میرے دوست اور کولیگ نعمان مسعود کی زبانی!!!
———————————————
یہ واقعہ کل پیش آیا میں “نعمان مسعود کا کھابہ” کے نام سے ایک ریسٹورنٹ کا مالک ہوں۔ اور میری بحریہ ٹاؤن برانچ کو ایک ہولناک واقعہ کا سامنا کرنا پڑا۔
ہم نے وہیل چیئر والے معذور افراد کے لیے جگہ مختص کر رکھی ہے اور آج ایک گاڑی جس پر ڈرائیور کے ساتھ گارڈز بھی تھے، اپنی گاڑی یہاں کھڑی کرنا چاہتے تھے اور میرے لڑکے نے اسے بتایا کہ معذرت جناب یہ معذور افراد کے لیے ہے لیکن وہ بدمعاشی اور لڑائی پر اتر آئے اور میرے ریسٹورینٹ کے لڑکوں پر حملہ آور ہو گئے جس میں میرے CFO بھی شامل تھے۔ انہوں نے اسے اس بری طرح سے مارا کہ ہم سب ابھی تک صدمے میں ہیں کہ ہم سب پتھر کے زمانے کی طرف واپس کہاں جارہے ہیں۔
براہ کرم میں کچھ ایکشن لینے کی درخواست کروں گا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ وہ لوگ دوسروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کریں جیسے میرے CFO کے ساتھ کیا ہے۔ اس کے سر کے 3 انچ حصے کے ٹانکے لگے ہیں اور اس کی حالت خراب ہے، اور اس سے اس کی جان بھی جا سکتی تھی۔
باقی آپ لوگ میری فراہم کردہ فوٹیج سے اندازہ لگا سکتے ہیں۔
ہمارے کھیتوں کی پیاس سہی طرح سے ختم نہیں ہوئی
توڑا اور بارش چاہیئے
یاد رہے کہ ہمارے کھیت کولمبو میں ہے،
ہم توڑے غریب ہےاس لئے غریب ملک میں زمیں لی ہے۔
#PAKvIND
کس نے اس شہر کے لوگوں کو ستا رکھا ہے
سر پہ ہر شخص نے سامان رکھا ہے
چاند تارے تو کڑی دھوپ میں بھی ہوتے ہیں
یہ تو سورج نے ہی اندھیرا مچا رکھا ہے
#قومى_زبان#اردوشاعری
@momentmemori ہر ایک انسان فرعون ہے بس کوئی چھوٹے لیول پر کوئی بڑے لیول پر،اس کا لیول اتنا ہے کہ لڑکی کو اکیلے دیکھا تو فرعونیت نکل ائی۔۔لہزا پرانے فرعون کو زیادہ برا بلا نہ کہا جائے۔
@correction7474 یہ بات پتہ نہیں کہ درست ہوگی یا نہیں لیکن حقیقت ہماری یہی ہے۔
ہمسائے اس لئے نہیں آئی کہ وہ مسجد میں نماز اور نوفل پڑ رہے تھے،مصروف تھے اب اس میں اس کا کیا قصور ہے۔