آج کے دن583 ھجری میں اللہ رب العزت نے سلطان صلاح الدین ایوبی رحمة اللہ علیہ کے ہاتوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شب معراج کی سرزمین بیت المقدس کو غاصب صلیبیوں سے آزادی عطاء فرمائی
یہ عراقی رکن پارلیمان خاتون سے حالیہ کرپشن کیخلاف جاری مہم میں برآمد ہوا مال ہے ان لوگوں نے امریکی ایرانی تعاون سے پہلھ صدام حسین کو اتار کر جشن منانا پھر اپنی ہی قوم کو لوٹنا شروع کردیا
جواد نقوی ایک مرتبہ پھر سے عظیم صحابی رسول ﷺ، کاتب وحی، حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عزت و تکریم پر حملہ کر کے توہین صحابہ کا مرتکب ہوا ہے۔ کیا حکومت اور ملکی اداروں کے پاس ایسے لوگوں کا کوئی علاج نہیں؟ کیا یہ "پیغامِ پاکستان" سے واضح بغاوت نہیں ہے؟
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اپنی بہن حضرت ام کلثوم کا نکاح کرکے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنی غیرت، محبت ، شادی ، غمی ، دوستی ،دشمنی اور رشتہ داریاں سب سانجھی کرلی تھیں آپ نے
حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی حضرت سکینہ کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پوتے زید بن عمرو سے کرکے
اور اپنی بیٹی فاطمہ بنت حسین کا نکاح حضرت عثمان کے پوتے عبداللہ بن عمرو سے کرکے حضرت عثمان سے سارے رشتے جوڑ رکھے تھے
اسی طرح جب باغیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کا محاصرہ کیا تو آپ نے حضرت عثمان کے گھر کی چوکیداریاں کیں
یہ سب وہ حقائق ہیں جن سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی پوری عمر کنایہ ہے مگر اہلسنت اس 50 سالہ دور حسینیت سے متعلق نہ سوال اٹھاتے ہیں کہ یہ امت سے مخفی کیوں ہیں اور نہ ہی جواب تلاشتے ہیں
جبکہ اہل تشیع تو مرکربھی یہ حقائق قوم کے سامنے نہیں لائیں گے ، کیونکہ اس صورت میں ان کے مذہب کی عمارت کا دھڑن تختہ ہو جائے گا
سچ یہ ہے کہ حسینیت صرف یزید کے مقابلے میں آکر امر ہونے کا نام نہیں بلکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے عملا یہ بھی ثابت کیا ہے کہ
حضرت صدیق اکبر کی اقتداء کا نام بھی حسینیت ہے
حضرت عمر ، عثمان ، امیرمعاویہ کی امامت کو تسلیم کرنے کا نام بھی حسینیت ہے
حضرت عمر ، حضرت عثمان سے رشتے داریاں کرنے کا نام بھی حسینیت ہے
حضرت عثمان کے گھر کے چوکیدارے کا نام بھی حسینیت ہے
اور تمام حضرات صحابہ سے محبت کرنے کانام بھی حسینیت ہے
حسینیت کو صرف کربلا تک محدود کرکے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی باقی 50 سالہ حیات مبارکہ کو چھپانے والا حضرت حسین کا دشمن تو ہوسکتا ہے دوست کبھی نہیں
2/2
''اللہ عمر بن خطاب کا دنیا اور آخرت میں کارساز ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں''
مدینہ کے پہاڑ پر خلیفہ ثانی حضرت عمرفاروقؓ کی تحریر دریافت، سیدنا عمرؓ لکھنا پڑھنا جانتے تھے
ماہرین کے مطابق یہ نقش ابتدائی اسلامی دور کے معروف حجازی رسم الخط میں لکھا گیا ہے
آزاد کشمیر میں جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اگر غدار تھی تو پچھلے سال پوری وفاقی حکومت نے اس کے ساتھ معاہدہ کیوں کیا ؟ معاہدے کے نکات پر 3 ماہ میں عمل کا وعدہ کیا مگر 8 ماہ تک ان پر عملدرآمد نہ کیا گیا ۔ کمیٹی نے احتجاج کا الٹی میٹم دیا تو اسے دھشتگرد قرار دے دیا ۔ جس افلاطون نے اس کمیٹی کو دھشتگرد قرار دینے کا فیصلہ کیا اس نے کشمیریوں کے دل میں ہمارے لیے نفرت کا بیج بویا ہے۔ اس کا فوری عوامی خواہشات کے مطابق سدباب کریں یا پھر ایک طویل سردردی کے لیے تیار رہیں
اسرائیل کے بارے میں پاکستان کی پالیسی قائداعظم محمد علی جناح نے واضح کر دی تھی پاکستان کو کوئی بھی حکومت اسرائیل کو تسلیم نہیں کر سکتی ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدہ ابراہیمی کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کر کے پاکستان کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی ہے حکومت پاکستان ٹرمپ کو واضح اور دوٹوک جواب دے
⚡️Hezbollah:
Targeting an Israeli army military vehicle in the “Misgav Am” settlement in northern occupied Palestine with an Ababil drone on 19-05-2026.
دونوں عالمی طاقتوں امریکہ اور چین کے مذاکرات میں ایک بھی عورت نہیں ۔ اہل اقتدار میں اور نہ ہی کاروباری دنیا میں ۔
عورت مارچ ، حقوق نسواں اور پدر سری نظام سے بغاوت کے لئے میرے جیسے ملکوں کی این جی اورز کو پیسے امریکہ اور اس کے حواری دیتے ہیں تاکہ یہاُُں کا خاندانی نظام برباد ہو
حماس رہنما خلیل الحیہ کا اپنے چوتھے بیٹے شہید "عزام" کی شہادت پر پیغام:
"یہ فلسطینی عوام کا وہ مجاہد ہے جس نے فلسطین، قدس، اقصی اور امت مسلمہ کی خاطر اپنی جان ہتھیلی پر رکھی ہوئی تھی، اور آج اس کا مقصدِ حیات (شہادت) پورا ہو گیا۔
میں اور اس کی والدہ اس کی شہادت پر خوش ہیں++
پاکستانی اداروں میں موجود رافضیوں نے جب دیکھا کہ افغانستان کے مدرسوں کے پڑھے ہوے امارت اسلامیہ افغانستان کے عہدے داروں نے افغانستان میں مکمل امن لے اے ہیں عوام دوست اقدامات سے اپنی بکھری عوام کو ایک ریاست کے جھنڈے کےنیچے جمع کردیا معیشت کو بغیر قرضے کے سنھبالا ترقیاتی کام شروع👇
سعد نامی یہ جوان صحافی پپاکستان میں ایران کی دہشت گرد تنظیموں الزینیبیون، فاطمیمیون، وغیرہ کی ایرانی فنڈنگ کے متعلق رپورٹس بناتا تھا۔ ایران نواز ایک افسر نے اسے القاعدہ کا ممبر ظاہر کرکے پرچہ کاٹ دیا ہے ۔
پاکستان میں رافضیت کا ناسُور محکمانہ طور میڈیااورپولیس میں پھیلادیاگیاہے
شیخ حسین یی ملائیشیا کے ایک چینی نژاد خاندان میں پیدا ہوئے اور ان کی پرورش بدھ مت (Buddhism) کے ماحول میں ہوئی۔ وہ جوانی میں عیسائیت کی طرف بھی مائل ہوئے، لیکن روح کی پیاس نہ بجھ سکی۔
شیخ حسین یی بتاتے ہیں کہ وہ ہمیشہ سے کائنات کے خالق اور زندگی کے اصل مقصد کے بارے میں سوالات کرتے تھے۔ عیسائیت کے مطالعے کے دوران بھی ان کے ذہن میں کئی الجھنیں باقی تھیں۔
1968 میں جب انہوں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا، تو انہیں قرآن میں وہ تمام جوابات مل گئے جو انہیں کہیں اور نہیں ملے تھے۔ انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اسلام کتنا سادہ، منطقی اور سچا مذہب ہے۔
اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنی زندگی دین کے لیے وقف کر دی۔ انہوں نے مدینہ منورہ کی اسلامی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور وہاں سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد پوری دنیا میں دعوتِ دین کا کام شروع کیا۔
وہ اپنے دھیمے لہجے اور مسکراتے چہرے کے ساتھ اسلام کا پیغام پہنچاتے ہیں، جس کی وجہ سے ہزاروں غیر مسلم متاثر ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں۔
#SheikhHussainYee #RevertStory #Malaysia #SohailAhmadDirvi #IslamIsPeace #TruthSeeker #Inspiration #dawah_for_muslims
کہا جاتا ہے کہ تصویر میں نظر آنے والا نوجوان، احمد عبداللہ، ایک فارماسسٹ تھا اور ایک میڈیکل اسٹور پر کام کرتا تھا۔ ہر مہینے ایک غریب بزرگ خاتون اپنی دوا لینے اس کے پاس آتی تھی۔ جب بھی وہ اسے دیکھتی، اس کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھتا۔ کئی سالوں سے وہ یہی دوا لے رہی تھی، اور یہ نوجوان اس سے صرف 200 مصری پاؤنڈ لیتا تھا۔ وہ رقم ادا کر کے چلی جاتی۔
پھر ایک دن یہ نوجوان اس دنیا سے رخصت ہو گیا…
کچھ عرصے بعد وہی بزرگ خاتون دوبارہ اسی میڈیکل اسٹور آئی، اپنی دوا لی اور کاؤنٹر پر 200 پاؤنڈ دینے لگی، مگر وہ نوجوان وہاں موجود نہیں تھا۔
اس سے پہلے کہ وہ اس کے بارے میں پوچھتی، نئے کیشیئر نے حیرانی سے کہا:
“یہ کیا ہے، اماں جی؟”
خاتون نے جواب دیا:
“یہ دوا کے 200 پاؤنڈ ہیں۔”
کیشیئر نے کہا:
“لیکن اماں جی، اس دوا کی قیمت تو 2,000 پاؤنڈ ہے!”
یہ سن کر وہ حیران رہ گئی اور بولی:
“میں تو تین سال سے یہی دوا 200 پاؤنڈ میں لے رہی ہوں… وہ نوجوان کہاں ہے؟”
نئے کیشیئر نے افسردگی سے جواب دیا:
“وہ انتقال کر گئے ہیں، اللہ ان پر رحم فرمائے۔”
جب ریکارڈ چیک کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ نوجوان ہر مہینے اپنی جیب سے 1,800 پاؤنڈ ادا کر کے اس خاتون کی مدد کرتا رہا تھا۔
جب دکان کے مالک کو یہ بات معلوم ہوئی تو اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس بزرگ خاتون کو یہی دوا اسی قیمت پر دیتا رہے گا، تاکہ یہ اس نوجوان کے لیے صدقۂ جاریہ بن جائے۔
ایسے نیک دل انسان کی عزت اور یاد کو زندہ رکھنے کا سب سے کم از کم طریقہ یہ ہے کہ ہم اس کے لیے دعا کریں۔ اللہ اس پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔