میرے ذاتی خیال کے مطابق شاید ہماری والی نسل آخری ہوگی جو اپنی آخری سانس تک اپنے اندر سے خالص مڈل کلاس سوچ کو باہر نہیں نکال سکے گی ۔۔
جتنا بھی ہم پڑھ لکھ گئے ، گرومڈ ہو گئے، زندگی کے دھکوں سے سر کے بال سفید کر لئے لیکن یہ عادتیں ہماری پروگرامنگ میں فٹ ہیں۔۔
جیسے دودھ یا دہی کے ڈبے کو ہمیشہ پانی سے کھنگال کر پھینکنا۔۔
شیمپو کی خالی شیشی میں پانی ڈال کر اسے دو تین بار مزید استعمال کرنے پر عجیب سی خوشی محسوس کرنا۔۔
خوردنی تیل کے پاؤچ سے تیل نکالنے کے بعد اس میں اچھے سے آٹے کا پیڑا مل کر صاف کرنا۔۔
نہانے والا صابن جب ختم ہونے کو ہو تو اس کو بجائے پھینکنے کے سائیڈ پر رکھے پہلے سے ملا کر رکھے گئے صابن کے ٹکڑوں سے چپکانا۔۔
شاپر کو پھینکنا تو شاید ہم۔نے سیکھا ہی نہیں اس کو الٹا کر کے دوبارہ پہلے سے موجود بڑے شاپر میں رکھنا ہماری عادت ہے۔۔
بجلی کے آلات کو سانس لینے کے لئے بند کرنا بھی ہمیں وراثت میں ملا ہے۔۔
گھر آیا آئس کریم کا ڈبہ۔مٹھائی کا ٹین والا ڈبہ اگر خالی ہونے کے بعد پھینک دیا تو اگلے جہاں دادی کو کیا منہ دکھاؤں گی۔۔
ٹوتھ پیسٹ کا آخری سانس تک نچوڑ لینے کے بعد بھی اس کو پھینکتے وقت دل میں ملال آتا ہے کہ ہو سکتا ہے اس سے دو دن ابھی بھی گزر جاتے۔۔۔
پرانی بنیان۔پرانی ٹی شرٹس کو جھاڑ پونچھ کے لئے سنبھال کر رکھنابھی ہماری مجبوری ہے۔۔
گھر کے تمام برقی آلات کے ریموٹ کنٹرول پر کور نہ چڑھائیں تو یوں لگتا ہے کہ ان کی شان میں بے ادبی ہو گئی ہے۔۔
ٹشو پیپر ،ٹوائلٹ رول،کچن رول صرف خاص خاص مہمانوں کی آمد پر نکالے جاتے ہیں اور اہل خانہ کا انہیں استعمال کرنا ممنوع ہوتا ہے۔۔
ہر ضروری دستاویز، شناختی کارڈ،نیل کٹر،پچھلے ماہ کا بجلی کا بل۔۔ ازار بند جب ضرورت ہو کبھی وقت پر نہیں ملتے۔
سنبھال کر رکھی گئی چیز اتنی سنبھل جاتی ہے کہ ضرورت پڑنے پر کبھی نہیں ملتی۔۔
مہنگے برتن صرف مہمانوں کے لیے ہوتے ہیں، گھر والے اگر غلطی سے ان میں کھا پی لیں تو یوں دیکھا جاتا ہے جیسے قومی خزانے کو نقصان پہنچ گیا ہو۔
نئے کپڑے گھر میں عام پہننا تقریباً جرم سمجھا جاتا ہے ۔
موبائل کا چارجر ہر وقت لگانے سے پہلے یہی نصیحت ضرور سننے کو ملتی ہے کہ "پلگ نکال دو، بجلی ضائع ہو رہی ہے۔"
ہر خالی شیشی، ہر خالی ڈبہ اور ہر اچھی پلاسٹک کی بوتل کا ایک روشن مستقبل ہوتا ہے، بس کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ مستقبل کب آئے گا۔
عرصہ پہلے کی بات ھے ایک دکان پر لسی کا آرڈر دینے کے بعد ہم سب دوست آرام سے بیٹھے ایک دوسرے کو چھیڑ رہے تھے اور ہنسی مذاق کر رہے تھے کہ ہمارے سامنے ایک 70-75 سال کی بزرگ خاتون آ کھڑی ہوئی اور ہاتھ پھیلا کر بھیک مانگنے لگی ۔
اس کی کمر جھکی ہوئی تھی،
بھوک چہرے کی جھریوں میں تیر رہی تھی
آنکھیں اندر ہی اندر دھنسی ہوئی تھیں لیکن جاندار تھیں۔
اسے دیکھ کر پتہ نہیں میرے ذہن میں کیا آیا کہ میں نے جیب میں سکے نکالنے کے لیے جو ہاتھ ڈالا تھا اسے واپس کھینچتے ہوئے پوچھا: دادی آپ لسی پئیں گی؟
اس بات سے دادی تو کم حیران ہوئی لیکن میرے دوست زیادہ کیونکہ اگر میں انہیں پیسے دیتا تو میں صرف 5 یا 10 روپے دیتا لیکن لسی 120 روپے کی تھی۔
اس لیے میرے لسی پی کر غریب ہونے اور اس بوڑھی دادی کے دھوکے سے امیر ہونے کے امکانات بہت بڑھ گئے تھے۔
دادی نے ہچکچاتے اور ڈرتے ہوئے ہاں میں گردن ہلا دی اور 6-7 روپے جو انہوں نے بھیک مانگ کر اپنی جھولی میں جمع کئے تھے کانپتے ہاتھوں سے میری طرف بڑھائے۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا تو میں نے ان سے پوچھا یہ کس لیے ہے؟
بیٹا...........، میری لسی کے دام میں یہ پیسے ملا کر چکا دینا ۔
میں پہلے ہی انہیں دیکھ کر جذباتی ہو گیا تھا -
جو کچھ ادھورا رہ گیا،
اس کی کمی اس چیز نے مکمل کر دی۔
اس غریب خاتون کی خودداری دیکھ میری آنکھیں نم ہو گئیں میری آواز رندھ گئی بھرے گلے سے میں نے دکاندار کو لسی کا گلاس لانے کو کہا۔
وہ اپنے پیسے دے کر پاس ہی زمین پر بیٹھ گئی۔
اب مجھے اپنی بے بسی کا احساس ہوا کیونکہ وہاں موجود دکاندار،
میرے دوست اور بہت سے دوسرے گاہکوں کی وجہ سے میں انھیں کرسی پر بیٹھنے کے لیے نہیں کہہ سکتا تھا۔
مجھے ڈر تھا کہ کہیں کوئی ٹوک نہ دے ۔
ایسا نہ ہو کہ کسی غریب بھکارن عورت کو اپنے پاس بٹھانے پر لوگوں کو یا دکاندار کو اعتراض ہو۔
لیکن جس کرسی پر میں بیٹھا تھا وہ مجھے کاٹ رہی تھی۔
جیسے ہی کلڑوں میں بھری ہوئی لسی ہم سب دوستوں اور بوڑھی دادی کے ہاتھ میں آئی،
میں اپنی کرسی سے اٹھ نیچے اس بوڑھی دادی کے پاس زمین پر بیٹھ گیا اور یہ میرا اٹل فیصلہ تھا کیونکہ میں ایسا کرنے کیلئے آزاد تھا۔
اس پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا تھا۔
ہاں، آس پاس بیٹھے کچھ لوگ اور میرے دوست ایک لمحے کے لیے مجھے گھورتے رہے،
اور عجیب نظروں سے مجھے دیکھتے رہے
لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتے،
دکان کے مالک نے آگے بڑھ کر دادی کو اٹھا کر کرسی پر بٹھایا اور ہاتھ جوڑ کر میری طرف مسکراتے ہوئے کہا:
بیٹھیں جناب..........!
میری دکان پر بہت سے گاہک آتے ہیں،
لیکن انسان کبھی کبھار ہی آتے ہیں۔ ❤️
ہم سب کو بحثیت معاشرہ ڈوب کے مر جانا چاہیے ۔
گرین ٹی وی پر دانش تیمور کے ساتھ اینکر رابعہ انعم اپنے پروگرام میں بیٹھے مفتی سے سوال پوچھتی ہے
کیا ر۔ی۔پ کے بعد جو حمل ٹھہر جاتا ہے اس کو Abort کرادینا چاہیے ۔۔
سوال بلکل جائز ہے سوال پر کوی اعتراض نہی ہے ۔ مگر اس سوال سے میرا جسم کانپنے لگ گیا ۔ ہمارا ملک جس نہج پر پہنچ گیا ہے یہ سوال تو کسی نہ کسی نے پوچھنا تھا ۔
اے روز کے کیسز جب بھی سوشل میڈیا اوپن کرو یہی خبریں ملتی ہیں ایسا لگتا ہے ہر جگہ درندے ہیں بچیوں کو بچوں کو سکول بھجنے سے بھی ڈر لگتا ہے ۔
کہتے ہیں میڈیا معاشرے کا عکس دیکھاتا ہے تو پھر سوال سن کر خوف طاری ہونا فطری بات ہے ہر اس شخص کیلے جو اک بیٹی کا باپ ہے ۔۔
مفتی صاحب کا جواب سنیے ۔۔
اگر اس کے اندر روح نہی ای تو اپ Abort کرا سکتے ہیں ۔
اب سوچیں جس کے اندر روح ا گی اس عورت پر اس بچے کو تو معاشرہ ہی زندہ درگور کر دے گا ۔۔
اخلاقیات کے جنازے ایسے نہی نکل رہی ملک پاکستان میں اس کیلے باقاعدہ محنت ہو رہی ہے ۔۔
بس اک مائیک اٹھاو اور کمیرا پجڑو رائ چلتی کسی نوجوان لڑکی کو پکڑ لو ۔ پھر اس سے جو چاہو بولواتے رہیں ۔۔
یہ اینکر اک نوجوان لڑکی سے سوال کرتا ہے
کیا بولنا اتا ہے اپکو
اس نے کہا گالیاں اچھی بول لیتی ہوں
اینکر نے کہا گالیاں دو
لڑکی کہتی ہے میں نے جو گالیاں نکالنی ہیں اپ ویسے ہی کٹ کر دو گے
اینکر نے کہا نہی نہی ہم چلائیں گے اس ملک کا ہر بچہ بچہ اپکی گالیاں سنے گا ۔۔
لڑکی نے کہا پہلے بڑی گالیاں نکالوں یا چھوٹی
اینکر کہتا ہے بڑی موٹی منہ بھر بھر کے
اس کے بعد لڑکی وہ وہ گالیاں غلیظ گالیاں نکالتی ہے جنہیں کوی دوسرا بھی نکالے تو اس شخص سے کراہت انے لگتی ہے ۔۔
اور یہ سب تماشہ اسلامی جمہوریہ پر چلتے پھرے عام روڈ پر چل رہا ہے اور پروگرام بھی اپلوڈ ہو جاتا ہے ۔۔
اب یہ بتائیں اس ملک کو اس ترقی کی منازل پر لانے کیلے شکریہ کس کا ادا کریں
مبارک ہو!
آج پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیاں ہو گئیں،
ہزاروں پرائیویٹ سکول اساتذہ تین ماہ کیلئے اپنی نوکریوں سے فارغ ہو گئے۔
گوجرانوالہ کی ایک پرائیویٹ سکول ٹیچر بہن نے یہ نوٹِس بھیجا ہے جو انہیں ادارے کی پرنسپل کی طرف سے موصول ہوا۔
لکھا ہے کہ" آپ آرام کریں اور گرمیوں کی چھٹیاں انجوائے کریں، آپکی خدمات کی فی الحال ضرورت نہیں، جب ہو گی آپکو بلا لیا جائے گا۔
بہت سے فلاسفر کہتے ہیں کہ آواز اٹھائیں پرائیویٹ تعلیمی ادارے گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس لیتے ہیں ہم پر بڑا ظلم ہے،
میں ہمیشہ جواب میں کہتی ہوں کہ سرمایہ دار بڑا سیانا ہوتا ہے، اپنے پر جلنے نہیں دے گا، سیدھا آپکے بچوں کے استاد استانی کو فارغ کر کے حساب برابر کر لے گا۔ سوچیں کہ عید اور گرمیوں کے بجلی کے بِل سر پر ہوں اور آپکو تین ماہ کیلئے ارننگ سے محروم کر دیا جائے تو کیسا لگے گا۔۔۔
share kary jitna karskty hen kindly
😓🙏🙏🙏
*"بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں"*
*اسلام آباد، سیکٹر G-9 | صبح 6 بجے*
دھند اور سردی میں *حِنا* نے اپنی ریڑھی کھولی۔ 18 سال عمر، سر پر دوپٹہ، ہاتھ میں چائے کی کیتلی۔
ابا کا ایکسیڈنٹ ہوئے 3 مہینے ہو گئے۔ بستر پر ہیں۔ ماں بیمار۔ 3 چھوٹے بہن بھائی۔ FSC میں 85% لینے والی حِنا نے کتابیں سائیڈ پر رکھیں اور *چائے کی ریڑھی* لگا لی۔
_"چاچا، چائے 30 کی۔ انڈا پراٹھا 80 کا۔"_
_"بیٹا، 20 کی لگا دو؟"_
حِنا مسکرائی: _"چاچا، 20 کی لگا دی تو ابا کی دوائی کیسے آئے گی؟ آپ بڑے ہیں، آپ سے بحث نہیں کر سکتی۔ اللہ برکت دے گا۔"_
چاچا شرمندہ ہو کر 50 کا نوٹ دے گیا۔ _"رکھ لو بیٹی۔ دعا کرنا۔"_
*شام 7 بجے*
ڈپٹی کمشنر صاحب گزرے۔ رکے۔ چائے پی۔ پوچھا:
_"بیٹا، پڑھتی کیوں نہیں؟"_
حِنا: _"سر، پڑھتی ہوں۔ رات کو۔ دن میں گھر چلاتی ہوں۔ خواب ہے ڈاکٹر بنوں۔"_
ڈپٹی کمشنر نے فوٹو کھینچا۔ لکھا:
*"یہ اسلام آباد کی بیٹی ہے۔ 18 سال کی عمر میں گھر کا بوجھ اٹھایا ہے۔*
*آئیں، اس کی مدد کریں۔ اس سے خریداری کریں۔*
*اور پلیز... اس کے ساتھ کوئی بھاؤ تاؤ نہ کریں۔*
*کیونکہ بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں۔ یہ ہم سب کی عزت ہے۔"*
پوسٹ وائرل ہو گئی۔ اگلے دن ریڑھی پر رش۔ مگر کوئی بھاؤ تاؤ نہیں۔ سب نے عزت سے خریدا، دعا دے کر گئے۔
*سبق:*
*ریڑھی چھوٹی سہی، مگر بیٹی کا حوصلہ اسلام آباد سے بڑا تھا۔*
*30 کی چائے میں اگر 5 روپے کم کرواؤ گے، تو شاید اس کی بہن کی کتاب نہ آئے۔*
*اس لیے خریدو، دعا دو، اور بھاؤ تاؤ مت کرو۔*
*کیونکہ جب بیٹی گھر چلاتی ہے، تو وہ صرف اپنے گھر کی نہیں... ہم سب کی بیٹی ہے۔
اتنا ظلم اب تو یہ غریب کو جینے بھی نہیں دے رہے 🥹 یہ عاصم منیر کے حکم سے مریم نواز جان بوجھ کر کروا رہی ہے
پہلے رزق چھینا اب سانس بھی چھین رہے ھین🙏🏽🙏🏽🥹🥹
اس قوم پر رحم کر دو انکو جینے دو پلیز
"گزشتہ رات، اس جیل سے جہاں غزہ کے مسلمان سزائے موت کے منتظر قید تھے، تکبیر کی صدائیں بلند ہوئیں."
"جو کوئی کچھ بھی کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور پھر بھی نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اُنہیں ذمہ دار ٹھہرائے."
⚠️ انتہائی اہم انتباہ: مغربی بحر الکاہل میں "تاریخ کا سب سے بڑا موسمی بم" پھٹنے والا ہے! ⚠️
🌪️ اس ہفتے کے آخر میں دنیا ایک ایسے غیر معمولی اور پراسرار موسمی مظاہرے کی گواہ بننے جا رہی ہے جو صدیوں میں ایک بار ہوتا ہے!
🌊 مغربی بحر الکاہل کے دور دراز علاقے میں ایک ایسا "موسمی دیو" بیدار ہو رہا ہے جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے موسم کو تہہ و بالا کر سکتا ہے۔
🗺️ یہ نامعلوم اور خوفناک رجحان ایک ایسی موسمی لہر کو جنم دے گا جو پوری دنیا میں تباہی پھیلا سکتی ہے:
🛑 غیر معمولی گرمی: دنیا کے بہت سے حصے جھلسا دینے والی گرمی کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔
🛑 طوفانی بارشیں اور سیلاب: کچھ علاقوں میں ایسی بارشیں ہو سکتی ہیں جن کی مثال پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں تباہ کن سیلاب آ سکتے ہیں۔
🛑 قحط سالی: دیگر علاقوں میں باران رحمت کی ایک بوند بھی نہیں گرے گی، اور طویل خشک سالی لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا سکتی ہے۔
💡 ماہرین موسمیات اس غیر معمولی پیشرفت پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان پوری دنیا کے موسم پر "ریپل ایفیکٹ" (Ripple Effect) پیدا کر سکتا ہے۔
پاکستان!!!
ڈاکٹر کی فیس 2 سو فیصد بڑھ جائے گی۔
وکیل اپنی فیس 2 سو فیصد بڑھا لے گا۔
دفاتر میں باؤ لوگوں کی رشوت 2 سو فیصد بڑھ جائے گی۔
فیکٹری مالکان اپنی بنائی ہوئی چیزوں کی قیمت 2 سو فیصد بڑھا دیں گے۔
ٹرانسپورٹ والے کرائے بڑھا لیں گے ،
ریہڑی والا اب قیمت بڑھا کر ایک کلو میں تین پاؤ دے گا۔
یہی گوشت والا کرے گا۔
مستری اپنی اجرت 2 سو فیصد بڑھا دیں گے اور ان کے ہاں چھوٹا مستری کی غیر موجودگی میں جو کام آئے گا اسے کر کے وہ پیسے اپنی جیب میں ڈالے گا۔
کسان رل جائے گا لیکن بولے گا نہیں۔
یونیورسٹی میں پڑھانے والے پرائیویٹ ٹیوشن پڑھائیں گے اور نہ پڑھا سکے تو بہت تنگ ہوں گے لیکن سوال نہیں پوچھیں گے۔
فقیر اب 5 سو روپے سے کم لے گا نہیں اور کمزور ایمان والے دیں گے بھی کہ کہیں بدعا نہ لگ جائے۔
اور یوں پاکستان کی جگاڑی مخلوق ہنسی خوشی رہنے لگے گی۔
لکھ دی لعنت 🖐️
تمام پٹواری حضرات نیڑے نیڑے ہوں 🚨
یہ جو اتنے دنوں سے میں سن رہا ہوں کہ پاکستان کا جھنڈا لگے بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر رہے ہیں وہ سالے کس کے لیے گزر رہے ہیں اور دوسرا جب ایران سے پٹرول آ رہا ہے تو مہنگا کیوں ہوا عوام کی جیبوں پہ ڈاکہ مار کے رونے والا منہ بنانا چاچو کی فطرت ہے
مریم نواز شریف صاحبہ یہ آپکا ہی ٹویٹ ہے ان کے ایک ماہ میں دو بار پٹرول کی قیمتیں بڑھانے پر بھی پٹرول اس قیمت پہ نہیں پہنچا تھا جس پہ آپکی اور چاچو کی حکومت نے پہنچا دیا ہے
مہربانی فرما کر یا ٹویٹ ڈیلیٹ کر دیں یا حکومت چھوڑ دیں شکریہ
ایرانی لڑکی ۔ایران میں جنگ کےباوجودہمارا پیٹرول ۱۵روپے فی لیٹرتم لوگ یہ پاکستان لے جاکر۴۵۰-۵۰۰ روپے بیچتےہویہ تمہارے اپنےحکمران ہیں جوتم سےمہنگا پیٹرول خریدوارہے ہیں تم لوگ جاگواپنےلیڈروں سےپوچھوسبسڈی والا ایرانی پیٹرول کہاں جاتاہے تم کیوں مہنگاخریدرہےہو
کچھ عرصہ پہلے ہم بڑے فخر سے کہتے تھے کہ پاکستان فری لانسنگ میں آگے بڑھ رہا ہے… نوجوان گھروں میں بیٹھے ملک کے لیے اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔ لیکن آج کا سچ کچھ اور ہے…جو تھوڑا تلخ بھی ہے… اور دلوں کو ہلانے والا بھی۔
ہم نے ایک بڑی غلطی کی۔
ہمارے ہزاروں نہیں، لاکھوں لڑکوں نے یونیورسٹی جانا چھوڑ دیا۔
میٹرک اور انٹر کے بعد ہی انہوں نے سمجھ لیا کہ اب شارٹ کٹ سے پیسے کمانے ہیں۔
انہیں لگا کہ ڈگری کی ضرورت نہیں…
محنت کی ضرورت نہیں…
بس چند آسان چیزیں سیکھ لو اور کمانا شروع کر دو۔
ہر طرف ایک ہی آواز تھی:
“آن لائن کماؤ… جلدی کماؤ… آسان کماؤ…”
انہیں بتایا گیا:
لوگو بنا لو…
بیک گراؤنڈ ہٹا لو…
کاپی پیسٹ کر لو…
ویڈیوز بنا لو…
اور یہی کہا گیا:
“بس یہی سیکھ لو… زندگی سیٹ ہے”
اور وہ بھیڑ چال میں اسی راستے پر چل پڑے۔
انہیں لگا کہ یہی اصل قابلیت ہے… یہی کامیابی ہے۔
لیکن آج حقیقت بدل چکی ہے۔
وہی آسان کام…
جو کل تک کمائی کا ذریعہ تھے…
آج چند سیکنڈ میں اے آئی کر رہا ہے۔
اور کلائنٹ اب ان کاموں کے لیے کسی کو ہائر ہی نہیں کرتا۔
دوسری طرف حالات مزید سخت ہو گئے ہیں۔
فائیور (Fiverr) پر مقابلہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ ریٹس نیچے آ گئے ہیں…
ہر دوسرا بندہ وہی آسان کام لے کر کھڑا ہے…تو ویلیو ختم ہو گئی ہے۔
اپ ورک (Upwork) پر بھی کہانی بدل چکی ہے۔
کنیکٹس مہنگے ہو گئے ہیں…
بڈنگ مشکل ہو گئی ہے…
اور الگورتھم اب صرف انہی لوگوں کو اوپر لاتا ہے جن کی ہسٹری مضبوط ہو۔ نئے بندے کے لیے جگہ بنانا اب پہلے جیسا آسان نہیں رہا۔
اور ایک خاموش حقیقت…
بہت سے اکاؤنٹس بند ہوئے…
سخت پالیسیاں آئیں…
اور خاموشی سے ہزاروں لوگ مارکیٹ سے باہر ہو گئے۔
کوئی شور نہیں… کوئی خبر نہیں…
بس لوگ ایک ایک کر کے غائب ہوتے گئے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ ہزاروں نہیں… لاکھوں نوجوان جو انہی آسان کاموں پر کھڑے تھے…
آج فری لانسنگ سے بھی باہر ہیں…
اور تعلیم سے بھی دور ہو چکے ہیں۔
بیچ راستے میں کھڑے ہیں…
یہ سب اچانک نہیں ہوا۔
ہم نے خود شارٹ کٹ سکھایا…
ہم نے آسان راستہ دکھایا…
ہم نے خواب تو بیچے…
لیکن حقیقت نہیں بتائی۔
اور یہاں ایک بات بہت صاف کہنا چاہتا ہوں…
میں کسی انفلوئنسر یا کسی سیاسی جماعت پر تنقید نہیں کرنا چاہتا…
لیکن نوجوانوں کو راستہ دکھانا، ان کے مستقبل کی رہنمائی کرنا…
یہ کام ماہرِ تعلیم، پروفیسرز اور اساتذہ کا ہے۔ یہ کام انہیں ہی کرنے دیں۔
فالوورز بڑھانے اور بڑا اجتماع کرنے کے اور بھی راستے ہوتے ہیں…
یہ آپ کا کام نہیں کہ بھولے بھالے اور معصوم بچوں کے کیریئر سے کھیلیں۔
آج وہی نوجوان کھڑا ہے… اور پوچھ رہا ہے:
میں کہاں جاؤں؟
میں کیا کروں؟
یہ صرف فری لانسنگ کا مسئلہ نہیں رہا…یہ اب ہمارے معاشرے کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
ہمیں رک کر سوچنا ہوگا…
ہم اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں؟
ہم انہیں کس راستے پر ڈال رہے ہیں؟ کیا ہم انہیں وقتی کمائی دے رہے ہیں…
یا ایک مضبوط مستقبل؟
یہ وقت ہے سچ دیکھنے کا…
سچ ماننے کا…
اور سچ بولنے کا۔
دنیا بدل چکی ہے۔ اب بچوں کو دھوکے میں رکھنا بند کریں…
انہیں حقیقت دکھائیں۔
انہیں سمجھائیں کہ زندگی کوئی شارٹ کٹ نہیں…
یہ ایک لمبی دوڑ ہے۔
سو میٹر کی دوڑ جیتنا آسان ہے…
لیکن میراتھن جیتنے کے لیے سالوں کی تیاری لگتی ہے۔
اگر ہم نے آج خود کو اور اپنی سوچ کو نہ بدلا…تو کل بہت دیر ہو جائے گی۔ لیکن اگر آج بات سمجھ آ گئی…
تو یہی مشکل وقت…
ایک نئی شروعات بھی بن سکتا ہے۔
-سہیل بلخی