20 سالہ بلوچ طالبہ صفیہ بلوچ جبری لاپتہ ۔
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں واشک کے علاقے بسیمہ سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ بلوچ طالبہ صفیہ بلوچ کو کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔
#SaveBalochWomen
MISSING, NOT FORGOTTEN - Day 290 - 28th August 2026
Most of us wake up each morning and go about our day as normal. But for the families of the disappeared, life is never normal again.
Enforced disappearance is prohibited under international law. Families have the right to know the fate and whereabouts of their loved ones.
Where are Noorullah Tareen and Hanif Pashteen?
They must not be forgotten.
#WhereIsPTMDelegation
#WhereIsNoorUllahTareen #WhereIsHanifPashteen #EndEnforcedDisappearances
ژوب شہر میں دن دہاڑے ساتویں جماعت کے تیرہ سالہ طالب علم بریال خان کو اغوا کرنا اور کئی روز گزر جانے کے باوجود اب تک بازیاب نہ کرنا یہ امر واضح کرتا ہے کہ ان اغواکاروں کو مقتدرہ اور ژوب پولیس انتظامیہ کی مکمل طور پر سرپرستی حاصل ہے۔
ژوب پولیس اور انتظامیہ صرف اور صرف سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کر کے انہیں گرفتار کرتی ہے اور ان کارکنوں کو فورث شیڈول میں ڈال کر انہیں دہشت گرد قرار دینے کو امن سمجھتی ہے۔
جبکہ ژوب کے ڈی سی اور اے سی ژوب میں امن و امان
قائم کرنا ہی نہیں چاہتے۔
بلکہ آغوا کاروں ، غنڈہ گردوں منشیات پرورشوں کی
سرپرستی کی جاری ہیں
جسٹس جاوید اقبال نے 2018 میں ایک بیان میں کہا تھا کہ 2007 میں جنرل مشرف کے دور میں پاکستان نے 4000 پشتون لاپتہ افراد امریکہ کو فروخت کئے۔
اس ملک میں ایک گھڑی فروخت کرنے پر ایک سابق وزیراعظم کو جیل جبکہ دوسرے سابق وزیراعظم کو اقامہ میں جیل ہوسکتی ہے مگر 4000 زندہ پشتونوں کو فروخت کرنے پر ایک جنرل کو ایک دن جیل بھی نہیں ہوتی ۔
باقی محض اپنے حقوق مانگنے کے ایک تقریر پر پشتون ، بلوچ ، سندھی ، مہاجر ، کشمیری یا گلگت بلتستان کے رہنماوں اور کارکنوں کی سزائیں اور اذیتیں دینے کی روایت تو فوج کو انگریزوں سے ورثے میں ملی ہیں جو تاحال جاری ہے۔
@ManzoorPashteen
Aug 23, 2023
خیبر پختونخوا میں ایک اور ملٹری آپریشن کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں
کرم کے 31 دیہات خالی کرائے جائیں گے ہزاروں افراد کو نقل مکانی کرکے علاقہ خالی کرنا ہوگا مقامی آبادی نے علاقہ خالی کرنے سے انکار کردیا
وسطی کرم کے علاقے پاڑہ چمکن میں کارروائی کی جائیگی جس کیخلاف مقامی لوگوں اور مکینوں نے جرگہ اور امن مارچ منعقد کیا۔
جرگہ شرکا اور مقامی لوگوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت طاقت کے استعمال کی بجائے مسائل کا حل مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے نکالے۔
Missing Person: Khaibullah
Name: Khaibullah
Father’s Name: Iqbal
Tribe: Takhti Khel
Khaibullah was allegedly taken from his home by the Pakistani military approximately one year ago on suspicion. Since then, his whereabouts have remained unknown, and his family has not been allowed to meet or contact him.
His family remains deeply concerned about his safety and well-being and has been waiting for information about him for the past year.
Demand:
The relevant authorities are urged to immediately provide information about Khaibullah. If there are any allegations against him, he should be presented
#StopAbductions #HumanRightsViolations #JusticeForPashtuns #EndEnforcedDisappearances #PashtunMissingPersons #پشتون_مسنگ_پرسنز
صدر پختون تاجر ایسوسی ایشن گجرانوالہ حاجی اصغر خان (باجوڑ ) کو محافظ مارکیٹ کے تاجروں کے مسئلے کے حل کے سلسلے میں بلائے گئے میٹنگ کے موقع بلا وجہ ڈی پی او گجرانوالہ نے گرفتار کرلیا ۔ جو کہ نہایت غلط اقدام ہے تاجروں کو بے جا تنگ کرنے سے گریز کیا جائے اور حاجی اصغر کو رہا کیا جائے
تحریکِ تیراہ متاثرین کے احتجاج کے حوالے سے پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) کا مؤقف
خيبر: پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) تیراہ کے متاثرین کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کرتی ہے کہ اپنے گھروں، زمینوں، عزت اور بنیادی حقوق سے محروم ہونے والے تیراہ کے متاثرین کی آواز اٹھانا ہمارا اصولی مؤقف ہے اور ہم ہر جائز، پُرامن اور آئینی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
گزشتہ سال تیراہ میدان کے عوام فوجی آپریشنز اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کے باعث اپنے گھروں اور آبائی علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ حکومت کی جانب سے متاثرین کے ساتھ مختلف وعدے کیے گئے، جن میں واپسی، معاوضوں، بحالی اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی شامل تھی، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان وعدوں پر تاحال اس رفتار اور سنجیدگی سے عمل درآمد نہیں کیا گیا جس کے تیراہ کے متاثرین حق دار ہیں۔
پی ٹی ايم تیراہ کے متاثرین کے ان جائز مطالبات اور ان کی پُرامن جدوجہد کی بھرپور حمایت کرتی ہے
تاہم حالیہ دنوں میں دھرنے کے شرکاء کی جانب سے یہ فیصلہ سامنے آیا ہے کہ احتجاجی دھرنا باڑہ میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ذاتی گھر کے سامنے منتقل کیا جائے۔
پشتون تحفظ موومنٹ اس حوالے سے اپنا واضح اور اصولی مؤقف پیش کرتی ہے کہ احتجاج اور اختلافِ رائے ہمارا بنیادی حق ہے، لیکن احتجاج کا طریقہ اور مقام بھی ہمارے پشتون روایات، ثقافت اور اقدار کے مطابق ہونا چاہیے۔
ہم اپنے گھر کی عزت کرتے ہیں اور اسی طرح پشتون معاشرے کی روایت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ دوسرے کے گھر کی عزت اور حرمت کا بھی خیال رکھا جائے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، حکومتی پالیسیوں پر تنقید اپنی جگہ، لیکن کسی شخص کے ذاتی گھر کو احتجاج کا مرکز بنانا ہمارے معاشرتی اور ثقافتی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
PTM کا یہ مؤقف کسی فرد، سیاسی جماعت یا حکومت کے دفاع میں نہیں بلکہ اپنے پشتون اقدار کے دفاع میں ہے۔ ہم حکومت اور حکمرانوں پر تنقید کا حق رکھتے ہیں اور اپنے مطالبات کے لیے احتجاج بھی کریں گے، لیکن اس احتجاج میں کسی کے ذاتی گھر اور اہلِ خانہ کی حرمت کو نشانہ بنانا ہماری روایات کا حصہ نہیں۔
اگر احتجاجی دھرنا منتقل کرنا ہی مقصود ہے تو اس کے لیے ایسے مقامات موجود ہیں جہاں احتجاج زیادہ مؤثر بھی ہوگا اور براہِ راست متعلقہ حکومتی اداروں تک آواز بھی پہنچے گی۔ فورٹ سلوپ قلعے کے سامنے، خیبر پختونخوا اسمبلی کے سامنے، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے سامنے یا متعلقہ سرکاری دفاتر کے سامنے دھرنا دیا جا سکتا ہے۔
یہی وہ مقامات ہیں جہاں ریاستی اور حکومتی ذمہ داران سے براہِ راست جواب طلب کیا جا سکتا ہے اور تیراہ متاثرین کے مطالبات کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکتا ہے۔
پشتون تحفظ موومنٹ ایک مرتبہ پھر واضح کرتی ہے کہ ہم نے ہمیشہ تیراہ کے متاثرین کے ساتھ آواز اٹھائی ہے، ان کے دکھ درد میں شریک رہے ہیں اور ان کے حقوق کے لیے ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ آج بھی ہمارا مؤقف وہی ہے اور آئندہ بھی تیراہ کے متاثرین کے جائز حقوق کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
لیکن ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ مظلوم کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے ہمیں اپنی ثقافت، روایات، اخلاقی اقدار اور معاشرتی اصولوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
لہٰذا PTM، تحریکِ تیراہ متاثرین سے اپیل کرتی ہے کہ وہ دھرنے کے مقام کے حوالے سے اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کریں اور احتجاج کو کسی سرکاری ادارے یا حکومتی مرکز کے سامنے منتقل کریں، تاکہ تیراہ کے متاثرین کی اصل آواز اور ان کے جائز مطالبات کسی غیر متعلقہ تنازع کی نذر نہ ہوں۔
ہم حکومت سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تیراہ کے متاثرین کی مشکلات کو مزید طول دینے کے بجائے اپنے تمام وعدے فوری طور پر پورے کرے، متاثرین کو ان کے جائز معاوضے اور بنیادی سہولیات فراہم کرے اور انہیں باعزت طریقے سے اپنے گھروں اور آبائی علاقوں میں واپسی کا حق دے۔
تیراہ کے متاثرین کے ساتھ ہمارا ساتھ کل بھی تھا، آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گا؛
پشتون تحفظ موومنٹ (PTM)
خيبر
#PTM #PashtunLivesMatter #MuqibAfridi
بلوچستان میں یہ حالت ہے کے ڈیڈ سال اور ایک سال کے بچے اور خواتین کوں جبر سے اغوا کیا جارہاہے
یہ بچے اور خواتین بھی دہشتگرد ہے خدا کوں مانوں یہ کہا کے انصاف ہے
کہا او منافق لوگ جوں فلسطین کے بچوں کے لئے روتے ہے لیکن ان کے مظلوم بلوچستان اور پشتونخوا کے بچے اور خواتین نظر نہیں اتے
A child in Waziristan before and after a landmine explosion. This is what decades of militarization left behind. More than 2,000 landmine victims are reported in Waziristan alone. Those responsible for planting mines, failing to clear them and denying victims justice.
یہ ایک غلام ریاست ہے، جو آج بھی انگریزوں کے بنائے ہوئے ڈھانچے اور ورثے پر چل رہی ہے؛ فرق صرف اتنا ہے کہ چہرے بدل گئے ہیں، نظام وہی ہے۔
یہ ریاست نہیں، ایک ایسا سانپ بن چکی ہے جو اپنے ہی بچوں کو نگل رہا ہے۔ جب ریاست اپنے لوگوں کے خلاف کھڑی ہو جائے تو پھر سوال اٹھتے ہیں۔