IF YOU DIED TOMORROW🚨,
YOUR FAMILY WOULDN'T BE ABLE TO ACCESS A SINGLE THING YOU OWN DIGITALLY.
BANK ACCOUNTS. PASSWORDS. CLOUD STORAGE. ALL OF IT PERMANENTLY LOCKED AWAY.
HERE'S HOW TO FIX IT IN 30 MINUTES:
گرین بسیں اور بے وقوف عوام
پنجاب حکومت کے ٹرانسپورٹ منصوبے کے تحت 2000گرین بسوں کا افتتاح کر دیا گیا۔ افتتاح کی تقریب میں سیاست دانوں ، انتظامیہ اور عوام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ یہ منصوبہ کیا ہے، آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
یہ بسیں چین کی Yutong کمپنی سے خریدی گئی ہیں۔ فی بس کی لاگت 2,20,000 امریکی ڈالر ہے جو پاکستانی روپیوں میں 6 کروڑ 12 لاکھ روپے فی بس بنتی ہے۔ کل منصوبہ 3,000 بسیں خریدنے کا تھا جن میں سے 1,100 بسوں کا پہلا بیچ (batch) 94 ارب روپے میں آیا۔ اس کے ساتھ ہی اس کے بس سٹاپس یا سٹیشنز کی تعمیر پر 18 ارب 90 کروڑ روپیہ خرچ ہوا۔ اس کے بعد 2,000 بسوں کا اگلا بیچ (batch) آیا جس کی لاگت 168 ارب یا 1 کھرب 68 ارب روپے تھی۔ اس کی فی کس ٹکٹ صرف 20 روپے رکھی گئی جبکہ ان بسوں کو چلانے والی کمپنیوں کو سالانہ 37 ارب 55 کروڑ کی ادائیگی کا معاہدہ کیا گیا۔
سادہ سادہ یہ کہ ان تمام بسوں کی خریداری اور سٹیشنز کی تعمیر پر (280.9=18.9+168+94) 280.90 ارب یا 2 کھرب 80 ارب 90 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ یہ رقم اتنی بڑی ہوتی ہے کہ اس سے پنجاب حکومت کے لئے خریدے گئے 11 ارب والے گلف سٹریم جہاز جیسے 25 جہاز خریدے جا سکتے ہیں۔ یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ اس سے بھارتی پنجاب کے بجلی کے اس منصوبے جیسے، جس میں ہر گھر کو مایانہ 300 یونٹس مفت مل رہے ہیں، 9 منصوبے لگائے جا سکتے تھے جس سے پنجاب تو کیا سارا پاکستان سُکھی ہو جاتا اور غریب عوام 199 اور 201 یونٹ والے عذاب سے آزاد ہو جاتے۔ لیکن حکمران بجلی کا منصوبہ لگائیں کیوں؟ کیوں کہ بجلی بنانے کے کارخانے (آئی پی پیز) انہی حکمرانوں کے ہیں اور یہ کیوں چاہیں گے ان کے یہ بھرپور منافع بخش کارخانے بند ہوں۔
اب عوام کو بھی دیکھ لیں۔ اپنے ٹیکس سے خریدی گئی بسوں پر حکمرانوں اور سیاست دانوں کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں، ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر رہے ہیں جیسے بسیں چلنے سے ان کی زندگیوں کے سارے غم دھل جائیں گے۔ بینرز پر سیاست دانوں کی تصویریں ہیں جیسے ان بسوں کا سارا خرچہ یہ اٹھائیں گے۔ یہ منصوبہ بھی بے نظیر پروگرام کی طرح عوام کو بھکاری بنانے کا ہی منصوبہ ہے۔ اس سے روزگار کے مواقع بھی پیدا کئے جا سکتے تھے مگر اس حکومت کو کمائی سے زیادہ خرچے اور اپنی تصویروں کی نمائش کا شوق ہے۔ عوام بھی بسوں میں ایسے خوش ہو رہے تھے جیسے پہلے کبھی بس دیکھی نہ ہو۔
آخر میں شکایت یہ کہ اس طرح کے تجزیئے اور تحریریں جن کی طرف سے ہونی چاہیئیں تھیں، ان کے قلم خاموش ہیں۔ انہیں چاہیئے کہ اب وہ قلم رکھ دیں اور بوٹ پالش کی ڈبیاں اٹھا لیں۔
اس اماں جان کا نام مریم بی بی ہے
مریم بی بی سال 1965 میں بہت چھوٹی سی تھی اسکے انکے خاندان کے ایک فرد نے دربار پر جانے کا کہا۔ یہ ساتھ گئی تو وہاں کوئی بندہ آیا تھا اس بندے پر مریم بی بی کو بیچ دیا تھا۔
مریم بی بی ہاتھ در ہاتھ آگے فروخت ہوتی گئی۔ آخر میں جس نے خریدا تھا اس نے بعد میں اسکے ساتھ شادی کرلی تھی اب انکے پوتوں نواسوں کے بھی بچے ہیں۔
مریم بی بی کے والد کا نام لال/لال کما تھا۔والدہ کا نام جوائی تھا۔
دادے کا نام کما تھا۔ تین بھائی تھے ایک بھائی کا نام یاسین تھا دو کے نام یاد نہیں ہیں۔
دو بہنیں تھیں ایک کا نام حلیمہ تھا دوسری کا نام یاد نہیں ہے۔
ایک ماموں کا نام بشیر تھا جو اثر رسوخ والا تھا۔
جڑانوالہ کے شاہ کوٹ میں بابا نو لکھ ہزاروی کے مزار سے کچھ فاصلے پر انکا گھر تھا۔بستی کا نام بستی لال کما تھا۔
گھر کے قریب نہر بھی تھی۔
مریم بی بی دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی اپنوں کو یاد کرکے روتی ہے۔دل اپنی بہنوں اور بھائیوں والدین کی یاد میں بہت اداس رہتا ہے۔خواہش کرتی ہے کہ کاش اپنے خاندان کے لوگوں کو دیکھ لوں۔
اس اماں کی دعائیں لینی ہوں تو اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔ ان شاءاللہ انکی دعائیں آسمان چیر کر عرش تک پہنچیں گی اور قبول ہونگیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
18 July 2026
#waliullahmaroof
آج صبح میں سویا ہوا تھا کہ میرے موبائل پر ایک نامعلوم نمبر سے مسلسل تین کالز آئیں۔ پہلے دو کالز میں نے نیند کی وجہ سے نہیں اٹھائیں، لیکن جب تیسری بار فون بجا تو میں نے کال رسیو کر لی۔
دوسری طرف ایک معصوم سا بچہ تھا۔ اس کی آواز میں ایسی بے بسی تھی کہ میری نیند ایک لمحے میں غائب ہو گئی۔
اس نے کہا:
“بھائی، آپ فوڈ کی ویڈیوز بناتے ہیں نا؟
میری بھی ویڈیو بنا دیں۔ میرے بابا کا انتقال ہو گیا ہے، میں اپنی امی کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی بیچتا ہوں، لیکن کام بہت سست ہے۔
میں فوراً بستر سے اٹھا، فریش ہوا اور سیدھا اس بچے کی لوکیشن کی طرف روانہ ہو گیا۔
جب میں وہاں پہنچا تو بچے نے اپنی پوری کہانی سنائی۔
اس نے بتایا کہ اس کے والد کا ہارٹ اٹیک سے انتقال ہو گیا ہے اور گھر میں کوئی بڑا بھائی نہیں جو ذمہ داری اٹھا سکے۔
والدہ پہلے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھیں، لیکن کچھ عرصہ پہلے ان کا کام بھی ختم ہو گیا۔
گھر کرائے کا ہے، اور اب ہر دن گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اس نے بتایا کہ پہلے وہ خالی لیموں اور کولڈ ڈرنک کی بوتلیں بیچتا تھا، پھر تقریباً 10 سے 12 دن پہلے اس کی والدہ نے بریانی بنا کر دینی شروع کی تاکہ شاید اللہ اس میں برکت دے دے۔
لیکن آج بھی وہ صرف ایک کلو بریانی بناتے ہیں اور اکثر شام کو کافی بریانی واپس گھر لے جانی پڑتی ہے کیونکہ گاہک بہت کم آتے ہیں۔
پھر اس معصوم بچے نے ایک ایسی بات کہی جس نے مجھے خاموش کر دیا۔
اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا:
“بھائی… آپ ویڈیو بنانے کے پیسے تو نہیں لیتے؟”
میں چند لمحوں کے لیے بالکل خاموش ہو گیا۔ شاید اس بچے نے دنیا میں بہت سے ایسے لوگ دیکھے تھے جنہوں نے ہر کام کی قیمت مانگی ہوگی۔
پھر میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
“بیٹا، نہ میں آپ سے ویڈیو بنانے کے پیسے لوں گا، نہ آپ کی بھیجی ہوئی بریانی ٹیسٹ کرنے کے لیے لوں گا، اور نہ ہی آپ سے کسی قسم کا کھانا لوں گا۔
الحمدللہ، میں نے آج تک کسی غریب، ضرورت مند یا مجبور انسان سے نہ ویڈیو بنانے کے پیسے لیے ہیں اور نہ ہی ان کا کھانا لیا ہے۔ میری کوشش صرف یہ ہوتی ہے کہ اللہ مجھے کسی کی مدد کا ذریعہ بنا دے۔”
یہ سنتے ہی بچے کے چہرے پر ایک امید بھری مسکراہٹ آ گئی، اور میری آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
یہ بچہ روز صبح اسکول جاتا ہے، تقریباً 11 بجے واپس آتا ہے اور پھر 12 بجے اپنی چھوٹی سی ریڑھی لے کر میلہ گلی میں کھڑا ہو جاتا ہے تاکہ اپنی والدہ کے ہاتھ کی بنی ہوئی بریانی اور بوتلیں بیچ کر گھر کا خرچ چلا سکے۔
لوکیشن:
میلہ گلی، پیکو والی گلی کے اندر، نذیرالدین پلازہ بہاولپور
آپ پلازہ کے سامنے وہاں کسی سے بھی پوچھیں وہ آپ کو اس بچے کی ریڑھی تک پہنچا دے گا۔
اگر آپ بہاولپور یا آس پاس رہتے ہیں تو ایک بار ضرور اس بچے کے پاس جائیں۔
ممکن ہے آپ کی خریدی ہوئی ایک پلیٹ بریانی یا ایک بوتل اس گھر کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن جائے۔
اور اگر آپ وہاں نہیں جا سکتے تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ اس محنتی بچے کی آواز زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔
اللہ تعالیٰ اس بچے اس کی والدہ اور ہر محنت کرنے والے ضرورت مند کے رزق میں برکت عطا فرمائے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے۔
آمین یارب العالمین 🤲🥺
پاکستان کیلئے قطر کا ویزہ آن ارئیول تھا
فن لینڈ اور کچھ دیگر ممالک کہ جن کی ایمبیسیز پاکستان میں نہیں تھیں
سٹوڈنٹ ویزا کیلئے طلباء قطر جا کر آسانی سے بائیو میٹرک کروا کر ویزا لگوا لیتے تھے
نامعلوم وجوہات کی بنا پر قطر نے یہ سہولت ہی ختم کر دی ہے
اب صورتحال یہ ہے کہ قطر کا ویزہ ہی نہیں مل رہا
آن لائن اپلائی کریں تو دو دو مہینے جواب ہی نہیں آتا ہے
جبکہ جن بچوں نے ستمبر ان ٹیک میں کلاسز لینی ہیں وہ پریشان بیٹھے ہیں
اور کوئی حل نہیں ہے
وزارت خارجہ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے
@ForeignOfficePk@Qatar_Edu@VFSGlobal@Ulkoministerio
Some people in Pakistan & outside still feel Islamabad being at the center of diplomatic efforts is fake or exgerated news. But over the last few hours Financial Times, CNN, Axios, Bloomberg, Reuters, AP, BBC & list goes on report that Pak indeed has emerged as a lead player.
In 40 minutes, Donald said: the Strait of Hormuz isn't closed, but he wants it reopened; we’re not at war with Iran, but our allies are cowards for not helping; he wants a ceasefire, but he doesn’t want one. He also declared victory three times.
Such clarity. Such leadership.
Look at the Punjab govt's audacity. The senior minister has threatened to take legal action against those who according to her are involved in "malacious campaign" for buying a jet. In other words, people cannot ask legitmate questions over the use of taxpayers money!
https://t.co/Z6pboXp2sn
بنا بجلی بنائے شریف خاندان کی لوٹ مار عروج پر، اکتوبر کے بجلی بلوں میں عوام سلمان شہباز کے پلانٹ کو 1.48 ارب، حمزہ شوگر مل کو 1.42 ارب، جہانگیر ترین کو 4.1 ارب، جاوید کیانی کو 840.3 ملین، عمر شہریار کو 399.3 ملین روپے ادا کرے گی۔
متطوع قدم من الكويت 🇰🇼 قطع مسافه وتعمق معنا في الدهناء من اجل نثر البذور البرية المنوعة مع فريق من المتطوعين. في مبادرة محمية الملك عبدالعزيز الملكية ومروج للغطاء النباتي. التطوع وعمل الخير لا يعرف الحدود سعدنا فيه رجل شهم شارك مع اخوانه في نثر الخير في المستقبل بعون الله