اے خان کے لوگو اسے کھونا نہیں تم نے
بیدار ہی رہنا، ابھی سونا نہیں تم نے
اِس رات کی تقدیر ہے سورج کا نکلنا
سر کو کسی قیمت پہ جھکا کر نہیں چلنا
کشتیکو کنارے پہ ڈبونا نہیں تم نے
اے خان کے لوگو اسے کھونا نہیں تم نے
قیدی نہیں آزاد ہے زندان میں رہ کر
ظالم کو دبوچے گا وہ میدان میں رہکر
جنرل اسمبلی میں فارم 47 کے جنرل کی مٹی پلید ۔۔
بھارتی فرسٹ سیکرٹری پیٹل گہلوٹ نے شہباز حکومت کو فارم 47 کی حکومت قرار دیا انہوں نے کہا کہ یہ فوج کی حکومت ہے یہ فوج کے ذریعے ہے ا��ر فوج کے لیے ہے انہوں نے کہا کہ 27 ویں ترمیم کے ذریعے حقیقی حکمران عاصم منیر کو تاحیات استثنی دیا گیا
Former Prime Minister Imran Khan's Message – July 8, 2025
Note: This is a repost of the tweet posted on July 9, 2025.
“When a nation rises for its rights, no force on earth can suppress it. I remain a free man, even in jail, but my nation is trapped in a prison where there is no independent judiciary, no genuine democracy, and no free media. Every Pakistani must rise up for their true freedom!
For two years, I have remained imprisoned solely for the sake of the Pakistani nation, so that no one can enslave you. Now, the time has come for you to stand up for your own freedom and defeat this oppressive system.
I repeatedly called for dialogue in the best interest of the country. But the time for negotiations has now passed. After the 26th Constitutional Amendment, the rule of law, the Constitution, and the very concept of justice have been buried. Any hope of receiving justice from the courts has been completely extinguished. The Pakistani nation now has only one path forward: a nationwide protest movement. Nothing short of this can pull us out of this quagmire of lawlessness.
A complete roadmap for the nationwide movement will be announced this week. I will have completed two full years of unjust imprisonment on August 5th. One that very day our nationwide protest campaign will be at its peak.
There will be no further negotiations of any kind with anyone anymore! The only path forward is mass protest in the streets, so the nation can rid itself of the puppets forcibly imposed upon it as its rulers.
Let me be clear: any officeholder in Pakistan Tehreek-e-Insaf who cannot shoulder the weight of this movement should step aside immediately. Those who have submitted to these oppressors must remember: these very people will eventually crush you, and the people will never forgive you either.
Even leaders like Nelson Mandela and Gandhi were allowed to meet other prisoners, read books, and write. I am enduring a form of solitary confinement where I am locked for 22 hours a day in a 6x8 foot cell. Police officers are forbidden from speaking to me. I have been denied books for the past six months. I am not allowed to speak to my children. My lawyers and colleagues cannot visit me. My family is allowed only a few minutes of visitation each week, and many of them are often denied even that. My personal physician has not been allowed to examine me for the past ten months. Even my access to newspapers and television has been cut off for the last week. Books sent by my family are withheld and kept in the superintendent’s office. My wife is also being held in inhumane conditions in solitary confinement.
Behind all of this is the establishment and its pawns. All of this is being done to break me. But I will continue to stand against tyranny until my very last breath.
We restored the constitutional and legal rights of the tribal areas after decades and provided full resources for reconstruction and development. The current regime not only withheld their rightful funds for three years but is now actively working to roll back their constitutional rights, an action that is utterly condemnable. I commend our parliamentarians and representatives for boycotting these unlawful measures.
As for our Punjab MPAs who were suspended for protesting during the fraudulent government’s budget session, the real reason behind it was that their protest against Maryam Nawaz was intolerable for the regime, although it is a long-standing tradition to protest during budget sessions.”
آپ سوچتے ہوں گے گذشتہ چار سال میں اس ریاست نامی ڈائن کی کون سی مکروح شکل نہیں ہوگی جو آپ نے نہیں دیکھی ہوگی اور پھر یہ پہلے سے زیادہ قبیح صورت میں آپ کے سامنے آجاتی ہے۔
گذشتہ ہفتے سے خیبر پختونخواہ میں بے شرمی کا ایک بازار گرم ہے۔ جو شاید ۹ مئی کے ڈھکوسلے کے بعد بھی پختون سرزمین پر نہیں ہوا وہ حدود بھی پار کی جارہی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت صبر سے اپنے خلاف ہر وار سہہ رہی ہے تاکہ ان ناجائز طاقتوں کو مزید کسی رنڈی رونے کا بہانہ نہ مہیا کیا جاسکے مگر پس پردہ حقائق ہوشربا ہیں۔
خیبر پختونخواہ کی منتخب قیادت کے خلاف ہونے والے حملوں میں “ریاست” کھلم کھلا گڈ طالبان اور کرمنلز کو استعمال کررہی ہے۔ ہر علاقے میں ایسی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں متعلقہ علاقے کے سنگین ترین جرائم میں ملوث افراد، چند گڈ طالبان، آئی ایس آئی اور ایم آئی شامل ہے۔ زرا سوچیے کس حد تک طاقت کی ہوس میں اندھے ہیں یہ کہ خطرناک ترین جرائم میں ملوث عادی مجرموں کو یقین دلایا گیا ہے کہ اس آپریشن کی کامیابی کی صورت میں آپ پر ابھی تک کے سارے چارجز ختم کر دیے جائیں گے۔ گڈ طالبان تو تھے ہی ان کے اپنے، اب جرائم پیشہ افراد کو بھی، ایف سی اور کے پی پولیس کی وردیاں مہیا کی گئی ہیں۔ صوبائ وزیر فضل شکور کے اغوا میں بھی اس ٹیم کے لوگ شامل تھے۔ اگر شکیل خان بروقت ریکٹ نہ کرتا تو شاید آگے یہ ٹیم ان کے بھی انتظار میں ہوتی۔ میرے حوالے سے تو پاکستان اور پڑوس میں ایسی ٹیموں کی کاروائیاں کوئی نئی بات نہیں لیکن پورے پختونخواہ میں بلوچستان طرز پر باقاعدہ سنگین جرائم پیشہ افراد، گڈ طالبان اور تمام جاسوسی ادارے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے کر خیبر پختونخواہ حکومت کے منتخب نمائندگان اور تحریک انصاف کے عہدیداران کو اغوا اور ان کی املاک پر حملے کر رہے ہیں۔
میں اپنے نمائندگان سے کہتا ہوں ان کی مزید پردہ پوشی کریں گے تو یہ کل کو کسی بھی اغواشدہ لاپتہ فرد کو “فتنتہ الہندوستان” اور “فتنتہ الخوارج” کی کاروائ قرار دے کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیں گے۔ یا تو شکیل خان کی طرح اپنا دفاع کریں یا لاپتہ افراد مسخ شدہ لاشوں اور کراس فائرنگ میں موت کا نشانہ بننے والوں میں شامل ہوں۔ اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
میں اپنے اقرباء کو بھی واضح الفاظ میں بتا رہا ہوں فی الفور کل رات کے واقعات کی ایف آئ آر آئ ایس آئی اور ایم آئی پر درج کر آئیں۔ قانون آپ کو یہ اجازت دیتا ہے کہ بغیر وارنٹ کے یہ سادہ کپڑوں میں ملبوس دہشت گرد تو کیا اگر کوئی باوردی شخص بھی آپ کی چاردیواری کی پامالی کرتا ہے تو آپ کو اپنے گھر بار اور اپنے عیال کی حفاظت کے لیے ان سے اسی انداز میں نپٹنے کا حق حاصل ہے، جس کے یہ دہشت گرد اور دہشت گردوں کے سہولتکار مستحق ہیں۔ میری سیاست میرا نظریہ میری ذمہ داری ہے۔ میری سیاست کی خاطر اپنی غیرت اور حمیت پر کوئ بھی سمجھوتہ کرنے سے میں آپ کو آزاد کرتا ہوں۔
میں اپنے صوبے کی پولیس کو بھی کہنا چاہتا ہوں یہ ناجائز حکومت اور ان کا سہولت کار مافیہ جو خود کو ریاست کہتا ہے جس آگ کا ایندھن آپ کو بنا رہے ہیں۔ اُن پالیسیوں کے خلاف میں، تحریک انصاف اور یہ قوم ہی ہے جو کل بھی اور آج بھی آپ کی ہم نوا، آپ کے ساتھ اور آپ کے لیے کھڑے رہے ہیں۔ جرن��لوں کی ناجائز طاقت کی مدت ہوتی ہے۔ اُس کے بعد ان کے یہی ماتحت ادارے ان کی ان پالیسیوں کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتے جن کی وجہ سے آپ کے بچے یتیم ہوتے ہیں اور آپ کے عیال کو آپ کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں۔ کل کو ان شہروں میں، اس صوبے میں، ان کی پالیسیوں کے نتائج کے ساتھ، میں نے رہنا ہے اور آپ نے رہنا ہے۔
کسی بھی ناجائز اقدام کی سہولت کاری سے پہلے یہ یاد رکھنا یہ مُلک ہمارا ہے، اسے کسی غاصب ٹولے کی خاطر آگ میں جھونکوگے تو بھگتوگے تم بھی۔
"پاپا... آپ ظالم تو نہیں ہیں نا؟"
"انسان کو ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس پر اس کے اپنے بچے اور بزرگ اس سے شرمندہ ہوں... یاد رکھیں، ظالم اور ظلم اسی دنیا میں بے نقاب ہو جاتے ہیں۔"
ضمیر کی عدالت اور بچوں کی معصومیت سے جڑا ایک ہلا دینے والا پیغام۔ ہر صاحبِ اقتدار اور اختیار کے لیے لمحہ فکریہ!
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا
وزیراعلی سہیل خان آفریدی نے بھی ٹکا کر جواب دیے ہیں حکومت کی جانب سے دھمکیاں لگائی گئی اور انتشار قرار دے رہے ہیں نقاب پوش شکیل اعوان کو ان کی گاڑی روک کر اغوا کرنا چاہتے تھے اس کے بعد فضل شکور کو اغوا کیا گیا عمران ریاض خان
فوج نے عمران خان کا پورا خاندان اغواء کر لیا ہے، ڈاکٹر شہباز گل کا فوجی پراڈکٹس کی بائیکاٹ مہم کا اعلان، کم از کم پاکستانی قوم اتنا تو کر سکتی ہے، اس پیغام کو ہر جگہ پھیلائیں۔
اور حالات مزید خراب ہو گئے ہیں۔ میرے کزن شہریز کے 4 اور 6 سالہ دو بچے اب لاپتا ہیں۔ ان کی بے رحمی کی کوئی حد نہیں۔ انسانیت کی مکمل بے حرمتی کی جا رہی ہے۔ قاسم خان
@Kasim_Khan_1999
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
لگتا ہے گرفتاری سے پہلے عمران خان کے آخری ویڈیو پیغام کو سب بھول گئے ہیں کہ آپ سب نے گھروں میں چھپ کر نہیں بیٹھنا ہیں
یہ ویڈیو آج ہر کسی کے ٹائم لائن پر ہونی چاہیئے 🔥
#ستمبر27_فیصلہ_کن_مارچ
ظالم آقا اور اس کے حکم پر عوام کی زندگی اجیرن کرنے والے بہروپیو!
یاد رکھو، وقت بدل چکا ہے
��اقت کے نشے میں مست آقا اور اس کے اشاروں پر ناچنے والے کارندے یہ نہ سمجھیں کہ خوف کے سائے میں عوام ہمیشہ خاموش رہے گی۔شعور کی آنکھ کو دھوکا دینا ناممکن ہے کیونکہ ان آنکھوں کی تعداد پچاس کروڑ اور نظریہ حقیقی آزادی کا ہے۔
#مزاحمت_ہی_خان_کی_رہائی .
#FascismUnderAsimLaw
لاہور کے اندر سہیل آفریدی نے خوف کے بت توڑے ہیں اور لاہوریوں کو شاباش بھی ملنی چاہیے بہت بڑے دل کے لوگ ہیں زندہ دلانے لاہور بلا وجہ نہیں کہتے ظلم فسطائیت کے باوجود لوگ نکلے ہیں سہیل آفریدی کا مقصد پورا ہوگیا ہے عمران ریاض خان
سہیل آفریدی نے سیالکوٹ میں تحریک انصاف کے کارکن کے بیٹے کو گود میں اٹھا لیا،
یہ کام صرف عوامی وزیر اعلیٰ ہی کر سکتا ہے،
اب اس طرح گود میں بچہ پکڑنے کی اسکرپٹڈ ویڈیو جعلی وزیر اعلیٰ ��ھی بنانے کی کوشش کرے گی۔
یہ پاکستان کے ایک صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں۔ پنجاب کی عسکری وزیرِ اعلیٰ اور ان کے ہینڈلرز ہمارے ملک اور وفاق کے لیے خطرہ ہیں۔
”کسی گھر میں مجھے انہوں نے الاؤ نہیں کیا۔ جس گھر میں جا رہا تھا وہاں کی تاریں کاٹی، وہاں کے جنریٹر جو ہیں خراب کر دیے اور جو رینٹ پر ہمارے دوست منگوا رہے تھے اور راستے میں ان ��و بھی جو ہے انہوں نے ضبط کر لیا۔“ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
@SohailAfridiISF
⚠️ وزیرآباد سے صبح کے 5 بجے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا ہنگامی ویڈیو پیغام!
وزیراعلیٰ کے قریب سے ایک مسلح شخص پکڑا گیا جیسے پولیس کے حوالے کیا گیا، پنجاب کی ناجائز حکومت مسلسل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سیکیورٹی کو رسک پر ڈال کر کوئی نیا ایڈونچر کرنے کے ارادے میں ہے!
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے اپنے ممکنہ اغوا کی کوششوں کی تصدیق انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت ہے۔🚨
ایک منتخب وزیراعلیٰ صرف ایک فرد نہیں بلکہ اپنے صوبے کے 4 کروڑ عوام کی عزت، آئینی منڈیٹ اور نمائندگی کا ضامن ہوتا ہے۔ پنجاب حکومت کا ایسا فاشسٹ اور انتقامی رویہ نہ صرف جمہوری اقدار ک�� دھجیاں اڑاتا ہے بلکہ صوبوں کے درمیان نفرتیں بڑھا کر وفاق کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔
سیاسی مخالفت اپنی جگہ، لیکن ایک صوبائی سربراہ کو یوں نشانہ بنانا اور ان کے اغوا کی سازشیں کرنا کھلی غنڈہ گردی ہے۔ پنجاب حکومت کو اپنے اس افسوسناک رویے پر فوراً جواب دہ ہونا چاہیے اور ایسے گھناؤنے اقدامات کا سلسلہ بند ہونا چاہیے!