@SaniaNishtar@chparvezelahi ہم سب کے پیارے وزیر اعلی جناب محترم پرویز الہی صاحب میں نے بہت ٹوئٹ کئے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہی ہو رہی احساس پروگرام میں اس بیوہ عورت کو رجسٹر نہی کیا گیا ابھی تک بہت غریب اور
مسکین ہےکیا اس بیوہ عورت کی نہی سنی جائے گی کیا یہ بیوہ کوئی امید نا ر
بطور ڈی سی میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ اپنے آفس سے مایوس کسی کو میں لوٹنے نہ دوں، کوشش میرے ہاتھ میں ہے، وہ ہر حد تک سنجیدہ ہوتی ہے، نتائج میں برکت اللہ ڈالتا ہے اور بس!!!
الحمدللہ
اسلام علیکم
دُنیا بھر دیکھنے اور سننے والوں کو
ارشد شریف شہید کی بیٹی کا اسلام
دعا میں شامل ہو جاؤ۔
اللہ تعالیٰ
میرے بابا
ارشدشریف شہید کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے
آمین🤲❣️
چیف جسٹس آف پاکستان صاحب اگر آپ چاہتے ہیں کہ ائندہ کسی بھی بچے کے ساتھ اس طرح کا تشدد اور اس طرح کا ظالمانہ رویہ نہ ہو تو اپ کو سوموٹو لینا ہوگا اور رضوانہ کے مجرموں کو گرفتار کرنا ہوگا ایک فری ٹرائل کروانا پڑے گا
#JusticeForRizwana#رضوانہ_کے_مجرم_گرفتار_کرو
We Pakistanis welcome our esteemed guest his excellency, Vice Premier of State Council of China He Lifeng to Pakistan & congratulate his excellency on conferment of 2nd Highest civil award, Hilal-i-Pakistan (Crescent of Pakistan) upon him by the President of Islamic Republic of Pakistan Dr @ArifAlvi sahb
Hope this visit will greatly enhance the historical & brotherly friendly relations between the two great nations. InshALLAH
🚨🚨 شہریار آفریدی ناحق قید کے دوران ایک بھائی فوت ہوگیا ایک بہن فوت گئی انکے نماز جنازہ تک پڑھنے کی اجازت نہ دی گئی، اور آج شہریار آفریدی کے ایک اور بھائی فرخ جمال آفریدی کو بھی 3MPO کے تحت اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا
جنرل الیکشن کے انعقاد کیلئے وزیراعظم اور ”حقیقی“ اپوزیشن لیڈر کے مابین مشاورت آئینی ضرورت اور شرط اول ہے۔
سابق وزیراعظم @ImranKhanPTI صاحب سے مشاورت کئیے بنا کوئ بھی نگران سیٹ اپ قابل قبول نہیں اور نہ ہی ایسے نگران سیٹ اپ کی کوئ آئینی، سیاسی اور اخلاقی حیثیت یا وقعت ہوگی!
اگر ایسا نگران سیٹ اپ لایا گیا تو اس کی کوئ آئینی اخلاقی اور سیاسی حیثیت ،ساکھ و جواز نہ ہوگا کیونکہ راجہ ریاض صاحب نہیں بلکہ سابق وزیراعظم عمران خان صاحب ہی پاکستان کے اصل اپوزیشن لیڈر، ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت @PTIofficial کے چئیرمین ، سابق وزیراعظم اور ملک کی ایک غالب اکثریت کے نمائندہ ہیں۔
آئین پاکستان ۱۹۷۳ میں اپنے وقت کے جید سیاستدانوں اور قانون دانوں کی تخلیق تھی جس کو انہوں نے ملکر باہمی مشاورت سے اللّٰہ کی مدد سے مشکل وقت میں بنایا جب ہم اپنا آدھا ملک گنوا چکے تھے۔ ایک ایک شق پہ باہمی مشاورت اور طویل عرق ریزی ہوئ تھی جس کے پیچھے قانونی حکمت LEGAL WISDOM اور اللّٰہ کی مدد کارفرما تھی۔
نئے الیکشن کے لئیے نگران حکومت اور نگران حکومت کیلئے وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت لازمی قرار دی گئ تاکہ فیصلہ کے پیچھے پوری قوم کھڑی ہو !
قائد حزب اختلاف سے مشاورت صرف عہدے پہ بیٹھے شخص سے نہیں اس کے پیچھے کروڑوں پاکستانیوں کے مینڈیٹ سے مشاورت ہے۔ اگر عہدہ پہ بیٹھا شخص مثلاً موجودہ نام نہاد قائد حزب اختلاف راجہ ریاض صاحب قومی لیڈر تو درکنار اپنا حلقہ انتخاب بھی جیتنے کا متحمل نہ ہو تو یہ مشاورت ایک عہدہ سے تو ہوگی لیکن آئینی،سیاسی اور اخلاقی سقم بحرحال رہے گا۔
It will not be consultation between Prime Minister & Opposition leader according to the “SPIRIT” of the Constitution۔
آئین کی روح کے خلاف ہوگا۔
اگلے الیکشن کو انقاد دے پہلے متنازع نہ بنیایا جائے ورنہ شفافیت پہ اعتراض اٹھے گا اور شفافیت ہی الیکشن کی بنیادی شرط ہے !