🔴 پنجاب میں اس دس دن میں یہ تیسرا واقعہ ہے 👈 14 سال کے لڑکے کے ساتھ بد فعلی کرکے اس کو دو بھائیوں نے زندہ دبادیا
🔴 اس سے پہلی ایک چھوٹے 8 سال کے لڑکے کی لاش ایک ٹوائلٹ سے برآمد ہوئی جس کے ساتھ بدفعلی کرکے مار دیا گیا
🔴 اس سے پہلے 8 سال کی بچی منتہا کے ساتھ پانچ مردوں نے ریپ کیا اور اس کو مار کر اس کے سر کے بھی ٹکڑے ٹکڑے کردیے۔ 👈 پولیس نے ایک کو گولی مار کر باقی چار کو بچا لیا۔
⛔️ یا تو #پنجاب میں مرد پاگل ہو چکے ہیں اور باقی کے بے غیرت ہیں۔
❌ یا پنجاب کے کچھ MPA پہلے کی طرح #ڈارک_ویب کے لئے #پورن_فلمیں بنا رہیں ہیں اور اس کاروبار کا حصہ ہیں
❌ پہلے بھی پنجاب کے ایک MPA جو #مسلم_لیگ_ن سے تھے ان کا نام آیا تھا 👈 چھوٹے بچے اغواء کرکے پورن فلمیں بنانے میں۔ کوئی سزا نہیں ہوئی بلکہ ایک مشہور اینکر کو یہ اسٹوری بریک کرنے کی وجہ سے تھانے میں رہنا پڑا
🟥 جب تک ان مجرموں کو سرِ عام #پھانسی نہیں دی جائے گی 👈👈یہ گھناؤنے جرائم نہیں رکیں گے
🟥 پورن سائٹس پر پابندی لگائی جائے تاکہ مردوں کی حواس
باختگی صحیح ہو۔ اور یہ چھوٹے معصوم بچے ان کی درندگی سے بچ جائیں
Yesterday, our family met with KP ministers at the Islamabad High Court. We held a detailed discussion on the steps being taken to restore all of Imran Khan’s legal and lawful prison rights.
During the meeting, Ministers provided the following update:
1. There will be no surplus budget, as Imran Khan has consistently directed that all available funds be utilized for the development and uplift of the people of Khyber Pakhtunkhwa.
2. The KP Government will not sign any agreement to transfer the Rs. 175 billion requested by the Federal Government unless the following demands are met:
• Khyber Pakhtunkhwa must receive its full share for the merged districts (formerly FATA) for the current fiscal year, amounting to approximately Rs. 300 billion. These funds are essential for the economic development and stability of the merged areas.
No agreement will be signed until all of Imran Khan’s legal and lawful rights are fully restored, including
1. The immediate transfer of Imran Khan to Shifa International Hospital for proper diagnosis, examination, and treatment by qualified specialists.
2. An immediate end to Imran Khan’s eight-month isolation and solitary confinement.
a) Restore weekly meetings with 6 family members, 6 members of his legal team, and 6 friends (political associates)
b) Restore his weekly phone calls with his sons.
c) Restore his access to books, newspapers, and other reading material.
These are the basic legal and human rights that must be respected and restored without further delay.
جب تک خانصاحب کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا ، بہنوں سے ملاقات نہیں کروائی جاتی:
1- آپ نے سر پلس بجٹ پاس نہیں کرنا
2- اربوں روپے جنرلز کو نہیں دینے
3- بجٹ ایک یا مہینے سے زیادہ پاس نہیں کروانا
سب باتیں چھوڑ کر اس ایک بات پر فوکس کرنا ہے ہم سب نے۔
سخت گرمی کے بعد اب بارش ہو رہی ہے....
اتنی حسین جگہ چھوڑ کر
ہماری خاطر خان صاحب قید میں ہیں۔۔۔
200 دنوں سے خان صاحب کی کسی بہن سے ملاقات نہیں کروائی گئی
اگر خان صاحب کو جیل میں کچھ ہو جاتا ہے
تو آنے والی نسلیں آپ سے ضرور سوال کریں گی
کہ آپ نے اس شخص کی مدد کیوں نہیں کی؟
آپ اس شخص کی خاطر باہر کیوں نہیں نکلے؟
جو ہماری اور آپ کی خاطر قید میں تھا
جو امت مسلمہ کا لیڈر تھا۔۔۔۔
یہ سوال قبر تک آپ کا پیچھا کرے گا
اگر آپ اس سب سے بچنا چاہتے ہیں تو آپ کو باہر نکلنا پڑے گا
جدوجہد کرنی پڑے گی
اپنے حق کے لیے نکلنا پڑے گا
باہر نکلنا ہے
ان غلامی کی زنجیروں کو توڑنا ہے
نہیں تو تا قیامت آپ اور آپ کی نسلیں ان لوگوں کی غلامی کرتی رہیں گی۔۔۔۔
آزادی کوئی پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیتا آزادی چھیننی پڑتی ہے
غلامی کی زنجیریں گرتی نہیں ہیں گرانی پڑتی ہیں
اور آپ لوگوں کو گرانی پڑے گی۔۔۔۔۔
We have received reports that Imran Khan was again taken to PIMS in the early hours of 15 June. We found out through a tweet by Barrister Gohar on the morning of 15 June.
We reject any medical report generated by PIMS regarding Imran Khan’s condition. The same institution has previously made questionable claims, including the assertion that Imran Khan had recovered 90% of his eyesight. Imran Khan himself rejected these claims when his lawyer later met him at Adiala Jail.
A fundamental question remains unanswered: Why does Imran Khan require a fifth injection?
We do not accept the government’s version of events. We demand that Imran Khan be examined and treated by independent, qualified specialists at Shifa International Hospital, Islamabad. This is an urgent and immediate priority.
A full bench court order permits six family members to meet Imran Khan every Tuesday. Yet over the past eight months, the authorities have largely violated this order. My sister, Dr. Uzma Khan, has only been allowed to meet him a few times, and her last meeting took place on 2 December, 2025.
We reject the government’s continued use of isolation and deprivation as tools of pressure against Imran Khan. Today, we expect all six family members to be allowed to meet him in accordance with the court’s order.
The denial of Imran Khan’s rights is not merely a political issue; it is a clear violation of both the jail manual and High Court orders.
According to the jail manual, Imran Khan is entitled to:
1. A weekly telephone call with his sons.
2. A weekly meeting with family members.
3. A weekly meeting with his legal counsel.
4. Access to books and reading material.
5. Access to television and newspapers.
6. Access to proper medical treatment and regular medical check-ups.
7. Notification to immediate family members before any medical procedure is carried out.
In addition, High Court full bench orders provide that:
1. Imran Khan must be allowed to speak with his sons by telephone.
2. Six family members and six lawyers may meet him every Tuesday.
3. Six friends, including party representatives, may meet him every Thursday.
We demand the immediate restoration of all of Imran Khan’s lawful rights as a prisoner, with access to independent and professional medical treatment in presence of family as the highest and most urgent priority.
"ایک مسنگ پرسن کے نام "
یہ ٹویٹ ایک مسسنگ پرسن کیلئے ہے -
مسنگ پرسن جو پچھلے تین سال سے نہیں دیکھا گیا ' اور پچھلے تین ماہ سے اس کے خاندان میں سے کسی نے اس سے نہ بات کی نہ ملاقات کی -
مسنگ پرسن جو پاکستان کا سب سے مقبول پرسن ہے لیکن غائب ہے -
مسنگ پرسن جس کی ایک آنکھ مسنگ کردی گئی لیکن اس نظام اور اس عوام کے کان پر جوں تک نہ رینگی -
مسنگ پرسن جس کا مقدمہ نہ کسی تھانے میں درج ہوتا ہے نہ کسی عدالت میں دائر ہوتا ہے -
مسنگ پرسن جس کو مسنگ کرنے کیلئے اس ملک کی سپریم کورٹ ہی مسنگ ہوگئی- وہاں عدل مسنگ ہوگیا - وہاں انصاف مسنگ ہوگیا -
مسنگ پرسن جس کس انتخابی نشان مسنگ کردیا گیا جس کا بیلٹ باکس مسنگ کر دیا گیا -
مسنگ پرسن جس کو مسنگ کرنے کیلئے اس ملک کا آئین ترمیم زدہ کرکے مسنگ کردیا گیا -
مسنگ پرسن جس کے سب مقدمے بھی ماوراے عدالت ' جس کی سب سزائیں بھی ماوراے عدالت - جس پر الزام بھی ماوراے عدالت - جس کا انجام بھی ماوراے عدالت -
مسنگ پرسن جس کے وسیلے سے اس ملک میں کینسر مسنگ ہونے لگا ' پر آج وہ خود آمریت کے کینسر سے گھائل مسنگ نظر آتا ہے -
مسنگ پرسن جس کے اپنے بھی مسنگ ' جس کے سجن بھی مسنگ ' جس کی عوام بھی مسنگ ' جس کے منسٹر بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے وکیل بھی مسنگ ' جس کے مشیر بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کی جیل کے باہر دھرنا بھی مسنگ ' عوام کا بپھرنا بھی مسنگ - پارٹی کا احتجاج بھی مسنگ - کوئی ہڑتال کوئی لانگ مارچ بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کی میڈیا پر سے اب خبر بھی مسنگ ' جس کا نام بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بغیر اس نوجوان کا سیاست میں اشتیاق بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بغیر اس ملک کے غریب کا "احساس " بھی مسنگ ' جس کے بعد بے گھر کی "پناہ گاہ " بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بعد بیمار کا "ہیلتھ کارڈ" بھی مسنگ ' جس کے بعد "بلین ٹری اور ماحولیات" کی بات بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بعد ملک کا وقار بھی مسنگ ' آزاد خارجہ پالیسی کا انداز بھی مسنگ -
مسنگ پرسن جس کے بعد وردی کی حرمت بھی مسنگ اور پاسبان سے محبت بھی مسنگ -
یہ میرا کالم اس مسنگ پرسن کے نام ہے جس کا مسنگ ہونا اب اس ملک ؛ اس نظام اور اس عوام کیلئے ایک نیو نارمل بنتا جارہا ہے اور سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اس نسیان اور اس بیوفائی اور طوطا چشمی پر ہمارا ضمیر بھی مسنگ -
قلم کی جسارت وقاص نواز
-----------------------------------------------------
@MoeedNj@ImranRiazKhan@SabeeKazmi786@ARYSabirShakir@MarioNawfal@soulful7867@salmanAraja@SohailAfridiISF
پونچھ کا زخمی شیر ۔عمر نذیر کشمیری
انڈیاپہ ایک ہزار بار لعنت بھیجتا ہوں اور انڈین ایجنٹ کہنے والوں پہ لاکھ بار لعنت بھیجتا ہوں ۔
ہمیں اس سرزمین پہ بیت اللہ کے بعد اگر کوٸی مقدس ہے۔وہ ریاست جموں وکشمیر ہے اور اس کے بعد ریاست پاکستان ہے۔
ہماری جنگ اشرافیہ سے ہے۔اور ہم اپنے حقوق کی جنگ لڑھ رہے ہیں۔ہمیں معمولی سے علاج کیلٸے بھی اسلام آباد کی طرف رخ کرنا پڑتا ہے۔
ہم چاہتے ہیں ہمیں بہترین سہولیات دو ہمیں اچھے ہسپتال دو،ہمیں اچھی روڈیں دو آپ نے وعدہ کیا تھا بنک شیڈول کرے گے حکمرانوں نے وعدہ کیا تھا کے ہسپتال میں ایم آر آٸی سی ٹی سکین مشنیں جلد از کشمیر کے ہسپتالوں میں مہیا کرے گے ہم پوچھتے ہیں وہ کہا ہیں؟
ہمیں کہتے ہیں آپ دہشتگرد ہیں
تیرے لشکر میں کوئی ایک بھی مرد مسلمان تھا؟
ہوا نا ایک سے انکار! گولی کیوں چلائی تھی؟
بڑا چھوٹا تھا عہدیدار، گولی کیوں چلائی تھی؟
وہ کرنل تھا یا صوبیدار، گولی کیوں چلائی تھی؟
خرم ذیشان
@khurramzeeshan#گولی_کیوں_چلائی
#سانحہ_راولاکوٹ
"گولی کیوں چلائی"
یہ پوچھا جائے گا ہر بار، گولی کیوں چلائی تھی؟
بتائے اب ہمیں سرکار، گولی کیوں چلائی تھی
گری تھی کون سی دیوار، گولی کیوں چلائی تھی؟
سبھی ہونٹوں پہ ہے تکرار، گولی کیوں چلائی تھی؟
نہ تھی دشمن کی وہ یلغار، گولی کیوں چلائی تھی؟
نہ تھا جب سامنے ہتھیار، گولی کیوں چلائی تھی؟
نہیں تھے یہ وہ۔کوئی اغیار، گولی کیوں چلائی تھی؟
وطن کے وہ بھی تھے غمخوار، گولی کیوں چلائی تھی؟
نہتوں پر سربازار، گولی کیوں چلائی تھی؟
کیا ہے پیٹھ پر کیوں وار، گولی کیوں چلائی تھی؟
وہ جیتے جاگتے لوگوں کا اک پر امن مجمع تھا
پرندوں کا نہیں تھا ڈار، گولی کیوں چلائی تھی؟
وہ انسانوں کے خوں سے پھوٹنے والے فوارے تھے
نہیں پانی کی تھی وہ دھار، گولی کیوں چلائی تھی؟
میرے گلشن کے یہ کھلتے ہوئے کچھ پھول کلیاں تھیں
ذہن کے دائمی بیمار! گولی کیوں چلائی تھی؟
نجانے کتنی آنکھیں اب بھی ان کی راہ تکتی ہیں
سبھی رکھتے تھے یہ گھر بار، گولی کیوں چلائی تھی؟
مٹا ڈالو بھی جو دھبے، لہو ہے پھر بھی بولے گا
تمہیں رینا ہے اب تیار! گولی کیوں چلائی تھی؟
تیرے لشکر میں کوئی ایک بھی مرد مسلماں تھا؟
ہوا ناں ایک سے انکار! گولی کیوں چلائی تھی؟
بڑا چھوٹا تھا عہدیدار، گولی کیوں چلائی تھی؟
وہ کرنل تھا یا صوبیدار، گولی کیوں چلائی تھی؟
بھڑک اٹھے گی اب یہ آگ جب بھی سامنا ہوگا
دہکتا جائے گا انگار، گولی کیوں چلائی تھی؟
لہو دینا تو کیا ہم۔کو لہو پینا بھی آتا ہے
کریں جینا تیرا دشوار؟ گولی کیوں چلائی تھی؟
امن خواہش سہی لیکن یہ کمزوری نہیں اپنی
اٹھا لیں ہم بھی اب ہتھیار؟ گولی کیوں چلائی تھی؟
شہیدوں کے لہو پہ سودا بازی ہو نہیں سکتی
بتا اے بزدل و مکار، گولی کیوں چلائی تھی؟
خرم ذیشان ایڈووکیٹ
کوہاٹ
نومبر 30، 2024
1: 9 مئی قتل عام 2023
2: D چوک قتل عام 2024
3: کشمیر احتجاج قتل عام 2025
4: تحریک لبیک قتل عام مریدکے 2025
5: راولا کوٹ قتل عام 2026
فیلڈ مارشل عاصم منیر اور شہباز شریف کے دور میں ہونے والے بڑے قتل عام۔۔۔
🚨کشمیری نوجوان رو رو کر بتا رہا ہے کہ راولاکوٹ میں 400 سے 500 بندہ مار دیا گیا ہے
نوجوان رو رو کر پوچھ رہا ہے کہ بتاو ہماری کیا غلطی تھی ہم تو اپنے حقوق کیلئے نکلے ہیں
ہمیں چلاس سے واپس کیا گیا اور واپس کرنے والوں کو باقاعدہ مخبری کی گئی تھی ذاتی تصاویر، گاڑیوں کی تصاویر اور تمام تفصیلات کے ساتھ جس سے بہت کم لوگ واقف تھے۔
تاہم گلگت بلتستان کے غیور لوگوں کے لئے پیغام یہ ہے کہ یہ کوئی عام الیکشن نہیں بلکہ یہ ایک ریفرینڈم ہے کہ کیا ہم لوگ غلام ہی رہیں گے یا اللہ کے آزاد انسانوں کی طرح حق کے فیصلے کریں گے اور پھر نتائج کی حفاظت بھی کریں گے۔
پورا پاکستان آپ کے ساتھ ہے، پورا پاکستان خان کے ساتھ ہے۔ بے خوف ہو کر پی ٹی آئی امیدواروں کو نہ صرف ووٹ ڈالیں بلکہ نوجوان بالخصوص ووٹ ڈلوانے اور انتخابی نشانات لوگوں تک پہنچانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
اللہ ہم سب کا مددگار ہو
زندگی اور موت اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے
رزق، عزت اور ذلت اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے
میرا ایمان میرے اللّٰہ پر پختہ ہے
جتنی میری زندگی ہے میں نے اتنا ہی زندہ رہنا ہے
اگر اللّٰہ نے مجھے عزت دی ہے تو آپ لوگ مجھے ذلیل نہیں کر سکتے ہیں
آپ گالیاں دیتے رہیں میں مرشد عمران احمد خان نیازی کا ساتھ دیتا رہو گا کیوں کہ مرشد عمران خان حق پر ہیں اور ان کا ساتھ دینا جہاد ہے
میرے اہلِ وطن، اہلِ پاکستان کو عید مبارک!
میرے لئے یہ سب سے کربناک اور تکلیف دہ عید ہے۔ ہمارے تقریباً دس ہزار کارکنان اور سپورٹرز کو جیلوں میں بھر دیا گیا ہے جبکہ پرامن احتجاج کا اپنا آئینی حق استعمال کرنے پر ان سے مجرموں کا سا سلوک کیا جارہا ہے۔
ہمارے بہادر قائدین، جن میں ڈاکٹر یاسمین راشد اور عالیہ حمزہ وغیرہ جیسی خواتین رہنما بھی شامل ہیں، جیل میں قید اور تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کرنے سے مسلسل انکاری ہیں۔
ہمارے 16 کارکنان کو گولیاں مار کر شہید کیا گیا جبکہ دیگر 8 کے بارے میں بھی شبہ یہی ہے کہ انہیں بھی قتل کیا گیا تاہم اس کی تصدیق ممکن نہیں کیونکہ ان کے اعزّا و احباب پولیس کے خوف سے زیرِ زمین ہیں۔ 50 دیگر کو بھی گولیاں ماری گئیں۔
تاہم سیکورٹی اہلکاروں کیجانب سے نہتّے مظاہرین پر طاقت کے اس بے جا استعمال کا نہایت حیران کن طور پر (ریاستی و سرکاری سطح پر) ذکر تک سنائی نہیں دے رہا۔ پھر اس امر کا سراغ لگانے کیلئے کہ 9 مئی کو اصل میں ہوا کیا، کسی آزاد تحقیق کی زحمت ہی گوارا نہیں کی گئی۔
اس کے برعکس سرکاری سطح پر تحریک انصاف کیخلاف یکطرفہ پراپیگنڈے کے ذریعے ہر اس شخص کو، جس کی تحریک انصاف سے ذرا سی بھی نسبت ہے، کو محض اس یک نکاتی ہدف کے تحت کہ انتخابات سے قبل کسی بھی طرح تحریک انصاف کو کچل دیا جائے، پر جبر و دہشت کے پہاڑ توڑے گئے۔
تحریک انصاف اور (پاکستانی) قوم اس تاریک دور سے پہلے سے نہایت مضبوط ہو کر ابھریں گے، انشاءاللہ۔
اسی طرح میڈیا پر بھی کڑے پہرے بٹھائے گئے ہیں اور اس فسطائی سرکار کے ناقدین اس (ریاستی) غیض و غضب کے نشانے پر ہیں۔
عمران ریاض خان کو اغواء کیا گیا اور 40 روز سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے کہ کسی کو اس کی سلامتی و مقام کے بارے میں خبر نہیں۔ اس طرح ہمارے 5 معتبر صحافی جنہیں مجبوراً ملک چھوڑ کر کہیں اور پناہ لینا پڑی۔اس عید پر ہم انہیں بھی اپنی یادوں کا حصہ بنائے ہوئے ہیں۔