اس جوان کا نام سلیم ہے والد کا نام منیر ہے۔
والدہ زاہدہ بھائی آصف اور بہنوں کے نام ثمینہ اور سلمیٰ ہیں۔
والد ٹرک چلاتا تھا دو شادیاں کی تھیں۔
دروغانوالہ کے آس پاس ایک گاؤں میں انکی رہائش تھی۔گھر کے قریب آٹے کا مل ہوا کرتا تھا۔
سال 1992 میں گھرُسے بچھڑا تھا۔
سلیم کے خاندان کی تلاش کے لئے ہماری مدد کریں اس ویڈیو کو خوب زیادہ شئیر کریں
کسی بھی اطلاع کے لئے ہمارے فون نمبر پر رابطہ کریں
03162529829
8 sept 2026
#waliullahmaroof
ادھر نہ دیکھو!
ادھر نہ دیکھو کہ جو بہادر
قلم کے یا تیغ کے دھنی تھے
جو عزم و ہمت کے مدعی تھے
اب ان کے ہاتھوں میں صدق ایماں کی
آزمودہ پرانی تلوار مڑ گئی ہے
جو کج کلہ صاحب حشم تھے
جو اہل دستار محترم تھے
ہوس کے پر پیچ راستوں میں
کلہ کسی نے گرو رکھ دی
کسی نے دستار بیچ دی ہے
ادھر بھی دیکھو
جو اپنے رخشاں لہو کے دینار
مفت بازار میں لٹا کر
نظر سے اوجھل ہوئے
اور اپنی لحد میں اس وقت تک غنی ہیں،
ادھر بھی دیکھو
جو حرف حق کی صلیب پر اپنا تن سجا کر
جہاں سے رخصت ہوئے
اور اہل جہاں میں اس وقت تک نبی ہیں
(فیض احمد فیض)
میں نہیں جانتی کہ کیوں
لیکن میں جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری خطبہ پڑھتی ہوں تو آخر تک پہنچتے پہنچتے میرا دل بھیگ جاتا ہے۔۔
اور جب میں یہ پڑھتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف چہرہ مبارک اٹھا کے فرمایا
"اے اللہ گواہ رہنا۔۔
میں نے تیرا پیغام تیرے بندوں تک پہنچا دیا،،
تو یہاں میرے آنسو آنکھوں سے بہ پڑتے ہیں۔
ہمارا اللہ کتنا مہربان ہے اس نے کتنا سادہ اور مکمل دستورِ حیات دیا ہے ہمیں
آئیے 9 ذوالحج 10 ہجری کو دئیے گئے اس خطبے کے اہم نکات کو دہرا لیں، حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔۔
1۔ اے لوگو! سنو، مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا۔ میری باتوں کو بہت غور سے سنو، اور ان کو ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں پہنچ سکے۔
2۔ اے لوگو! جس طرح یہ آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ جگہ عزت و حرمت والے ہیں۔ بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی، عزت اور مال حرمت والے ہیں۔ (تم اس کو چھیڑ نہیں سکتے )۔
3۔ لوگوں کے مال اور امانتیں ان کو واپس کرو،
4۔ کسی کو تنگ نہ کرو، کسی کا نقصان نہ کرو۔ تا کہ تم بھی محفوظ رہو۔
5۔ یاد رکھو، تم نے اللہ سے ملنا ہے، اور اللہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔
6۔ جاہلیت کے تمام سود ختم کر دئیے گئے اور سب سے پہلے میں عباس بن عبد المطلب کا سود معاف کرتا ہوں۔
7۔ تم عورتوں پر حق رکھتے ہو، اور وہ تم پر حق رکھتی ہیں۔ جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تم ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو۔
8۔ عورتوں کے بارے میں نرمی کا رویہ قائم رکھو، کیونکہ وہ تمہاری شراکت دار (بیویاں)ہیں۔انہیں تم نے اللہ کی امان میں اپنے نکاح میں لیا ہے اور یہ بے لوث خدمت گذار رہتی ہیں۔
9۔ کبھی زنا کے قریب بھی مت جانا۔
10۔ اے لوگو! میری بات غور سے سنو، صرف اللہ کی عبادت کرو، پانچ فرض نمازیں پوری رکھو، رمضان کے روزے رکھو، اورزکوۃ ادا کرتے رہو۔ اگر استطاعت ہو تو حج کرو۔
11 ۔زبان کی بنیاد پر, رنگ نسل کی بنیاد پر تعصب میں مت پڑ جانا, کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر,
عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں, ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔
تم سب اللہ کی نظر میں برابر ہو۔
برتری صرف تقوی کی وجہ سے ہے۔
12۔ یاد رکھو! تم نے ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر ہونا ہے،خبردار رہو!
میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا۔
13۔ یاد رکھنا! میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ، نہ کوئی نیا دین لایا جائے گا۔ میری باتیں اچھی طرح سے سمجھ لو۔
14۔ میں تمہارے لیے دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، قرآن اور میری سنت، ( بعض کتب میں خلفائے راشدین) اگر تم نے ان کی پیروی کی تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔
15۔ سنو! تم لوگ جو موجود ہو، اس بات کو اگلے لوگوں تک پہنچانا۔ اور وہ پھر اگلے لوگوں کو پہنچائیں۔اور یہ ممکن ہے کہ بعد والے میری بات کو پہلے والوں سے زیادہ بہتر سمجھ (اور عمل) کر سکیں۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور کہا،
16۔ اے اللہ! گواہ رہنا، میں نے تیرا پیغام تیرے بندوں تک پہنچا دیا۔
اوئے کم بختو: گناہ کو چھپانے یا غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو قتل نہ کیا کرو ،
ایک فون کر دیا کرو میں خود لینے آجاؤنگا ۔۔۔۔
500 سے زائد بچوں کو پالنے والے چوہدری اختر کی اپیل ۔۔۔
یاد رہے کہ عبدالستار ایدھی مرحوم کے بعد چوہدری اختر وہ واحد پاکستانی ہیں جنہیں نادرا ریکارڈ میں بے سہارا بچوں کی ولدیت میں اپنا نام لکھوانے کی اجازت حکومت نے دے رکھی ہے ۔
چوہدری اختر میر پور کے علاقہ کھاڑک سے تعلق رکھتے ہیں مگر یہ خود انگلینڈ میں پیدا ہوئے ۔
وہیں پلے بڑھے اور جوان ہوئے ، انکے خاندان کا وہاں بڑا کاروبار ہے ، 2005 کے زلزلے میں کچھ دوستوں کے کہنے پر زلزلہ زدگان کی مدد اور ریلیف کے لیے پاکستان آئے تو سینکڑوں یتیم بے سہارا بچوں کو سڑکوں پر رلتے دیکھ کر انہوں نے ان بچوں کے لیے ایک پناہ گاہ بنانے کا سوچا ۔۔۔ انگلیینڈ میں پاکستانی دوستوں سے صلاح مشورہ کیا اور کچھ رقم جمع کرکے میر پور میں ایک عمارت خریدی ، وہاں بچوں کے لیے ہر سہولت اور ہر قسم کا سامان جمع کر کے حکومت سے درخواست کی کہ کچھ بے سہارا اور یتیم بچے انکے حوالے کیے جائے ، میر پور میں یہ خاندان اپنی ایک ساکھ اور مقام رکھتا تھا چنانچہ چوہدری اختر کو بے سہارا بچے دینے کا سلسلہ شروع ہوا ۔ اور انگلینڈ مقیم پاکستانیوں اور میر پور و دیگر شہروں کے کچھ مخیر حضرات کی مدد سے یہ سلسلہ جاری رہا ، چند سال بعد ایک وقت ایسا آیا کہ چوہدری اختر نے انگلینڈ میں اپنی گھریلو پریشانیوں اور مصروفیات کی وجہ سے یہ یتیم خانہ بند کرنے کا ارادہ کر لیا ۔وہ فیصلہ کر چکے تھے اور حکومت کو اس سے مطلع کرنے جانے ہی والے تھے کہ انکے زیر کفالت ایک بچی انکے دفتر میں آئی ۔ یہ لاڈلی بچی ہر روز ایک بار آکر چوہدری اختر کو اپنی ماں کے پاس لے جانے کی ضد کرتی تھی ۔ جب کہ اسکے والدین زلزلے کی نذر ہو چکے تھے اور اس کا ماموں اسے یہاں چھوڑ گیا تھا ۔ چوہدری اختر کا دل پسیج گیا اور یہ سوچ میں پڑ گئے کہ وہ تو یہ ادارہ بند کرکے انگلینڈ چلے جائیں گے لیکن یہ یتیم بچے پھر سڑک پر چلے جائیں گے انکا کیا ہوگا ۔۔ یہی سوچ کر انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ اب جو مرضی ہو جائے زندگی ان بچوں کے لیے وقف رکھیں گے ۔ اسکے بعد چوہدری اختر نے اس وقت کے وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق سے اپنے یتیم خانے کے لیے جگہ مانگی اور اپنا منصوبہ انکے سامنے رکھا تو وزیراعظم نے انہیں میر پور کے پہاڑوں میں ایک جگہ الاٹ کردی ، جو کہ ایک پہاڑ ہی تھا ، چوہدری اختر نے اس پہاڑ کو ہموار کرنے کا کام شروع کروایا ، یہاں پھر اوورسیز پاکستانیز نے بھر پور مدد کی خود میر پور اور مظفر آباد والوں نے اپنے علاقے میں ایک شاندار پراجیکٹ بنتا دیکھا تو ہر طرح سے حصہ ڈالا اور آخر کار ساڑھے تین سال کے عرصہ میں یہ عظیم الشان عمارت تعمیر ہوئی جو آپ اس تصویر میں دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔۔ زلزلہ کے بعد چوہدری اختر کے اس ادارے میں پرورش اور تعلیم حاصل کرنے والے بچے آج جوان اور عملی زندگی میں قدم رکھ چکے ہیں کئی ایک اسی ادارے میں مختلف خدمات سر انجام دے رہے ہیں جبکہ اسکے بعد ملک کے مختلف شہروں خصوصا پنجاب سے کوڑے اور کچرے میں پھینک دیے جانیوالے بچے اس ادارے میں لائے جاتے ہیں انہیں یہاں پھولوں کی طرح رکھا جاتا ہے ہر سہولت اور آسائش مہیا کی جاتی ہے ، چوہدری اختر ان لاوارث بچوں کو کوڑے کچرے اور سڑک سے اٹھا کر خود پالتے ہیں انہیں اپنا نام دیتے ہیں ۔ میر پور آزاد کشمیر میں کورٹ کمپلیکس نامی یہ ادارہ آج 500 سے زائد بچوں لڑکوں اور لڑکیوں کا خیال رکھ رہا ہے انکی پرورش کررہا ہے اور انہیں پڑھا لکھا بھی رہا ہے ، نیکی کے اس کام می حصہ ڈالنے والے اوورسیز پاکستانیوں و دیگر مدد گاروں نے بلاشبہ زندگی میں ہی جنت کما لی ہے ، چوہدری اختر نے غربت ، لڑائی جھگڑوں سے تنگ اور گناہ چھپانے کے لیے اپنے بچوں کو ق۔ت۔ل کرنے والے سنگدلوں کو پیغام دیا ہے کہ خدارا پھول سے بچوں سے زندگی نہ چھینا کرو ، انہیں میرے حوالے کردیا کرو یا ہمیں فون کیا کرو ، ہم ان معصوم پھول جیسے بچوں کو لینے خود آپ کے پاس آجائیں گے ۔۔۔۔ دعا ہے اللہ کریم چوہدری اختر کو اس مشن میں قدم قدم پر آسانیاں عطا کرے آمین ثم آمین
ایک صاحب نے یہ کیس بھیج کر تفصیل کچھ اس طرح سے بتائی ہے:
" ضلع لیہ، کوٹ ادو، مظفرگڑھ میں 2010ء میں سیلاب آیا تھا۔ اس سیلاب میں ایک لڑکا ملا تھا، وہ بول نہیں سکتا تھا، گونگا ٹائپ تھا۔ جو الفاظ بولتا تھا، اُن کی سمجھ نہیں آتی تھی، البتہ کچھ الفاظ سمجھ آ جاتے تھے، جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ اُس کی مادری زبان سرائیکی ہے۔ وہ سُنتا اور ہر بات سمجھتا ہے۔
وہ اپنا اور والد صاحب کا نام لکھ سکتا ہے۔ اپنا نام ارشد لکھتا ہے اور والد کا نام عاشق لکھتا ہے۔
یہ بھی بتاتا ہے کہ ہم پانچ بہن بھائی تھے۔ ایک بھائی، یعنی میں اکیلا، دو بہنیں مجھ سے بڑی تھیں اور دو مجھ سے چھوٹی تھیں۔ اشاروں سے بتاتا ہے کہ ابو ٹریکٹر چلاتے تھے۔
یہ کافی سمجھدار بچہ ہے۔ اگر کوئی بندہ اسے پیسے دے تو یہ اکٹھے کر کے کوئی بکری یا بکری کا بچہ خرید لیتا ہے۔
جب یہ ملا تھا تو اُس وقت بالکل ٹھیک تھا، لیکن جہاں رہتا تھا وہاں اُن کے کام جانوروں کو چارہ ڈالنا کرتا رہتا تھا۔ اسی دوران اس کا ہاتھ ٹوکا مشین میں آ گیا اور آدھا ہاتھ کٹ گیا۔
اگر ہو سکے تو اس بچے کے والدین کو ڈھونڈنے کے لیے یہ پوسٹ زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ شاید کسی ماں باپ کو اُن کا بچھڑا ہوا بیٹا واپس مل جائے۔
اللہ رب العزت آپ کو اجرِ عظیم عطا فرمائے۔ آمین۔
آپ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ اللہ رب العزت دنیا اور آخرت کی کامیابیاں عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ 🤲"
برائے مہربانی زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔ کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج فون نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
5 Sep 2026
#waliullahmaroof
حبیب جالب کا قرض واپس کریں اسکی بیٹی کا مان بڑھایں۔ کھانا طاہرہ حبیب سے منگوایں
🌿 TJ’s Fresh Bites 🌿
Fresh Bites & Lunchbox Service
لنچ باکس، روزانہ کے کھانے اور خصوصی آرڈرز کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔
📞 آرڈر کے لیے:
0300-4514686
📱 واٹس ایپ:
0311-4139498
🛵 ڈیلیوری دستیاب ہے
مجھے لگ رہا تھا کہ میں مر گیا تو میری بیٹی کو حصہ نہیں دیا جائے گا ، اس لیے اپنی زندگی میں بیٹی کو اسکا حصہ دے دیا ۔۔۔ مظٖفر گڑھ میں جائیداد میں سے بیٹی کو حصہ دینے والے زمیندار منوں خان نے اپنے خوبصورت فیصلے کی وجہ بتا دی ۔ منوں خان کے بقول ، میرے اوپر اللہ کا بڑا فضل و کرم ہے زمینیں ، جائیداد ،دکانیں پٹرول پمپس اور کوٹھیاں ہیں لیکن ہمارے علاقے میں ایک خوفناک رواج ہے کہ بیٹیوں کو جائیداد میں حصہ نہیں دیا جاتا انکی شادی پر جو خرچہ کیا جاتا ہے اور جہیز دیا جاتا ہے اسے انکے جائیداد کے حق کا متبادل سمجھ لیا جاتا ہے ، جیسے بیٹی پر بڑا احسان کردیا ہے ، لیکن میں اللہ اور اسکے رسولؐ کے احکامات کے سامنے ہمیشہ سر جھکا کر رکھتا ہوں مجھے حالات دیکھ کر لگ رہا تھا کہ میرے بیٹے جائیداد میں سے بہن کو حصہ نہیں دیں گے جیسا کہ اکثر لوگ کرتے ہیں اور بہن بیٹی سے جائیداد اپنے نام کروانے کا بیان لکھوا لیتے ہیں ، میں نے ایسا نہیں کیا اور بیٹوں سے پہلے بیٹی کا حصہ نکال کر اسکے نام انتقال قبضہ بھی دے دیا ۔ کئی ایکٹر زمین ، کئی دکانیں بیٹی کے حوالے کردیں ایک برانڈ نیو قیمتی گاڑی بھی لیکر دی ہے اور جب میں مرونگا اور جائیداد تقسیم ہوگی تو میرے اور انکی والدہ کی جائیداد میں سے حصہ بھی اسے ملے گا ، منوں خان کے بقول : اس میں میرا کوئی کمال نہیں یہ میرے والد کی تربیت اور اعمال کا نتیجہ ہے جب بیٹیوں کو حصہ نہ دینا باعث فخر سمجھا جاتا تھا اس دور میں ہمارے والد نے ہم بیٹوں سے پہلے اپنی بیٹیوں کو حصہ دیا تھا، اللہ نے ہمارے خاندان اور رزق میں وہ برکت ڈالی کہ ہم سے سنبھالی نہ گئی ، آج میں اپنی بیٹی کو حصہ دے رہا ہوں اس نیکی کا اجر میرے بیٹے سمیٹیں گے اور اللہ بھی ہم پر راضی ہو گا ۔۔۔۔ میرا پورے پاکستان کے والدین کو پیغام ہے کہ اپنی بیٹیوں کو جائیداد میں سے حصہ دو ، اگر انکی حق تلفی کرکے ان کا حق بیٹوں کو دوگے تو یہ جائیداد خیر نہیں قہر کا باعث بنے گی ، دنیا کا سکون اور آخرت میں بھلائی چاہتے ہو تو اللہ اور اسکے رسولؐ کے احکامات پر چلو سب خیر ہوگی ۔۔۔
اس نوجوان کا نام محمد سجاد ہےاور والد کا نام محمد تاج ہے۔
سجاد کی عمر 18 سال ہے۔۔۔ بول، سن اور لکھ نہیں سکتا۔
راولپنڈی کا رہائشی ہے۔
مورخہ 1 اکتوبر 2018* کو سجاد اور گھر والے شادی میں جانے کی تیاری کر رہے تھے۔
سجاد بال کٹوانے کے لیے گھر سے نکلا۔ گاؤں کی حجام کی دکانیں بند تھیں اس لیے وہ ڈھڈیال شہر (چک بیلی خان)چلا گیا۔
واپسی پر وہ غلطی سے کسی اور گاڑی میں بیٹھ گیا اور لاپتہ ہو گیا۔
آج تک اس کے بوڑھے والدین اس کی تلاش میں ہیں۔
تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ سجاد کی والدہ کو قرار آ جائے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03162529829
4 Sep 2026
#waliullahmaroof
اللہ پر توکل کرکے اندھیرے میں تیر ماریں۔۔۔ ان شاءاللہ شکار تک پہنچ جائےگا۔۔۔
"وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی"
اس نوجوان کا نام اعجاز ہے ۔ اعجاز نام شاید شیلٹر میں رکھا گیا ہے۔۔ اعجاز کا کہنا ہے کہ مجھے نا میرا اصلی نام یاد ہے ۔ نا والدین اور نا اپنے شہر کا کچھ یاد ہے۔ میرا ریکارڈ میں نے بہت کوشش کی لیکن نہیں ملی/یا نہیں دی گئی۔
آپ میرے بچپن کی اور ابھی کی تصویر لیں پوسٹ لگائیں۔ لوگ شئیر کریں گے ۔۔ اللہ چاہےگا تو میرے خاندان میں سے ضرور کوئی دیکھ کر پہچان لیگا۔
برائے مہربانی تمام قارئین صرف اور صرف اللہ کے لئے اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ کیا پتہ آپکا ایک شئیر اعجاز کے کسی پیارے تک پوسٹ پہنچادے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
4 Sep 2026
#waliullahmaroof
اس اماں جان کی داستان سنیں اور انکے پیارے ڈھونڈنے میں مدد کریں۔۔۔۔!!
"میرا نام خالدہ بی بی ہے۔ میں لاہور میں رہتی تھی مجھے سہی سے یاد نہیں کہ مجھے کب بیچا گیا تھا۔ لیکن 1950 سے پہلے کی بات ہے۔ میرے ابو کا نام رحمت علی تھا۔ اور میرے ابو رحمت علی ریل گاڑی چلاتے تھے۔اور امی کا نام رسولاں بی بی تھا۔ میری 3 بہنیں تھی اور ایک بھائی تھا بھائی کا نام شفیق تھا۔اس وقت میری عمر تقریباً 13 سال ہو گی۔
میرے چچا مجھے بہانے سے لے گئے اور بیچ آئے۔
میرے چچا کا نام سردار تھا جس نے مجھے بیچ دیا تھا۔ ہماری قوم مجھے سہی سے یاد نہیں لیکن شاید آرائیں پنجابی تھی۔مجھے بہنوں کے نام یاد نہیں ہیں۔
ہمارا گھر چڑیا گھر کے ساتھ تھا۔ بانوں بازار ساتھ لگتی تھی۔ ہمارے گھر کے ساتھ شاہی قلعہ مسجد شریف بھی لگتی تھی۔ مجھے ایک ماموں کا نام یاد ہے ماموں کا نام شریف تھا۔ اور کچھ سہی سے یاد نہیں ہے۔ مجھے وہاں پر سکول میں ایک چوٹ لگی تھی۔ تھوڑی کے نیچے اب بھی اس چوٹ کا نشان ہے۔ مجھے ڈھونڈنے کے لیے وہ لوگ یہاں پر آئے تھے لیکن مجھے مل نا سکے۔ ان کے جانے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ وہ لوگ ڈھونڈتے ہوئے یہاں تک آئے تھے۔ اب میرا ایک بہت بڑا خاندان ہے میرے چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ اور ان کے بھی بچے ہیں وہ سب بھی اپنے گھر بار اور بال بچوں والے ہیں لیکن میں اب بھی اپنے ماں باپ بہنوں اور بھائی کو یاد کرتی ہوں ۔ میں چاہتی ہوں کہ میں مرنے سے پہلے اپنے گھر والوں کو ملوں بس ایک بار میری آخری خواہش ہے یہ ۔ "
تمام قارئین اس بےبس اماں جان کی مدد کریں۔ اس پوسٹ کو خوب شئیر کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
3 Sep 2026
#waliullahmaroof
انڈونیشیا میں موجود دوست مدد کریں۔۔۔
ایک بہن سمیرا صاحبہ نے رابطہ کرکے بتایا کہ انکا والد پاکستانی اور والدہ انڈونیشیا کی ہے۔ والد ملک مسعود صادق انڈونیشیا میں تھے۔
وہاں انڈونیشین خاتون سے نکاح کیا۔ سمیرا پیدا ہوئی ۔ وہ ایک سال کی تھی والد بیٹی اپنے ساتھ پاکستان لائے۔
سمیرا نے جب ہوش سنبھالا تو ماں کو نہیں پایا۔ اسے بتایا گیا کہ انکے ویزے کا مسئلہ ہوگیا تھا کچھ عرصہ فون پر رابطہ رہا۔ پھر کوڈ چینج ہونے کی وجہ سے رابطہ کٹ گیا۔
والدین کا کا نکاح نامہ موجود ہے ۔ اسمیں والدہ کا نام اور ایڈریس موجود ہے۔
Ulivah D/O Markasim
Address:
Panceng
Gresik Regency, East Java .
سمیرا کا کہنا ہے کہ میری عمر ابھی 23 سال ہے۔۔والد کا انتقال ہوگیا ہے۔ میں اپنی والدہ کے لئے بہت زیادہ سوچتی ہوں۔ وہ کیسی ہوگی؟ کہاں ہوگی؟ میرے لئے کتنا روئی ہوگی۔ دل بہت چاہتا ہے کہ ان کو دیکھ لوں وہ مجھے دیکھے۔ ملاقات کریں۔
ایک بیٹی کو ماں سے ملانے کے لئے آپ تمام قارئین سے اپیل ہے کہ اپنا حصہ ضرور شامل کریں۔۔اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ انڈونیشیا میں موجود پاکستانی کمیونٹی تک یہ پوسٹ پہنچائیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے ہمارے فون نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
2 sep 2026
#waliullahmaroof
خواتین کے لیے میتھی دانہ بہت فائدے کاکام کرتا ہے یہ پرانا اور سادہ سا دانہ تو ہے لیکن فائدے کافی رکھتا ہے۔
جن خواتین میں ہارمونز کی بے ترتیبی ہو تووہ ایک چائے کاچمچ میتھی دانہ ایک کپ پانی میں ابال کرپی لیں، دن میں دوسےتین بار پی سکتی ہیں۔
اگر ذہنی تناؤ اور پریشانی کا معاملہ ہےتو میتھی دانہ، لیموں کا رس، شہد، تلسی کےچندپتےاور دار چینی کا ایک ٹکڑا پانی میں ابال میں اور ٹھنڈا کرکے پی لیں۔
ذہنی سکون محسوس ہوگا۔
جن خواتین میں ماہواری کےدرد کامسئلہ ہو وہ ایک چٹکی میتھی دانہ نیم گرم پانی کے ساتھ پی لیں
ایام سےدو تین دن پہلےبھی پی سکتی ہیں
اسی طرح اگربال کمزورہیں تو میتھی دانہ کا پانی جڑوں میں لگائیں اوررات بھر لگارہنے دیں، صبح کو دھو لیں۔بالوں کو مضبوطی ملےگی
اسی طرح یہ دودھ پلانے والی ماؤں کےلیےبھی مفید ماناجاتا ہےاور اگرمعدےمیں تیزابیت کا مسئلہ ہےتوتین گرام ابال کر پینے سے افاقہ ہوگا
یہ دیکھنےمیں عام سادانہ لگتاہےمگر خواتین کے لیے فائدےبہت رکھتا ہے
قدرت نے ہمارےارد گرد کتنی سادہ چیزوں میں شفا رکھی ہے
"فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ"
زیتون اینٹی ایجنگ ہےیہ ڈپریشن اور اضطراب سے نجات دلاتا ہے نظام میں عزم تیزابیت اور معدے کے مسائل میں فائدہ مند ہے۔اگر بچپن سے ہی شروع کر لیا جائے تو بڑھاپا اسان ہو جاتا ہے۔اس سے معمول بنانا چاہیے بلکہ روزانہ کے دسترخوان میں اس کا شامل ہونا ضروری سمجھیں بلکہ روزانہ 1 سے 3 زیتون کسی بھی وقت کھا سکتے ہیں یا رات سونے سے پہلےکھا لیں، اس طرح کھانے کے ساتھ کھا لیں یا زیتون کا تیل استعمال کر لیں
اگر ڈپریشن یا سٹریس کا مسئلہ ہے تو اس کے لیے یہ نسخہ درکار ہے
رات کو تین قسم کی کشمش + بادام بھگو دو۔
صبح ابالو، بادام کے چھلکے اتارو، ہلکا پیس کر پیسٹ بنا لو۔
صبح ایک چمچ جام کی طرح کھاؤ۔
دودھ میں دو چٹکی خشخاش ابال کر پیو۔
ذہن صاف ہوتا ہے، ٹینشن آہستہ کم ہوتی ہے۔
کیا آپ کے دل میں احساس ہے۔۔۔؟؟!
اگر ہے تو اپنی اس اماں کی فریاد سنیں
انکا نام بشیراں ہے اور والد کانام فتح محمد ہے۔والدہ نور بانو، بھائیوں کے ارشد، امجد، اکثر(یہی بتایا تھا)، انصر ۔ بہنوں کے نام: حلیماں، حکیماں(چار بہنیں تھیں ایک کا انتقال ہو گیا تھا اس کا نام یاد نہیں ہے)،دو چچا تھے ایک کا نام احمد یاد ہے۔جب یہ آئی تھی اس وقت ارشد ھوٹل پر کام کرتا تھا باپ کھیتی باڑی کرتا تھا۔ گاوں کا نام" چکوری شریف"، قریبی شہر لالہ موسی ضلع گجرات ہے۔
بشیراں کہتی ہے کہ میری عمر 12 سال تھی۔۔۔ میں ایک دن ماں سے ناراض ہو کر اپنی پوپھی کے گھر کےلئے نکلی تو ایک بندہ جو جاننے والا تھا اس نے روکا اور پوچھا کہاں جارہی ہو؟ میں نے۔ تایا پھوپھی کے ہاں۔
تو اس نے کہا میں آپ کو پھوپھی کے پاس چھوڑ آتا ہوں۔مجھے اپنے ساتھ روانہ کیا اور بس میں بٹھایا۔۔۔ سفر بہت لمبا ہوا میں بار بار پوچھتی کہ کب گھر پہنچےگا تو اس نے مجھے ڈرا دھمکا کر خاموش رہنے کا کہا۔ مجھے سندھ کے ایک علاقے میں لاکر آیا 13000 روپے میں بیچ دیا۔ خریدنے والے سے نکاح کروا دیا۔
بیٹا میں نے جس طرح کی زندگی گزاری ہے میں بیان نہیں کرسکتی۔۔ایک ایک دن سال کی طرح گزارا ہے۔
ابھی میرا شوہر فوت ہوچکا ہے۔۔ ایک بیٹی ہے اس کی شادی ہو چکی ہے وہ بھی ایک گونگے لڑکے کے ساتھ جو دیور کا بیٹا ہے اب میں بلکل تنہا رہ گئی ہوں۔ مجھے مرنے سے پہلے میرے پیاروں سے ملائیں۔ جو میری مدد کرےگا میں مرتے دم تک اللہ سے اس کے لئے دعا کرونگی۔"
برائے مہربانی زیادہ سے زیادہ شئیر کریں اور خوب نیکیاں کمائیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
30 Aug 2026
#waliullahmaroof
اس ویڈیو کو نظر انداز نا کریں۔۔۔!!
سال 1991 میں موسی/لالہ ولد مظہر جان (شاید نام میں کوئی غلطی بھی ہو) قلات کے علاقے منگوچر میں کسی پولیس کاروائی میں بازیاب ہوا تھا۔ یا تو کسی نے اغواء کیا تھا یا اسکے خاندان میں کوئی مسئلہ ہوا ہوگا۔
برائے مہربانی دنیا بھر میں اس ویڈیو کو پھیلائیں۔ انکے خاندان کو کوئی بھی شخص یہ ویڈیو دیکھے اور ہم سے رابطہ کرے۔
وٹس ایپ:
03162529829
30 Aug 2026
#waliullahmaroof #balochistan #qallat #quetta #Missingperson
شب چراغ مولانا اسحاق مدنی مرحوم
غیض و غضب میں مبتلا مولانا اسحاق مدنی کے مخالفین اب بھی دیواروں سے ٹکرا رہے ہیں ۔ جب کہ وہ اپنے گاؤں میں مٹی اوڑھے سو رہے ہیں۔ ہمیشہ وہ سر ٹکراتے رہے ہیں گے ۔ جانے والا چلا گیا اور لوٹ کر نہیں آئے گا ۔ اس کے دلائل کی چمک سے مگر آفاق روشن رہیں گے ۔
نقطہ نظر کا اختلاف ایک دوسری بات ہے۔ مولانا مدنی سے بھی اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ ان کا ظاہر س باطن مگر ایک تھا۔ وہ دادو تحسین کے آرزومند تھے اور نہ رسوخ و عظمت کے۔ ایک عظیم محقق ۔ سچ کی طرح سادہ اور کار دنیا سے بے نیاز۔ کسئی دعویٰ نہ مطالبہ۔ اتحاد بین المسلمین کے داعی اور تقلید سے گریزاں ۔ غور و فکر اور پتہ ماری سے عظیم اکثریت گریز کرتی ہے کہ لہو خشک کرنا پڑتا ہے۔ خلق کی ملامت کا خوف بھی رہتا ہے۔ جنت سے نکالا گیا آدمی طبعاً آسودگی پسند ہوتا ہے۔ علم نہیں، خوئے غلامی کے مارے معاشرے میں لوگ احساس تحفظد، دھن دولت، مناصب اور ممکن ہو تو شہرت چاہتے ہیں۔ مرحوم ایک مرد آزاد تھے۔ پروردگار کون س مکاں کے دربار میں صرف خلوص کا سکہ مقبول ہے۔ علامت اس کی انکسار اور سادگی ہے۔ وہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے۔ ہمہ تن انہماک ،، انسان دوست، نرم دم گفتگو، گرم دم جسجو۔ عاشق رسول اور توحید شناس۔ ان کا نقش باقی رہے گا۔ روشنی بکھیرتا ہوا۔
کار آفریں کار کشا کار ساز
ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ
اللہ تعالیٰ کی دائمی رحمتیں اس دیہاتی آدمی پر جس کے شب وروز سے اکتساب فیض کیا جائے تو زندگی بامعنی ہو جائے ۔ اس لئے کہ اقبال کی طرح جن کےوہ قائل تھے ، مرحوم شیعہ تھے، سنی، دیوبندی اور نہ ہی اہل حدیث بلکہ صرف مسلمان، سچے اور کھرے مسلمان ۔
آرزو ہے کہ ان کی زندگی اور طرز احساس پہ ایک طویل مقالہ لکھوں۔ مرحوم کےشاگردان گرامی اور فیض یافتگان سے دعا کی درخواست ہے۔
اس ننھی کلی کو اپنے گھر پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
یہ معصوم بچی، جس کی عمر تقریباً 1 سے ڈیڑھ سال ہے، 26 اگست 2026 کو لاری اڈا بس اسٹاپ، لاہور میں لاوارث حالت میں ملی ہے۔
ممکن ہے یہ بچی اپنے خاندان سے بچھڑ گئی ہو، یا (اللہ نہ کرے)کسی نے اسے اغوا کرنے کے بعد بس اسٹاپ پر چھوڑ دیا ہو۔
اگر کوئی شخص اس بچی کے والدین یا اہلِ خانہ کو جانتا ہے تو براہِ کرم فوری طور پر میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کرے۔
اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ معصوم بچی جلد از جلد اپنے والدین تک پہنچ سکے۔
جزاک اللہ خیراً
Contact: 03090000015
شئیر کریں اس سے پہلے کہ درندوں کے ہاتھ لگ جائے
ابھی کچھ دیر قبل بنی گالہ اسلام آباد کی حدود سے ماریہ نامی یہ معصوم بچی ملی ہے جو غلطی سے بس میں سوار ہوکر کوئٹہ سے اسلام آباد آگئی ۔
سڑک پہ بیٹھی سہمی ہوئی تھی ﷲ نے کرم کیا کہ کسی برے ہاتھ میں نہیں گئی
اس بچی کو کچھ بھی نہیں پتا بس اتنا پتا ہے کہ یہ اس کے والد کا نام غلام رسول ہے چودہ اگست کو کسی نے اس کو بس میں چڑھا دیا تھا
یہ بیچاری اسلام آباد پہنچ گئی پشتو بولتی ہے دس دن سے مختلف علاقوں میں رل رہی ہے ۔
ایک پشتو سمجھنے والے پولیس والے نے اس کو پکڑا تو پتا چلا کہ یہ زہنی معذور ہے بیچاری بھوکی تھی انہوں نے کھانا کھلایا
یہ کاسی روڈ / حاجی غیبی روڈ، کوئٹہ کی رہائشی ہے اور اس کی عمر 24 سال ہے۔
جیسے کل آپ نے کراچی والے بچے کو سب تک پہنچایا تو الحمداللہ اس کے والدین کا پتا چل گیا
تو اس بچی کا بھی فرض ادا کریں ہوسکتا ہے کہ آغواء کرکے کوئی لے آیا ہو
😥😔😪😪