هُو قومپرستيء کي انڪري حرام قرار ڏين ٿا، ڇو ته هو ٻين جي ڌرتيء کي لٽڻ چاهين ٿا.. (مولانا عزيز الله ٻوهيو) هو چوندو هو ته پنهنجي ڌرتي سان محبت، ڪرڻ عين عبادت آهي.مذهبي انتها پسنديءَ جو مخالف ھو وصيت به ڪئي ته کيس ڀيلن ۽ باگڙين جي قبرستان ۾ پوريو وڃي ته جيئن مذهبي برابري پيدا ٿئي.
تھر کی 80 ارب روپے کی رائلٹی کہاں خرچ ہوئی؟ پیپلز پارٹی والے حساب دیں! تھر کے عوام کو صاف پانی، بہتر تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع کب ملیں گے؟ تھر کے عوام اپنے حق کا حساب مانگتے ہیں۔
یہ ہے پیر سید فضل شاہ کی سیاست! الیکشن جیتنے کے بعد وہ دوبارہ اپنے حلقے کی طرف منہ تک نہیں کرتے۔ یاد رہے کہ پیر سید فضل شاہ پانچ مرتبہ اسی حلقے سے الیکشن جیت چکے ہیں، لیکن افسوس کہ وہاں کی عوام کے لیے آج بھی ان کے دروازے بند ہیں۔
ہر قومیت کو یہ لوگ اسی طرح آپس میں لڑاتے ہیں، اور ان علاقوں کے وسائل لُوٹ لُوٹ کے پنجاب میں لگاتے ہیں۔ بنگالی یہی تو کہتے تھی کہ اسلام آباد کی سڑکوں سے پٹ سن کی خوشبو آ رہی ہے۔ مشرقی پاکستان میں بھی انہوں نے اسی طرح لُوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا تھا۔
وزیرستان میں کرفیو کے نام پر عوام کو گھروں میں قید، سڑکیں بند، بازار ویران اور تعلیمی ادارے بند کر دیے جاتے ہیں، مگر معدنیات سے بھرے سینکڑوں ٹرک پنجاب منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ حیرت ہے کہ راشن یا آٹا لے جانے والی گاڑیاں نظر آتی ہیں، لیکن معدنیات کے ٹرک نظر نہیں آتے۔
تھر کولے کی رائلٹی اور اس پر ہونے والے اخراجات کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جانی چاہئیں۔ اخراجات کا شفاف حساب عوامی دباؤ کے ذریعے ہی سامنے لایا جا سکتا ہے۔
پوری سندھ کو دنیا بھر سے آ کر پناہ لینے والے قابضوں، لٹیروں، پیروں، میروں، عرب سادات اور ایرانی بلوچوں نے لوٹ کر کھوکھلا کر دیا ہے۔ آج دھرتی کے اصل وارث اپنے ہی وطن میں اس قدر محروم ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو مرچ روٹی بھی کھلانے کے قابل نہیں رہے۔
اس عظیم قانون سازی پر سب ارکان پارلیمنٹ کو بہت بہت مبارک ہو ۔ تاحیات بلیو پاسپورٹ کے ذریعہ وہ بغیر ویزا 70 سے زائد ممالک میں داخل ہو سکیں گے یہ سہولت ان سب دوستوں کے بہت کام آئے گی جو آجکل تو سرکاری بینچوں کا حصہ ہیں لیکن کچھ عرصہ کے بعد سرکار میں نہیں رہیں گے اور ہماری پرانی روایت کے مطابق سیاسی انتقام کا نشانہ بنیں گے لیکن بلیو پاسپورٹ پاکستان سے فرار میں انہیں بہت مدد دیگا 👏👏
یہ کیا بکواس ہے، اور یہ کس قسم کی صحافت ہے؟ شہزاد اقبال @ShahzadIqbalGEO کے شو کا تھمب نیل دیکھیں: ”کیا گورنر راج سندھ میں لگے گا؟" کیا صحافت کا کام سیاسی سنسنی پھیلانا اور صوبے کے عوام میں بے چینی پیدا کرنا ہے؟ سندھ کی تقسیم اور گورنر راج جیسے حساس معاملات کو ریٹنگز کے لیے اچھالنا صحافتی ذمہ داری نہیں، بلکہ صحافت کے بنیادی اصولوں سے انحراف ہے۔ اختلافِ رائے ضرور کریں، مگر صحافت کو سیاسی ایجنڈے کا ہتھیار نہ بنائیں۔
Pakistan #Railways is a federal entity, so it should spend its budget proportionally across all provinces. Yet 97% of the budget is spent on stations in #Punjab. Pakistan Railways should be renamed Punjab Railways.
سندھ کی زمینوں پر قبضہ کرکے بیٹھے باجوہ، ایرانی بلوچ حکمرانوں اور جعلی سیدوں کی نجی جیلوں میں دیکھیں کہ کس طرح دھرتی کی بیٹیوں اور معصوم بچوں کو قید کرکے رکھا جاتا ہے! زمیندار ظہور باجوہ کی نجی جیل سے بازیاب کرائے گئے افراد میں 15 معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ آخر سندھ کے مظلوم عوام کو ایسی غلامی سے نجات کون دلائے گا؟