نواز شریف: میری والدہ مجھے جیب خرچ کیلیے چار آنے دیتی تھیں اور میں ایک نان اور پودینے کی چٹنی مہینے میں ایک یا دو بار جاکر کھاتا تھا
مريم نواز: وه ایک ارب پتی دادا کے پوتے ہیں جو 1960،70 میں پاکستان کا امیر ترین انسان تھا،بزنس کیلیے سارا پیسہ دادا سے بچوں کو ٹرانسفر ہوا_
شہباز شریف:میرے والد ایک غریب آدمی تھے ہم گوالمنڈی رہتے تھے وہاں گلی ڈنڈا کھیلتے تھے😂
#خان_کی_جدوجہد_کے_30_سال
بھارتی سیاستدان کی یہ حرکت انتہائی گھٹیا اور بدترین متعصبانہ سوچ کی عکاسی ہے۔ ہر کسی کو اس حرکت کی مذمت کرنی چاہیے۔ بلکہ اس شخص کو کٹہرے میں لانا چاہیے۔ کیا یہی ہے سیکولر بھارت کا چہرہ؟
ChatGPT + Laptop + Internet + 1 Hour a Day = $250 Daily
Normally, I charge $157 for this guide.
𝐖𝐨𝐫𝐭𝐡 $157, 𝐛𝐮𝐭 𝐟𝐫𝐞𝐞 𝐭𝐨𝐝𝐚𝐲!
Like, comment "Guide" and repost for absolutely FREE.
(Must follow, 42 hours only)
استغفراللہ ۔۔۔۔
وقار ذکا نے اقرار کر لیا ہے وہ الیومیناٹی تنظیم کا ممبر ہے ۔۔ اور اس نے باقاعدہ سے اسے پھیلانے کیلے کام بھی شروع کر دیا ہے ۔۔
الیومیناٹی تنظیم شیطان کی پوجا کرتی ہے جسکا بنیادی مذہب پر یقین نہ کرنا ۔۔ ہے
اس فتنے وقار ذکا کے لاکھوں میں فائین فالونگ ہے حکومت وقت سے اپیل ہے اسکی فوری پاکستانی شناخت کینسل کی جاے ۔۔
Free blue tick ✅🚨
جو لوگ بلیو ٹک افورڈ نہیں کر سکتے کل 5 لوگوں کو گفٹ کروں گا لسٹ میں شامل ہونے کے لیے
پوسٹ کو رپوسٹ کر کے کمنٹ میں Free blue tick لکھیں۔۔
موٹروے پر سفر کرنے والوں کے لیئے اہم پیغام۔
موٹروے پرکسی ریسٹ ایریا میں کھانے یا دیگر خریدیں گئی چیزوں کی قیمت اگر کوئی زائد چارج کررہا ہے تو بل وصول کرکے پیسے دیں اور اس ہوٹل یا دکان کی تصویر اور بل کی تصویر ہمیں واٹس ایپ سینڈ کریں اور کال کریں۔اپ کو فوراً زائد دیئے گئے پیسے بھی واپس ملیں اور کاروائی بھی ہو گی ان ڈاکوؤں کے خلاف آگاہی مہم چلائیں اور سفر خوشگواربنائیں۔
03305259201
کرنل شوکت بھیرہ انٹرچینج آفس
03305259203
سید عثمان ایف ڈبلیو کمپلینٹ آفس موٹروے چکری
میں پنجاب یونیورسٹی میں بطورِ استاد پڑھا رہا ہوں۔ آج جمیعت نے کلاس میں آ کر طلباء کے سامنے بدتمیزی کی جس سے دورانِ لیکچر کلاس کا ماحول خراب ہوا۔ واقعہ کچھ یوں ہوا۔
میرا لیکچر جوبن پر تھا دروازے سے ایک شخص بغیر اجازت اندر آگیا اور کہنے لگا ایک اعلان کرنا ہے۔ میں نے کہا لیکچر ختم ہوگا پھر آجائیے گا میرے لیکچر کا ٹیمپو ٹوٹ جاتا ہے اس شخص نے بحث شروع کر دی اور مجھے ہی کہنے لگا کہ آپ نے اتنا وقت بحث میں ضائع کر دیا ہے اتنے میں اعلان ہو جانا تھا۔ پھر پنجابی میں اپنے ساتھی کو باہر سے آواز دی "آ تو اعلان کر"۔ 5-7 لوگ تھے۔ میں نے انہیں دروازے پر روکنے کی کوشش کی اور احتراماۤ کہتا رہا کہ لیکچر کے بعد آجانا۔ بحث و مباحثہ کے بعد وہ رخصت ہوگئے۔ مجھے ایک لمحے کے لیے لگا کہ میں پاکستان کی نمبر 1 یونیورسٹی میں نہیں بلکہ محلے کے کسی ٹیوشن سینٹر میں پڑھا رہا ہوں جہاں کوئی بھی ساجھا ماجھا اٹھ کر اعلان کرنے آجائے گا۔
یونیورسٹی ڈیپارٹمنٹس انتہائی محنت سے قابل اساتذہ ڈھونڈتے ہیں۔انٹریو کرنا، اس میں انتخاب کرنا ایک مشکل عمل ہوتا ہے۔ پڑھانا میرا شوق ہے اور انٹرنیٹ پر بھی 1000 سے زیادہ وڈیوز ریکارڈ کر چکا ہوں۔مجھے انٹریو کے دوران کچھ ڈائریکٹرز نے کہا کہ آپ کے 18 لاکھ فالورز ہیں آپ یہاں پڑھانے سے بھی بڑا کچھ کر سکتے ہیں۔ میں نے کہا میں 50 بچوں کو ٹرین کر کے زیادہ بڑے مقاصد حاصل کر سکتا ہوں۔ اس وقت تقریبا 400 بچہ ہر ہفتے میرے ساتھ مختلف ڈیپارٹمنٹس میں لیکچر لیتا ہے۔ اور یہ مجھے اکثر لیکچر کے دوران خلل اندازی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ سمیسٹر میں کسی کارکن نے کسی طالب علم کے نمبر بڑھانے کی سفارش بھی کی تھی جسے میں نے اگنور کر دیا کہ یہ سفارشات آتی رہتی ہیں۔ لیکن آج جمیعت کے ہتک آمیز رویے نے مجھے یہ تحریر لکھنے پر مجبور کیا۔ اگر جمیعت اساتذہ کے ساتھ یہی رویہ رہا، خاص کر وزٹنگ نوجوان اساتذہ کے ساتھ تو انکا پڑھانے کا جذبہ ویسے ہی ختم ہوتا نظر آئے گا۔
اس واقعہ کا میرے طلباء پر گہرا نفسیاتی اثر ہوا ہے۔ کیا یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ اس سارے واقعے کو دیکھنے والے کسی طالب علم پر یہ اثر ہو کہ وہ بھی کسی بھی کلاس میں گھس کر استاد کو کہے ''لیکچر بند کر اسی اعلان کرنا اے''۔
میری جمیعت کے کارکنان سے گزارش ہے۔ اساتذہ کو اس طرح حراساں کرنا بند کیا جائے۔
والسلام
منقول
* یہ کوئی نئی بات نہیں ہمارے زمانے سے جمعیت جماعت اسلامی کی طلباء اور ڈانڈا بردار ایک غنڈہ تنظیم ھے ۔ افسوس اس جماعت نے مذہب کا لبادہ اوڑھا ہوا ھے لیکن ایسا کوئی تعلیمی ادارہ نہیں جو اس کے شر سے محفوظ ہو ۔ ۔
چونکہ بے شرمی کی تو کوئی حد نہیں ہوتی
عمران خان پر پہلے عدت کے دوران نکاح کا کیس بنایا گیا جس پر پوری دنیا نے تھو تُھو کی
اب ایک محب وطن شہری شاہد یعقوب نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی کہ عمران خان کو اپنی اہلیہ بشری بی بی کے حق زوجیت کی ادائیگی کے لیے تنہائی میں ملاقات کی اجازت دی جائے
یہ محب وطن شہری نہ تو عمران خان اور نہ ہی بشری بی بی کا رشتہ دار ہے جبکہ تحریک انصاف بطور جماعت اس درخواست سے لاتعلقی کا اظہار کرچکی
ایسے میں حب الوطنی سے سرشار اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس درخواست پر کسی قسم کا کوئی اعتراض عائد نہیں کیااور فورا سماعت کے لیے بھی مقرر کردیا
آج محب وطن جج جسٹس ارباب طاہر نے سماعت کی اور بلکل مناسب نہیں سمجھا یہ پوچھنا بھی کہ بھئی آپ متاثرہ فریق کیسے اور آپکی درخواست قابل سماعت کیسے ہے ؟
محب وطن جج نے پنجاب حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے اگلے ہفتے تک جواب طلب کرلیا
یعنی اب کوئی بھی منہ اٹھا کر عدالت جایا کرے گا اور کسی کی ذاتی زندگی کا تماشہ لگانے میں ججز اور عدالتیں تماشائی کئ طرح اپنا پورا حصہ ڈالیں گے
کوئی ایکس وائی زی کسی کے حق زوجیت پر کیسے بات کرسکتااور عدالت ایسی درخواست انٹرٹین کیسے کرسکتی ؟
اگر عدالت کے پاس وقت ہے تو اسی عمران خان کی دیگر کیسز سماعت کے لیے مقرر کرے اور ہمت کرکے انصاف کرے
دین کا حکم ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں اس لیے کسی طاقتور کی خوشنودی اور وقتی فائدے کے لیے اس مقصد رشتے ساتھ یہ مت کریں ۔ ان سب محبان وطن کی بھی بہن بیٹیاں ہونگی
In the last few days, my sons’ cousins, Shahrez & Shershah (Aleema Khan’s sons), have been abducted from their homes in front of their young children & held in prison.
Their other cousin Hassan Niazi, has been held in a military prison for over a year.
The government has also threatened my sons Sulaiman and @Kasim_Khan_1999 with arrest if they travel to Pakistan to visit their father.
No state should be allowed to target families to settle political scores.