پاکستان کی تاریخ میں عمران خان پہلا لیڈر ہے جس کو دینےکے لئے اسٹبلشمنٹ کے پاس کچھ نہیں ہے اسٹبلشمنٹ کہتی ہے ہم آپکی جائیداد آپکو واپس کردیں گے عمران خان کی کوئی فیکٹری ہے ہی نہیں بنی گالہ والا گھر بھی شوکت خانم کے نام ہے اسٹبلشمنٹ کہتی ہے ہم تمہیں رہا کردیں گے وہ کہتا ہے عدالتیں آزاد کردو یعنی یہ اس سے رعایتیں مانگتے ہیں اس کو رعایتیں دینے کے لئے ان کے پاس ہے ہی کچھ نہیں
اوریا مقبول جان
بریکنگ نیوز 🚨جیو نیوز کے پروگرام میں ریما عمر کا دبنگ تجزیہ۔ طاقتور لوگوں کو رگڑ کر رکھ دیا۔ حق سچ کھل کر بیان کر گئی 🔥🔥
ہم کھل کر بات نہیں کر سکتے، اگر ہم کہتے ہیں یہ نظام ناکام ہو گیا تو ہمیں بتانا چاہیے، اس نظام کے اصل کھلاڑی کون تھے۔ ہمیں بتایا گیا ہائیبرڈ نظام اس لیے ضروری ہے کہ ہمیں عمران خان کا چیلنج ہے۔ معیشت مضبوط کرنی ہے اور دہشتگردی پر قابو پانا ہے کیا ہم نے یہ سب کچھ اچیو کر لیا۔ جواب ہے ہم بری طرح سے ناکام ہوگئے۔ اچھی خاصی چلتی پھرتی حکومت کو رجیم چینج آپریشن کرکے آپ نے باہر کردیا، وہی پرانے ناکام اپنے لوگوں کو آپ لے آئے، جو پچھلے 35، 40 سالوں سے آپ کے اس کلیپس سسٹم کا حصے رہے ہیں۔ اگر آپ واقعی تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو فری اینڈ فیئر الیکشن ہونے دیں، عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں، جمہوری طریقے سے قوم جسے لائے اسے چلنے دیں، کوئی رکاوٹ نہ ڈالیں پھر دیکھیں کیسے ملک بہتر نہیں ہوتا۔
اگر تو لانگ مارچ کی کال اگلے ایک ہفتے کے اندر ہوئی تو اس کا کوئی مقصد ہو گا۔ اگر کئی ہفتے کے بعد کوئی تو محض ٹرک کی بتی۔ مگر وہ کیسے ؟ جانئیے اس کلپ میں۔
میرا خیال ہے یہ محض ٹرک کی بتی ہے۔اللہ کرے میں غلط ہوں
نہيں قاسم خان ایسا نہيں ہوا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیلی لابی نے خاموش کروایا ہے۔ وہ واقعی عمران خان کی رہائی چاہتا تھا لیکن آزاد صدر نہیں ہے۔ کوئی فیصلہ خود سے نہيں کرسکتا۔ اسرائیلی وزیر اعظم اسے فیصلے ڈکٹیٹ کرواتا ہے۔ سب سے بڑی مثال ایران کے خلاف جنگ ہے۔ ہہ اسرائیل کا فیصلہ تھا۔ اب بھی مذاکرات میں کامیابی کا فقدان اسرائیل کی وجہ سے ہے۔ ورنہ امریکہ اور ایران دونوں امن معاہدہ کر سکتے ہیں۔
عمران خان اسرائیل کی وجہ سے قید ہے۔ اسرائیل کے حکم پر قید ہے۔
@Kasim_Khan_1999
اگر آپ کا دل کمزور ہے تو یہ ویڈیو نہ دیکھیں۔
لا الٰہ الا محمد الرسول اللہ، میں نے پچھلے چار سالوں میں پاکستانی سیاست پر ایکٹیوزم کرنے سے پہلے اپنی ساری زندگی مقبوضہ کشمیر پر ایکٹیوزم کی، لیکن کبھی مقبوضہ کشمیر سے ایسی بربریت والی ویڈیو نہیں دیکھی جو آج آزاد کشمیر سے موصول ہوئی ہے۔
آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ اور فون سروسز بند ہیں۔ اگر کوئی وہاں سے کسی طرح پاکستان یا پاکستان سے باہر آتا ہے تو ایسی ویڈیوز وغیرہ ہمیں ملتی ہیں۔ آزاد کشمیر میں پاکستانی دہشت گرد فوج اور اس کے ماتحت کام کرنے والی دہشت گرد پولیس نے ایسا قہر برپا کیا ہے جس کا ہمیں ابھی اندازہ بھی نہیں ہے۔
لعنت ہو پاکستان کی دہشت گرد فوج پر، لعنت ہو پاکستان کی دہشت گرد پولیس پر، پاکستان کے سیاست دانوں اور اداروں پر۔
کشمیر پاکستان کے ہاتھ سے ہمیشہ کے لیے نکل چکا ہے۔
کوئی بھی احتجاج ہو کوئی بھی سیاسی معاملہ ہو اس میں سب سے گھٹیا کردار ہماری پنجاب پولیس ادا کرتی ہے
پنجاب پولیس کبھی ادارہ بن ہی نہیں سکی
اگر وہ ایک ادارہ ہوتی تو کبھی بھی مظلوموں پر ظلم نہ کرتی
جنرل عاصم منیر کی قید میں عمران خان کے تین سال👇🏽👇🏽
پہلےجنرل باجوہ اور ندیم انجم نے اور پھر ندیم انجم اور جنرل عاصم منیر کی جوڑی نے عمران خان کو فتح کرنیکی کوشش کی، ناکامی کے بعد انہیں توڑنے کی کوشش کی ہر حربہ ہر ظلم کیا گیا یہاں تک کہ خان کو توڑنے کیلیے اڑھائی سو جھوٹے مقدمات درج کیے گئے
جنرل باجوہ ندیم عاصم کو یقین تھا کہ نواز زرداری شہباز مریم محترمہ بینظیر کی طرح عمران خان بھی NRO مانگےگا سرنڈر کرےگا رہائی اور اقتدار کی فریاد کرے گا لیکن انکی یہ حسرت پوری نہ ہوئی
خان کو اٹک جیل کی کال کوٹھڑی میں میں کیڑے مکوڑے مٹی کیچڑ زدہ فرش پر لٹایا گیا دال روٹی دی گئی
جنرل عاصم منیر کو یقین دلایا گیا تھا کہ سر صرف سات دنوں میں یہ آپ کے قدموں میں ہوگا یہ نشہ کرتا ہے ہم انکا نشہ بند کردینگے وہ تڑپے گا اور پتا چلا کہ نشہ کرنے والی اطلاع غلط ہے اور خان نے جیل میں صرف ایکسرسائز والی سائیکل مانگی
اٹک سے اڈیالہ منتقل کیا گیا تین سالوں میں کم از کم تین سو مرتبہ خان کو توڑنے کی کوشش کی گئی امریکہ برطانیہ عرب ممالک سے لوگوں کو بلاکر جیل بھیجا گیا خان کی فیملی کو توڑنے کی کوشش کی گئی
پارٹی راہنماؤں کو وکلا کے ذریعے کوشش کی گئی لیکن ندارد ۔۔ پھر فسطائی حربے قید تنہائی ، روشنی بند ، پانی بند، بجلی بند کرکے اور بچوں بہنوں سے ملاقاتیں بند کرکے بھی دیکھ لیا لیکن جنرل صاحب کی حسرت پوری نہ ہوسکی
عمران خان دشمنی میں جنرل صاحب کا تین سالہ ٹینور مٹی میں مل گیا
پھر آئین توڑا گیا عدلیہ توڑی گئی فوج کا انتظامی مشاورتی ڈھانچہ مسمار کیا گا فیلڈ مارشل سے سالار اعظم بنے پانچ ستارے سجائے تاحیات تاوفات استثنی لینا پڑا اور پانچ سالہ نئی ملازمت
اور تین سال آٹھ ماہ بعد سرعام اپنی شکست کا اعلان کرنا پڑا کہ سسٹم کولیپس کرگیا
اور عمران خان ختم شُد سے سسٹم تباہ شُد تک نوبت آچکی ہے
عوام عمران خاں کے ساتھ ہیں وہ قید میں بھی عزت شہرت استقامت سے مالامال ہے اور جنرل صاحب GHQ میں بیٹھ کر بھی خوفزدہ، انکے اب تک کے تمام منصوبے ناکام ہوچکے ہیں
بیشک سب سے بڑا منصوبہ ساز اللہ تعالیٰ ہے
3 سال مکمل: ایک طرف عمران خان نے بہادری سے جیل کاٹ کر اسٹیبلشمنٹ کا غرور خاک میں ملا دیا۔
دوسری طرف عاصم منیر اور انکے ساتھیوں نے خان کو توڑنے کے چکر میں عدلیہ، میڈیا، پارلیمان، اداروں، آئین، معیشت، امن و مان، قومی یکجہتی اور انسانی حقوق سمیت سب کچھ تباہ کر دیا مگر بات نہیں بنی۔
After 3 years of kidnapping & tortured by military, incommunicado, Imran Khan is and will always be the only true leader of Pakistanis .
No-one else but Imran Makes Sense.
آئی ایم ایف اسپیکر کی تنخواہ 13 لاکھ کرنے کی اجازت دیتا ہے، پنجاب کابینہ کی تنخواہ 700 % بڑھانے کی اجازت دیتا ہے، بعد از ریٹائرمنٹ 2 ہزار مفت یونٹ، ہزار لیٹر پیٹرول کی اجازت دیتا ہے، اربوں کے گورنمنٹ ہاؤسز بنانے کی اجازت دیتا ہے۔ بس جہاں عوام کو ریلیف ملے وہاں IMF غصہ کر جاتا ہے، احمد وڑائچ
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
@ahmadwaraichh
پاکستان کو نئے صوبوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ نئے کھابے نہ کھولو۔
پاکستان کو ایک مضبوط اور فعال بلدیاتی نظام درکار ہے، جیسا کہ ایران، ترکی، انگلستان، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، جاپان، سویڈن اور امریکہ میں موجود ہے۔
عوام کی حقیقی خدمت وہی منتخب نمائندے کر سکتے ہیں جو عوام کے سامنے براہِ راست جواب دہ ہوں۔ نوکر شاہی کے ہرکارے خدمت نہیں کرتے، وہ صرف حکومت کرتے ہیں۔
ہمیں مزید کالے انگریز حکمران نہیں چاہیے۔
عمران خان نئے نئے وزیر اعظم بنے اسلام آباد کے ایک افسر کو ٹراسفر کیا تو وہ عدالت سے سٹے لے کے آگیا اور عمران خان پھر اسکا کچھ نہیں بگاڑ سکے اب یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ وہ افسر کس کا لاڈلہ تھا۔ یہ ملک کلی طور پہ فوج کے قبضے میں ہے ایسے مطالبات دور جاہلیت میں تو ٹھیک لگتے تھے اب نہیں!
5 نئے صوبے مطلب 5 نئے وزارِ اعلی 5 نئے گورنر۔ 5 نئے سیکریٹیریٹ۔ ہر صوبے میں کم از کم پندرہ وزرا مطلب 75 نئے وزیر۔ 75 نئے چیف سیکریٹیریز۔
ہر وزیرِ اعلیٰ کی نئی 7 Series BMW۔ ساتھ چار پروٹوکول کی لینڈ کروزرز۔
مطلب 5 BMWs. اور 20 لینڈکروزرز۔
پھر ہر وزیر کی نئے گاڑی۔ کم از کم ٹویوٹا Fortuner. مطلب 75 نئی Fortuners. ہر وزیر کے ساتھ کم از کم دو پروٹوکول کی گاڑیاں مطلب 150 مزید نئی گاڑیاں۔
چیف سیکریٹیرز۔ پولیس چیف۔ ججز اور دوسرے محکمے اور اسٹاف اور اُن کی مراعات تو بالکل الگ ہی موضوع ہے۔
سادہ سا حل ہے کہ تمام اختیارات لوکل گورنمنٹ کو دیدیں۔ اربوں روپے بھی بچا لیں اور لوگوں کی مشکلات کا حل اُن کے دروازے تک بھی لے آئیں۔
مگر جب تک ہم شاہانہ اور عیاش حل نہیں ڈُھونڈیں گے ہم کیسے ثابت کریں گے کہ ہم پاکستانی اشرافیہ ہیں۔
ایک بات یاد رکھیں۔ ہر نیا نظام عمران خان کو مسلسل قید میں رکھنے کے لئے لایا جا رہا ہے۔ نئے صوبوں کا شوشہ بھی عمران خان کے خوف سے چھوڑا جا رہا ہے۔ نئی صوبوں کا شوشہ ہے ایک ہڈی ہے جو پی ٹی آئی اور دوسرے سیاستدانوں کے آگے پھینکی گئی ہے تا کہ اس چوسیں اور خان کو بھول جائیں۔
ظاہر ہے نئے صوبے بنیں گے تو نئے وزراء اعلی اور درجنوں نئے وزراء کی سیٹیں خالی پیدا ہوں گی جنکی طرف سیاستدان للچائی ہوئی نظروں سے دیکھیں گے۔ عمران خان کا نام لے کر ووٹ لیں گے۔ کرسی پر بیٹھ کر جھومیں گے اور خان کو بھول جائیں گے۔
جب تک 8 فروری 2024 کے انتخابات کا فاتح قید میں ہے ہم کسی نئے نظام کو قبول نہیں کر سکتے۔ خان آزاد کیجئے۔ وہ چاہے نئے صوبے بنائے یا نئے انتظامی یونٹس قائم کرے۔
اور بہت اہم بات۔ جو لوگ اس وقت نئے صوبوں کا شوشہ چھوڑ رہے ہیں ان کے پاس یہ اختیار ہی نہيں ہے۔
اسرائیل نے الجزیرہ پر پابندی اس لیے عائد کی کہ وہ فلسطین کی زمینی حقیقت دنیا کے سامنے لا رہا تھا۔ پاکستان نے الجزیرہ کی نشریات اس لیے معطل کیں کہ وہ آزاد کشمیر کی صورتحال کی حقیقت دکھا رہا تھا۔ عبداللہ
@AbdullahSays99_
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan