آپ فرض کر لیں فرح بیان دے بھی دیں یا فرید مانیکا صاحب کو دہشت زدہ کر کے کچھ کہلوا بھی لیا جائے تو کیا عام لوگ نواز شریف کی توشہ خانہ سے کروڑوں تحائف صرف بیس فیصد پر وصول کرنے، توشہ خانہ سے خلاف قانون انتہائی قیمتی گاڑی لینے کے بدترین کرپشن کے کیسز بھول جائیں گے؟
کیا پاکستانی پچھلے ڈیڑھ سال میں ملکی معیشیت تباہ کرنے اور مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان لانے پر نوازشریف اور شہبازشریف کو معاف کر دیں گے؟
کیا پاکستانی یہ سوال کرنا چھوڑ دیں گے اگر عمران خان کسی بھی کرپشن میں ملوث تھا تو اب تک اسکے خلاف کرپشن کا کوئی ایک بھی کیس کیوں قائم نہیں کیا جا سکا؟
کیوں ساری امیدیں بے بنیاد سائفر کیس پر ہی لگائی گئی ہیں؟
کیا لوگ یہ سوال اٹھانا چھوڑ دیں گے قاضی فائز عیسٰی نواز شریف کے خلاف سو فیصد ثابت شدہ توشہ خانہ سے قیمتی گاڑی لینے کے کیس کے انتہائی سست ٹرائل کا نوٹس کیوں نہیں لے رہے؟ ایک کیس جو دستاویزی شواہد کی روشنی میں سو فیصد ثابت شدہ کیس ہے اور جس میں مجرم کو صرف سزا سنانی ہے۔
تو سوال یہ ہے کہ ن لیگ اور علیم خان کی طرف سے محترمہ بشرٰی بی بی اور فرح کے خلاف تازہ ترین مہم کا آخر فائدہ کیا ہو گا؟
کیا یہ سب حسن اتفاق ہے ؟
عین جس وقت امریکہ کا افغانستان سے انخلا ہو رہا ہوتا ہے اور پاکستان کو نئی حکومت کے ساتھ بہتر تعلقات اور خطے کے ساتھ معاشی مفادات کی حفاظت کرنی ہوتی ہے ، عین اس وقت بڑی تبدیلیاں شروع ہو جاتی ہیں۔
پاکستان کی خفیہ ایجینسی کے سربراہ کو ہٹا کر آرمی چیف کے پسندیدہ شخص کو تعینات کرنے کا کہا جاتا ہے۔ جب وزیر اعظم اس پہ رزسٹ کرتا ہے تو ISPR میڈیا پہ خود ہی اعلان کر دیتا ہے کہ ندیم انجم چیف منتخب ہو چکے ہیں۔ اس پہ وزیر اعظم آفس فائل کو اپنے پاس رکھتا ہے اور تقریباً ایک ہفتہ تک سائن نہ کر کے آرمی چیف کے پسینے نکال کر سول حکمرانی کا سبق ضرور سکھاتا ہے لیکن اس حرکت کے بعد کسئ مزید پڈھے سے بچنے کےلیے نئے چیف کی تعیناتی پہ راضی ہو جاتا ہے
عین جس لمحے پاکستان کا افغانستان میں کلیدی کردار شروع ہوتا ہے پاکستان میں پی ڈی ایم نامی گروہ پھر سے پوری شد و مد کے ساتھ ��رمی چیف جنرل باجوہ کی سربراہی میں منتخب حکومت کو گرانے میں مصروف ہو جاتا ہے۔
جس وقت پاکستان خطے کے بڑے کھلاڑی روس اور چین کے ساتھ مل کر افغانستان کو پرامن اور وسطی ایشائی ریاستوں کے ساتھ تیز ترین تجارت کے پلان بنا رہا ہوتا ہے تب امریکہ بھارت کی جانب ہاتھ بڑھا رہا ہوتا ہے اور پاکستانی اسٹبلشمنٹ بھی امریکی ایما پہ بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھانے کا درس دے رہی ہوتی ہیں ۔
جس وقت پاکستان خطے میں اثرو رسوخ اختیار کر رہا ہوتا ہے اور خطے کی معاشی صورتحال بدلنے والی ہوتی ہے تب پاکستان پہ عرب ممالک اور امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا دباؤ بڑھنے لگتا ہے کیونکہ روس اور چین کی معاشی پاور کو کاؤنٹر کرنے کےلیے بھارت ، خلیج اور اسرائیل کے درمیان ایک کاریڈور پہ کام کرنے کا منصوبہ بنایا جاتا ہے اور سی پیک نشانہ بننے لگتا ہے۔
جس وقت پاکستان خطے میں کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے اثرات سے بچنے کےلیے روس سے سستا تیل اور گندم خریدنے کا پلان بناتا ہے تو پاکستان کی معیشت کو ڈاؤن کرنے کےلیے وزیر اعظم کی ٹانگیں کھینچی جانے لگتی ہیں ۔
جس وقت پاکستان روس یوکرین ��نگ میں کسی ایک پلڑے میں قدم رکھنے کے بجائے اپنی معاشی صورتحال بہتر بنانے اور وقت سے فایدہ اٹھانے کے موڈ میں ہوتا ہے تب آرمی چیف جنرل باجوہ خود پاکستان کی خارجہ پالیسی کو بائی پاس کرتے ہوئے روس کے خلاف پریس کانفرنس کھڑکا دیتا ہے۔
جس لمحے پاکستان افغانستان کے ساتھ نئے سٹریٹجک مفادات طے کر رہا ہوتا پے تو وہی جنرل باجوہ اور وہی نیا چیف مل کر پی ڈی ایم جماعتوں اور عدالتوں کے زریعے عمران خان کی حکومت کو گرا دیتے ہیں۔
جس وقت پاکستان کو خطے میں اپنی جغرافیائی پوزیشن کا استعمال کرنا ہوتا ہے اس وقت پاکستان یوکرین کو کچھ ملین ڈالر کا اسلحہ بیچنے لگتا ہے ، بھارت سے ڈیل کر لیتا ہے اور افغانستان کے خلاف محاذ کھول دیتا ہے ۔
جب پاکستانی وزیرخارجہ کو توازن پیدا کرنا ہوتا ہے وہ اس کریٹیکل حالت میں افغانستان کو دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دے کر افغانستان میں گھس کر کاروائی کرنے کا بیان جاری کرتا ہے۔
مراد سعید جیسے راہنما دہشتگردی کے خدشے کے تحت آواز اٹھاتے ہیں ، احتجاج کرتے ہیں ، اسلام آباد میں مظاہرہ کرتے ہیں تو ان پہ دہشتگردی کے پرچے کاٹے جاتے ہیں ، میڈیا کو کوریج سے روکا جاتا ہے اور پھر مراد سعید کو مار د��نے کے احکامات جاری ہوتے ہیں۔ اس ساری کاروائی کے دوران دو دفعہ عمران خان کی جان لینے کی کوششیں بھی ہوتی ہیں۔
جس وقت پاکستان کے پاس امریکی اتحاد میں اپنی بیس سالہ جنگ کے بعد پھل سمیٹنے کے موقع پاتا ہے ، تب افغان مہاجرین کو زبردستی نکال کر افغان حکومت کے ساتھ محاذ آرائی کی پالیسی چل پڑتی ہے۔
جس وقت پاکستان کو چین جیسی معاشی پاور کی ضرورت پڑتی ہے ، عین اس لمحے امریکی سفیر گوادر میں میڈیا ٹاک کرتے ہوئے پایا جاتا ہے جو چین کےلیے زبردست پیغام ہوتا ہے کہ اب امریکی تسلط قائم ہو چکا ، تم پاکستان سے بوریا بستر گول کرو ،
کیا یہ حسن اتفاق ہے کہ تمام لوازمات پورے ہونے کے بعد اسی عرصے کے دوران بھارت میں جی ٹونٹی کا عالمی اجلاس منعقد ہوتا ہے اور پھر وہاں سے بھارت ، عرب ریاستوں اور اسرائیل کی حطہ بندرگاہوں کے درمیان ایشیا اور یورپ کو ملانے والا دنیا کا سب سے بڑا اکنامک کاریڈور کا اعلان کر دیا جاتا ہے ۔
جس وقت پاکستان کو اپنے ملکی سلامتی اور وقار کےلیے قدم اٹھانے ہوتے ہیں عین اس وقت ملک کی سب سے بڑی پارٹی کو بھرپور طور پہ کچلنے کا آغاز ہو جاتا ہے اور پھر سب سے بڑے لیڈر کو جیل میں ڈالا جاتا ہے اور نواز شریف کو واپس لایا جاتا ہے جو جلسے میں بھارت کے ساتھ تعلقات بہتری کے وعدے کرتا ہے ۔ ادھر بھارت اس دوران پاکستان کو غیر اہم قرار دے چکا ہوتا ہے ۔
کیا یہ سب حسن اتفاق ہے ؟ کیا یہ سب بغیر کسی پلاننگ کے ہوا ؟
تحریر محمد ناصر صدیقی
دوستو!!
حقائق بتانا ہمارا کام ہے پرکھ کر فیصلہ کرنا آپ کا
👇
" افغانیوں کے پاکستان پر احسانات"
30 ستمبر 1947ء کو افغانستان دنیا کا واحد ملک بنا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے خلاف ووٹ دیا۔
ستمبر 1947ء میں ہی افغان حکومت نے کابل میں افغان جھنڈے کے ساتھ " پشتونستان" کا جعلی جھنڈا لگا کر آزاد پشتونستان تحریک کی بنیاد رکھی۔
47ء میں ہی افغان ایلچی نجیب اللہ نے نوزائیدہ مسلمان ریاست پاکستان کو فاٹا سے دستبردار ہونے اور سمندر تک جانے کے لیے ایک ایسی راہداری دینے کا مطالبہ کیا جس پر افغان حکومت کا کنٹرول ہو بصورت دیگر جنگ کی دھمکی دی۔
قائداعظم محمد علی جناح صاحب نے اس احمقانہ مطالبے کا جواب تک دینا پسند نہ کیا۔
1948ء میں افغانستان نے " قبائل " کے نام سے ایک نئی وزارت کھولی جس کا کام صرف پاکستان کے قبائلیوں کو پاکستان کے خلاف اکسانا تھا۔
48ء میں افغانستان میں پاکستان کے خلاف پرنس عبدلکریم بلوچ کے دہشت گردی کے ٹریننگ کمیپ بنے۔
1949ء میں روس کی بنائی ہوئی افغان فضائیہ کے طیاروں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ایسے پمفلٹ گرائے جن میں قبائلی عوام کو پشتونستان کی تحریک کی حمایت کرنے پر ابھارنے کی کوشش کی گئی تھی۔
12 اگست 1949ء کو فقیر ایپی نے باچا خان کے زیر اثر افغانستان کی پشتونستان تحریک کی حمایت کا اعلان کیا۔ افغان حکومت نے پرجوش خیر مقدم کیا۔
31 اگست 1949ء کو کابل میں افغان حکومت کے زیر اہتمام ایک جرگہ منعقد کیا گیا جس میں باچا خان اور مرزا علی خان عرف فقیر ایپی دونوں نے شرکت کی۔ اس جرگے میں ہر سال "31 اگست" کو یوم پشتونستان منانے کا فیصلہ کیا گی��۔
اسی جرگہ میں پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا گیا۔
افغانستان کی پشت پناہی میں فقیر ایپی نے 1949ء میں پاکستان کے خلاف پہلی گوریلا جنگ کا آغاز کیا۔ اس کے جنگجو گروپ کا نام غالباً "سرشتہ گروپ" تھا۔
اس کی دہشت گردانہ کاروائیاں وزیرستان سے شروع ہو کر کوہاٹ تک پھیل گئیں۔
فقیر ایپی نے چن چن کر ان پشتون عمائدین کو قتل کیا جنہوں نے ریفرنڈم میں پاکستان کے حق میں رائے عامہ ہموار کی تھی۔
49ء میں افغانستان نے اپنی پوری فورس اور لوکل ملیشیا کے ساتھ چمن کی طرف سے پاکستان پر بھرپور حملہ کیا۔ جس کو نوزائیدہ پاک فوج نے نہ صرف پسپا کیا بلکہ افغانستان کے کئی علاقے چھین لیے۔
جو افغان حکومت کی درخواست پر واپس کر دئیے گئے۔
1954ء میں ایپی فقیر کے گروپ کمانڈر " مہر علی " نے ڈپٹی کمشنر بنوں کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے پاکستان سے وفاداری کا اعلان کیا جس کے بعد اس تحریک کا خاتمہ ہوا۔
50ء میں افغانستان نے انڈیا کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کیا جس کا ایک نقاطی ایجنڈہ تھا کہ پاکستان کو کسی بھی طرح گھیر کر ختم کرنا ہے۔
ستمبر 1950 میں افغان فوج نے بغیر وارننگ کے بلوچستان میں دوبندی علاقے میں بوگرہ پاس پر حم��ہ کردیا۔ جس کا مقصد چمن تا تاکوئٹہ ریلوے لنک کو منقطع کرنا تھا۔ ایک ہفتے تک پاکستانی و افغانی افواج میں جھڑپوں کے بعد افغان فوج بھاری نقصان اٹھاتے ہوئے پسپا ہوگئی۔ اس واقعہ پر وزیر اعظم لیاقت علی خان نے افغان حکومت سے شدید احتجاج کیا۔
16 اکتوبر 1951 کو ایک افغان قوم پرست دہشتگرد "سعد اکبر ببرج" مردود نے پاکستان کے پہلے وزیراعظم قائد ملت لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں گولی مار کرشہید کردیا۔ یہ قتل افغان حکومت کی ایماء پر ہوا تاہم عالمی دباو سے بچنے کے لیے کسی بھی انوالومنٹ سے انکار کردیا۔
لیاقت علی خان کی شہادت پاکستان میں دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کا پہلا واقعہ تھا یعنی پاکستان میں دہشتگردی کا آغاز افغانستان نے کیا۔
6 جنوری 1952 کو برطانیہ کے لیے افغانستان کے ایمبیسڈر "شاہ ولی خان" نے بھارت کے اخبار "دی ہندو" کو انٹرویو دیتے ہوۓ یہ ہرزہ سرائی کی کہ "پشتونستان میں ہم چترال، دیر، سوات، باجوڑ، تیراہ، وزیرستان اور بلوچستان کے علاقے شامل کرینگے"
26 نومبر 1953 کو افغانستان کے کےنئے سفیر "غلام یحیی خان طرزی" نے ماسکو روس کا دورہ کیا جس می�� روس (سوویت اتحاد) سے پاکستان کے خلاف مدد طلب کی۔ جواباً انہوں نے افغانستان کو مکمل مدد کی یقین دہانی کروائی۔
👇👇👇👇
جب آپ ایک بار لیٹ جاتے ہیں تو اگلے کو ہلہ شیری ہو جاتی ہے اور آپ کو ہر بار پہلے سے زیادہ سخت احکامات ملتے ہیں ہر بار
۔۔
یہی کام سلمان اقبال کے ساتھ ہوا کہ اب کمپنی کہتی ہے نوازشریف کی تعریف کرواؤ۔
شعیب شاہین، شیر افضل مروت، رؤف الحسن، اعتزاز احسن ، لطیف کھوسہ وغیرہ کو پروگرام میں مت بلاؤ
۔۔
اب صابر شاکر ، کاشف عباسی ، ماروی میمن ، عدیل راجہ ، غلام عباس صاحب جیسے لوگ نہیں مانتے تو آف ایئر ہونا پڑتا ہے یا نوکری گنوانی پڑتی ہے
مگر
کمپنی کی فرمائشیں ختم نہیں ہوتیں ۔۔
کوئی دھمکی دی گئی تھی یا ڈالر پکڑ لیے تھے تو خاموشی اختیار کر لیتے بجائے اس کے کہ دنیا میں ذلیل ورسوا ہوئے اور آخرت میں بھی۔
عمران خان نے کب کہا تھا کہ وہ فرشتہ ہے؟
عمران خان نے کب کہا تھا کہ اس سے پہلے کوئی لیڈر نہیں آیا؟
اور کہتے ہو کہ ارشد شریف شہید نے اپنی موت کے اسباب خود پیدا کیے!
عمران ریاض خان کے خلاف باتیں کرتے ہو!
یاد رکھنا!
جس نے عمران خان کو ستایا اس نے پھر رکشہ ہی چلایا۔🖐️🖐️🖐️
امریکہ میں کام کرکے رزق حلال کما کر زندگی گذارنے والے صحافی احمد نورانی کی یہ تصویر مطیع اللہ جان کے عادل شاہزیب کو سنائے گئے اس فقرے کی سچائی کی علامت ہے کہ “اگر سچ نہیں بول سکتے تو نوکری چھوڑ دو “
نواز شریف انکا آخری بڑا کارڈ تھا اور اسکے فیل ہونے کے بعد عمران خان کی بہنوں کو بھی مزید تکلیف پہنچائی جائے گی گرفتاریاں بھی ممکن ہیں تاکہ عمران خان کو توڑا جاسکے
یہ الیکشن ہے کسی کے باپ کی جاگیر نہ��ں جو عوام سے انکا حق چھینا جائے
پی ٹی آئی بھر پور طریقے سے الیکشن میں حصہ لے گی اور انکو عبرت ناک شکست دے گی
بابر اعوان
سانپوں کے انڈے کھانے والی بلا کو کوئی بتائے کہ میں رو نہیں رہا تھا آکسیجن ماسک مانگ رہا تھا۔ سانس بند ہو رہی تھی اس لئے آکسیجن ماسک مانگنا پڑ رہا تھا۔ اس وقت جب مجھے عدالت لایا گیا تھا نشہ آور انجکشن لگائے ہوئے تھے جس وجہ سے مجھے سانس لینے میں اور بھی دشواری تھی۔مریم کی نوکرانی
@waqarkhan ہم کتنے بےوقوف تھے کہ ان یزید کی اولادوں کو پیارے پاکستان اور پاکستانی عوام کے محافظ سمجھ بیٹھے تھے لیکن بھلا ہو اس بندے کا جس نے سارے حرام خوروں اور جعلی محافظوں کو ننگا کردیا.
نواز کو زندگی کی گارنٹی نہیں ملُ سکی نواز نے لالچ امریکہ پر اعتماد کر کے زندگی پر جوا کھیلا ہے
بہت ہی اہم اور حیران کن معلومات تصدیق شدہ بتائی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے کور کمانڈر میٹنگ بھی ہوئی آئندہ کیا ہو سکتا ہے ،معلوم ہوا ہے اگر نواز کو پاکستان مین مارا گیا یا اس کے لیے حالات سخت بنائے گے یا اس کو نہ انے دیا ��یا تو انڈیا پاکستان پر کشمیرلاداخ کی سائڈ سے حملہ کر سکتا ہے یہی وجہ ہے انڈیا لداخ اور کشمیر سائڈ پر اپنی میزائل اور اسلحہ بردار جنگی سامان لے کر مشقیں کر رہا ہے اور پاکستان کی فوج اس پر نظر رکھے ہوئے ہے یہی نہیں اس وہ سب اور حیران ہوگے جب بتایا گیا امارات میں جو امریکن جنگی جہاز اترے ہیں وہ بھی اس ایڈونچر میں حصہ لے سکتے ہیں یہ بات ڈی جی آئی ایس نے بتائی
یعنی انٹرنیشنل اور نیشنل طاقتیں اپنے کھلاڑی کو پاکستان پر مسلط کرنے کے لیے کسی حد تک جا سکتی ہیں جب پاکستان کے بڑے لوگ راضی ہیں تو پھر قوم باقی فوج صرف تماشہ دیکھے گی کیسے ایک سزا یافتہ مجرم کو اس خوف سے لایا جاتا ہے اگر ایسا نہ کیا تو محاز چھیڑ سکتا ہے اسی ڈر سے پاکستان فلسطین کی طرف کھل کے جا نہیں سکتا اگر نواز نہ بھی آیا پھر بھی پاکستان کو فلسطین سے دور رکھنے کے لیے یہ سر پر سوار رہیں گے انڈیا آج بھی ستائس فروری کا بدلہ لینا چاہتا ہے جبکہ لداخ کا زیادہ علاقہ چین لے جا چکا ہے پھر انڈیا لاداخ کے انڈین حصے میں اتنی بڑی مشقین کیوں کر رہا ہےاور گلگت میں حالات پہلے ہی پاکستان کے خلاف کیے جا چکے ہیں اس لیے ن لیگ اتنی پر اعتماد ہے اسے انٹرنیشنل سطح گارنٹیاں اونچے لیول تک ملی ہوئی ہیں اور پاکستانی فوج انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے انڈر کام کرتی ہے یعنی امریکہ فوج
اہم ترین سولہ اکتوبر میں ہونے والی میٹنگ میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ فوج کے اندر ایک تقسیم دیکھنے کو ملی ہے آپ ٹھیک سن رہے ہیں آج تک فوج کے سب بڑے ہمیشہ ایک پیج پر رہی ہے لیکن نواز کی واپسی اور عمران کی سزا پر پہلی بار فوج تقسیم ہے
ہواکیا
پہلی بار پاکستان کی تاریخ میں پاکستان کے جوائنٹ چیف آف سٹاف نے اپنا ووٹ مخالف میں دیا ہے جی ہاں جوائنٹ چیف کے ساتھ پاکستان ائرفورس کے چیف نے بھی ووٹ کا حق استعمال مخالفت میں کیا ہے اس کے علاوہ ڈی جی آئی بی نے اور ساگا والوں نے حصہ نہیں لیا
مطلب
جن کے ووٹ یا رائے حق میں تھے
پاکستان کے ڈی جی آئی ایس آئی
پاکستان کے ڈی جی ایم آئی
پاکستان کے نیوی چیف
ہاکستان کی چیف آف آرمی
مطلب پاکستان کی فوج نواز کی واپسی اور عمران کی سزا پر تقسیم ہے سات میں سے چار لوگ حق میں ہیں تین نہیں
یہی وجہ ہے اگر ووٹ حق میں پانچ اتے تو کل عمران کا جو فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا روک دیا گیا اور اگر ووٹ حق میں ��تے عمران کو سزا کل ہی سنائی جانی تھی ، لیکن کیونکہ فوج ہی کسی نتیجے پر نہیں پہنچی جس کی وجہ سے آج کور کمانڈر کی میٹنگ بلائی گی اور اس میں یہ معاملہ رکھا گیا ، کور کمانڈر میں بھی تقسیم دیکھنے کو ملی وہ کور کمانڈر جو باجوہ کی باقیات اور حافظ کے زر اثر ہیں وہ حافظ کی سائڈ اور وہ کور کمانڈر جو بعد میں بنے وہ دوسری سائڈ ہیں جہاں پر آپ کو یاد کرا دیں آصف غفور نے ووٹ نواز کے حق میں دیا ہے
اب ہوُگا کیا
کورکمانڈر اور ساری فوج آرمی چیف کی انڈر ہوتی ہیںُ تو اب معاملہ آرمی چیف پر چھوڑا گیا ہے کہ وہ جو فیصلہ کریں کیوں کورکمانڈر جب ٹی وی پر دیکھائی جائے وہ اس لیے دیکھائی جاتی ہے چیف پر اعتماد ہے ویسے بھی قانون کے مطابق آرمی چیف کا فیصلہ کوئی رد نہیں کر سکتا کور کمانڈر کی میٹنگ میں دیکھیں کچھ کے چہرے ظاہر کر رہے ہیں وہ خوش نہیں ہیں کیونکہ چار ووٹ زیادہ حق میں ہیں لیکن پورے نہیں ہے اب چیف کو فیصلہ کرے گا وہ اس کا زاتی ہو گا یا وہ جن کے اثر تلے ہے وہ ہو گا پوری فوج کا نہیں ہوگا یعنی فوج گارںنٹی نہیں دے سکتی زندگی کی یہی وجہ ہے بہت سے ن لیگ کے چاہنے والوں نے ان کوُبتا دیا تھا اور ن لیگ نے کل معطل کر دیا تھا کارنر میٹنگ مریم کا جی سی جانا جلسہ کی تیاری بھی سلو کر دی ہے
کیا نواز ائے گا ؟
اگر چیف فیصلہ کرتا ہے جو بیس تک وہ کرے گا اور پاکستان فوج کا طیارہ یا ��رائیوٹ طیارہ جاتا ہے تو ائے گا اگر پھر مخالفت ہوئی ائرچیف نہ مانا پھر وہ عام فلائٹ میں ائے گا تو نواز ائے گا
دیکھتے ہیں حافظ کیا فیصلہ لیتا ہے
کیونکہ انڈیا اور امارات ،قطر ،امریکہ ، کا بہت شدید پریشر ہے نواز کو لانے میں سعودیہ اور ترکی سے بھی نواز نے کہلوا رکھا ہے اوپر سے انٹر نشل فوج کے راحیل کو اس کے خاص دوست بھی ہین وہ بھی سارے اسلامی ملکوں سے کہلوا چکے ہیں
آسان لفظوں میں وہ امریکہ پر اعتبار اور کمپنی کی پوری رضا مندی پر نہیں ا رہا
جو مخالفت میں تھے ان کے خیال میں وہ نہیں اے گا ہو سکتا ہے ہم غلط ہوں
جو کچھ ہواوہی بتایا گیا ہے
عمران خان صاحب کو جیل میں فرخ حبیب کی پریس کانفرنس دیکھائی گئی دیکھانے والے نے کہا جن کے بل بوتے پر آپ کھڑے ہیں وہ سب آپ کو چھوڑ کر جارہے ہیں۔
عمران خان صاحب نے کہا مجھے پتہ ہے میں جانتا ہوں۔
عمران خان صاحب کا سوال کیا اللہ بھی میرا ساتھ چھوڑ دے گا؟؟؟
نہیں۔
1/2
عمران خان صاحب کو جیل میں فرخ حبیب کی پریس کانفرنس دیکھائی گئی دیکھانے والے نے کہا جن کے بل بوتے پر آپ کھڑے ہیں وہ سب آپ کو چھوڑ کر جارہے ہیں۔
عمران خان صاحب نے کہا مجھے پتہ ہے میں جانتا ہوں۔
عمران خان صاحب کا سوال کیا اللہ بھی میرا ساتھ چھوڑ دے گا؟؟؟
نہیں۔
1/2