ہم نے ساتھ کھیلا ہے، پاکستان ککو کہاں سے کہاں لے گیا۔ مجھے پتا ہے عمران کے بارے میں کہ وہ ایماندار آدمی ہے۔
وہ کھانے پینے والا نہیں تھا، ورنہ وہ بہت کچھ کر سکتا تھا۔ جاوید میانداد عمران خان کے بارے میں بات کرتے ہوئے رنجیدہ ہو گئے۔
#StopRiskingImranKhansLife
Adding my support here to GC and the other former international captains. I hope the court ordered medical assessment be allowed to run its course, and that family visits continue. I hope Imran Khan is treated with the dignity anyone deserves
آپ کی خبر غلط ہے ، حکومت نے آخری حد تک کوشش کی کہ عمران خان کو ہسپتال منتقل کرکے ان کا علاج نہ کیا جائے ، وفاقی حکومت نے بھرپور مخالفت کی بلکہ ججز پر زور دیا کہ تحریری حکم نامے میں ضرور لکھیں کہ ہمیں اس فیصلے پر شدید اعتراض ہے ، تحریری حکم میں یہ آ جائے گا
ن لیگ حکومت نے بہت نیچ ، غلیظ اور گھٹیا حرکت کی ہے
ابھی تو حکومت نے مہنگا تیل خریدا ہی نہیں ہے ، لیکن پاکستانیوں کو سستا خریدا ہوا پٹرول بھی مہنگا بیچنا شروع کر دیا ہے-
جس حکومت کو پتہ ہو کہ وہ نہ عوام کی ووٹوں کی وجہ سے آئی ہے اور نہ ہی اس نے آئندہ بھی آنا ہے، وہ ایسی ہی بے رحم ہو سکتی ہے-
جس خان کو عوام کی فکر ہوا کرتی تھی، وہ قیمتوں کو بڑھانے کے بجائے گھٹایا کرتا تھا، اسے ان وحشیوں نے جیل میں ڈال رکھا ہے-
#خان_کی_صحت_پر_تاخیر_نامنظور
اسلام میں کوئی بھی شخص چاھے وہ کتنے بڑے عہدے پر ھو کسی بھی وقت عدالتی کارروائی سے بالاتر نہیں ھو سکتا خلفاء راشدین کی مثالیں سب کو معلوم ہیں ہمارے دستور میں پہلے بھی صدر کو صدارت کے دوران تحفظ دیاگیاتھا جو اسلام کے خلاف تھا اب تاحیات کسی کو یہ تحفظ دینا شریعت اور آئین کی روح کے بالکل خلاف ہے جو ملک کے لئے نہایت شرمناک ھوگا اللہ تعالیٰ ملک کو اس بے عزتی سے بچائیں آمین پارلیمنٹ کے ارکان سے دردمندانہ درخواست ہے کہ وہ یہ گناہ اپنے سر نہ لیں
Former Prime Minister Imran Khan in Conversation with his Family and Lawyers at Adiala Jail - 15 July 2025:
"There is absolutely no question of bowing down, even if I have to spend my entire life in prison. I convey this same message to the people of Pakistan: under no circumstances should you submit to this tyrannical system.
The time for negotiations has passed. What remains now is the time for the nation to rise in protest.
Hardships inflicted upon me in jail have intensified in recent days. The same is true for my wife, Bushra Bibi, who is also facing increasing restrictions. The television in her cell has been shut down. All fundamental human rights and basic prisoner entitlements, both mine and hers, have been suspended. This must be accounted for.
I am fully aware that a certain Colonel and Jail Superintendent Anjum are carrying out these actions at the behest of Asim Munir.
I issue a clear directive to my party: if any harm comes to me while I remain imprisoned, Asim Munir must be held accountable.
Bushra Bibi is being subjected to this cruelty because, during my tenure, after Asim Munir was removed from his position, he sent her a message through Zulfi Bukhari requesting a meeting, which she categorically declined. Since then, he has targeted her with continuous retribution. From day one, it has been his deliberate strategy to break my will by tormenting her.
In the very jail where I am being held under inhumane conditions, terrorists and known murderers of hundreds of Pakistanis enjoy better treatment. A military officer named Rizwan is being held in the lap of luxury, while every form of cruelty is inflicted upon me. No matter what they do, I did not bow before this oppression before, nor will I do so now.
Under the oppressive watch of Maryam Nawaz and Mohsin Naqvi in Punjab, fascism has taken root for the past two years, extinguishing democracy and crushing all political activity.The arrival of elected representatives in Punjab in the form of a political caravan, in such an environment is a welcome development.
At this time, many, including myself, are enduring some of the harshest imprisonments. Therefore, I direct every member of the party to put aside all personal grievances. Publicly airing internal matters or individual concerns before the media is entirely unacceptable. My instruction is firm: whether a senior officeholder or a junior member, no one is to express internal differences on social media, electronic media, print media, or any other platform. Focus exclusively on the protest movement so that fundamental human rights are restored in Pakistan. If any party official fails to participate in this movement, I will make the final decision about them myself, even from within jail.
I instruct all party members and office-bearers to personally retweet my messages on Twitter (now X), and ensure they are shared as extensively as possible.
The party should decide on nominations for the Senate tickets through mutual consultation."
عمران ریاض کا کیپٹن ایمان کو جواب 🔥
آپ کو تو آئین نے احتیار ہی نہیں دیا کہ آپ یہ فیصلہ کرے ،قومی مفاد میں کیا ٹھیک ہے کیا غلط،آپ کون ہوتے ہو
أپ کا کام صرف فالو کرنا ہے
امریکہ کا ایران پر حملہ انتہائی قابل مذمت ہونے کے علاوہ انکے پچھلے وعدوں کی صریح خلاف ورزی ہے دوسرے ملکوں کو جھنم بنانے کی دھمکیاں دینے والا شخص کیا امن کا انعام حاصل کرنے کا مستحق ہوسکتاہے؟
بابا جی فرماتے ہیں کہ مجھے اگر سزائے موت ہوئی ہو اور کہا جائے کہ نواز شریف کو ووٹ دے دو سزا معاف تو مجھے پھانسی لگادو نواز شریف کو ووٹ پھر بھی نہیں دوں گا۔
جن کے بارے عوام کی ایسی رائے، انکو ہمارے اوپر مسلط کیا ہوا ہے۔
ابھی ایک ن لیگی MPA کا میسج آیا کہ چالیس بچے شہید ہو گئے اور مریم نواز پچھلے دو گھنٹے سے DJ sound پر اپنی وڈیوز چلوا کر MPAs سے تالیاں بجوا رہی ہیں۔
ن لیگی MPA کا لکھنا ہے کہ اتنا مجبور پہلے کبھی نہ تھے۔
شرمناک بہت ہی شرمناک
عمران خان فسطائیت کا شکار ہونے کے باوجود پاکستان کی آواز بن کر مودی اور بھارت کے خلاف بیان دے رہا ہے اور جنہیں فارم 47 دیکر مسلط کیا گیا نوازشریف اور سب بھارت کےخلاف کوئی بات کرنے کیلیے تیار نہیں محمد زبیر
“پاکستانی قوم کو بیرونی اور اندرونی دونوں طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ چھبیسویں آئینی ترمیم نے ہمارے انصاف کے نظام کا جنازہ نکال دیا ہے اور ملک اس وقت مکمل ڈکٹیٹر شپ میں جا چکا ہے- سویلینز کا ملٹری ٹرائل قانونی قرار دینا اسی ترمیم کا نتیجہ ہے۔ ایوانوں میں اس ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے تو صرف کٹھ پتلی تھے اور احکامات کی پاسداری کر رہے تھے۔
دنیا کی کسی جمہوریت میں اپنے شہریوں کے ساتھ ایسا مذاق نہیں ہوتا کہ انہیں احتجاج کرنے پر ملٹری کورٹس کے حوالے کر دیا جائے۔ اس طرح کے فیصلوں سے پاکستان کی جگ ہنسائی ہوتی ہے۔
نو مئی کے واقعات میں اپنے بچوں کو سزائیں دینے کے بجائے توجہ ہندوستان سمیت دیگر اندرونی و بیرونی مسائل پر مرکوز ہونی چاہیے۔ یہ وقت نوجوانوں کو متحد کرنے کا ہے۔
جن نوجوانوں کو ملٹری کورٹس سے دس ، دس سال کی سزائیں دلوائی گئی ہیں ان کا جرم صرف احتجاج کرنا ہے۔ بارہا کہتا ہوں کہ نو مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوائی جائے تا کہ معلوم ہو سکے کہ اصل مجرمان کون ہیں اور سزائیں کن کو ملنی چاہئیں ۔ یوں کسی آرمی افسر کے کہنے پر قوم کے نوجوانوں کے مستقبل کو برباد کرنا ظلم ہے۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کا دوسرا نتیجہ یہ ہے کہ ججز اب صرف ایک سرکاری ملازم کی حیثیت رکھتے ہیں اور کوئی آزادانہ فیصلہ نہیں لے سکتے۔ ججز کو ایک فرد واحد سب فیصلے لکھ کر دیتا ہے جو کہ نظام انصاف کی موت ہے۔ میرے خلاف جھوٹے اور بوگس مقدمات اسی لیے چل رہے ہیں کیونکہ عدلیہ آزاد نہیں ہے۔
القادر ٹرسٹ کیس سمیت میرے خلاف بنائے گئے تمام کیسز بوگس ہیں اس لیے مرضی کے ججز لانے کے باوجود میری اپیلیں مسلسل التوا میں رکھی جا رہی ہیں- جس دن میرے مقدمات میرٹ پر سنے گئے سب کا خاتمہ ہو جائے گا۔
میرا تمام پارٹی عہدیداران کے لیے واضح پیغام ہے کہ وہ تحریک چلانے پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔ میری پہلی ترجیح تحریک اور پارٹی کی تنظیمِ نو ہے۔
جنید اکبر پر مجھے پورا اعتماد ہے۔ اگر وہ تنظیمی ذمہ داریوں پر فوکس رکھنے کے ساتھ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی چلا سکتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اہل خانہ اور وکلأ سے ملک می�� جاری لاقانونیت اور فسطائیت پر گفتگو
(13-05-2025)
2/2