مرکزی انفارمیشن سیکرٹری پاکستان تحریک انصاف جنوبی پنجاب بیرسٹر سارہ علی سید نے نشتر ہسپتال ملتان کے سنگین مالی بحران، ادویات اور بستروں کی شدید قلت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے جنوبی پنجاب کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق پر ڈاکا قرار دیتے ہوئے کیا۔فنڈز کی کمی نے نشتر ہسپتال کو مفلوج کر دیا۔ نشتر ہسپتال کی تباہی حکومتی مجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فوری طور پر 8 ارب کا پورا بجٹ جاری نہ کیا تو احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ نشتر ہسپتال جو کہ پورے خطے کے کروڑوں مریضوں کا واحد سہارا ہے، اسے حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے جان بوجھ کر تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے۔ ماضی میں فنڈز کی فراہمی انتہائی ناگفتہ بہ رہی جہاں گزشتہ سال محض 68 کروڑ روپے کی برائے نام گرانٹ دی گئی جبکہ اصل ضرورت اڑھائی ارب روپے تھی۔بیرسٹر سارہ علی سید نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران بھی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی، ہسپتال کی حقیقی ضرورت کم از کم 8 ارب روپے تھی مگر حکومت نے صرف 4 ارب روپے کا ناکافی بجٹ دیا ہے۔ اس مختص شدہ رقم میں سے بھی لگ بھگ ساڑھے 3 ارب روپے ملازمین کی تنخواہوں اور روزمرہ کے انتظامی اخراجات کی نذر ہو جاتے ہیں، جس کے بعد ادویات کی خریداری کے لیے بمشکل صرف 66 کروڑ روپے بچتے ہیں جو کہ روزانہ ہزاروں کی تعداد میں آنے والے مریضوں کے لیے سمندر میں کوزے کے مترادف ہیں۔انہوں نے فارماسیوٹیکل اور میڈیکل کمپنیوں کے بقایا جات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سالوں کے دوران ادویات اور طبی سامان فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ڈیڑھ سے دو ارب روپے کے بقایا جات تاحال اد شدہ پڑے ہیں، جس کی وجہ سے سپلائرز نے ہسپتال کو مزید سامان دینے سے ہاتھ کھینچ لیے ہیں۔ فنڈز کی اس بھیانک قلت اور انتظامی بے حسی کے نتیجے میں نشتر ہسپتال کے آئی سی یو، آپریشن تھیٹرز اور وارڈز میں لائف سیونگ ڈرگز، آکسیجن اور سرجیکل آئٹمز کا شدید بحران پیدا ہو چکا ہے، اور غریب مریض سستے علاج کے منتظر ایڑیاں رگڑنے پر مجبور ہیں۔بیرسٹر سارہ علی سید نے کہا کہ نشتر ہسپتال کی او پی ڈی میں یومیہ 7 سے 8 ہزار اور ایمرجنسی میں 1200 سے 1500 تشویشناک مریض آتے ہیں، جن کے لیے دستیاب 1800 سے زائد بستروں پر مریضوں کا بوجھ اس قدر زیادہ ہے کہ ایک ہی بستر پر دو دو یا تین تین مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے یا انہیں فرش پر لٹایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نااہل اور فارم 47 کی باطل حکومت عوام کو دو وقت کی روٹی کے ساتھ ساتھ علاج جیسی بنیادی سہولت دینے سے بھی قاصر ہو چکی ہے، اور صحت کے شعبے کو سیاسی انتقام اور غفلت کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نشتر ہسپتال ملتان کے لیے فوری طور پر 8 ارب روپے کا مکمل بجٹ جاری کیا جائے اور ادویات کی خریداری اور پرانے بقایا جات کی ادائیگی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جائے ورنہ پر امن احتجاج ہمارا حق ہے کیونکہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے حکمرانوں کو اب مزید مہلت نہیں دی جا سکتی۔
پاکستان کی "ترقی" کا مختصر حساب ملاحظہ ہو:
• ہر سال پرانے قرض اتارنے کے لیے 19 ارب ڈالر درکار۔
• تجارتی خسارہ الگ، یعنی کم از کم 25 ارب ڈالر مزید قرض ہر سال لینا ہوگا۔
• آئی پی پیز کو 35 ہزار میگاواٹ کی ادائیگی، مگر فروخت صرف 22 ہزار میگاواٹ کی۔ باقی 13 ہزار میگاواٹ کا بوجھ عوام کے بجلی بلوں پر!
اور جنہیں اپوزیشن میں 150 روپے کا پٹرول، آٹا اور چینی قیامت لگتے تھے، آج دو سے تین گنا مہنگائی پر ایسی خاموشی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
واہ رے "ترقی"!
قرض بھی عوام ادا کریں، خالی بجلی بھی عوام خریدیں، اور مہنگائی پر سوال بھی نہ کریں۔
یہ معیشت نہیں، عوام کو مسلسل قیمت چکوانے کا نظام ہے۔
#مہنگائی #IPPs #PakistanEconomy
Has the government given the petroleum lobby a free pass? "Don't worry about public outrage; we'll keep hiking fuel prices every day. You keep cashing in, and we'll keep burdening the people."
The South Punjab Secretariat was created to end the people’s dependence on the corridors of power in Lahore & to bring governance, authority, & decision-making to their own doorstep. It represented a historic step towards genuine devolution & empowerment. Today, that vision is being dismantled. Its posts are being abolished, its powers systematically stripped away & the institution is being reduced to little more than a hollow shell.
The people of South Punjab will not forget who fought to give them their rightful share of authority & who is now taking it away, forcing them back into the shackles of centralized rule from Lahore.
حکومت نے پٹرول اور ڈیزل ایک بار پھر مہنگا کردیا، پٹرول 6 روپے 39 پیسے،ڈیزل 7 روپے 83 پیسے مہنگا، پٹرول کی نئی قیمت 327روپے 12 پیسے، ڈیزل کی نئی قیمت 375 روپے 4 پیسے ہوگئی ،،تین روز میں پٹرول10 روپے95پیسے،ڈیزل20 روپے71 پیسے مہنگ
مرکزی انفارمیشن سیکرٹری پاکستان تحریک انصاف جنوبی پنجاب بیرسٹر سارہ علی سید نے نشتر ہسپتال ملتان کے سنگین مالی بحران، ادویات اور بستروں کی شدید قلت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے جنوبی پنجاب کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق پر ڈاکا قرار دیتے ہوئے کیا۔فنڈز کی کمی نے نشتر ہسپتال کو مفلوج کر دیا۔ نشتر ہسپتال کی تباہی حکومتی مجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ فوری طور پر 8 ارب کا پورا بجٹ جاری نہ کیا تو احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ نشتر ہسپتال جو کہ پورے خطے کے کروڑوں مریضوں کا واحد سہارا ہے، اسے حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے جان بوجھ کر تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے۔ ماضی میں فنڈز کی فراہمی انتہائی ناگفتہ بہ رہی جہاں گزشتہ سال محض 68 کروڑ روپے کی برائے نام گرانٹ دی گئی جبکہ اصل ضرورت اڑھائی ارب روپے تھی۔بیرسٹر سارہ علی سید نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران بھی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی، ہسپتال کی حقیقی ضرورت کم از کم 8 ارب روپے تھی مگر حکومت نے صرف 4 ارب روپے کا ناکافی بجٹ دیا ہے۔ اس مختص شدہ رقم میں سے بھی لگ بھگ ساڑھے 3 ارب روپے ملازمین کی تنخواہوں اور روزمرہ کے انتظامی اخراجات کی نذر ہو جاتے ہیں، جس کے بعد ادویات کی خریداری کے لیے بمشکل صرف 66 کروڑ روپے بچتے ہیں جو کہ روزانہ ہزاروں کی تعداد میں آنے والے مریضوں کے لیے سمندر میں کوزے کے مترادف ہیں۔انہوں نے فارماسیوٹیکل اور میڈیکل کمپنیوں کے بقایا جات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سالوں کے دوران ادویات اور طبی سامان فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ڈیڑھ سے دو ارب روپے کے بقایا جات تاحال اد شدہ پڑے ہیں، جس کی وجہ سے سپلائرز نے ہسپتال کو مزید سامان دینے سے ہاتھ کھینچ لیے ہیں۔ فنڈز کی اس بھیانک قلت اور انتظامی بے حسی کے نتیجے میں نشتر ہسپتال کے آئی سی یو، آپریشن تھیٹرز اور وارڈز میں لائف سیونگ ڈرگز، آکسیجن اور سرجیکل آئٹمز کا شدید بحران پیدا ہو چکا ہے، اور غریب مریض سستے علاج کے منتظر ایڑیاں رگڑنے پر مجبور ہیں۔بیرسٹر سارہ علی سید نے کہا کہ نشتر ہسپتال کی او پی ڈی میں یومیہ 7 سے 8 ہزار اور ایمرجنسی میں 1200 سے 1500 تشویشناک مریض آتے ہیں، جن کے لیے دستیاب 1800 سے زائد بستروں پر مریضوں کا بوجھ اس قدر زیادہ ہے کہ ایک ہی بستر پر دو دو یا تین تین مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے یا انہیں فرش پر لٹایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نااہل اور فارم 47 کی باطل حکومت عوام کو دو وقت کی روٹی کے ساتھ ساتھ علاج جیسی بنیادی سہولت دینے سے بھی قاصر ہو چکی ہے، اور صحت کے شعبے کو سیاسی انتقام اور غفلت کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نشتر ہسپتال ملتان کے لیے فوری طور پر 8 ارب روپے کا مکمل بجٹ جاری کیا جائے اور ادویات کی خریداری اور پرانے بقایا جات کی ادائیگی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جائے ورنہ پر امن احتجاج ہمارا حق ہے کیونکہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے حکمرانوں کو اب مزید مہلت نہیں دی جا سکتی۔
ملتان
صوفیاء کے شہر سے حق و سچ کی آواز گونجتی رہے گی۔ حضرت زکریا ملتانیؒ کا پیغام، ہماری رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ انتظامیہ عقیدت مندوں کے لیے بہترین سہولیات فراہم کر کے عرس کو پرامن بنائے۔ان خیالات کا اظہار مرکزی انفارمیشن سیکرٹری پاکستان تحریک انصاف جنوبی پنجاب بیرسٹر سارہ علی سید نے شیخ الاسلام حضرت بہائوالدین زکریا ملتانیؒ کے 787ویں سالانہ عرس کے آغاز پر اپنے خصوصی پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ حضرت بہائوالدین زکریاؒ کا روحانی فیض اور امن، محبت، برداشت اور انسانیت کا درس آج کے دور میں بھی مشعل راہ ہے۔ ملتان کی سرزمین ان عظیم صوفیاء کے دم قدم سے آباد ہے جنہوں نے نہ صرف اسلام کی تبلیغ کی بلکہ معاشرے میں مساوات اور انصاف کی بنیادیں بھی رکھیں۔ بیرسٹر سارہ علی سید نے کہا کہ پی ٹی آئی کا حقیقی آزادی کا بیانیہ بھی انہی اقدار کا امین ہے، جس کا مقصد ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں قانون کی حکمرانی ہو، کمزور کو انصاف ملے اور غریب کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آج کے دن عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے قائد عمران خان کے وژن کے مطابق، صوفیاء کے بتائے ہوئے اصولوں کی روشنی میں ایک خوددار، باوقار اور فلاحی ریاست کے قیام کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حضرت بہائوالدین زکریاؒ جیسے اولیاء نے کبھی ظلم اور ناانصافی کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ آج جبکہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت کو چیلنجز کا سامنا ہے، تحریک انصاف صوفیاء کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے سچائی اور حق کی آواز بلند کرتی رہے گی۔ ہمیں یقین ہے کہ عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام سے ہی ہم ملتانی صوفیاء کے اصل مشن کی تکمیل کر سکتے ہیں۔ بیرسٹر سارہ علی سید نے زائرین اور اہل ملتان کو عرس مبارک کی دلی مبارکباد پیش کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ہمارے ملک کو ان اولیاء کے روحانی فیض سے امن، استحکام اور خوشحالی کا گہوارہ بنائے۔ انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ عرس میں آنے والے زائرین کو بہترین سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ عقیدت مند اپنے روحانی پیشوا کے حضور اپنی عقیدت کا اظہار پرسکون ماحول میں کر سکیں۔
مبارک ہو! اب مہنگائی بھی روزانہ اپ ڈیٹ ہوا کرے گی۔
حکومت نے شاید یہ طے کر لیا ہے کہ عوام کو ہر صبح سورج کے ساتھ ایک نئی پٹرول قیمت کا تحفہ بھی دیا جائے۔ نتیجہ؟ روز نئے کرائے، روز مہنگی اشیائے ضروریہ، اور روز غریب کی جیب پر ایک نیا حملہ۔
یہ ملک پہلے ہی بھوک، غربت اور محرومی کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ اب روزانہ پٹرول کی قیمت بدل کر حکومت نے عوام کی زندگی کو تجربہ گاہ بنا دیا ہے۔
یہ معاشی اصلاحات نہیں، غریب کے صبر کا روزانہ امتحان ہے۔
#مہنگائی #Petrol
عمران خان صاحب کے مقدمات
مورخہ: 20 جولائی 2026
سپریم کورٹ آف پاکستان
عمران خان صاحب سے ملاقاتوں پر عائد رکاوٹوں کے خلاف اپیل کی سماعت
سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے وکلاء کی ملاقاتوں میں حائل رکاوٹوں کے خلاف جناب سلمان اکرم راجہ اور مشعال یوسفزئی کی جانب سے دائر اپیل کل بروز پیر، 20 جولائی 2026 کو سماعت کے لیے مقرر ہے۔
یہ اپیل صبح 9:00 بجے سپریم کورٹ آف پاکستان کے بینچ نمبر 2 کے روبرو سماعت کے لیے مقرر ہے۔
بینچ میں شامل ججز:
* جسٹس محمد علی مظہر
* جسٹس مسرت ہلالی
* جسٹس شاہد حسن
پاکستان تحریک انصاف کی سنٹرل انفارمیشن سیکرٹری جنوبی پنجاب، بیرسٹر سارہ علی سید نے وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کے فیصلے کو عوام دشمنی کی انتہا قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں روزانہ ردوبدل غریب کا معاشی قتل عام ہے۔ جنوبی پنجاب کے عوام پہلے ہی بھوک اور افلاس سے مر رہے ہیں۔ حکومت فوری طور پر یہ ظالمانہ فیصلہ واپس لے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران ایوانوں میں بیٹھ کر آئی ایم ایف کے اشاروں پر غریب کا گلا دبانے والے یہ ظالم، زمینی حقائق سے مکمل طور پر نابلد ہیں۔ یہ اقدام صرف قیمتوں میں اضافے کا پیش خیمہ نہیں بلکہ ملک میں مہنگائی کے ایک ایسے لامتناہی طوفان کو دعوت دینے کے مترادف ہے جس میں پسے ہوئے طبقے کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکمرانوں کو اپنی عیاشیوں سے فرصت ملے تو وہ ذرا جنوبی پنجاب کا رخ کریں، جہاں کے عوام پہلے ہی بھوک، افلاس اور بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث روزانہ کی بنیاد پر مر رہے ہیں۔ یہاں کی زمینوں کی زرخیزی پر حکمرانوں نے غربت کا ایسا کفن اوڑھا دیا ہے کہ لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں۔ اگر کسی کو حقیقی غربت، محرومی اور حکومتی نااہلی کے اثرات دیکھنے ہوں تو وہ ہمارے خطے کے گھر گھر جا کر دیکھے جہاں ہر شخص بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ شیخ وقاص اکرم کے بیانیے کی تائید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا مو?قف واضح ہے کہ یہ ملک مزید اس طرح کے معاشی تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی کا مطلب ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہے، جس سے عام آدمی کی کمر پہلے ہی ٹوٹی ہوئی ہے۔ ہم اس غیر انسانی فیصلے کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت فوری طور پر اس ظالمانہ فیصلے کو واپس لے، بصورت دیگر عوام کی چیخیں حکمرانوں کے ایوانوں کے در و دیوار ہلا کر رکھ دیں گی۔بیرسٹر سارہ علی سید نے مزید کہا کہ تحریک انصاف جنوبی پنجاب کے عوام کی آواز بن کر اس ظلم کے خلاف ہر فورم پر لڑے گی۔ یہ حکمران بھول گئے ہیں کہ جب صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا ہے تو پھر کوئی تخت و تاج عوام کے سیلاب کو نہیں روک سکتا۔ ہم جنوبی پنجاب کے استحصال اور عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالنے کی ہر کوشش کو اپنی بھرپور قوت مزاحمت سے ناکام بنائیں گے اور اپنے عوام کو اس کرب سے نکالنے کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔
*پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر پاکستان تحریک انصاف کا رد عمل*
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور بجلی و گیس کے بھاری بلوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ حکومت نے ایک مرتبہ پھر اپنی نااہلی اور عوام دشمن معاشی پالیسیوں کا بوجھ براہِ راست عام شہریوں، کسانوں، مزدوروں اور صنعت پر ڈال دیا ہے۔ حالیہ اضافے کے ساتھ حکومت نے روزانہ کی بنیاد پر ایندھن کی قیمتوں میں ردوبدل کا نظام بھی متعارف کرایا ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں اضافہ صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات اشیائے خوردونوش، ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور ہر گھر کے بجٹ پر پڑتے ہیں۔ ہر مرتبہ عوام سے قربانی مانگی جاتی ہے، مگر حکمران طبقہ اپنی شاہ خرچیوں، عیاشیوں اور غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی لانے کے لیے تیار نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کا واضح مؤقف ہے کہ حکومت فوری طور پر پیٹرولیم لیوی اور عوام پر مسلط غیر ضروری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کرے، بجلی اور ایندھن کی قیمتوں کو عوام کی قوتِ خرید کے مطابق لائے اور ایسی معاشی پالیسیاں اختیار کرے جن سے صنعت، تجارت اور برآمدات کو فروغ ملے، نہ کہ انہیں مزید تباہ کیا جائے۔
ملک کو مہنگائی کے دلدل سے نکالنے کے لیے عوام پر نئے بوجھ ڈالنے کے بجائے کرپشن، فضول اخراجات اور معاشی بدانتظامی کا خاتمہ ضروری ہے۔ عوام کو مزید سزا دینا کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ حکومت کی معاشی ناکامی کا اعتراف ہے۔
منجانب مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ
پاکستان تحریک انصاف کی سنٹرل انفارمیشن سیکرٹری جنوبی پنجاب، بیرسٹر سارہ علی سید نے بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات اور خان پور سے تعلق رکھنے والے دو مزدور20 سالہ بلال اور 40 سالہ بلال کے بہیمانہ قتل پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خان پور کے مزدوروں کا قتل حکومتی غفلت کا نتیجہ ہے۔جنوبی پنجاب میں روزگار ہوتا تو آج دو مزید مزدوروں کو جان نہ دینی پڑتی۔ پی ٹی آئی متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور انصاف کا مطالبہ کرتی ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر پارٹی کے سینئر رہنما شیخ وقاص اکرم اور پی ٹی آئی قیادت کا بیانیہ بالکل واضح ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ معصوم مزدوروں کو محض روزگار کی تلاش میں اپنے صوبے سے دور جا کر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑ رہا ہے جو حکمرانوں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔بیرسٹر سارہ علی سید نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں غربت، بیروزگاری اور پسماندگی کی وجہ سے ہمارے نوجوان اور محنت کش طبقہ اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے کے لیے دیگر صوبوں میں جا کر محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہے۔ اگر جنوبی پنجاب میں حکومتی وسائل کا منصفانہ استعمال ہوتا، یہاں صنعتیں لگتیں اور روزگار کے مواقع پیدا کیے جاتے تو آج ہمارے غریب مزدوروں کو بلوچستان جیسے پُرتشدد علاقوں میں جا کر جان کی بازی نہ ہارنا پڑتی۔ یہ صرف ایک سانحہ نہیں بلکہ حکومتی غفلت اور جنوبی پنجاب کے عوام کے ساتھ ہونے والی دہائیوں پر محیط سوتیلی ماں جیسا سلوک ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ خان پور سے تعلق رکھنے والے دو غریب ہم نام مزدوروں کے لواحقین کو فوری انصاف فراہم کیا جائے اور ان کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ دہشت گردی کے ان واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ موجودہ حکمران عوام کو تحفظ فراہم کرنے کی بجائے اپنی کرسیاں بچانے میں مصروف ہیں۔ پی ٹی آئی اس مشکل گھڑی میں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں۔
Pakistan's priorities speak louder than any official statement.
Three vital hydropower projects.....700 MW Azad Pattan, 1,124 MW Kohala, and 8 MW Kathai-II....have been shelved, while PKR 200 billion is allocated for the Islamabad Airport expansion and another PKR 200 billion for the Kharian Motorway.
When energy security is sacrificed for political optics, don't ask why the lights go out or why the economy keeps paying the price.
پاکستان تحریک انصاف، سینٹرل میڈیا ڈیپارٹمنٹ جنوبی پنجاب کی ترجمان بیرسٹر سارا علی سید نے پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر بالترتیب 13.18 روپے اور 13.80 روپے فی لیٹر کے ظالمانہ اضافے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے غریب عوام پر گرایا جانے والا ایک اور پٹرول بم قرار دیا۔ جنوبی پنجاب مہنگائی کی دلدل میں، کسان اور محنت کش تباہی کے دہانے پر ہیں۔ بلوچستان کی ابتر صورتحال اور بڑھتی بے چینی پر پوری قوم تشویش میں مبتلا ہے۔ ۔ انہوں نے کہا کہ اس معاشی حملے کی گونج ملک کے طول و عرض میں سنی جا رہی ہے اور عوام اب اس ظلم کو کسی صورت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ موجودہ نااہل حکمرانوں نے عوام کو زندہ درگور کرنے کا پورا انتظام کر رکھا ہے، اور یہ اضافہ غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑنے کے مترادف ہے۔ جنوبی پنجاب خطہ پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور پسماندگی کی شدید زد میں ہے، جہاں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے کروڑوں خاندانوں کے لیے اب دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے ٹرانسپورٹ، زراعت اور اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں وہ طوفان آئے گا جس کا سدباب کرنا اس کٹھ پتلی حکومت کے بس کی بات نہیں ہے۔ جنوبی پنجاب کے کسان اور محنت کش پہلے ہی تباہی کے دہانے پر ہیں اور تحریک انصاف ان کے حقوق پر اس ڈاکہ زنی کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرے گی۔ بیرسٹر سارہ علی سید کا کہنا تھا کہ ایک طرف غریب عوام کا معاشی قتل عام جاری ہے تو دوسری طرف بلوچستان کے ابتر حالات اور وہاں بڑھتی ہوئی شدید بے چینی نے پوری قوم کو تشویش اور گہرے اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ جب تک آئین و قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہوتی اور عوامی مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا جاتا، ملک کو نہ تو معاشی دلدل سے نکالا جا سکتا ہے اور نہ ہی صوبوں میں پھیلی اس بے یقینی کا خاتمہ ممکن ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کیا گیا یہ ظالمانہ اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ ملکی یکجہتی، سلامتی اور معاشی استحکام صرف اور صرف بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وژن اور فوری و شفاف انتخابات کے انعقاد سے ہی ممکن ہے۔ اگر عوام کو ریلیف نہ دیا گیا اور ان کی معیشت کے ساتھ ساتھ ملکی امن و امان سے کھلواڑ بند نہ کیا گیا تو عوامی غیظ و غضب کا یہ لاوا موجودہ نااہل نظام کو بہا لے جائے گا۔
Islamabad, July 11, 2026
Sheikh Waqas Akram, Secretary Information, PTI, has issued the following statement:
Economic Terrorism Through Petroleum Price Hike
The Pakistan Tehreek e Insaf strongly condemns the Form 47 regime’s latest act of economic terrorism, a cruel increase of Rs. 13.18 in petrol & Rs. 13.80 in diesel prices, taking them to Rs. 310.71 & Rs. 323.30 /litre respectively. This comes while global oil prices have been stable or declining. The regime’s pricing science is consistent: relief from falling global prices never reaches the public, but any minor increase abroad is passed on within 48 hours with added taxes.
During Imran Khan’s tenure, petrol was kept at Rs. 150/ litre despite the worst global crude supercycle. Those who once demanded Rs. 70 petrol now shamelessly justify prices crossing Rs. 300- 400. This regime has perfected the art of shifting every burden onto the people while shielding its own failures.
The Human Cost
In Hasilpur, a family crushed by poverty and unable to pay rent or a Rs. 17,500 electricity bill poisoned their 2 young children before taking their own lives. Hungry children cried for milk that could not be bought. The regime bears direct responsibility for creating conditions that drive citizens to such despair.
Azad Jammu and Kashmir Under Siege
The regime is attempting to turn Azad Jammu and Kashmir into a replica of occupied Kashmir by deploying 4,000 FC personnel and Rangers and imposing a month long communication blackout to crush a peaceful movement. The demands of the Joint Awami Action Committee for affordable electricity and flour are legitimate. PTI warns that holding any election under siege would be a pre arranged selection, not democracy. We demand the immediate lifting of restrictions. PTI stands with the people of Kashmir & will not participate in any election. PTI stands firmly with its decision of Boycott Elections in Kashmir .
Third Wheat Crisis: Engineered Shortage
Despite claims of a bumper crop, the regime has created yet another artificial wheat crisis, the third under its watch, with over 3.5 million tons shortage & plans to import 2 million tons. Reports confirm 4.5 million tons have vanished from Punjab government warehouses. Flour now costs Rs. 130 to 150 per kg against Rs. 65 to 70 during PTI’s government. Farmers have been ruined by high input costs. PTI demands a judicial inquiry into the missing wheat & a forensic audit of import decisions.
Balochistan: 6 Point Roadmap for Peace
PTI condemns recent terrorist attacks in Balochistan and pays tribute to martyred security personnel. Purely military approaches have failed for 5 decades. PTI’s six point roadmap includes: modern intelligence driven operations, addressing public grievances, dialogue with constitutional nationalists, distinguishing between those who respect the Constitution and those who do not, equitable use of resources for local development & an inclusive political process involving all stakeholders.
Persecution of Imran Khan and Political Prisoners
Imran Khan has now spent 1,071 days in jail, including 250 days in solitary confinement, a clear violation of the UN Mandela Rules. His wife Bushra Bibi has endured 805 days of illegal detention & was recently operated upon without family notification. Imran Khan’s vision has deteriorated by 5 percent due to medical neglect. PTI demands his immediate transfer to a proper hospital for examination by his personal physicians, including Dr. Faisal Sultan, in the presence of family. We also demand the immediate release of SMQ, Dr. Yasmin Rashid and all other political prisoners. The regime will b held fully responsible for any further harm to them. The Form 47 regime stands exposed for economic warfare against citizens, suppression of peaceful dissent, engineered crises for corrupt gain, and vindictive political persecution. PTI will continue to resist this tyranny through every constitutional & democratic means.
Issued by:
Central Media Department
PTI