کرایا۔ بعد میں ہنزہ جیسے دور دراز علاقوں تک 4G پہنچایا اور پاکستان کا تیز ترین 5G ٹرائل کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔
اپنے عروج پر ٹیلی نار پاکستان نے کروڑوں صارفین کو موبائل اور ڈیجیٹل خدمات فراہم کیں۔ کمپنی کے مطابق اس کا نیٹ ورک ملک کی 80 فیصد سے زائد آبادی تک پہنچا اور اس کے صارفین کی تعداد 42 ملین سے زیادہ رہی۔ ٹیلی نار نے شہری علاقوں کے ساتھ دیہی، پہاڑی اور کم سہولیات والے علاقوں میں بھی رابطے اور مالیاتی شمولیت کو فروغ دینے میں کردار ادا کیا۔
دسمبر 2023 میں PTCL نے ٹیلی نار پاکستان اور اورین ٹاورز کے 100 فیصد حصص خریدنے کا معاہدہ کیا، جس میں ٹیلی نار پاکستان کی انٹرپرائز ویلیو 108 ارب روپے مقرر کی گئی۔ تمام قانونی اور ریگولیٹری مراحل مکمل ہونے کے بعد 31 دسمبر 2025 کو ٹیلی نار گروپ نے ٹیلی نار پاکستان کی فروخت باضابطہ طور پر مکمل کردی۔
جولائی 2026 میں ٹیلی نار پاکستان کو پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ یعنی PTML، آپریٹنگ بطور Ufone 5G میں باضابطہ طور پر ضم کردیا گیا۔ اس انضمام کے بعد ٹیلی نار پاکستان کی الگ قانونی شناخت ختم ہوگئی اور اس کے نیٹ ورک، انفراسٹرکچر، صارفین اور آپریشنز نئے مشترکہ ادارے کا حصہ بن گئے۔
آج ہیڈ آفس سے ٹیلی نار کی نام پلیٹ اتارنے کا یہ منظر صرف ایک بورڈ ہٹانے کا منظر نہیں، بلکہ پاکستان کی ٹیلی کام تاریخ کے ایک بڑے باب کے اختتام کی علامت ہے۔
دو دہائیوں سے زائد عرصے میں ٹیلی نار نے لاکھوں لوگوں کو پہلی موبائل کال، پہلا انٹرنیٹ کنکشن، رقم کی پہلی ڈیجیٹل منتقلی اور دنیا سے رابطے کی بے شمار یادیں دیں۔
الوداع ٹیلی نار پاکستان۔
آپ کا نام ختم ہوسکتا ہے، لیکن آپ سے وابستہ یادیں پاکستان کی ٹیلی کام تاریخ کا حصہ رہیں گی۔
#TelenorPakistan #Telenor #الوداع_ٹیلی_نار #TelenorHistory #Ufone5G #PTML #PTCL #TelecomPakistan #PakistanTelecom #Easypaisa #DigitalPakistan #MobileNetwork #TelecomMerger #5GinPakistan
را کی خبر پر سوال ۔۔۔
جب بات آرٹیکلز کے content پر شروع ہوئی تو میں نے اس سے پوچھا کہ آرٹیکلز کس بارے ہونگے۔
اس پر اس خاتون کے نام پر بنائے گئے اکاؤنٹ نے کہا کہ آرمی ، بلوچستان، افغانستان۔ اینٹی چائنہ، اینٹی گورنمنٹ وغیرہ وغیرہ
میں نے اس سے پوچھا افغانستان کیخلاف ؟ جس پر اس نے کہا کہ افغانستان کے پناہ گزینوں کے حق میں، بلوچستان میں ہونے والی atrocities کے بارے ۔
میں نے اس سے پوچھا آرمی کے خلاف کس طرح؟
ان دنوں سپریم کورٹ سے ملٹری کورٹ بارے کوئی فیصلہ آیا ہوا تھا تو اس نے کہا مثلا اس ججمنٹ کیخلاف آپ بات کرسکتے ہیں۔
کیونکہ یہ گفتگو 8 مہینوں پر محیط ہے ۔ وقت لگتا ہے یہ سب تفصیلات لکھنے میں اس لیے باقی کی تفصیلات پھر کسی اور ٹائم آج یا کل انشااللہ شئیر کروں گا۔
را کی خبر پر کچھ سوال اور میرے جواب
کچھ لوگ سوال اٹھا رہے تھے کہ آٹھ مہینے انڈر کور کے بعد خبر کرنے پر پتہ چلا کہ صرف 103000 روپے لیے۔ را کیا اتنے کم پیسوں پر خریدتی ہے؟
سب سے پہلی بات ۔میں یہ پیسے بکنے کے لیے نہیں ثبوتوں کے لیے لے رہا تھا۔ ثبوت 1000 کی رسید کا ہو یا 103000 کا میرے لیے یہ معنی رکھتا ہے۔نہ کہ یہ کہ اتنے کم پیسے کیوں لیے۔
جو لوگ یہ سوال اٹھا رہے انکو شاید یہ معلوم نہیں کہ سنی سنائی اور تحقیقاتی صحافت میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ آپ کسی سے کوئی بات سن کر خبر نہیں کرتے ۔ تحقیقاتی صحافت ہو یا evenذمہ دارانہ صحافت جو اہمیت ڈاکیومنٹری ثبوت کی ہے وہ سنی سنائی بات کی نہیں۔ تو میرے لیے یہ اہمیت نہیں کہ را کتنے پیسے دینے کی آفر کررہی تھی۔ میرے لیے اہم یہ تھا کہ میں ان سے کوئی فنانشل ٹرانزکشن کیسے نکلواؤں تاکہ میرے پاس خبر کے لیے کوئی مالی ثبوت آجائے۔
اس مالی ثبوت کے لیے مجھے آٹھ مہینے کام کرنا پڑا۔ وہ پیسے کرپٹو کے ذریعے بھیجنا چاہتے تھا تاکہ ٹریس نہ ہو اور میری یہ کوشش تھی انکے فنانشل ٹرانزکشنز کے جتنے طریقے ہیں وہ جان سکوں اس لیے کرپٹو کے علاوہ ایزی پیسہ کے ذریعے تقاضہ کرکے بھی پیسے منگوائے۔
تو بطور صحافی مجھے اس بات سے غرض نہیں کہ 103000 کم پیسے ہیں ۔ میرے لیے کامیابی بطور صحافی یہ ہے کہ میں نے اپنی خبر کے لیے مالی ثبوت اکٹھے کیے۔ اور ان ٹرانزکشنز کے ثبوت آپ ان دو تصاویر میں دیکھ سکتے ہیں۔
فخر درانی نے کہا میں کرپٹو کرنسی میں پیسے نہیں لوں گا بلکہ ایزی پیسہ میں لوں گا تو سندھ کے کسی دور دراز کے علاقے سے فخر درانی کو 35 ہزار ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں بھیجا گیا بھیجنے والا جاوید کمیونیکیشن کے نام سے اکاؤنٹ تھا
یقیناً ہماری ایجنسیوں نے اب تک اسے ڈھونڈ کر گرفتار کر لیا گیا ھو گا
شهدنا اليوم مباراة مصرية عربية بطولية .. قاتل فيها فراعنة مصر أمام بطل العالم حتى آخر دقيقة .. نفخر بروحهم المصرية .. ونشكرهم ويشكرهم العالم على المباراة الممتعة الرائعة .. هاردلك .. وستعودون أبطالاً لوطنكم العربي .. وستبقون أبطالاً في عيون كل العرب .
Incredible Egyptian goal is disallowed because of a foul far away, then same situation a few minutes later and goal for Argentina not disallowed! No VAR, nothing? FIFA again looks like a corrupt joke, playing favorites for stars.
پاکستان میں قیام کے دوران ایک گھر میں چوری کے واقعے کا سیاق و سباق سمجھنے کے بعد چند سال قبل ایک تھریڈ لکھا، جو اب مکمل شئیر کر رہا ہوں:
کچھ عرصہ قبل جاننے والوں کے گھر 16 سالہ لڑکی (جو 15 ہزار ماہوار پر 24 گھنٹے ملازم تھی) نے گھر سے کچھ کپڑے و جوتیاں چوری کیں۔ مجھے خاتون خانہ نے شکایت و غصے بھرے لہجے میں بتایا کہ کیسے دن رات انکے گھر رہنے والی نے اپنی اصلیت دکھائی اور احسان فراموشی کی تو میں بھینچ کر رہ گیا۔
صرف اتنے الفاظ ادا ہوئے کہ ایک متمول خاندان کی ہم عمر لڑکیوں کو دن رات قیمتی ملبوسات میں دیکھ کر پتہ نہیں اس کے اندر کیا بیتتی ہو گی، لیکن ان خاتون کے دل و دماغ پر ایک دھیلے کا اثر نہ ہوا۔ چند دن بعد کوئی اور اس گھر میں انکی بیٹیوں و بیٹوں کی خدمت پر معمور ہوا۔
بچپن میں پورے محلے و خاندان میں ہمارا واحد گھر تھا جہاں کبھی کوئی کام کرنے والی نہیں آئی۔ کچن، کپڑے والدہ، جبکہ اپنا کمرہ، باتھ روم صاف کرنے کی ذمہ داری ہر ایک کی اپنی تھی۔ برآمدہ کوئی ایک دھو لیتا۔ میں دوستوں کے گھر صفائی کرنے والی دیکھتا تو اپنی قسمت کو کوستا۔
اس زمانے میں روز گھر آ کر صفائی کرنے والی کی تنخواہ بمشکل سو دو سو تھی جو ہم افورڈ کر سکتے تھے۔ ایک دفعہ شکایت کی تو جواب ملا کہ اتنی کم تنخواہ ظلم ہے اور جتنی ان کا حق ہے اتنی ہماری مالی حیثیت نہیں۔ یہ بات ساری زندگی کا سبق بن کر رہ گئی اور اپنا کام خود کرنے کی عادت ہو گئی۔
کام کے عوض پرانے کپڑے یا سالن نہیں بلکہ پوری اجرت دیں۔ ورنہ کسی ملازم کے چوری کرنے پر غصہ ہونے کی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ اس سے پہلے آپ خود چوری کے ساتھ ظلم کے بھی مرتکب ہوئے ہیں۔ کوئی نماز کوئی صدقہ کسی مفلس کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کے ظلم کا حساب نہیں چکا سکتا۔
سادہ سا اصول ہے۔ اتنا سوچیے کہ اپنے والدین یا اولاد کو کتنی تنخواہ کے عوض کسی کے گھر کام پر رکھوا سکتے ہیں، جتنی رقم ذہن میں آتی ہے اتنی ہی ملازمین کو دیں۔ دوسری صورت میں تمیز سیکھنے کے ساتھ، اپنے کام خود کریں اور اولاد کو بھی سکھائیں۔ کسی کی مدد مقصود ہے تو صرف اتنا کام کروائیں۔
زايد بن سلطان.. أبي.. وأب لكل من عاش على أرض الإمارات .. كان مدرسة في الحكمة، وقدوة في العطاء، ومعلماً في الإنسانية، وراعياً للأسرة التي جعلها أساس بناء الوطن. في يوم الأب، نسأل الله أن يتغمده بواسع رحمته، ونحيي كل أب يزرع قيم زايد في أبنائه، ويبني أسرة تصنع المستقبل وتحفظ مسيرة الوطن.
وزیراعظم سے ماضی میں نہایت قریبی ذاتی تعلقات کا بارہا ذکر کر چکا ہوں۔ اس تعلق کی بنیاد صرف "پاکستان" رہی۔ جتنا عرصہ ساتھ رہا انتہائی دیانتداری سے کام کیا۔ ہمارے مابین ہر گفتگو امانت ہے مگر 2 سال قبل انہیں یہ خط بطور پاکستانی شہری لکھا تھا۔
اس میں 7th اور 8th پوائنٹ ضرور پڑھئے:
بقيادة أخي الشيخ محمد بن زايد تواصل دولة الإمارات ترسيخ مكانتها بين أكثر دول العالم تنافسية .. ووفق أحدث تقرير للتنافسية العالمية 2026 حلّت الإمارات في المركز الخامس عالمياً وحافظت على ريادتها الإقليمية للعام العاشر على التوالي . . جاءت الأولى عالمياً في الأداء الاقتصادي ، وتصدرت 21 مؤشراً تنافسياً دولياً منها غياب البيروقراطية وقدرة سياسات الحكومة على التكيف، وضمن الخمسة الأوائل عالمياً في 67 مؤشراً.
هذه النتائج ثمرة نهج وطني، وكفاءة مؤسسات وجهود فرق عمل في مختلف القطاعات . . تنافسيتنا ليست هدفاً مرحلياً، بل عمل مستمر يعزز جودة الحياة، ويرسخ الثقة العالمية بدولتنا، ويؤكد أن الإمارات ماضية بثبات نحو مستقبل أكثر ازدهاراً وريادة.
I am honoured to announce that the historic ‘Islamabad Memorandum of Understanding’ has been electronically signed today between the United States of America and the Islamic Republic of Iran. The Memorandum has been signed by honourable Presidents of both the countries and also endorsed by me as the mediator. The signing of this agreement at the highest level of the respective governments demonstrates the commitment of both sides to a diplomatic resolution of the conflict. Islamabad MoU shall enter into force with immediate effect and as a first step, Islamic Republic of Iran will instantly reopen the Strait of Hormuz and the United States of America will immediately lift the naval blockade.
I offer my heartfelt congratulations and sincere appreciation to the President of the United States, Donald J. Trump whose steadfast commitment to diplomacy and preference for peaceful resolution have once again helped end a conflict that could have led to devastating consequences for the region and beyond. I also commend the dedication and tireless efforts of the United States negotiating team, including J.D. Vance, Steve Witkoff and Jared Kushner, for their invaluable contributions to this achievement.
I express my profound respect and appreciation to His Eminence Ayatollah Seyyed Mojtaba Hosseini Khamenei, the Supreme Leader of Islamic Republic of Iran and President Masoud Pezeshkian for their wisdom, foresight and statesmanship in embracing the cause of peace. I also wish to recognize the efforts of the Iranian negotiating team, including Mohammad Bagher Ghalibaf, Abbas Araghchi and Eskandar Momeni, whose patience, perseverance and commitment to constructive engagement were instrumental in bringing this agreement to fruition.
I would especially like to acknowledge the sincere efforts and constructive engagement of the leadership of the State of Qatar in helping reach this point. I also highly commend the leadership of the Kingdom of Saudi Arabia, the Republic of Türkiye and the Arab Republic of Egypt for their indispensable role and invaluable contributions in this regard.
I would also like to make special mention of Field Marshal Syed Asim Munir, whose tireless efforts, selfless dedication and instrumental role were critical in facilitating this breakthrough and advancing the cause of peace and regional stability.
May this Memorandum of Understanding serve as an enduring foundation for greater understanding, mutual respect and shared prosperity for the complete region.
@realDonaldTrump@JDVance@SecRubio@SteveWitkoff@SEPeaceMissions@drpezeshkian@mb_ghalibaf@araghchi
I congratulate UAE’s leadership and people, and the Arab and Islamic nations, on the occasion of the Hijri New Year. As we welcome a new year, we renew our commitment to the timeless values upon which our nation was built and that continue to inspire progress, compassion, and unity. May this year bring abundant blessings, prosperity, and goodness to all people around the world. Wishing everyone a blessed and peaceful year ahead.