Lawyer, Mediator, a student of law, Struggling for rule of law and uphold justice. Work for stability, peace, & harmony in World especially in Pakistan.
@azharjavaiduk عوامی مطالبہ ۔ ذرا ایک آنلائن سروے کروا لیں ۔ مکمل ادراک ہو جائے گا۔ عوامی مطالبہ کیا ہے۔ جب کچھ اچھا کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے۔ کرسی ہے کوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
@RShahzaddk جو اس کی کارکردگی بنیاد پر نہیں بلکہ محض مخالفت پر حکومت سے نکالا گیا ۔ ان والوں نہیں تو عوام کا اتنا برکس نکال دیا ہے کہ یہ عوام میں کھڑے ہو کر کوئی نعرہ بھی نہیں لگا سکتے چکر شروع ہو چکا ہے دیکھتے ہیں کب اور کہاں رکتا ہے پاکستان زندہ باد
@RShahzaddk میں کوئی سیاسی تجزیہ کار نہیں ہوں لیکن زندگی کے نشیب و فرار میں جو ابھی تک سمجھایا وہ یہ ہے کہ جب کسی کا چل چلاؤ ا جائے تو پھر وہ خود ایسی ہی کھائیوں میں گرتا ہے جیسے کہ یہ والے کر رہے ہیں عوام سے ان کو کوئی سروکار نہیں یہ ادم بیزار لوگ پھر ایسے ہی پالیسیاں بناتے ہیں اور اور پھر
@RShahzaddk دوسری طرف بھی تیاری ہو چکی ہوتی ہے نئے مسیحہ کی۔ لوگوں کا خیال ہے کہ پانچ سال پورے ہو جائیں گے اور لوگ بیچ رہا ہے کھڑے ہو کر یہ بھی کہتے ہیں کہ نیا مسیحہ بھی ا چکا ہے اور ان کابستر درگول کرنے کی تیاری ہو رہی ہے۔ اور یہ دستور پرانا ہے میں اپنی تاریخ کو دیکھوں تو صرف ایک ہی شخص ہے
آج صبح میں سویا ہوا تھا کہ میرے موبائل پر ایک نامعلوم نمبر سے مسلسل تین کالز آئیں۔ پہلے دو کالز میں نے نیند کی وجہ سے نہیں اٹھائیں، لیکن جب تیسری بار فون بجا تو میں نے کال رسیو کر لی۔
دوسری طرف ایک معصوم سا بچہ تھا۔ اس کی آواز میں ایسی بے بسی تھی کہ میری نیند ایک لمحے میں غائب ہو گئی۔
اس نے کہا:
“بھائی، آپ فوڈ کی ویڈیوز بناتے ہیں نا؟
میری بھی ویڈیو بنا دیں۔ میرے بابا کا انتقال ہو گیا ہے، میں اپنی امی کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی بیچتا ہوں، لیکن کام بہت سست ہے۔
میں فوراً بستر سے اٹھا، فریش ہوا اور سیدھا اس بچے کی لوکیشن کی طرف روانہ ہو گیا۔
جب میں وہاں پہنچا تو بچے نے اپنی پوری کہانی سنائی۔
اس نے بتایا کہ اس کے والد کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا ہے اور گھر میں کوئی بڑا بھائی نہیں جو ذمہ داری اٹھا سکے۔
والدہ پہلے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں، لیکن کچھ عرصہ پہلے ان کا کام بھی ختم ہو گیا۔
گھر کرائے کا ہے، اور اب ہر دن گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اس نے بتایا کہ پہلے وہ خالی لیموں اور کولڈ ڈرنک کی بوتلیں بیچتا تھا، پھر تقریباً 10 سے 12 دن پہلے اس کی والدہ نے بریانی بنا کر دینی شروع کی تاکہ شاید اللہ اس میں برکت دے دے۔
لیکن آج بھی وہ صرف ایک کلو بریانی بناتے ہیں اور اکثر شام کو کافی بریانی واپس گھر لے جانی پڑتی ہے کیونکہ گاہک بہت کم آتے ہیں۔
پھر اس معصوم بچے نے ایک ایسی بات کہی جس نے مجھے خاموش کر دیا۔
اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا:
“بھائی… آپ ویڈیو بنانے کے پیسے تو نہیں لیتے؟”
میں چند لمحوں کے لیے بالکل خاموش ہو گیا۔ شاید اس بچے نے دنیا میں بہت سے ایسے لوگ دیکھے تھے جنہوں نے ہر کام کی قیمت مانگی ہوگی۔
پھر میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
“بیٹا، نہ میں آپ سے ویڈیو بنانے کے پیسے لوں گا، نہ آپ کی بھیجی ہوئی بریانی ٹیسٹ کرنے کے لیے لوں گا، اور نہ ہی آپ سے کسی قسم کا کھانا لوں گا۔
الحمدللہ، میں نے آج تک کسی غریب، ضرورت مند یا مجبور انسان سے نہ ویڈیو بنانے کے پیسے لیے ہیں اور نہ ہی ان کا کھانا لیا ہے۔ میری کوشش صرف یہ ہوتی ہے کہ اللہ مجھے کسی کی مدد کا ذریعہ بنا دے۔”
یہ سنتے ہی بچے کے چہرے پر ایک امید بھری مسکراہٹ آ گئی، اور میری آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
یہ بچہ روز صبح اسکول جاتا ہے، تقریباً 11 بجے واپس آتا ہے اور پھر 12 بجے اپنی چھوٹی سی ریڑھی لے کر میلہ گلی میں کھڑا ہو جاتا ہے تاکہ اپنی والدہ کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی اور بوتلیں بیچ کر گھر کا خرچ چلا سکے۔
لوکیشن:
میلہ گلی، پیکو والی گلی کے اندر، نذیرالدین پلازہ بہاولپور
آپ پلازہ کے سامنے وہاں کسی سے بھی پوچھیں وہ آپ کو اس بچے کی ریڑھی تک پہنچا دے گا۔
اگر آپ بہاولپور یا آس پاس رہتے ہیں تو ایک بار ضرور اس بچے کے پاس جائیں۔
ممکن ہے آپ کی خریدی ہوئی ایک پلیٹ بریانی یا ایک بوتل اس گھر کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن جائے۔
اور اگر آپ وہاں نہیں جا سکتے تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ اس محنتی بچے کی آواز زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔
اللہ تعالیٰ اس بچے اس کی والدہ اور ہر محنت کرنے والے ضرورت مند کے رزق میں برکت عطا فرمائے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔
آمین یارب العالمین 🤲🥺
@akleghari کبھی اپ کے علاوہ کسی نے اپ کا ٹویٹ فارورڈ کیا۔ اگر کبھی ملے تو بتائیے گا ضرور۔حضور جی کسی نے تے ٹویٹ فارورڈ نہیں کیتا تے اے بڑی شرم والی گل ہے