خیبرپختونخوا کے چار کروڑعوام کے منتخب وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کو پنجاب پولیس کے ہاتھوں قیدی وین میں بٹھا کر لے جانا محض ایک فرد پر حملہ نہیں، بلکہ پورے خیبرپختونخوا کے عوامی مینڈیٹ، آئین اور جمہوری اصولوں پر کھلا حملہ ہے۔
یہ کیسا نظامِ ہے جہاں عوام کے منتخب نمائندوں کو سیاسی انتقام، ریاستی طاقت اور جبر کا نشانہ بنایا جائے؟ عمران خان سے وفاداری کو جرم بنا کر، تحریکِ انصاف کے کارکنوں کو گرفتار کرکے اور منتخب نمائندوں کو ہراساں کرکے آپ عوام کے دلوں سے نظریہ ختم نہیں کر سکتے۔
آج کا یہ اقدام صرف ایک سیاسی جماعت کے خلاف نہیں، بلکہ جمہوریت کے چہرے پر ایک اور سیاہ داغ ہے۔ وقت گواہی دے گا کہ کس نے آئین کا ساتھ دیا اور کس نے اقتدار بچانے کے لیے آئین اور جمہوری اقدار کو پامال کیا۔
جبر سے آوازیں دبائی جا سکتی ہیں، عوام کا فیصلہ نہیں بدلا جا سکتا۔ ظلم کی ہر حد کے بعد مزاحمت مزید مضبوط ہوتی ہے۔
27 ستمبر انشاءاللہ اسلام آباد
لاہور کی صورتحال۔۔۔
واضع رہے کہ یہ با ضابطہ کال نہیں دی گئی تھی بلکہ ایک کارکن کی شہادت پر اسکے گھر اسکے خاندان سے تعزیت کیئے آمد تھی۔ اسکے بعد جب سہیل آفریدی چلے تو ہزاروں لوگ انکے ساتھ نکل پڑے۔
جاوید میانداد صاحب عمران خان کے لئے بات کرتے ہوۓ رو پڑے۔ کوئی بھی شخص جو عمران خان کو جانتا ہے وہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ عمران خان کرپٹ آدمی ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ وہ صرف مفاد پرستوں کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ صرف نہ جھکنے کی قیمت چکا رہا ہے۔
سپریم کورٹ نے عمران خان کو شفا انٹرنینشل لے جانے کا کہا،لیکن حکومت اور موجودہ رجیم انکو پمز لے گئے،وہی پمز جہاں بچوں والا واقعہ ہو۔
ڈاکٹر فیصل کو بھی دھوکا دیا گیا۔
زلفی بخاری مجودہ رجیم کے کارنامے ساری دنیا کو بتا رہے ہیں۔
@BeckyCNN
چوہدری عبداللہ طاہر کے جنازے میں پاکستان بھر سے لوگ آئے اور کوئی نہیں آیا تو PTI مرکزی لیڈر شپ نہیں آئی کیوں؟
پارٹی کو کسی ورکر کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاہیے، عمر بودلہ آبدیدہ ہوگئے،،
https://t.co/Vn01wdkarA