@Ghazlani222 Apni maa ko bej do agr os ki Sath koyi ghalat hua means pregnant hu gayi pr AP keh sakte hu agr na huyi phr tuje pechy sa piyada keya hai .. gashti ki bachy
بہاولپور مدرسے میں 13 سالہ بچے پر تشد سے بچہ جاں بحق ہوگیا، DPO بہاولپور کا فوری نوٹس ملزم قاری سمیت 3 افراد گرفتار ۔
تھانہ مسافر خانہ کی حدود موضع جندرانی غربی کے ایک مقامی مدرسے میں 13 سالہ طالب علم حسنین پر قاری کی جانب سے مبینہ بیہمانہ تشدد کے نتیجے میں بچہ جاں بحق ہو گیا,مقامی ذرائع کے مطابق مدرسے کے قاری نے بچے کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے وہ جانبر نہ ہو سکا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی اہل علاقہ اور ورثاء کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا ۔
ہر شخص اپنی فطرت میں پاک اور اچھا ہوتا ہے لیکن بُری عادات اور اعمال کی گرد پڑنے سے اصل فطرت دب جاتی ہے لہذا اصل کام یہ ہے کہ ایسے افراد کے اندر چھپے ہوئے جوہر کو پہچانا جائے اور تربیت و اصلاح کے ذریعے ان کے باطنی حسن کو اجاگر کیا جائے، تاکہ وہ اپنی حقیقی خوبصورتی کو ظاہر کر سکے۔
زندگی ذہنی اور روحانی قوانین کا ماہرانہ استعمال ہے۔ خوف پر مبنی اپنے خیالات کو بے خوف اعتماد سے بدل دیں، کوشش کیجیئے صرف وہی بولیں جو آپ تجربہ کرنا چاہتے ہیں اور اسے تکرار کرتے رہیں اور اسی طرف قدم بڑھائیں چاہے چھوٹے چھوٹے ہی کیوں نہ ہوں۔ کامیابی کے لئے ہمیشہ پُر امید رہیں۔
جب انسان کو کوئی مقام یا عزت ملتی ہے تو اس کے اصلی رویے ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ بعض لوگ غرور اور تکبر کے باعث دوسروں کو حقارت سے دیکھتے ہیں، جس سے وہ ان کی حمایت کھو بیٹھتے ہیں۔حقیقی بلندی، اخلاق اور عاجزی میں ہے۔ دوسروں کا احترام کریں تاکہ آپ کو عزت ملے اور لوگ آپ کے معاون بنیں۔
خوبصورت سوچ رکھنے والے کبھی کسی کے لیے تکلیف کا سبب نہیں بنتے۔ وہ جہاں بھی ہوتے ہیں آسانیاں پیدا کرتے ہیں اور محبتیں بانٹتے ہیں۔ اگر آپ سکون چاہتے ہیں تو دوسروں کو سکون دینا سیکھیں۔ جو دوسروں کے لیے خوشی اور آسانی کا ذریعہ بنتا ہے اس کی زندگی از خود سکون و اطمینان سے بھر جاتی ہے۔
شہید کی مثال شمع جیسی ہوتی ہے جو خود کو جلا کر دوسروں کو روشنی دیتی ہے۔ شہدا اپنی جان قربان کرکے انسانیت کی محفل کو روشن اور آباد کرتے ہیں۔ ان ہی کی قربانیوں سے معاشرے کے مختلف نظام صحیح سمت میں اپنے کام بخوبی انجام دے پاتے ہیں۔ شہدا کے خون سے انسانی معاشرے بامقصد بن جاتے ہیں۔
کامیابی اور ناکامی کا فرق فیصلوں کی مضبوطی میں ہے۔ جواپنے فیصلے پر قائم رہتے ہیں اور دنیا کے مخالف ہونے کے باوجود آگے بڑھتے ہیں، وہ حالات بدل دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، جو دنیا کی مخالفت کے ڈر سے اپنے فیصلے بدل لیتے ہیں، وہ کبھی منزل نہیں پاتے۔ فیصلے کی پختگی ہی کامیابی کی بنیاد ہے۔
زندگی, ہماری مرضی سے نہیں گذرتی بلکہ وقت کے اپنے قوانین ہوتے ہیں۔ جب دکھوں کے بادل چھائیں اور راحتیں غائب ہو جائیں، تو صبر کو ڈھال بنائیں۔ وقت کا پہیہ کبھی رکتا نہیں، ہر رات کے بعد صبح ہوتی ہے اور ہر مشکل کے ساتھ آسانی۔ آج کی تنگی کل کشادگی بن جائے گی۔ بس صبر کے ساتھ انتظار کریں۔
رب سے تعلق اتنا مضبوط رکھیں کہ کوئی اور رشتہ ٹوٹے تو بھی یہ نہ ٹوٹے۔ وہ اتنا مہربان ہے کہ جب ہم غفلت میں اس سے دور ہونے لگیں تو مشکل حالات کے ذریعے بھی ہمیں اپنی طرف بُلالیتا ہے۔ ہمیشہ اس کی لامحدود رحمت پر بھروسا رکھیں اور کبھی بھی مایوسی کا شکار نہ ہوں۔ اپنی اصلاح پر توجہ دیں۔
وقت زندگی کا نایاب خزانہ ہے۔ پیسے کی کمی کو محنت سے پورا کیا جا سکتا ہے، مگر گزرے ہوئے لمحات کو واپس نہیں لایا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ عقلمند لوگ وقت کو سب سے بڑی دولت سمجھتے ہیں اور ہر پل کو قیمتی مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وقت کی قدر کرنا درحقیقت اپنی زندگی کی قدر کرنا ہے۔
بڑھاپا جسمانی عمر نہیں بلکہ ایک ذہنی حالت ہے۔ جوانی، خواب دیکھنے، بڑے اہداف کے حصول کی تڑپ رکھنے اور مسلسل جدوجہد کو کہتے ہیں۔ جب انسان خواب دیکھنا چھوڑ دے، حالات سے مطابقت اختیار کر لے اور کوشش ترک کر دے، تو یہ بڑھاپا ہے۔ خوابوں کو تازہ رکھیئے، سیکھتے رہیں اور جدوجہد کرتے رہیں۔
غربت، کوئی خوبی نہیں اور نہ اسے تقدیر کا فیصلہ سمجھنا چاہیئے۔ غربت انسان کی عزتِ نفس کو مجروح کردیتی ہے۔سب کی ذمہ داری ہے کہ محنت و کوشش کے ذریعہ اپنی محتاجی اور فقر کو دور کریں۔ یہ معاشی استحکام کے ساتھ زندگی کا ایک مقصد بھی ہے جو انسان کو خود اعتمادی اور وقار کی طرف لے جاتا ہے۔
انسان کو اصل خطرہ باہر کے حالات سے نہیں، بلکہ اندر موجود مایوسی سے ہوتا ہے۔ جب تک دل میں اُمید باقی رہتی ہے، بیرونی طوفان چاہے جتنا بھی سخت ہو، انسان ڈوبتا نہیں۔ اپنے اندر کے قلعے کو مثبت سوچ، صبر اور یقین سے مضبوط رکھیں۔ یہی وہ اصل طاقت ہے جو ہر مشکل پر فتح دِلوا سکتی ہے۔
سال کی ابتدا و اختتام سیاروں کی گردش کا نتیجہ ہے، لیکن یہ انسان کے لیے اپنے احتساب اور آئندہ منصوبہ بندی کا اچھا موقع بھی ہے۔ ہمیں اپنے مقرر کردہ معیارات پر پورا اترنے کا جائزہ لینا چاہیے۔ یاد رہے کہ زندگی کے لمحات گھٹ رہے ہیں، اس لیے ہر لمحہ قیمتی ہے جسے بامقصد گزارنا ضروری ہے۔
مشکلات سے ٹوٹے بغیر گزر جانا انسان کی اندرونی استقامت کی علامت ہے۔ یہ ثبوت ہے کہ فرد نے اِن سختیوں کو برداشت کرکے اپنی شخصیت کی تعمیر کی ہے۔ مشکلات کو زوال نہیں بلکہ ترقی کا زینہ بنایا ہے۔ یہ اِس کی روحانی و ذہنی پختگی کی دلیل ہے، جو اسے ہر آزمائش کا مقابلہ کرنے کے قابل بناتی ہے۔