قالَ النبی ﷺ:
الله نے تم پر:
1) ماؤں کی نافرمانی اور اُن سے بدسلوکی،
2) لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا،
3) (واجب حقوق کی) ادائیگی نہ کرنا،
4) (کسی کا مال ناجائز) دبا لینا حرام قرار دیا ہے.
بخاری 2408، 5975
(مسلم 4483؛ مسند احمد 18375؛ حبان 5555؛ بیہقی 11340، 11341؛ مشکوٰۃ 4915)
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
مجھے دنیا سے کیا مطلب ہے، میری اور دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے ایک سوار ہو، جو ایک درخت کے نیچے سایہ حاصل کرنے کے لئے بیٹھے، پھر وہاں سے کوچ کر جائے، اور درخت کو اُسی جگہ چھوڑ دے.
ترمذی 2377
(ماجہ 4109؛ حاکم 7859؛ حبان 6352؛ مشکوٰۃ 5188)
قالَ النبی ﷺ:
الله کی قسم! دنیا کی مثال آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی یہ انگلی سمندر میں ڈالے (راوی یحییٰ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا)، پھر دیکھے کہ وہ انگلی کتنا پانی ساتھ لے کر واپس آتی ہے.
مسلم 7197
(ترمذی 2323؛ ماجہ 4108؛ حاكم 6510؛ مشکوٰۃ 5156)
قالَ النبیﷺ:
اگر انسان کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کا خواہشمند ہوگا، اور انسان کا پیٹ (قبر کی) مٹی کے سوا اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی. اور الله توبہ کرنے والے کی توبہ قبول فرماتا ہے.
بخاری 6436
(مسلم 2418، 2415؛ ترمذی 2337؛ ماجہ 4235؛ احمد 13027، 13909؛ مشکوٰۃ 5273)
قالَ ﷺ:
اپنے خاندانی نسب (رشتوں) کے بارے میں جانو، تاکہ آپس میں صلہ رحمی (رشتہ داروں سے جڑنا) اختیار کر سکو. کیونکہ صلہ رحمی سے:
1) قرابتداروں میں محبت پیدا ہوتی ہے،
2) مال میں برکت ہوتی ہے، اور
3) عمر میں اضافہ ہوتا ہے.
مسند احمد 8855
(ترمذی 1979؛ حاكم 7284؛ مشکوٰۃ 4934)
قالَ النبی ﷺ:
تم میں سے کوئی ہرگز بھی اس طرح دعا نہ کرے:
یا الله! مجھے بخش دے، "اگر" تو چاہے.
یا الله! مجھ پر رحم فرما، "اگر" تو چاہے.
بلکہ پختہ یقین کے ساتھ دعا کرے، کیونکہ بیشک الله کو کوئی مجبور کرنے والا نہیں ہے (کہ کہا جائے: اگر تو چاہے).
بخاری 6339، 7477
(مسلم 6813)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:
میری امت میں میرے ساتھ سب سے زیادہ محبت کرنے والوں میں وہ لوگ (بھی) ہیں جو میرے بعد ہوں گے ، ان میں سے (ہر) ایک یہ چاہتا ہوگا کہ کاش! اپنے اہل وعیال اور مال کی قربانی دے کرمجھے دیکھ لے۔
(مسلم، ۷۱۴۵)
قالَ النبی ﷺ:
مَنْ حَدَّثَ عَنِّي بِحَدِيثٍ يُرَى أَنَّهُ كَذِبٌ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ
جو شخص میری طرف سے ایسی حدیث بیان کرے جس کے بارے میں گمان ہو کہ وہ (حدیث) جھوٹ ہے، تو وہ شخص خود بھی جھوٹوں میں سے ایک ہے.
مسلم 1
(ماجہ 41، 38؛ مشکوٰۃ 199)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
یوم عرفہ کے روزہ کے بارے میں میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ گزشتہ ایک سال اور آئندہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا، اور اللہ سے یہ بھی امید کرتا ہوں کہ یوم عاشورہ ( دس محرم ) کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہو گا ۔
(ترمذی،۲۴۲۵)
آپﷺنے فرمایا:
سب سے بہتر دعا عرفہ والے دن کی دعا ہے اور میں نے اب تک (بطور ذکر) جو کچھ کہا ہے اور مجھ سے پہلے جو دوسرے نبیوں نے کہا ہے ان میں سب سے بہتر دعا یہ ہے:۔
لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وحدَهُ لا شريكَ لَهُ، لَهُ الملكُ
ولَهُ الحمدُ وَهوَ على كلِّ شَيءٍ قديرٌ.
(ترمذی۳۵۸۵)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ كَانَ لَهُ سَعَةٌ، وَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانَا
جسکے پاس ( قربانی کرنے کی ) گنجائش ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو اسے چاہیے کہ ہماری عید گاہ کے قریب بھی نہ آئے۔
{سنن ابن ماجہ۔۳۱۳۲}
حاضر ہوں ! اے اللہ حاضر ہوں ‘ میں حاضر ہوں ‘ تیرا کوئی شریک نہیں ‘ حاضر ہوں ! تعریفیں اور نعمتیں تیری ہی ہیں اور بادشاہی بھی ، تیرا کوئی شریک نہیں ۔
(ابن ماجہ : 2919)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،
انھوں نے فرمایا :
رسول اللہ ﷺ کا تلبیہ یہ تھا : ( لَبَّيْكَ ! اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ! لَبَّيْكَ ! لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ ، لَا شَرِيكَ لَكَ )
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت اقرع بن حابسؓ نے نبی کریم ﷺسے سوال کیا:
یا رسول اللہﷺکیا حج ہر سال ( ادا کرنا فرض ) ہے یا ( زندگی میں ) ایک ہی بار؟
رسول اللہ ﷺ فرمایا:
بلکہ ایک ہی بار ( فرض ہے ) پھر جسے طاقت ہو تو
وہ نفلی حج ادا کر لے۔
{سنن ابن ماجہ۔۲۸۸۶}
میرے پروردگار! میری بھی بخشش فرما دیجیے، میرے والدین کی بھی، ہر اُس شخص کی بھی جو میرے گھر میں ایمان کی حالت میں داخل ہوا ہے، اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کی بھی۔ اور جو لوگ ظالم ہیں، اُن کو تباہی کے سوا کوئی اور چیز عطا نہ فرمائیے۔
سورۃ نوح
(اے پیغمبرﷺ!) اگر تمہیں یہ حرص ہے کہ یہ لوگ ہدایت پر آجائیں، تو حقیقت یہ ہے کہ اللہ جن کو (اُن کے عناد کی وجہ سے) گمراہ کردیتا ہے، اُن کو ہدایت تک نہیں پہنچاتا، اور ایسے لوگوں کو کسی قسم کے مددگار بھی میسر نہیں آتے۔
﴿سورۃ النحل، ۳۷﴾
جو شخص بھی نیک کام کرتا ہے، وہ اپنے ہی فائدے کے لیے کرتا ہے، اور جو بُرا کام کرتا ہے، وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے، پھر تم سب کو اپنے پروردگار ہی کے پاس واپس لایا جائے گا۔
سورۃ الجاثیۃ