اگر معین علی فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کا رِسٹ بینڈ پہن کر میچ نہیں کھیل سکتے تو اسکائی اسپورٹس کرکٹ کے دوران عمران خان کے بچوں کا سیاسی انٹرویو کیسے نشر کر سکتا ہے؟ پھر فلسطینی بچوں پر پروگرام کیوں نہیں؟ سلمان بٹ، اس دوٹوک مؤقف پر تمہارے پچھلے سارے گناہ معاف!
یار سولر والی بجلی کونسی آپ کے گھر سے آ رہی ہے یا ریاست سے لی جارہی ہے جس پر ان کو بوجھ کہا جا رہا ہے۔ یہ بندہ تو اپنا دماغی توازن کھو بیٹھا ہے اس سالے کو بھی کوئی سولر ساتھ باندھ دے دماغ ٹھکانے آئے ۔
بات یہ ��ے کہ ن لیگ کے اچھے کاموں کی تعریف کرتے تھے ن لیگ کو بنڈ نہیں دی ہوئی ۔
کچھ چیزوں پہ صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔
ہر قسم کی ایفیلیشن گئی بھاڑ میں۔
اب میں ٹویٹر اور ٹک ٹاک پہ انکو ایکسپوز کروں گا جتنا میں کر سکا۔
راشد نصراللہ جیسوں کے پروٹوکول کےلئے ماریں کھائیں ہم نے؟؟
جو لوگ فوج کے خلاف بولتے ہیں یا اداروں کے خلاف، ان کا ایک ہی علاج ہے، تلوار سے ان کا سر قلم کردیا جائے، ان کا صفایا کردیا جائے۔ چوہدری غلام حسین اور صابر شاکر #خان_دور
کرنل صاحب کی تکلیف صرف شادی شدہ مرد سمجھ سکتا ہے!
ایک طرف عمر بھر کے طعنے تھے کہ لڑکوں نے میرے گریبان پر ہاتھ ڈالا اور تم نے کچھ نہیں کیا۔
دوسری طرف نوکری خراب ہونا تھی۔
کوئی بھی غیرت مند مرد ہوتا تو یہی کرتا۔
باقی یوتھیا بیغیرت ہیں اسلئے انکی بکواس سے فرق نہیں پڑتا۔
یہ ہے وہ جنسی درندہ جدون خان یہوتھیا جس نے آج سرحد یونیورسٹی میں سارا کھیل رچا
اس پر خواتین کو ہراساں کرنے کے درجنوں الزامات تھے ڈاکٹر آئینہ نے اس کے خلاف بچیوں کی طرف سے شکایت کی جس پر اس نے ان کے دفتر میں ان پر حملہ کیا
ڈاکٹر آئینہ نے اس پر پولیس میں شکایت بھی جس پر اس نے تحریری معافی مانگی
جب اس کی حرکات پر اسے فارغ کیا گیا تو اس نے چند اسٹوڈنٹس کو ساتھ ملا کر پھر سے ہلڑ بازی کی تصویر کے دوسرے رخ کو دیکھا جائے اور ان کرداروں کو بھی کیفر کردار تک پہنچانا ضروری ہے
یہ کسی ایکسپائر طوائف کا بچہ پہلے فوجی کی تصویر پوسٹ کر کے اشتعال دلواتا ہے۔۔پھر اس پہ جھوٹا بکواسیات سے بھرا ویلاگ بناتا ہے۔۔مگر اس کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے نا کوئی حکومت نا پولیس نا ادارے۔
ایک مسئلی صرف ایک مسئلی پوری ریاست کو نظام کو اور پیکا ایکٹ کو 🇮🇳 پہ چڑھائی کھڑا ہے
یہ ڈاکٹر جدون کا ڈاکٹر آینہ جو کہ کرنل کی اہلیہ ہے ان سے 21 اگست کا تحریری معافی نامہ ہے جب ڈاکٹر آئینہ نے ڈاکٹر جدون کے خلاف پولیس کو درخواست دی تو اس نے معافی مانگی۔۔۔۔اور آج چار دن بعد یونیورسٹی کے کچھ آوارہ طلبا کو ساتھ ملا کر اپنی بحالی کے لیے ڈرامہ رچایا۔۔
ڈاکٹر جدون پشاور بھاگ گیا ہے باقی جنگلیوں کے خلاف اسفند یار کی اہلیہ نے FIR درج کروا دی ہے اب یہ جنگلی تتر بتر ہو جائیں گے جو گرفتار ہوگا اُس کا حال اُس یوتھیے جیسا ہوگا جیسا حال نیازی کا ہے
وردی لہرانے والا اندر TOE رگڑ رہا ہے تو ہاتھ اُٹھانے والے کی تو رکھ کر کٹنی بنتی ہے
مجھے اُس فوجی آفیسر پر فخر ہے جس نے آج سرحد یونیورسٹی کے غنڈوں کے بیچ میں گھس کر اپنی غیرت کی جنگ جیتی۔ نوکری آنے جانے والی چیز ہے عزت اور غیرت کی حفاظت ہی زندگی ہے ۔