جوتیاں جبر کے شہکار پہ دے ماریں گے
ہر بُتِ ظلم کو دیوار پہ دے ماریں گے
ہم زمیں زاد گر شاہوں سے اُلجھ بیٹھے تو
آسماں کھینچ کے دربار پہ دے ماریں گے۔
#SAT
دنیا کے ٹیک گرو" کا سب سے بڑا ویزا فراڈ پکڑا گیا! 🚨
یورپ آنے والے 80% سے 90% بھارتیوں کی دستاویزات جعلی نکلیں۔ بھارت کی ایک ہی یونیورسٹی نے یورپی ویزا لگوانے کے لیے 36,000 سے زائد جعلی ڈگریاں بیچ ڈالیں!
مغربی ممالک کو آئی ٹی (IT) ایکسپرٹس کے نام پر "فراڈ ایکسپرٹس" سپلائی کیے جا رہے ہیں۔ یہ ہے ان کی نام نہاد ٹیک بالادستی کی اصل حقیقت! 🤥💻
"بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے "
جھنگ میں پچاس میگاواٹ کا آئی پی پی کئی برسوں سے بند پڑا ہے لیکن دس کروڑ روپیہ ماہانہ لے رہا ہے۔ یہاں پر 42 آئی پی پیز بند پڑے ہوئے ہیں لیکن انکے ماہانہ پیسے لیے جارہے ہیں یہ منشا وغیرہ کون ہیں ؟ حنیف عباسی
عون بھائی اور ڈرائیور نے مجھے بار بار زیا۔دتی کا نشانہ بنایا ۔۔ سب سے زیادہ ظلم میرے ساتھ رمضان شریف میں ہوا ، باجی کو سب کچھ بتایا لیکن وہ بولیں ،میرے بیٹے نے تمہارے ساتھ کچھ کیا بھی ہے تو بچہ اسکا نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔ ماڈل ٹاؤن کی ایک کوٹھی میں مسلسل ظلم کا شکار ہونے کے بعد اسقا۔ط حمل کے دوران جان بحق ہونے والی گھریلو ملازمہ کا آخری بیان ۔۔۔۔۔لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن میں اس 17 سترہ سالہ گھریلو ملازمہ کو عون بھائی یعنی کوٹھی مالکن کا بڑا اور شادی شدہ بیٹا ظلم کا نشانہ بناتا رہا ، گھر کے ڈرائیور نے بھی مفت کا مال سمجھ کر اور سب کو بتانے کا کہہ کر لڑکی کو نشانہ بنایا ، لڑکی بدنامی، معصومیت اور نوکری جانے کے ڈر سے چپ رہی ۔ مگر کچھ ہفتے بعد اسکی طبیعت خراب رہنے لگی ، باجی کو بتایا تو انہوں نے حمل ٹیسٹ والی سٹک لاکردی ، جس میں تصدیق ہو گئی مگر مالکن نے کچھ نہ کیا بس ڈرائیور کو نوکری سے نکال دیا ، جب بچی مسلسل بیمار رہنے لگی تو مالکن باجی نے اسے گھر بھجوا دیا بچی نے ماں کو حالات بتائے تو وہ پریشان ہو گئیں علاج کروایا مگر کچھ فرق نہ پڑا ۔۔۔ غلط ادویات کے استعمال سے بچہ پیٹ میں ہی فوت ہو گیا تو ماں اپنی بیٹی کو لے کر مالکن باجی کے پاس آگئی یہاں لاہور کے نواح میں ایک ڈاکٹر سے اسقا۔ط حمل کا آپریشن کروانے کے چند گھنٹوں بعد بچی کی وفات ہو گئی ۔۔۔۔ مذکورہ بالا بیان بچی نے انتقال سے چند گھنٹے پہلے دیا ۔۔۔۔یہ بچی اللہ کی عدالت میں جاکر پوچھے گی تو ضرور کہ اسکو مرنے پر کس نے مجبور کیا اور اسکا مجرم کون کون ہے ؟ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پولیس نے مقدمے میں ق۔ت۔ل کی دفعات بھی شامل کر لی ہیں۔ پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کے تحریری اور ویڈیو بیانات کی روشنی میں اجتماعی زیا۔دتی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔۔ دعا ہے اس بچی کو ظلم کا نشانہ بنانے والے عبرت کا نشان بنیں ۔۔۔۔
میں ان میں تھا جو سمجھتے تھے کہ پاکستان کو جوابی دھماکے نہیں کرنا چاہییں امریکا کے صدر کلنٹن نواز کو کی بار فون کر چکا تھا اسکو پانچ ارب ڈالر کی پیشکش سرکاری طور پر کر چکا تھا میرا خیال تھا کہ یہ پیشکش قبول کی جائے اور ملک کی معیشت کو بہتر بنایا جائے ، دنیا کو پتا ہے کہ ہمارے پاس ہے تو دھماکے کرنے کا فائیدہ۔۔؟
لیکن ٢٨ مئی ۱۹۹۸ کو گھر پر ہی ڈش پر انڈین چینل دیکھ رہا تھا ، لوک سبھا کا اجلاس دکھا رہے تھے اڈوانی جی اور واجپائی جنکی حکومت تھی، بڑھ بڑھ کے تقریریں کر رہے تھے کہ پاکستان کو جب چاہیں گے ملیا میٹ کر دیں گے وغیرہ وغیرہ...بہت سخت ٹینشن شروع ہو گی، غصہ آ رہا تھا کہ اگر تم نے دھماکے کر بھی دیے ہیں تو پاکستان کو تاؤ کیوں دلا رہے ہو..
پرناب مکرجی اسوقت اپوزیشن میں تھے اور کسی حادثے کی وجہ سے بیساکھی پر تھے، وہ اٹھ کے باہر گئے اور دس منٹ میں واپس آے ، سپیکر سے فلور مانگا اور بتایا کہ ابھی بی بی سی سن کے آ رہا ہوں پاکستان نے بھی ایٹمی دھماکے کر دیے ہیں... ھال میں ایک دم سناٹا چھا گیا -
واجپائی جی اَور اڈونی جی فورا" باہر گئے کچھ دیر میں واپس آے اور اپنی تقریروں میں پاکستان کے ساتھ امن سے رہنے کی پیشکش کر دی، میری بیوی بھی میرے ساتھ ہنسنے لگی کہ چند منٹوں میں یہ کایا ہی پلٹ ہو گی ..فرط جذبات میں پاکستان زندہ باد. اور نواز شریف زندہ باد کے نعرے لگا دیے..
میں ذاتی طور پر چھوٹے صوبوں کی تجویز کا حامی ھوں ، میرا ضاتی موقف ھے کہ صرف پنجاب کی تقسیم قبول نہیں ، سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جاۓ ،
سبھی صوبے بڑے ھیں ، بارہ کروڑ کا ھو یا چھ کروڑ کا، کسی کی آبادی زیادہ ھے کسی کا رقبہ ۔۔!!
ھر بڑے صوبے میں چھوٹے صوبوں کا مطالبہ موجود ھے ،
عام آدمی کو اپنے مسائل کے حل کیلئے لاھور ، کراچی ، کوئٹہ یا پشاور آنیکی ضرورت نہیں ھونی چاھئیے ،
نئے صوبوں کے قیام کیلئے متعلقہ صوبائ اسمبلی کا کردار اگر تبدیل بھی کرنا ھے تو اسے ختم نہیں ھونا چاھئیے ، اس سے نىئ پیچیدگیاں جنم لے سکتی ھیں ، پہلے ھی بہت سی دراڑیں موجود ھیں ، ھمیں انھیں پاٹنا ھے ۔۔۔
برصغیر کے لوگوں کو گند اور گندگی میں رہنے کی اتنی عادت ہوگئی ہے کہ اب کوئی صفائی کا نام لے تو ہم پہلے بدک جاتے ہیں، پھر مزاحمت اور پھر مذاق اڑاتے ہیں
پنجاب میں صفائی کا کام شروع ہوا تو مناظر بہتر لگنے لگے ہیں۔ شہر قصبے کچھ اچھے لگنے شروع ہوئے۔
کل کسی انڈیا لڑکی کا سری لنکا سے ٹریول لاگ دیکھ رہا تھا۔وہ کہنے لگی سری لنکا چھوٹا سا ملک ہے لیکن وہاں ٹوراسٹ جانا پسند کرتا ہے کیونکہ وہاں صفائی ہے جو بھارت میں کم ہے۔
پنجاب میں صفائی پر توجہ دی جارہی ہے جو آپ کو اسلام آباد تک میں نظر نہیں آتی۔
انسانی آنکھوں کو صفائی ہمیشہ اچھی لگتی ہے۔ ہماری آنکھیں گندگی دیکھنے کی برسوں سے عادی ہیں لہذا صفائی دیکھنے اور اسے پسند کرنے اور تعریف کرنے میں ہمیں کچھ وقت لگے گا۔
@MaryamNSharif@CS_Punjab@GovtofPunjabPK@saaf
اسے کہتے ہیں واڑنا 👏👍۔۔
🚨 عمران خان کی حکومت تو شغل میلے کی حکومت تھی ایک سرکس لگا ہوا تھا آئے روز نیا اسکینڈل ۔۔ عمران خان کی حکومت میں کتنے سکینڈل سامنے آئے غریدہ فاروقی نے عمران نیازی کی منجی بیچ چوراھے ٹھوک دی 👇 ۔۔
جی عمران خان کے دور میں شو بند ہوا تھا اور چینل سے بھی نکالے گئے کہ ان کی نیک پاک حکومت کے دھڑا دھڑ سکینڈلز بریک کررہے تھے۔
خان کو غصہ اس وقت آیا جب ان کے لاڈلے وفاقی وزیر کے بارے انکشاف کیا کہ جس ٹھیکدار کے گھر وہ اسلام آباد رہتے ہیں اسے ہی پشاور میں 83کروڑ ڈالرز کا ٹھیکا ملا ہے۔جی ہاں وہی وزیر جس نے خان کے لیے ماتھے پر گولی کھانی تھی اور بعد میں خان کے گرتے ہی پتلی گلی سے نکل گئے تھے۔
لمبی لسٹ ہے۔تھرڈ ورلڈ کی سب حکومتوں اور حکمرانوں میں فاشزم کا رحجان ہوتا ہے،خان صاحب کی حکومت میں بھی تھا۔
عمران ریاض صاحب۔ چلیں اس بہانے آپ سے یہاں بات ہوجاتی ہے۔آپ اپنے بارے اتنے حساس نہیں ہیں جتنے عمران خان کے بارے میں ہیں کہ چھوٹی سی بات بھی ہم کہہ دیں تو آپ ضرور ان کی صفائی دیتے ہیں اور مجھے آپ کی یہی بات پسند ہے۔ آپ خان صاحب پر پورا حق ملکیت رکھتے ہیں۔
Complete
Sense
of Possession
جی آپ کا فون آیا تھا کہ تیار ہو جائیں آپ کا شو بند ہورہا ہے۔ ان دنوں آپ کی رسائی فوجی جرنیلوں تک تھی۔
میں نے کہا جی بسم آللہ۔
اب یہ تو آپ ہی بتا سکتے ہیں کہ آپ کو کس فوجی جنرل نے بتایا تھا کہ رئوف کا شو بند ہورہا ہے؟ آپ نے ہی نام لیے بغیر فوجیوں کا بتایا تھا کہ وہ بند کرا رہے ہیں اور آپ کی مہربانی کہ آپ نے کہا ہم اس پر مزاحمت کریں گے۔ اب آپ مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں نے آپ کو فوجیوں کا کہا۔۔۔ مجھے تو علم ہی نہ تھا کہ میرا شو بند ہورہا ہے تو کسی جنرل کا نام کیوں لیتا؟ آپ نے مجھےوہ خبر بریک کی تھی۔
میں تو وہ بتا سکتا ہوں جو مجھے چینل انتظامیہ نے کہا تھا کہ آپ وزیراعظم عمران خان سے مل لیں اورڈی جی ائی ایس پی آر سے مل لیں اور اپنے معاملات حل کریں۔
میں نے جواب میں کہا تھا میں دونوں سے نہیں ملوں گا اور نہیں ملا تھا۔
میں نے کہا تھا میرا کنٹریکٹ آپ ٹی وی کے ساتھ تھا کسی فوجی جنرل یا وزیراعظم سے نہیں تھا۔
انتطامیہ کا جواب تھا کہ پھر آپ کا شو بند ہوگا، سات ڈیجٹس تنخواہ/نوکری ختم۔
ہمیں مسکرا کر ہاتھ ملا کر باہر نکل آیا تھا اور کبھی مڑ کر نہ گیا نہ کبھی ان صاحب سے گلہ کیا ۔
آپ کے فون کے اگلے روز ارشد شریف نے E7 کیفے پر کہا تمہیں منع کیا تھا آپ ٹی وی نہ جائو جب تمہیں سما ٹی اور ہم ٹی وی کی آفر ہے۔
تم آپ ٹی وی چینل میں مروت /دوستی نبھانے گئے تھے اب بھگتو۔
آج صبح تمہارے چینل کے سربراہ کی عمران خان سے ملاقات ہوئی ہے اور ایجنڈے پر تم تھے۔ تم نے عمران خان یا فوجی جنرل سے ملنا نہیں لہذا تم کل سے بیروزگار لہذا اب کوئی نئی جاب ڈھونڈتے ہیں۔
چینلز کا سربراہ وزیراعظم سے مل کر آیا اور مجھے کہا آپ عمران خان سے مل کر اپنے معاملات ٹھیک کریں۔ ان سے نہں ملنا تو ڈی جی آئی ایس پی آر سے مل لو۔
میں دونوں سے نہیں ملا۔
مجھے بعد میں جنرل فیض حمید کا ایک قریبی بندہ ملنے آیا تھا کہ آپ کو نکلوانے میں ہمارا کوئی ہاتھ نہیں۔ وزیراعظم نے بار بار اصرار کیا۔ دو تین دفعہ جنرل باجوہ کو بھی کہا گیا کہ ان کا شو بند کرائیں۔
میں نے انہیں بھی یہی کہا جس نے بھی کہا ہو کہ اسے نکال دیں مجھے کوئی گلہ نہیں کہ آپ ٹی وی جانے کا فیصلہ میرا تھا جو غلط فیصلہ تھا۔
میرے پاس سما ٹی اور ہم ٹی وی کی آفرز تھیں۔ ارشد سمیت سب دوستوں نے کہا آپ ٹی وی مت جائو۔ سما ٹی وی جائو ( نوید صدیقی صاحب کو آج بھی یاد ہوگا۔ظفر صدیقی صاحب بھی دوبئی سے آئے اور دس بجے رات شو کی ڈیل پکی تھی)۔ درید قریشی صاحب سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔ان کی بھی دس بجے شو کے پیشکش موجود تھی۔ ہمارے دوست محمد مالک نے وہ ڈیل کرائی تھی۔
میں آپ ٹی وی اس لیے گیا کہ ایک سال پہلے آفتاب اقبال کے والد ظفر اقبال صاحب نے فون کر کے کہا تھا آفتاب آپ کا بھائی ہے وہ چینلز لا رہا آپ نے اس کے چینل کو جوائن کرنا ہے۔ انہوں نے میرے مرحوم محسن اور دوست ڈاکٹر ظفر الطاف کا حوالہ دیا تھا جس پر میں اپنے دیہاتی پن اور سادگی کی وجہ سے انکار نہ کرسکا۔
لہذا ارشد اور دیگر دوستوں کی مخالفت اور سما ٹی وی/ہم ٹی وی کی پیشکش چھوڑ کر آپ ٹی وی اپنا ایک پرانا وعدہ/ڈاکٹر ظفر الطاف کا حوالہ نبھانے گیا تھا۔
میں کسی کو الزام نہیں دیتا۔ میرا فیصلہ تھا آپ ٹی وی جوائن کیا۔
یہ بھی میرا فیصلہ تھا جب چینل انتظامیہ نے کہا جا کر عمران خان اور ائی ایس پی آر کے جنرل سے مل کر انہیں مطمئن کرو ورنہ فارغ، تو میں نے ایک کے بعد دوسری غلطی نہیں کی اور نہ عمران خان سے ملنے گیا نہ جنرل سے ملا۔ گھر چلا گیا۔
دونوں فیصلے غلط یا ٹھیک وہ میرے تھے اور میں ان کی ذمہ داری خود لیتا ہوں۔
بعد میں مراد سعید، شہباز گل، ڈاکٹر بابر اعوان نے مجھے کہا کہ ہم خان سے بات کریں گے اور شاید انہوں نے کی بھی تھی۔
میں نے ان دوستوں کا بھی شکریہ ادا کر کے انکار کر دیا تھا کہ صحافت کسی وزیراعظم یا فوجی جنرل سے بات چیت/مزاکرات یا انہیں مطمئن کر کے نہیں کی جاسکتی۔ 🙏
شکریہ گل صاحب، عید مبارک
پہلی بات یہ ہے خان صاحب میری وجہ سے جیل میں نہیں بیٹھے نہ میرا کوئی اس میں کردار ہے نہ آپ کا۔وہ اپنی وجہ سے جیل میں ہیں جیسے اس ملک میں ہر اقتدار کا خواہشمند جیل جاتا ہے۔ وجوہات کچھ بھی ہوسکتی ہیں اور مختلف بھی۔
حاکم بننے کے جنون میں اپنے مخالفین کی جان لینی بھی پڑتی ہے اپنی جان دینی بھی پڑتی ہے۔ اس میں کیا نیا ہے؟
آپ بھی سب جانتے ہیں وہ گگا گوگی گجر بزدار مانیکا گینگ کی وجہ سے جیل میں ہیں جنہوں نے آپ کو بھی پنجاب سے نکلوا دیا تھا۔ آپ نے تو اس گینگ کی پنجاب میں کرپشن کے ثبوت خان صاحب کو بھی پیش کیے تھے۔ الٹا اس گینگ نے آپ کو نکلوا دیا۔وہ گینگ آپ سے خوفزدہ تھا وجوہات آپ کو معلوم ہیں۔
باقی ہر بندہ اپنی وجہ سے ہی مشکلات کا شکار ہوتا ہے میری یا آپ کی وجہ سے نہیں۔ پاکستان میں کون جیل میں نہیں گیا اور آج تک کس نے مانا ہے کہ وہ قصوروار ہے؟
جہاں تک چینل کی بات ہے تو آپ نے بھی وہی بات کی ہے جو میں نے کہی تھی بلکہ آپ تصدیق کر رہے ہیں۔
آپ نے پوچھا یا ہم دوستوں کی محفل میں ذکر ہوا جس میں آپ بھی روز شریک ہوتے تھے تو میں نے وہی بتایا جو مجھے کہا گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان سے مل لیں یا ڈی جی آئی ایس پی آر سے اور اپنے معاملات ٹھیک کریں۔ میں نے انکار کر دیا تو چھٹی ہوگئی۔
آپ بھی وہی بات کہہ رہے ہیں کہ میں نے بات کی تھی کیونکہ مجھے یہی بات کہی گئی تھی اور اس دن چینل کے سی ای او عمران خان سے مل آئے تھے اور ارشد نے مجھے ایف سیون میں اس میٹنگ کا بتایا تھا اور اس رات میری سی ای او سے میٹنگ ہوئی جس میں کہا گیا آپ عمران خان جکومت پر سیکنڈلز فائل کرنا بند کر دیں۔وہ ناراض ہیں اور ان سے مل کر معاملات سیدھے کریں۔
میں نے انکار کر دیا تھا جس کا آفتاب اقبال صاحب نے اپنے انٹرویو میں اعتراف بھی کیا اور شرمندگی کا اظہار بھی کیا۔
میں نے آج تک آفتاب اقبال سے گلہ کیا نہ شکوہ کہ دو ٹاپ چینلز کی آفر ٹھکر کر آیا تھا کہ آپ کے والد ظفر اقبال صاحب کے فون کا پاس رکھا تھا لیکن انہوں نے دو سکینڈز میں بات ختم کر دی کہ وزیراعظم اور ڈی جی سے معاملات جا کر طے کرو ورنہ چھٹی۔
میں مسکرا کر ان سے ہاتھ ملا کر چلا آیا تھا اور اس بات کو سات سال ہونے کو آئے ہیں کبھی ان سے ملا نہ رابطہ نہ کبھی گلا کیا یا تبرہ پڑھا۔
ان کا چینل جوائن کرنے کا وہ میرا فیصلہ تھا چاہے غلط ہی سہی اور اس کے نتائج کا میں نے سامنا کیا۔
میں نے اس کے بعد بھی کئی ماہ عمران خان یا ڈی جی کا ذکر نہ کیا جب تک آفتاب اقبال نے خود نصراللہ ملک کے شو میں انکشاف نہ کیا کہ رئوف کو کیوں اور کن وجوہات کی وجہ سے نکالا گیا تھا۔
ان کی مہربانی انہوں نے میرے بارے اچھے الفاظ کہے ورنہ وہ کچھ بھی میرے پر الزام لگا سکتے تھے جیسے عمران ریاض نے ریٹنگز کا لگا دیا۔
جہاں تک بات ہے خان کا اس معاملے سے تعلق تھا یا نہیں مجھے یہ سمجھ نہیں آتی سکینڈلز عمران خان حکومت/وزیروں کے خلاف بریک ہورہے تھے ہمارے شو میں لیکن تکلیف فوجی جرنیلوں کو ہورہی تھی اور وہ مجھے نکلوا رہے تھے؟ جرنیلوں کا کیا مفاد تھا اگر بقول آپ کے عمران خان کو مجھ پر اعتراض نہ تھا؟
پھر مجھے کیوں چینل انتظامیہ نے کہا عمران خان حکومت پر سکینڈلز بند کرو۔۔ یا جا کر خان سے خود بات کرو۔
بہرحال نہ مجھے اس وقت عمران خان سے گلہ تھا نہ آج ہے۔ صحافت ایک مشکل کام ہے جس میں آپ روز نئے دشمن بناتے ہیں خصوصا اگر آپ کسی پارٹی کے گود میں نہیں بیٹھتے۔ حکومتیں ہر دور میں میڈیا پر سختی کرتی آئی ہیں۔ آج بھی سختیاںہورہی ہیں۔ حکومتیں شکایتیں لگاتی آئی ہیں۔صحافیوں کو نکلواتی آئی ہیں۔ اس میں کون سی ایسی نئی بات تھی اگر عمران خان بھی جنرل باجوہ اور جنرل فیض کے بل بوتے پر یہ سب کر رہے تھے۔
خدا سے ہم سب کو ڈرنا چاہئے کہ وہی جو سیم پیج کے تکبر میں انسانوں کی قسمت کے فیصلے کر رہے تھے،سب کو فکس کر رہے تھے اور طاقت کا اندھا دھند کررہے تھےوہ تینوں آج کس حال میں ہیں۔
دعا گو ہوں کہ خدا ان تینوں کی مشکلیں آسان کرے۔
کسی کی اچھی بری قسمت، جیل جانے یا نہ جانے میں آپ کا یا میرا یا کسی کا کوئی دوش نہیں۔ ہم سب اپنے اپنے اچھے برے کرما کا پھل پاتے ہیں۔ قدرت سب کچھ دیکھ رہتی ہوتی ہے اور وہی فیصلہ کرتی ہے وہ کون سزا یا جزا کا حقدار ہے۔
Karma is a bitch.
The universe has a way of balancing things out, ensuring that the negative energy or poor treatment someone puts out into the world eventually comes right back to bite them.
میدان عرفات میں حضرت محمدﷺ نے جو خطبہ حج دیا تھا۔ آئیے اس خطبے کے اہم نکات کو دہرا لیں، کیونکہ ہمارے نبی نے کہا تھا، میری ان باتوں کو دوسروں تک پہنچائیں۔
*۱*۔ اے لوگو! سنو، مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوں گا۔ میری باتوں کو بہت غور سے سنو، اور ان کو ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں پہنچ سکے۔
*۲*۔ اے لوگو! جس طرح یہ آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ جگہ عزت و حرمت والے ہیں۔ بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی، عزت اور مال حرمت والے ہیں۔ (تم اس کو چھیڑ نہیں سکتے )۔
*۳*۔ لوگو کے مال اور امانتیں ان کو واپس کرو،
*۴*۔ کسی کو تنگ نہ کرو، کسی کا نقصان نہ کرو۔ تا کہ تم بھی محفوظ رہو۔
*۵*۔ یاد رکھو، تم نے اللہ سے ملنا ہے، اور اللہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔
*٦*۔ اللہ نے سود کو ختم کر دیا، اس لیے آج سے سارا سود ختم کر دو (معاف کر دو)۔
*۷*۔ تم عورتوں پر حق رکھتے ہو، اور وہ تم پر حق رکھتی ہیں۔ جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تم ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو۔
*۸*۔ عورتوں کے بارے میں نرمی کا رویہ قائم رکھو، کیونکہ وہ تمہاری شراکت دار (پارٹنر) اور بے لوث خدمت گذار رہتی ہیں۔
*۹*۔ کبھی زنا کے قریب بھی مت جانا۔
*۱۰*۔ اے لوگو! میری بات غور سے سنو، صرف اللہ کی عبادت کرو، پانچ فرض نمازیں پوری رکھو، رمضان کے روزے رکھو، اورزکوۃ ادا کرتے رہو۔ اگر استطاعت ہو تو حج کرو۔
*۱۱* ۔زبان کی بنیاد پر, رنگ نسل کی بنیاد پر تعصب میں مت پڑ جانا, کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر, عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں, ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ تم سب اللہ کی نظر میں برابر ہو۔
برتری صرف تقوی کی وجہ سے ہے۔
*۱۲*۔ یاد رکھو! تم ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر ہونا ہے،خبردار رہو! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا۔
*۱۳*۔ یاد رکھنا! میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا ، نہ کوئی نیا دین لایا جاےَ گا۔ میری باتیں اچھی طرح سے سمجھ لو۔
*۱۴*۔ میں تمہارے لیے دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، قرآن اور میری سنت، اگر تم نے ان کی پیروی کی تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔
*۱۵*۔ سنو! تم لوگ جو موجود ہو، اس بات کو اگلے لوگوں تک پہنچانا۔ اور وہ پھر اگلے لوگوں کو پہنچائیں۔اور یہ ممکن ہے کو بعد والے میری بات کو پہلے والوں سے زیادہ بہتر سمجھ (اور عمل) کر سکیں۔
*پھرآسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور کہا*،
*۱٦*۔ اے اللہ! گواہ رہنا، میں نے تیرا پیغام تیرے لوگوں تک پہنچا دیا۔
: اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے، جو اس پیغام کو سنیں/پڑھیں اور اس پر عمل کرنے والے بنیں۔ اور اس کو آگے پھیلانے والے بنیں۔ اللہ ہم سب کو اس دنیا میں نبی رحمت کی محبت اور سنت عطا کرے، اور آخرت میں جنت الفردوس میں اپنے نبی کے ساتھااکٹھا کرے، آمین۔
#یوم_تکبیر ایٹمی دھماکوں کے یادگار دن آج شیخ رشید کو بھی پاکستان سے فرار ہوئے 28 برس ہوگئے 🤣
ایٹمی دھماکے - شیخ رشید کا خوف اور مُلک سے فرار کی کہانی، شیخ رشید کی زبانی
ایٹمی دھماکوں سے پہلے شیخ رشید کو خوف تھا کہ کہیں لیکج نہ ہوجائے، کہیں پٹاخا غلط نہ پھٹ جائے، اس لیے پاکستان سے فرار ہوگیا - واپس آکر جھوٹ بولا کہ ڈیوٹی ایسی تھی کہ بیرون ملک جانا تھا -
سب تعریفیں اس ذات کے لیے جو اس کائنات کا مالک ہے۔ وہ قادر مطلق جو جب کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ چیز ہو جاتی ہے۔
جس نے بقا کے خطرے سے دوچار ایک قوم کا ہاتھ تھاما، اسے ایک جارح قوم کی یلغار سے بچایا ، اقوام عالم میں اس کے قوت بازو اور آہنی عزام کا شہرہ ہوا اور یوں اسے حالت خوف سے باہر نکالا ۔
پھر اسے بہت مختصر عرصہ میں دنیا کی نظروں میں علاقائی امن کی داعی ایک با صلاحیت قوم کے طور پہ
متعارف کروا دیا۔
میں نے گزشتہ سال کے آغاز سے محسوس کر رہا ہوں کہ پاکستانی قوم کا کامرانی کا سفر شروع ہو چکا ہوا ہے۔
میں نام لے کر افراد کی تعریف کرنے میں ہمیشہ بخل سے کام لیتا ہوں۔۔۔۔ وہ تمام لوگ جنہوں نے پاکستان کو اس مقام تک لانے کے لیے کردار ادا کیا ہماری نیک دعاوں کے مستحق ہیں، ہم ان کے احسان مند ہیں۔
اے میرے اللہ اس قوم پہ اپنی نعمتیں مکمل فرما دے، اپنے خفیہ خزانوں سے اس کے معاشی حالات بہتر ہونے کے وسائل بھی مہیا فرما۔ آمین
دو دن پہلے ایک ویڈیو لگائی تھی جس میں پنجاب میں ایک سکول
میں پسینے میں ڈوبے بچے بیٹھے تھے سکول والوں نے پنکھے بند کر دیے تھے کہ بجلی کا بل زیادہ نا آ جائے فیصل آباد کے ایک سکول میں بچوں کے پاس دریاں تک نہی تھی اب یہ ڈی پی او حافظ آباد صاحب کا دفتر ہے 🥹
It gives me a great pleasure to announce that as a result of our concerted efforts, Mr. Saad Edhi, who was aboard Global Sumud Flotilla, has been released after being illegally detained by Israeli occupation forces. He along with other detained humanitarian workers have safely arrived in Istanbul . Alhamdullilah
I once again convey my heartfelt gratitude to the Government of Türkiye for ensuring his safe return to Istanbul .
The detention of humanitarian workers, and their inhumane treatment by the occupying forces is deeply condemnable and totally unacceptable.
Pakistan has been and will continue to provide unequivocal support to our Palestinian brothers and sisters, InshaAllah.