عمران خان کو شفا اسپتال لاکر، عوام کو ڈیل کا تاثر دینے کی کوشش کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ کیوں؟، کل صبح پتہ چل جائے گا۔ جی ایچ کیو نے ایک ڈاکومنٹ لیک کیا ہے۔ ویلاگ کا انتظار کریں!
کراچی سے پنڈی رابطے کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔
ہو سکتا ہے ضرورت سے زیادہ بارش یا موسم کی خرابی کی وجہ ہو
اگر موسم ٹھیک نہ ہوا تو لاہور سے پنڈی اور اسلام رابطے میں رکاوٹ بھی آ سکتی ہے
کراچی سے پنڈی رابطے کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔
ہو سکتا ہے ضرورت سے زیادہ بارش یا موسم کی خرابی کی وجہ ہو
اگر موسم ٹھیک نہ ہوا تو لاہور سے پنڈی اور اسلام رابطے میں رکاوٹ بھی آ سکتی ہے
رپورٹنگ کےساتھ نائنٹی ٹو نیوز پر بطور اینکر ایک نئے سفر کا آغاز ہوگیا ہے، ہر ہفتہ اور اتوار کی رات 11 بجے ملک بھر سے تحقیقاتی اور عوامی مسائل پر مبنی خبریں پروگرام "خبر کیا ہے" میں آپ کو دینگے،اس اعتماد پر 92 نیوز کی مینجمنٹ کا شکریہ۔۔
پمز میں انجیو گرافی کی سہولت فعال ہی نہیں ہے۔
لیکن عمران خان کو پمز لے جایا گیا تاکہ انجیو گرافی ہو سکے۔
یہ ویڈیو انتہائی اہم ہے توہین عدالت کیس میں۔
@salmanAraja@intazarpanjutha@aubhandari
پاکستان میں ایسا کیا ہے کہ وہ ہر طرح کے قانون توڑ رہے ہیں
عمران خان کے آئی ویژن اور عمران خان کی صحت پر house of Lord کے اندر بہت سخت ڈیبیٹ ہوئی اور یہ کہا گیا کہ پاکستان میں ایسا کیا ہے کہ وہ ہر طرح کے قانون توڑ رہے ہیں
تیری موت بڑی بھیانک ہوگی انشاءاللہ جھوٹ کی مارکیٹ ہے تو کتے کی نسل اب نیچے دیکھ کیا بھیج رہا ہوں دلال گندی فوج کے گندی نسل
جب شفاء کے ایم آر آن لاٸن میں ریکارڈ نہی تو کیا تیری ماں نے یہ ریپورٹ بھیجی ہے ?
تیری موت بڑی بھیانک ہوگی انشاءاللہ جھوٹ کی مارکیٹ ہے تو کتے کی نسل اب نیچے دیکھ کیا بھیج رہا ہوں دلال گندی فوج کے گندی نسل
جب شفاء کے ایم آر آن لاٸن میں ریکارڈ نہی تو کیا تیری ماں نے یہ ریپورٹ بھیجی ہے ?
میرا مشورہ ہے کہ سپریم کورٹ کے محترم 3 رکنی بنچ کو ایک متفرق درخواست کے ذریعے عمران خان صاحب کی شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی یہ رپورٹس جمع کرا دینی چاہیئں اور ساتھ یہ بھی لکھ دینا چاہیئے کہ جج صاحب، آپ کے سامنے جھوٹ بول کر معزز عدالت سے غیرآئینی، غیرقانونی حکم لیا گیا۔
بحرحال اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیئے کہ عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور ٹھیک ہی رہنی چاہیئں، انکی اہلخانہ کے ساتھ ملاقاتیں کروائی جانی چاہیئں، انہیں وکلاء تک رسائی بھی دی جانی چاہیئے۔
آئیں سب مل کر رس ملائی کھاتے ہیں۔ 😂😂😂😂
شفا انٹرنیشنل اسپتال کی میڈیکل رپورٹس سے ثابت ہوگیا ہے کہ عمران خان مکمل صحت مند اور تندرست ہیں ۔
شفاء انٹرنیشنل لیبارٹری کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے کیے گئے بلڈ ٹیسٹ، ای سی جی (ECG) اور ایکو کارڈیوگرافی کی رپورٹس میڈیا پر آ چکی ہیں۔
ایکو کارڈیوگرافی رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا دل بالکل نارمل کام کر رہا ہے اور اس میں کوئی نقص نہیں پایا گیا۔ اسی طرح بلڈ ٹیسٹ رپورٹ بھی یہ واضح کرتی ہے کہ وہ مکمل طور پر صحت مند ہیں اور ان کے خون میں کسی قسم کے انفیکشن یا بیماری کے کوئی اثرات موجود نہیں ہیں۔
ان رپورٹس کے سامنے آنے کے بعد اب یہ موقف سو فیصد درست ثابت ہو چکا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی پارٹی، اور بالخصوص ان کی بہنیں خود نہیں چاہتیں کہ ان کے بھائی کو کوئی طبی ریلیف ملے یا ان کی ملاقاتیں بحال ہوں۔ یہ پورا معاملہ محض سیاست چمکانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں کھڑے ہو کر، سلمان اکرم راجہ کی موجودگی میں، اپنے خاندان اور پارٹی کی طرف سے باقاعدہ ایک تحریری حلف نامہ جمع کرایا تھا۔ اس حلف نامے میں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت اور علاج معالجے کی سہولت کو کسی بھی صورت سیاست کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی ان سے ہونے والی کسی ملاقات کو سیاسی فائدے یا پروپیگنڈے کا ذریعہ بنایا جائے گا۔ لیکن افسوس کہ گزشتہ رات سے اب تک عدالت میں جمع کرائے گئے اس حلف نامے کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔
سیاست کی شروعات پہلے نورین نیازی نے کی، جنہوں نے بانی پی ٹی آئی سے 18 اگست کو ہونے والی ملاقات کا احوال یوٹیوبرز کے سامنے جا کر اچھالا۔ اس کے بعد، گزشتہ روز جب حکومت بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لیے شفاء اسپتال منتقل کرنے والی تھی، تو پی ٹی آئی نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت ایک ہیجانی ماحول پیدا کیا۔ سوشل میڈیا پر منظم ٹرینڈز چلوائے گئے، اڈیالہ جیل اور شفاء اسپتال کے باہر باقاعدہ ہجوم اکٹھا کیا گیا، اور ایک ایسی کیفیت پیدا کی گئی جیسے بانی پی ٹی آئی کوئی بہت بڑی سیاسی فتح حاصل کر کے اسپتال منتقل ہو رہے ہوں۔
پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر بانی پی ٹی آئی کو ملنے والی اس طبی سہولت کو ایک شدید سیکیورٹی رسک میں تبدیل کر دیا۔ اسی پیدا کردہ سیکیورٹی رسک کی وجہ سے حکومت کو حکمتِ عملی تبدیل کرنا پڑی اور بانی پی ٹی آئی کو پمز (PIMS) اسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کا تفصیلی معائنہ ہوا۔ وہاں ان کی فیملی، ذاتی معالجین اور شفاء اسپتال کے وہ تمام ڈاکٹرز بھی موجود تھے جن کا پی ٹی آئی نے خود مطالبہ کیا تھا۔
ان تمام متبادل انتظامات کے باوجود، ڈاکٹر عظمیٰ نے آج ایک سیاسی پریس کانفرنس کر کے سپریم کورٹ کے ساتھ کھلا دھوکہ کیا ہے اور اپنے ہی حلف کی خلاف ورزی کر کے توہینِ عدالت کی مرتکب ہوئی ہیں۔ انہوں نے اپنی پوری پریس کانفرنس میں صرف سیاست چمکائی اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد بالکل وہی پرانی باتیں دہرائیں جو وہ پہلے ٹویٹس کی صورت میں کیا کرتی تھیں۔ انہوں نے پریس کانفرنس کے ذریعے ریاست کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا اور وہی پرانا زہریلا پروپیگنڈا کیا ، جس کی بنیاد پر اب سوشل میڈیا پر ایک بار پھر ریاستی اداروں کے خلاف مہم شروع کر دی گئی ہے۔
اس پورے واقعے سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں اور ان کی پارٹی کسی بھی صورت قابلِ اعتبار نہیں ہیں۔ اب سپریم کورٹ کے ان معزز جج صاحبان کو بھی سنجیدگی سے سوچنا چاہیے کہ انہوں نے کیا دیکھ کر پی ٹی آئی کو ایک ایسا غیر آئینی ریلیف دیا تھا جو دنیا کے کسی بھی قیدی کو میسر نہیں ہوتا۔ دنیا بھر میں کسی بھی قیدی کو پرائیویٹ اسپتال میں علاج کی ایسی شاہانہ سہولت نہیں ملتی، لیکن پی ٹی آئی نے عدالت کے اس رحم دلی پر مبنی فیصلے کا بھی انتہائی غلط فائدہ اٹھایا۔
اگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرامد نہ ہوا اور عمران خان کا علاج نہ کرایا گیا تو وکلاء عدالتی چھٹیوں کے بعد پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنا دیں گے ، صدر لاہور ہائیکورٹ بار بابر مرتضی کا اعلان
Please support my petition to the UK government, if you are a British citizen or a UK Resident:
“Demand active UK diplomatic action to protect Imran Khan's human rights”.
https://t.co/wv8mKwIvRG