سعد رضوی سے لاکھ اختلاف لیکن حق بات یہ ہے کہ وہ آخری وقت تک مذاکرات کی بات کرتا رہا۔ ریاست نے مذاکرات کے بجائے طاقت کے اندھے استعمال اور بے گناہوں کا خون بہانے کو ترجیح دی۔
مذاکرات نہ کرنے کا آرڈر کہاں سے آیا تھا؟؟؟
#گلوبل_صمود_فلوٹیلا کو انسانی فریضہ سمجھ کر #سوشل_میڈیا پر بھرپور #سپورٹ کیجۓ کیونکہ غ زہ کے بچوں کا خون بہہ رہا ہے. فلسطین کی ماؤں کی آہیں فلک کو چیر رہی ہیں ۔ بچے یتیم اور بے گھر ہو رہے ہیں۔
ایسے صورت حال میں اگر ہم عملی یا مالی طورپر کچھ کر نہیں سکتے کم از کم اپنے ہاتھمیں۔
حکومت کی بد ترین بوکھلاہٹ اور فسطانیت جاری: غزہ کے لیے پُر امن تعزیتی کیمپ بھی جرم بن گیا۔سینیٹر مشتاق احمد خان کو عدالت میں پیش کیے بنا ہی دس دن کے جیوڈیشل ریمانڈ پر تحویل میں دے دیا گیا۔ سینیٹر مشتاق صاحب کی اہلیہ، ان کی بیٹی اور دیگر افراد بھی مظلوم اہلیان غزہ کے لیے آواز اٹھانے اور تعزیاتی کیمپ لگانے کے “جرم” میں پابند سلاسل ہیں۔
~ایڈمن