آج پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو کشمکش جاری ہے، اس کا پس منظر پچاس برس سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ ان حالات کو سمجھنے کے لیے تاریخ کے ان ابواب کو پڑھنا ضروری ہے جنہیں جان بوجھ کر نظر انداز کیا جاتا رہا۔ چار نسلوں سے ہم چیخ چیخ کر اپنی ریاست کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہے، مگر ہماری آواز کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
باچا خان نے برملا کہا تھا کہ یہ روس اور امریکہ کی جنگ ہے، یہ جہاد نہیں بلکہ فساد ہے۔ مگر نہ قوم نے اس بات پر توجہ دی اور نہ ہی مقتدر حلقوں نے۔ پھر ولی خان نے خبردار کیا کہ اگر آپ کسی کے گھر بارود بھیجیں گے تو بدلے میں آپ کو پھول نہیں ملیں گے، مگر انہیں "روسی ایجنٹ" قرار دے دیا گیا۔ اسفندیار ولی خان نے اسمبلی کے فلور پر ہاتھ جوڑ کر کہا کہ میرے بچے کو کارتوس اور کلاشنکوف نہیں، قلم دیا جائے؛ اسے خودکش جیکٹ نہیں، اسکول بیگ دیا جائے۔ مگر انہیں "امریکی ایجنٹ" کہہ کر رد کر دیا گیا۔
لاکھوں خدائی خدمتگاروں، پختون قوم پرستوں اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے باشعور لوگوں نے اپنی جان و مال کی قربانیاں دے کر ریاست کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ تشدد کا راستہ تباہی کی طرف لے جاتا ہے، مگر افسوس کہ آج تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔
آج جو حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں، یہ کسی ایک دن یا ایک واقعے کا نتیجہ نہیں۔ ہم نے جو بویا تھا، آج وہی کاٹ رہے ہیں۔ انتہاپسندی کے بیج بوئے گئے، نفرت کو ہوا دی گئی، اور پوری ایک نسل کو ذہنی طور پر جنگ اور تشدد کے بیانیے کے سپرد کر دیا گیا۔ اگر خدانخواستہ یہ آگ آج دوبارہ بھڑک اٹھی تو پھر یہ کسی سرحد، کسی قومیت اور کسی ریاست کی تمیز نہیں کرے گی۔
ہم آج بھی یہ مؤقف دہراتے ہیں کہ ہماری قوم بحیثیت مجموعی امن پسند ہے۔ جو جنگ لڑی جا رہی ہے، وہ پاکستان اور افغانستان کے عوام کی جنگ نہیں بلکہ عالمی قوتوں کی جنگ ہے، اور اس کے لیے اس خطے کو برسوں سے میدان بنایا جاتا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان میں قائم حکومت واقعی عوام کی مرضی کی نمائندہ ہے؟ کیا پاکستان اور خصوصاً پختونخوا میں بیٹھی حکومتیں حقیقی معنوں میں عوام کی رائے سے وجود میں آئی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ان حکومتوں کے قیام میں عوامی منشا سے زیادہ دیگر قوتوں کا کردار نمایاں رہا ہے۔
میں آج بھی دونوں اطراف کے مقتدر حلقوں سے یہی گزارش کروں گا کہ جو بھی پالیسیاں بنائی جائیں، ان میں عوام کی رائے کو مقدم رکھا جائے۔ سرحد کے دونوں جانب کے عوام جنگ نہیں چاہتے، وہ امن، روزگار، تعلیم اور باعزت زندگی چاہتے ہیں۔
اگر آپ خود کو مسلمان کہتے ہیں تو اپنی مسلمانی کی خاطر امن کو ترجیح دیں۔ اگر آپ پختون ہیں تو پختونولی کی روایات کو یاد رکھیں، جن کی بنیاد عزت، رواداری اور جرگے کے ذریعے مسائل کے حل پر ہے۔ اگر آپ افغان ہیں تو افغانیت کا تقاضا بھی امن ہے، اور اگر آپ پاکستانی ہیں تو پاکستانیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اپنے ہی لوگوں کو جنگ کی آگ میں نہ جھونکا جائے۔ جنگ کبھی کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں بنی۔
میں اپنی قوم سے بھی یہی کہوں گا کہ اس وقت میرے بس میں جو ہے، میں وہ کر رہا ہوں۔ اگر اس سے بڑھ کر کچھ کر سکتا تو ضرور کرتا۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ہوش، صبر اور شعور کا دامن نہ چھوڑیں اور نفرت کے بیانیے کا حصہ نہ بنیں۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
@Marymqamar Aur mashaAllah mere waly aise thy k agar mey kehta k mey bemar hoon galla kharab haii tu aisa lagta tha k mey school k class mey nahii kesii mandii mey kadda hoon 😤💯.
حکومت پاکستان/شہباز شریف کا ٹرمپ کی غزہ پیس بورڈ کا ممبر بننے کی دعوت قبول کرنے کو مسترد کرتے ہیں،یہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کیطرف پیش قدمی ہے،ٹرمپ کے دائیں ہاتھ پر دہشت گرد نیتن یاہو اور بائیں ہاتھ پر شہباز شریف بیٹھے ہونگے،یہ اقصی،غزہ اور فلسطین سے بے وفائی ہے ،اقبال اور قائد کی فلسطین پالیسی سے انخراف ہے ،پاکستان رائٹس موومنٹ، پاک فلسطین فورم اس کو مسترد کرتی ہے،اس کی مزاحمت کریں گے۔
سیاسی جماعتیں،علماء، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اس امریکی غلامی، اسرائیل نوازی کیخلاف اٹھ کھڑےہوں۔
@Pak_PalForum
@khattak_Zalanda Mojhe ek dafa k school k bahir ek student kehne laga abhii tu sir ap blkl theak thak haii pata nahii exam hall mey q فرعون kii rooh ajatii haii ap mey 😂.
@SultaneMomina Kabhii private school k teachers se koii poch ly k onka kya haal hota hain.
Agar bachy ka check and balance nahii hoga tu wo nahii padhta💯.