وادی نیلم کے پرامن قافلے کے خلاف کریک ڈاؤن کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ مظفرآباد پولیس اور فورسز کی بڑی نفری مبینہ طور پر نیلم کی طرف روانہ ہو چکی ہے۔واضح کیا جاتا ہے کہ اگر پرامن دھرنے پر کسی بھی قسم کا دھاوا بولا گیا یا نقصان ہوا تو اس کی مکمل ذمہ داری حکومت آزاد کشمیر پر عائد ہوگی۔پرامن احتجاج ہمارا حق ہے اور اس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا
شوکت نواز میر
کورٹ میں کہا گیا کہ فیملی باہر آ کر مجھے بشریٰ عمران صاحبہ کے حالات بتاتی ہے، میں ٹویٹ کرتی ہوں، اور پاکستان میں حالات خراب ہو جاتے ہیں. اس لیے فیملی کی ملاقاتیں بی بی کے ساتھ بند کر دی گئیں تاکہ ملک میں امن ہو جائے.
تقریباً ایک مہینہ پہلے بی بی کی فیملی سے ملاقات کرائ گئ اور فیملی نے کوئ تفصیلات کسی کو نہیں بتائیں. لیکن پھر بھی اس کے بعد سے فیملی کو بی بی سے ملاقات کی اجازت نہی ملی.
آج بھی کئ گھنٹے انتظار کروایا. لایور س
سے جاتے ہیں، اور کئ گھنٹے انتظار کے بعد نا امید واپس!
پتہ نہیں بی بی کا کیا حال ہو گا. پچھلی دفعہ آنکھ میں ابھی تک تکلیف تھی اور آنکھ پوری کھل نہی رہی تھی. اور دوسری آنکھ کی بھی لیزر کروا دی بتائے بغیر.بہت کمزور ہو گئ ہیں وہ.
وقت بدلتے پتہ نہیں لگتا. انتظار میں ہیں کہ کب رب یہ سب پلٹا دے.
#BushraImranKhan
امریکی صحافی رائن گریم:
ٹرمپ نے جو باتیں آج کہی ہیں وہ سادہ اور عام فہم ہیں لیکن پھر بھی حیران کن ہیں کہ ٹرمپ نے کہی ہیں۔
1۔ سب کے پاس بیلسٹک میزائل ہیں، تو ایران کے پاس کیوں نہیں ہو سکتے؟
2۔ منجمد پیسے ایران کے تھے، اور امریکہ کو اسے جاری کرنا پڑا ورنہ کوئی بھی ڈالر سسٹم پر بھروسہ نہیں کرے گا۔ ہم ایران کا پیسہ کیوں چوری کریں؟
2۔ ایران کے پڑوسی ممالک بجلی کے لیے نیوکلیئر پاور استعمال کرتے ہیں، تو ایران کیوں نہیں کر سکتا؟
@ryangrim
اسے کہتے ہیں، ڈپلومیسی کے ذریعے طاقت کا اظہار
ایران اور امریکہ نے فارسی اور انگریزی زبان میں لکھے گئے معاہدے پر دستخط کر دئیے
ایران نے فارسی زبان میں معاہدے پر دستخط کیلئے اصرار کیا اور ٹرمپ نے فارسی معاہدے پر بھی دستخط کیے
امریکہ جینیوا میں دونوں صدور کے درمیان دستخط چاہتا تھا، ایران نے ڈیجیٹل دستخط پر اصرار کیا اور امریکہ کو ڈیجیٹل دستخط پر راضی ہونا پڑا
اسے کہتے ہیں، اپنی طاقت کا کامیاب ڈپلومیٹک مظاہرہ
اسلامی ممالک اور باقی دُنیا ایران سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں
Everyone can see horizon, few can see beyond
Stay Tuned to International Affairs
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
یہ صرف ایران کی جنگی جیت نہیں بلکہ:
⬅️یہ ایران کی ڈپلومیسی کی جیت ہے۰
⬅️یہ ایرانی تہذیب کی جیت ہے۰
⬅️یہ دُنیا کو سبق ہے کہ جسکو تم نے 47 سال سے تنہا کیا ہوا تھا، وہ ان 47 سالوں میں اتنا بڑا ہو گیا ہے کہ اب دُنیا اُسکے اردگرد کھڑی ہو رہی ہے۰
⬅️ یہ کربلا کی جیت ہے۰
⬅️یہ اسلام کی جیت ہے۰
⬅️یہ حق اور سچ کی جیت ہے۰
⬅️یہ کمزور کی طاقتور کے خلاف جیت ہے۰
⬅️یہ نئے گلوبل آڈر کا آغاز ہے۰
⬅️یہ فرقہ وارنہ بغض اورتعصب کی شکست ہے
⬅️یہ اسلامی ریاست کی عظمت کا دوبارہ آغاز ہے۰
⬅️ یہ سبق سیکھنے کا وقت ہے، امریکی غلامی سے نکالنے کا موقع ہے۰
⬅️یہ فلسطین کی آزادی کا نیا آغاز ہے۰
⬅️یہ حزب اللہ اور حماس کے اسرائیل کے خلاف جہاد کا نیا آغاز ہے۰
انشاللہ اسلامی اتحاد کے آغاز کا سنہری موقع ہے، اقتدار عوام کے حوالے کرنے کا موقع ہے
احمد جواد
وال اسٹریٹ جرنل نے کنفرم کیا یے کہ جمعے کو ڈیل پر دستخط ہونے کے بعد فوری طور پر ایران سے تیل کی پابندیاں ختم ہوجائیں گی۔ اور ایران اوپن مارکیٹ میں سعودی عرب کی طرح دھڑا دھڑ تیل بچے گا۔
اور جب تک مذاکرات ہوتے رہیں گے تیل بیچتا رہے گا ڈالرز سمیٹتا رہے گا۔
اس کے علاوہ ایران کو 24 ارب ڈالرز فوری مل رہے ہیں اور 300 ارب ڈالرز خیلجی ممالک امریکہ کے حکم پر تاوان ادا کریں گے۔
اب ایک سوال کا جواب دیں: جنگ کا فاتح کون ہوا؟ ذرا اونچی آواز میں جواب دیں تا کہ سب بغض زدہ بہرے سن لیں۔
محترم لائف بوائے یوزر: حکومت آپ کے من پسند لوگوں کی ہے ، ادارے آپ کے پاس ہیں تو بسم اللہ کریں اور فرح گوگی کو پکڑ کر لائیں ، مقدمات کریں اور کرپشن ثابت ہو جائے تو اُلٹا لٹکا دیں ، لیکن پلیز یوں چولیں نہ ماریں کہ وہ کھا گئے تو اب ہماری باری ہے.
عائشہ حمیرا چوہدری :
اپریل 2022 میں عمران خان کو حکومت گرائی گئی تو موصوفہ کو آفیسر کامرس گروپ سے ایڈیشنل سیکرٹری آئی ٹی ترقی دی گئی اور اب موصوفہ کو ایف پی ایس سی کا ممبر تعینات کردیا ہے ،
گریڈ بائیس کی پینشن اور گریڈ 22 کی تنخواہ ایک ساتھ ملے گی یہ احسن اقبال کی بہن ہیں
فیصل واوڈا جب کہتا ہے گھوڑا بھی آپ کا گدھا بھی آپ کا پھر بھی الیکشن نہیں جیت سکتے: طلعت حسین
ان کا غصہ جائز ہے جب ان کی ڈیمانڈ پوری نہیں کی گئی اور صرف سینٹ کی سیٹ پر ہی ٹرخا دیا تو ان کا غصہ بنتا ہے: رانا ثناء اللہ
کیا یہ آپ کا تجزیہ ہے یا آپ جاتے ہیں: طلعت حسین
یہ کابینہ کا حصہ بننا چاہتے تھے: رانا ثناء اللہ
یہ آپ سے کچھ مانگا انہوں نے: طلعت حسین
ہم سے تو نہیں مانگنے والوں سے مانگا لیکن جب دو شخصیات کو سب کچھ دے دیا جاۓ اور ایک شخص کو کچھ بھی نہ دیا جاۓ اور تینوں شخصیات ایک جیسی ہی ہوں تو غصہ نکالنا تو بنتا ہی ہے: رانا ثناء اللہ
میں نے جنگ اس لیئے ختم کی کہ ورنہ دُنیا میں تیل چار ہفتوں میں ختم ہوجاتا۔
یعنی میں نے گَھٹنے اِس لئیے ٹیک دئیے کہ ایران نے آبناۓ ہرموز بند رکھا ہوا تھا۔
کبھی پوری زندگی میں نہیں سوچا تھا کہ ایک امریکی صدر کو اپنی بے بسی کا اعتراف ایران کی وجہ سے کرنا پڑیگا۔
سبحان اللہ۔
میرے چچا اور میرے والد نے ساری زندگی نوازشریف اور #نمرودلیگ کو سپورٹ کیا بینظیر کے خلاف ہوتے تھے جیسا کہ پنجاب میں ٹرینڈ تھا۔۔ 2024 کے الیکشن میں نوازشریف کے ساتھ تو تھے لیکن ووٹ نہیں ڈالا تھا۔
آج الحمدللہ صبح شام نوازشریف کو اسکی بیٹی کو شوباز شریف کو صبح شام بات بات پر گالی پہلے دیتے ہیں بات بعد میں کرتے ہیں اور الحمدللہ الحمدللہ الحمدللہ بات بات پر بد دعا دیتے ہیں۔
یہ عمران خان کی محبت میں نہیں ہوا بلکہ انکی اپنی پالیسیز اور بوٹ چاٹ سروس کی وجہ۔سے ہوا۔۔۔ اتنی مہنگائی اتنے ٹیکسز اتنی غنڈہ گردی ٹیکسز کی شکل میں بھتہ خوری، ٹریفک پولیس کی بدمعاشی پیرا فورس CCD اور کاروبار کی تباہی نے انکو یہ سب کرنے پر مجبور کردیا ۔
پہلے 98 فیصد نفرت تھی ہمارے گھر میں #نمرودلیگ اور اسکو مسلط کرنے والوں کے خلاف الحمدللہ اب 100 فیصد ہوگئی ۔ ہمارے گھر سے مسلم لیگ نمرود "انا للہ وانا الیہ راجعون "
@NawazSharifMNS@CMShehbaz@MaryamNSharif
پاکستان نے ثالثی کو ڈھول دھمکا اور ذاتی پروجیکشن سمجھ لیا تھا اسی لئے سنجیدہ رول قطر کو دیا گیا جو پہلے بھی طالبان سے مذاکرات کا مشکل کام کر چکا تھا۔
قطر نے جن مذاکرات میں خاموشی سے امریکی اور ایرانی مذاکراتی کمیٹیوں کے معاملات طے کروائے ان میں پاکستان کو پاس بھی نہیں پھٹکنے دیا گیا پھر بھی بھارت سے جنگ کی طرح کسی کا کریڈٹ پینے کے چکر میں ہیں
ایک زمانہ تھا جب اسٹیبلشمنٹ کا نام تک نہیں لیا جاتا تھا بلکہ ان کا حوالہ دینا ہوتا تھا تو کندھوں کی طرف اشارہ کیا جاتا تھا ،اب اسٹیبلشمنٹ اعلانیہ مخلوط نظام کا حصہ بن چکی ہے ،یہ سیاسی نظام کی کامیابی ہے کہ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کو اعلانیہ حصہ دار بنالیا ہے،
پہلے اسٹیبلشمنٹ کو اشرافیہ سے الگ سمجھا جاتا تھا ، آج اسٹیبلشمنٹ اشرافیہ کا اعلانیہ حصہ بن چکی ہے اور یہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے سراسر گھاٹے کا سودا ہے ،
میں اپنے پرانے دوستوں سے کہتا ہوں کہ سوچ سمجھ کر ان لوگوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلا کرو ،یہ آپ کو اس مقام پر ڈنگ ماریں گے کہ جہاں آپ سوچ بھی نہیں سکتے ،
ہر وہ چیز جس پر ڈسکشن کی گنجائش ہوتی ہے ، کہا جاتا ہے کہ یہ تو اسٹیبلشمنٹ کا حکم ہے ،ان کے کہنے پر کرنا ہے ،
دفاعی تجزیہ کار شہزاد چوہدری صاحب کی گفتگو
موصوف نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے حکمرانوں کی طرح ایک ہی حکم سے 23 ڈاکٹروں کو معطل کیا🤬
25 ڈاکٹروں کو شوکاز نوٹس بھیجے اور 5 ٹرینی ڈاکٹروں کی رجسٹریشن منسوخ کر دی۔ ان ڈاکٹروں کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے سوال کیا کہ سالانہ 87 ارب روپے کا بجٹ کہاں خرچ ہو رہا ہے۔؟ انہوں نے پوچھا کہ آپ کے دورِ حکومت میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر کا علاج کوئٹہ میں کیوں ممکن نہیں ہو سکا۔؟ اگر آپ پچھلے دو ماہ سے اسلام آباد میں علاج کروانے کے بجائے اپنے صوبے کا ہیلتھ سسٹم ٹھیک کرتے تو آج آپ کو خود علاج کے لیے اسلام آباد جانے کی ضرورت نہ پڑتی
بریکنگ: ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے امریکہ کے ساتھ ایم او یو کی تمام 14 شقیں جاری کر دی ہیں
یہ معاہدہ ایران کی عظیم ترین فتح کا منہ بولتا ثبوت ہے، جنگ سے پہلے ان میں سے ایک بھی مطالبہ امریکہ ماننے کو تیار نہیں تھا
1: لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا مستقل اور فوری خاتمہ
2: ایران کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری کے احترام کا امریکی عزم
3: 30 دنوں کے اندر بحری ناکہ بندی کو مکمل طور پر ہٹانا
4: ایران کے ارد گرد سے اپنی افواج کو نکالنے کا امریکی عزم
5: ایرانی انتظامات کے تحت 30 دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا
6: تیل، پیٹرو کیمیکل مصنوعات اور مشتق اشیاء کی فروخت پر پابندیوں کی معطلی، اور اس کے مالی وسائل تک ایران کی مکمل رسائی
7: امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایران کے لیے کم از کم 300 بلین ڈالر کی تعمیر نو کے منصوبے پیش کرنے کی ضرورت
8: جوہری مسائل اور بنیادی، ثانوی، امریکی پابندیوں، اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور IAEA بورڈ آف گورنرز کی قراردادوں کے مکمل خاتمے پر مبنی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کے 60 دن
9: این پی ٹی معاہدے کے تحت جوہری ہتھیار نہ بنانے کے ایران کے عزم کا اعادہ
10: مذاکرات کی مدت کے دوران، امریکہ نے خطے میں فوجیں شامل نہ کرنے اور نئی پابندیاں عائد نہ کرنے کا عہد کیا ہے
11: 60 دن کی آخری مذاکراتی مدت کے دوران ایران کے بلاک شدہ فنڈز میں سے 24 بلین ڈالر کا اجراء۔ اس رقم کا نصف مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ایران کو فراہم کیا جانا چاہیے
12: معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ایک نگران طریقہ کار کی تشکیل
13: حتمی معاہدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے منظور کیا جائے گا
14: ایران کے بلاک شدہ فنڈز کے نصف کے اجراء، ایران کے تیل کی پابندیوں کی معطلی، اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے پہلے حتمی مذاکرات شروع نہیں ہوں گے، اور حتمی معاہدے میں صرف افزودہ مواد اور افزودگی، پابندیوں کے خاتمے، اور ایران کی اقتصادی تعمیر نو کے منصوبے کا احاطہ کیا جائے گا۔ ایران کے میزائل پروگرام اور مزاحمتی گروپوں کی حمایت کے بارے میں بات چیت کو ایجنڈے سے قطعی طور پر ہٹا دیا گیا ہے