اصولی طور پر جیسا کہ بھگوت گیتا سمیت تمام گرنتھوں اور مقدّس پرانوں میں درج ہے کہ باہر رہنے والے کو پاکستان پر بالکل بھی تنقید نہیں کرنی چاہئے تو پھر پنجاب میں رہنے والے خیبرپختونخوا کے بارے میں اتنے فکرمند کیوں رہتے ہیں؟
مطلب صحیفوں میں کلومیٹر کے حساب سے کوئی چھوٹ ہے؟
کیا سی سی ڈی لیگل کور کے بغیر غیر قانونی طور پر شوٹنگ کر رہی ہے؟
سی سی ڈی "سیلف ڈیفنس" میں کارروائیاں کرتی ہے۔ سہیل ظفر چٹھہ
کیا ایک ہزار بندہ سیلف ڈیفنس میں مار دیا؟ بی بی سی اردو سے ترہب اصغر @tarhub کا سوال
آپ کے اعدادوشمار غلط ہیں، چھوڑیں بس that's all۔۔۔ ڈی آئی جی وقاص الحسن کا جواب
ویڈیو بشکریہ اردو پوائنٹ
چار مہینے پہلے کلور کوٹ بھکر میں سی سی ڈی کے روایتی مقابلے میں ایک 7 سالہ کم سن بچی فائرنگ سے ماری گئی۔ اس پر کسی صوبائی وزیر، آئی جی پنجاب، ایڈیشنل آئی جی وغیرہ نے پریس کانفرنس نہیں کی کیونکہ اس معصوم کا قصور یہ تھا کہ اس کے پاس غیر ملکی پاسپورٹ نہیں تھا، اس لیے اسکا خون معاف!
اگر آپ ماہانہ 8 لاکھ 33 ہزار روپے کماتے ہیں تو آپ کا شمار پاکستان کی اشرافیہ میں ہوتا ہے۔ کیونکہ پاکستان میں اتنا کمانے والے 6 لاکھ 70 ہزار گھرانے ہیں، جو ملک کی 24 کروڑ آبادی کا صرف اور صرف تقریباً 0.2 فیصد ہیں۔
اعداد و شمار: چیئرمین ایف بی آر
محترمہ۔آئینے میں جب چہرے اچھا نہ آ رہا ہو۔چہرہ بدلنے کی کوشش کریں۔
کائنڈلی۔آئینہ مت توڑیں
جب سچ سے گبھراہٹ محسوس ہو اور دلیل ختم ہو جائے۔پھر اِن آوازوں کو دبانے اور بند کرنے کی کوشش لوگوں کو حقیقت سے دور رکھنے کا باعث بنتی ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ چکوال کی ایک فیملی جو آسٹریلیا میں رہائش پذیر تھی کچھ عرصہ پہلے پاکستان آئی۔ یہاں سے پوری فیملی حج کرنے چلی گئی اور منگل کے روز سعودی عرب سے واپس پاکستان پہنچی۔
فیملی کے سربراہ عدیل احمد بدھ اور جمعرات کی درمیانی شام اپنے سسر کے گھر کھانے کی دعوت پہ گئے۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ ، نو سالہ بیٹی ہانیہ اور ایک بیٹا عفان بھی تھا۔ سسر کے گھر جاتے ہوئے یہ ڈکیتی کی واردات کا شکار ہو گئے۔ اسی دوران سی سی ڈی تھانہ کو واردات کی اطلاع مل چکی تھی۔ سی سی ڈی اہلکاروں نے انہیں ہی ڈاکو سمجھ کر گاڑی پہ اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
جس کے نتیجے پوری گاڑی چھلنی ہو گئی۔ کار میں نو سالہ بچی ہانیہ موقع پر دم توڑ گئی۔ جبکہ باقی ہوری فیملی شدید زخمی ہو گئی ہے۔ یہ انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے کہ پولیس نے کسی وارننگ یا گاڑی کے ٹائر برسٹ کرنے کے بجائے گاڑی کو ہی ٹارگٹ کر دیا۔
اس فیملی کا نقصان کون پورا کرے گا ؟
اس اندوہناک واقعہ پر یہ سوال حق بجانب ہے کہ کیا سی سی ڈی کے اہلکار اس قدر نان پروفیشنل ، اناڑی اور بیوقوف ہیں کہ وہ کسی شریف فیملی اور ڈکیتوں میں فرق بھی نہیں کرسکتے؟ یا پھر سی سی ڈی کا تشکیل کردہ مخبری کا نظام ناکارہ ہے کہ اصل ڈاکو فرار ہوجاتے ہیں اور معصوم فیملی کی گاڑی گولیوں سے چھلنی کر دی جاتی ہے ؟
منقول