لاہور پولیس شعبہ تفتیش سے اب تواتر سے اچھی خبریں مل رہی ہیں کہ بچوں کے اغوا کے کیسزز سائنفئک بُنیادوں پر حل کئے جا رہے ہیں اور بچوں کو بحفاظت رئکور کرایا جا رہا ہے۔ اس کا سہرا موجودہ پولیس قیادت کو اور نوجوان آفیسرز کو جاتا ہے کہ جہاں زیادہ آئ ٹی کے ٹرینڈ آفیسرز آگئے ہیں.
مُجھے آپ دوستوں سے مشورہ درکار ہے
کیا میں اپنا یو ٹیوب چینل کھولوں اور “ وی لاگ” کے ذریعے حکومت کو آیئڈ یاز دوں کہ محکمہ پولیس کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے اور اُنہیں عوام کے لئے کیسے فائدہ مند بنایا جا سکتا ہے۔ جیسے میں نے لاہور جیسی پولیس کو تین ماہ میں سیدھا کیا تھا۔
فیصلہ یہ ہوا کہ یہ کام ریٹایرمنٹ کے بعد کیا جائے۔ پہلے سسٹم میں رہ کر جو پوسٹنگ ملے اُس میں بہتری لانے کی کوشش کی جائے تاکہ مخالفین کو بھی موقع نہ دیا جائے اور سوو موٹو والوں کو بھی۔ اور جو دوست سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی پیسہ کمانے کا ڈھونگ تو نہیں اُن کی بھی تسلی ہو جائے۔ شُکریہ
@Saifimtiaz1 صرف حکومت کو یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ پوری پنجاب پولیس ایک سال میں بالکل ٹھیک ہو سکتی ہے اور اچھے آفیسرز بھی موجود ہیں جو یہ کام کر سکتے ہیں۔