انجینئر ضیاء الرحمٰن داوڑ 19 اکتوبر سے بلوچستان کے ناگ بازار بس ٹرمینل سے لاپتہ ہیں۔ وہ پنجگور-ناگ روڈ پروجیکٹ پر تعینات تھے اور کوئٹہ جا رہے تھے۔ حکام سے اپیل ہے کہ ان کی فوری اور بحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔
انجینئر ضیاء الرحمٰن داوڑ 19 اکتوبر سے بلوچستان کے ناگ بازار بس ٹرمینل سے لاپتہ ہیں۔ وہ پنجگور-ناگ روڈ پروجیکٹ پر تعینات تھے اور کوئٹہ جا رہے تھے۔ حکام سے اپیل ہے کہ ان کی فوری اور بحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔
Engr. Zia-ur-Rehman Dawar is missing since Oct 19 from Nag Bazar Bus Terminal, Balochistan. He was posted on the Panjgur-Nag Road Project and was traveling to Quetta. Appeal to authorities for his immediate and safe recovery.
سومرو صاحب، یہ ہم کیسے مان لیں کہ یہ سب کی جنگ ہے؟ گزشتہ چالیس سال سے یہ جنگ صرف پختونخوا پر مسلط ہے اور پختونخوا سے باہر نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ یہ بھی دنیا میں عجیب قسم کی دہشت گردی ہے، جو ایک مخصوص دائرے ہی میں گھوم رہی ہے۔
نوجوان یہ ھماری جنگ ہے ھم سب کی جنگ ہے دھشتگردی کی وجہ سے ہمارا معاشرہ بکھرنے لگا ہے انتہا پسندی چاہے کسی بہی شکل میں ہو وہ دہشت گردی کو جنم دیتا ہے ۰ اس آگ میں کبہی میں کبہی تم کبہی یہ تو کبہی وہ جلا ہے ۰ سب مل کر ھم اس کا مقابلہ کریں گے تو ہی نجات مل سکتی ہے
کرک لتمبر میں پولیس پر حملے میں ڈی ایس پی سی ٹی ڈی عمران الدین، ایس ایچ او تھانا لتمبر افضل اعوان، سی ٹی ڈی اہلکار کاظم اور بی ڈی یو اہلکار امجد شہید ہوئے۔ ہم اس دہشتگرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ہم شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ پختونخوا پولیس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ پختونخوا پروجیکٹ طالبان کی دہشتگردی کی آگ میں جل رہا ہے۔
Pakhtunkhwa is burning in a war that was never ours.The martyrdom of police personnel in Karak today has left us deeply saddened. Due to the state's flawed policies, this conflict has now entered an extremely dangerous phase, making it difficult to exit now.
مین اسٹریم پاکستان، بالخصوص پنجابی انٹلیجینشیا، ہر وقت یہ دلیل دیتی ہے کہ پختونخوا اپنی اسٹریٹیجک لوکیشن کی وجہ سے جل رہا ہے، اور اس طرح ریاست کے کردار اور مداخلت کو یکسر نظرانداز کر دیتی ہے۔ اس کا جواب محسن داوڑ کے اس ویڈیو کلپ میں ملاحظہ کیجیے۔
انگریز استعمار دور کے بنائے گئے آرڈیننس آج بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے قیام کے بعد سے آج تک وہی ہتھکنڈے ہمارے خلاف استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ہمارے بزرگ حاجی میرزعلی خان، عرف فقیرِ ایپی، نے پاکستان کے قیام کے بعد کہا تھا کہ یہ وہی گدھا ہے، بس اس کی کَھٹّی بدل دی گئی ہے۔
In view of the prevailing law and order situation, I have delegated powers under Section 3(1) of the West Pakistan Maintenance of Public Order (MPO) Ordinance, 1960, to Deputy Commissioners across Khyber Pakhtunkhwa to ensure timely and effective preventive action at the district level, reduce administrative delays and strengthen coordination with law enforcement agencies. However, these powers must be exercised strictly in accordance with the Constitution and the law, I expect all DCs to act responsibly and in close coordination with law enforcement agencies. The powers must never be misused. The peace, security and protection of our people remain my foremost priority
مردان: نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ مردان کے رہنماؤں احمد زیب اور سرکار یوسفزئی نے خدائی خدمت گار خاندان سے تعلق رکھنے والے این ڈی ایم کے رہنما نشتر خان کی عیادت کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔
احتساب کا معیار سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔ سب سے پہلے شہاب علی شاہ کا احتساب ہو، جنہوں نے ورلڈ بینک پراجیکٹس، مہمند کے سافٹ سٹون کے لیزوں میں اربور کمائے ہیں ، غیر قانونی بھرتیوں اور غبن کے سنگین الزامات ہیں۔ مگر وہ مقدس لوگوں کا ہاتھ ہونے کے بنا احتساب سے بالاتر ہیں۔
@fkkundi
بلوچستان اور پختونخواہ کے وسائل وہاں کے مقامی لوگوں کی ملکیت ہے عالمی اور پاکستانی آئین کے مطابق کسی کو بھی یہ اجازت نہیں کہ وہ ہماری وسائل کے نکالنے اور فروخت کرنے کے فیصلے کریں۔
@mazdaki
Strongly condemn the arrest of ANP Balochistan President @AsgharAchakzaii. He demands rights for our people and has always struggled for justice for the oppressed. Arresting him will not deter him from his struggle. We demand his release. We stand in solidarity with him.
ہم اے این پی بلوچستان کے صدر اصغر خان اچکزئی کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ وہ خطے میں موجود چند معتبر شخصیات میں سے ایک ہیں۔ بے بنیاد الزامات کے تحت سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کرنا طویل عرصے سے معمول بن چکا ہے۔ ہم اصغر خان اچکزئی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی.....
این ایس ایم پشاور یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام آج یونیورسٹی کے فقیر ایپی لان میں ”18th Amendment: Centre–Province Conflicts:Constitutional Limits of Federal Power“ کے موضوع پر سیمینار منعقد ہوا۔ سیمینار سے @NDM_Official کے سینئر رہنما @a_siab اور صوبائی صدر @BushraGohar نے خطاب کیا
ہم اے این پی بلوچستان کے صدر اصغر خان اچکزئی کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ وہ خطے میں موجود چند معتبر شخصیات میں سے ایک ہیں۔ بے بنیاد الزامات کے تحت سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کرنا طویل عرصے سے معمول بن چکا ہے۔ ہم اصغر خان اچکزئی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
آپ خواہ مخواہ ہر بات میں چول بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب اٹھارویں ترمیم کے بعد وسائل صوبائی دائرۂ اختیار میں آ گئے ہیں، تو آپ کون ہوتے ہیں ان کی قیمت مقرر کرنے والے؟
Strongly condemn the arrest of ANP Balochistan President @AsgharAchakzaii. He is one of the few voices of reason in the region. Arresting political leaders on baseless charges has been the norm for long. We extend our solidarity to Asghar Achakzai and demand his release.
Please do this accountability in Punjab, ICT, Sindh and Balochistan too! What about the accountability of the previous military operations in Pashtunkhwa? What was that money spent for? What did it achieve? How many civilians were killed? How many homes were destroyed? What compensation did innocent people receive? What was the budget for IDPs? Who used it and where and how was it used?