شئیر کریں تاکہ حکومتی ادارے ہوش میں آئیں اور اس باپ کی فریاد رسی کر کے اس ��ظلوم باپ کو اس اذیت سے نجات دلائیں۔
بیٹے کے مرنے کا غم اور درد ایک باپ کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔ تقریباً دو ہفتوں سے ایک باپ اپنے شہید بیٹے کی لاش کے ساتھ دھرنے میں بیٹھا ہے۔ اس کی ایک ہی فریاد ہے:
"جب تک میرے بیٹے کے قاتل گرفتار نہیں ہوتے، میں اپنے بیٹے کی تدفین نہیں کروں گا۔"
سوچیے، ایک باپ کے دل پر کیا گزر رہی ہوگی کہ وہ اپنے لختِ جگر کو سپردِ خاک کرنے کے بجائے انصاف کے انتظار میں بیٹھا ہے۔ یہ صرف ایک خاندان کا دکھ نہیں، یہ انصاف اور قانون کی بالادستی کا سوال ہے۔
ایک باپ کو اپنے بیٹے کی میت کے ساتھ احتجاج پر مجبور نہ کیا جائے۔ اسے انصاف دیا جائے تاکہ وہ اپنے بیٹے کو عزت کے ساتھ سپردِ خاک کر سکے۔ 💔
چار نئے بجلی گھروں سے چالیس سال کے معاہدے کر کے نون لیگ پتلی گلی سے نکلی جائے گی اور اگلے چالیس سال بھی بجلی کے معاملے پر آپ لوگ تاوان بھرتے رہیں گے اور یہی اویس لغاری کسی اور حکومت کا وزیر بن کر کہہ رہا ہو گا پچھلی کرپٹ ��کومت نے یہ سب معاہدے غلط کیے مگر اب ہم مجبور ہیں
راےونڈ
خطرناک مجرم گرفتار
مجرم سرعام سڑک پر ریڑھی لگاکر فروٹ فروخت کررہا تھا۔
پیرا فورس نے اطلاع ملنے پر فوری ایکشن لیا اور خطرناک مجرم رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا گیا
خطرناک مجرم حنیف عرف ملتانی سرعام سڑک پر فروٹ فروخت کرکے اپنے بچوں کی کفالت کے جرم کا ارتکاب کررہا تھا
سوا آصل روڑ فلائی اوور چوک راےونڈ
آئی پی پیز کے ساتھ 30 اور 40 سال کے نئے معاہدوں کا انکشاف
موجودہ حکومت نے 2025 میں چار آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے کیے
آئی پی پیز کو سالانہ کھربوں روپے کی ادائیگی کی جاتی ہے
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی صاحب
آئی جی ریلوے وصال فخر سلطان راجہ صاحب یہ چیک کریں کہاں کا واقعہ ہے اور اور یہ جو بھی ہے اسکو پوچھیں اسکی تربیت کس نے کی ہے ۔۔۔۔۔
ٹیگ کریں ذرا ان صحافیوں کو جو سرحد یونیورسٹی میں کرنل کو "غیرت مند مرد" بنا کر پیش کر رہے تھے ، ان سے پوچھیں ایک نامحرم پولیس والا مقصود اعوان کی والدہ کو ہاتھ سے پکڑ رہا ہے تو اب غیرت مند شخص کو کتنی گولیاں چلانی چاہیے ؟
بے شرمو تمہیں لحاظ نہیں کسی کی ماں بہن کا.
عمران کے دور میں جب پاکستان 47 ٹریلین مقروض تھا، تب ڈیفالٹ کا خطرہ تھا۔ اب 83 ٹریلین مقروض ہے، سنا ہے ترقی کر رہا ہے۔ خالد انعم
@khaledanam1
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
کراچی کی سندھ پولیس؛
صرف ایک مہینے میں میررضا کےقتل کو خودکشی ثابت کرنےکی کوشش، قتل کے خلاف احتجاج لرنے والوں پر FIR اور مقدمے درج، اور آج ایک بااثر خاتون کا دوسری خاتون پر تشدد کے بعد، جس خاتون پر تشدد ہوا، اسی کے خلاف مقدمہ درج۔
دنیا میں کہیں ایسا دیکھا ہے تو کوئی بتائے؟
انصاف کا دہرا معیار؟لاہور کےپسماندہ علاقے میں ایک خاتون اپنے گزر بسر کے لئے چند سو روپےلےکر ٹیویشن پڑھاتی تھی گھر کی چھت گر گئی،خود بھی زخمی ہوئی،اس پرحکمران شرمندہ نہیں ہوئےبلکہ مقدمۂ درجہ کروایا گرفتاریاں ہوئیں۔پمز میں 14 بچے زندہ جل گئےافسران ابھی بھی اپنے عہدوں پر بیٹھے ہیں
کراچی کی بااثر خاتون SSP فدا حسین کی رشتہ دار ہے پولیس والوں کو بلا کر تشدد کرواتی ہے اور پھر انہی پر FIR درج کروا دیتی ہے پولیس والے CCTV کیمرے تک توڑتے نظر آ رہے ہیں
محترمہ اتنی بااثر ہے کہ بلڈنگ کی لفٹ تک کسی کو استعمال کرنے نہیں دیتی واہ
1990 سے لے کر آج تک ایسا کب ہوا ہے کہ شریف خاندان نے گندم درآمد نہ کی ہو؟ جب وہ اقتدار میں نہیں ہوتے تو پاکستان گندم میں خود کفیل ہو جاتا ہے، اور جیسے ہی وہ اقتدار میں آتے ہیں، گندم درآمد کرنی پڑتی ہے۔ سجاد مصطفیٰ باجوہ
#pakistan@sajjadmustafa
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
پھر کہتے ہیں عوام ہم سے نفرت کرتی ہے ۔
یہ کونسا ملک ایسا کرتا ہے امیگریشن سٹاف اپکے موبائل پر اپکی بیوی بہن بیٹی کی تصاویر دیکھ کر اس پر طنز مزاح کرتے رہیں ۔
اس خاتون کی ویڈیو وائرل ہے جو یو اے ای جارہی تھی بقول اس کے اس کے پاس ڈاکومنٹس سب مکمل تھے اسلام اباد ائیر پورٹ پر اسے امیگریشن سٹاف نے اف لوڈ کر دیا ۔۔
خاتون امیگریشن افسیر کے پاس جاتی ہے ویڈیو بناتی ہے ان سے کہتی ہے کہ اپ لوگوں کو رشوت نہی دی تو مجھے اف لوڈ کر دیا ہے ۔۔
کس وجہ سے اف لوڈ کیا ہے میں چپ نہی بیٹھونگی میں ایس ایچ او کی بیٹی ہوں ۔۔ اپ لوگوں کو احساس ہی نہی ہے ۔
ساتھ کھڑا نوجوان اس خاتوں کے پاس اتا ہے اور اس خاتون سے کہتا ہے میڈیم یہ اتنے بیشرم لوگ ہیں مجھ سے میرا پرسنل موبائل لیکر میری بیوی اور میری تصویر نکال نکال کر دیکھ رہے ہیں ۔۔
اس کو باقیوں کو دیکھا کر تبصرے کر رہے ہیں اور ہنس رہے ہیں میرا موبائل اب بھی ��نکے ہاتھ میں ہے ۔
میں انہیں منع کر رہا ہوں کہ میرے پرسنل ڈیٹا میری بیوی میری فیملی کی تصاویر ویڈیوز مت دیکھیں ۔ اف لوڈ کرنا ہے تو کر دیں مگر یہ حرکت قابل قبول نہی ہے ۔۔
ظلم یہاں ختم نہی ہوتا
اب اسی عورت پر شور شرابہ سرکار کے کام میں روکاوٹ کی وجہ سے مقدمہ درج کر دیا گیا ہے تاکہ کل کو ائیرپورٹ پر کوی رشوت نہ دے یا پھر اپنا جائز سوال کرے تو اسے ڈرایا دھمکایا جا سکے ۔۔ اب لوگوں کے پرسنل موبائل سے ڈیٹا چیک ہو گا پوچھا جاے گا یہ عورت کون ہے فلاں عورت کون ہے بنک کی ایپ چیک ہونگی ۔
سرچ ہسٹری چیک ہو گی ۔ ا
محسن نقوی صاحب اپ تو کہتے ہیں ہم نے ائیرپورٹ کا سسٹم بہتر کر دیا ہے ۔ یہ پڑا ہے اپکا سسٹم پھر اپ لوگ کہتے ہو عوام ہم سے نفرت کیوں کرتی ہے کیونکہ اپ لوگوں نے کوی کثر ہی نہی چھوڑی ۔۔
کونسے ملک میں ایسا ہوتا ہے بیوی بہن بیٹی کی تصاویر دیکھی جاتی ہیں کون رشتہ داری کے ثبوت مانگتا ہے ۔ سوشل اکاونٹس کون چیک کرتا ہے ۔۔ بنکنگ ایپ کون چیک کرتا ہے ۔ الٹا اس عورت اور اس شخص کی داد رسی کرنے کی بجاے انہیں پر مقدمہ درج کر دیا ۔
خدارا بولیے اس ملک پر فرشتے ا کر اس ملک کو درست نہی کریں گے ۔
نوٹ : اخری تصویر اس شخص کی ہے جس کے موبائل سے اس کی فیملی کی تصاویر امیگریشن سٹاف والے دیکھ رہے تھے
ایک سو ستر روپے کی گیس پر 600روپے فکسڈ ٹیکس اور دو سو دیگر ٹیکس لگا کر ایک ہزار بل بنا دیا
دنیا کے کسی بھی اصول اور ضابطے میں اصل بل سے چار گنا ٹیکس نہی ہوتا یہ معاشی غنڈا گردی ہے
نون لیگ اس پر صرف لعنت کی مستحق ہے جبکہ راتب خور چاہتے اس کی تعریفیں کی جائیں
سابق ارکان پارلیمنٹ اُن کی شریک حیات اور اٹھائیس سال تک بچوں کے لیے بلیو پاسپورٹ کا بل سینیٹ سے منظور
یہ وطن ججوں کا ہے جرنیلوں کا ہے سیاستدانوں کا ہے بیوروکریسی کا ہے
یہ وطن تمھارا ہے باقی شودر عوام کی 200 یونٹ والی سہولت بھی ختم ہو گئی ہے
ایک دوست نے میسیج کیا کہ ایک غریب نوجوان ہے۔ اس کے پاس روزگار نہیں ہے۔
ایک ریڑھی اور کچھ پھل لے کر دینے ہیں۔
کچھ امداد کر دیں تاکہ اس کے روزگار کا سلسلہ شروع ہوسکے۔
میں نے اسے جواب دیا کہ غریب پہ یہ ظلم کبھی بھی نہ کرنا۔
پنجاب میں کسی غریب کو حلال روزی کمانے کیلیے ریڑھی لے کر دینا، اس غریب سے کوئی سنگین جرم کروا کر اسے قانون کے آہنی شکنجے میں جکڑنے کے مترادف ہے۔
آپ اس غریب کو ایک دن ریڑھی اور پھل لے کر دو گے۔ اگلے دن اس کی ریڑھی میونسپل کمیٹی والے اٹھا کر لے جائیں گے۔
وہ اگلے دن پھر آپ کے پاس ریڑھی چھڑوانے کیلیے پیسے مانگنے کیلیے آجائے گا۔
وہ پھر ریڑھی لگائے گا تو اسے ریڑھی پہ رکھے پھلوں سمیت پیرا فورس والے اٹھا کر لے جائیں گے اور جا کر تھانے میں بند کروا دیں گے۔
پھر آپ خدا ترسی کے نام پر کورٹ کچہریوں میں اس کی ضمانتیں کرواتے پھرو گے۔
بہتر ہے کہ اسے بھیک مانگنا سکھاو۔
کیونکہ اب پنجاب میں رزق حلال کمانا تو قتل کرنے کے مترادف جرم بن گیا ہے۔
۔وقاص الحق کی وال سے