🚨🚨Bushra Bibi’s family agreed not to publicly discuss details of their meetings with her, nor politicise them, on the understanding that they would be granted regular access. However, it has now been four weeks since they were last allowed to see her.
During their last meeting, the family were deeply distressed by her condition and cried for days afterwards. They described significant weight loss and serious eye-health concerns. One of her eyes is stitched closed, while the sight in the other is deteriorating. They also stated that there have been serious delays in receiving medical attention and that prison conditions, as well as the treatment of certain staff members—particularly a woman named MARIAM—have contributed to her mental suffering. A gutter outside her cell is deliberately kept open, making her cell unbearable and infested with insects.
Bushra Bibi has also reportedly said that Imran Khan’s conditions are similarly concerning and that he continues to suffer from ongoing eye and health problems. According to her, he refuses to complain because of the man that he is.
Regardless of political views, all detainees are entitled to proper medical care, humane treatment, and regular access to their families. This is a serious violation of basic human dignity and internationally recognised human rights standards. This situation requires urgent attention, transparency, and accountability.
Yesterday, our family met with KP ministers at the Islamabad High Court. We held a detailed discussion on the steps being taken to restore all of Imran Khan’s legal and lawful prison rights.
During the meeting, Ministers provided the following update:
1. There will be no surplus budget, as Imran Khan has consistently directed that all available funds be utilized for the development and uplift of the people of Khyber Pakhtunkhwa.
2. The KP Government will not sign any agreement to transfer the Rs. 175 billion requested by the Federal Government unless the following demands are met:
• Khyber Pakhtunkhwa must receive its full share for the merged districts (formerly FATA) for the current fiscal year, amounting to approximately Rs. 300 billion. These funds are essential for the economic development and stability of the merged areas.
No agreement will be signed until all of Imran Khan’s legal and lawful rights are fully restored, including
1. The immediate transfer of Imran Khan to Shifa International Hospital for proper diagnosis, examination, and treatment by qualified specialists.
2. An immediate end to Imran Khan’s eight-month isolation and solitary confinement.
a) Restore weekly meetings with 6 family members, 6 members of his legal team, and 6 friends (political associates)
b) Restore his weekly phone calls with his sons.
c) Restore his access to books, newspapers, and other reading material.
These are the basic legal and human rights that must be respected and restored without further delay.
گزشتہ روز ہماری فیملی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں خیبر پختونخوا کے وزراء سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں عمران خان کے تمام قانونی اور جائز جیل حقوق کی بحالی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وزراء نے درج ذیل پیش رفت سے آگاہ کیا:
1۔ کوئی اضافی (سرپلس) بجٹ نہیں ہوگا، کیونکہ عمران خان نے ہمیشہ ہدایت دی ہے کہ تمام دستیاب وسائل خیبر پختونخوا کے عوام کی ترقی، فلاح و بہبود اور خوشحالی پر خرچ کیے جائیں۔
2۔ خیبر پختونخوا حکومت وفاقی حکومت کی جانب سے طلب کردہ 175 ارب روپے کی منتقلی کے لیے کسی بھی معاہدے پر اس وقت تک دستخط نہیں کرے گی جب تک کہ درج ذیل مطالبات پورے نہیں کیے جاتے:
• خیبر پختونخوا کو ضم شدہ اضلاع (سابق فاٹا) کے لیے موجودہ مالی سال کا مکمل حصہ فراہم کیا جائے، جو تقریباً 300 ارب روپے بنتا ہے۔ یہ فنڈز ضم شدہ علاقوں کی معاشی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔
• عمران خان کے تمام قانونی اور جائز حقوق مکمل طور پر بحال ہونے تک کسی بھی معاہدے پر دستخط نہیں کیے جائیں گے، جن میں شامل ہیں:
1۔ عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا مکمل طبی معائنہ، تشخیص اور علاج ممکن بنایا جا سکے۔
2۔ عمران خان کی گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری غیر قانونی تنہائی اور عملی طور پر سولیٹری کنفائنمنٹ کا فوری خاتمہ کیا جائے، جس میں:
الف) ہر ہفتے 6 اہلِ خانہ، 6 وکلاء اور 6 دوستوں (سیاسی ساتھیوں) سے ملاقات کا حق فوری طور پر بحال کیا جائے۔
ب) ان کے بیٹوں کے ساتھ ہفتہ وار ٹیلیفونک رابطے کا حق فوری طور پر بحال کیا جائے۔
ج) کتابوں، اخبارات اور دیگر مطالعے کے مواد تک ان کی رسائی فوری طور پر بحال کی جائے۔
یہ کوئی خصوصی مراعات نہیں بلکہ بنیادی قانونی اور انسانی حقوق ہیں، جن کا احترام اور فوری بحالی مزید کسی تاخیر کے بغیر یقینی بنائی جانی چاہیے
ٹکرز / 6 جون 2026
کل 7 تاریخ کو گلگت بلتستان میں الیکشن ہو رہا ہے، اسد قیصر
گلگت بلتستان الیکشن کو کسی صورت الیکشن نہیں کہا جا سکتا، اسد قیصر
تحریک انصاف کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی، اسد قیصر
تحریک انصاف کے خلاف تمام ناجائز حربے استعمال کیے گئے، اسد قیصر
تحریک انصاف سے نشان چھینا گیا، پابندیاں لگائی گئیں، اسد قیصر
یہ اپنے من پسند الیکشن کروانا چاہتے ہیں، اسد قیصر
ابھی سے فیصلہ ہو چکا ہے کہ کس کی کتنی سیٹیں ہوں گی، اسد قیصر
گلگت بلتستان کے عوام سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ اختیار آپ کا ہے یا ان کا ہے، اسد قیصر
گلگت بلتستان کے عوام، آپ نے ووٹ عمران خان کو دینا ہے، اسد قیصر
آپ لوگوں نے ثابت کرنا ہے کہ ووٹ کا حق آپ کا ہے، اسد قیصر
کل انشاءاللہ تحریک انصاف کلین سویپ کرے گی، اسد قیصر
گلگت بلتستان کی عوام فاشسٹ حکومت کے خلاف ووٹ دے گی، اسد قیصر
لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب ہے جس کی وجہ سے معیشت تباہ ہو گئی ہے، اسد قیصر
حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی اور بے روزگاری ہے، اسد قیصر
انشاءاللہ مجھے امید ہے کل کے الیکشن میں تحریک انصاف بھاری اکثریت سے جیتے گی، اسد قیصر
گلگت بلتستان کی غیور عوام کو پیغام!
یہ جو لوٹے ہیں، یہ جو ضمیر فروش ہیں،
یاد رکھو!
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گلگت بلتستان کی قوم کے ساتھ غداری کی، آئین کے ساتھ غداری کی اور اپنے ہی حلقے کے عوام کو دھوکہ دیا۔
اب وقت آگیا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام ان لوٹوں کو ایسا سبق سکھائیں کہ آنے والی نسلیں یاد رکھیں!
آجکل ٹاؤٹوں نے مقبولیت کا بڑا رولاڈالا ہوا ہے۔چلیں پاکستانیوں سے سروے کروا لیتے ہیں۔
آپکو ان دونوں میں سے کون پسند ہے؟
عمران خان کے لیے (1)
عاصم منیر کے لیے (2)
ٹائپ کریں۔
24 گھنٹے بعد رزلٹ جاری کیا جائے گا۔
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)