خیبر پختونخوا میں آئین و قانون اور عدالتیں کہاں ہیں؟
صوبائی وزیر فضل شکور کو اغوا ہوئے ایک مہینہ مکمل ہو چکا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سواتی اور پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر کو جبری طور پر لاپتہ کیے ہوئے تیرہ دن گزر چکے ہیں۔ کیا اس صوبے میں کوئی عدالت، کوئی قانون یا کوئی آئینی حق باقی ہے؟ شہباز شریف صاحب! یہ شرمناک ہے،آپ اور آپ کے سرپرستوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ نظرئیے /مزاحمت کو اس طرح کے ننگی جبر سے ختم نہیں کیا جاسکتا،دہشت گردی کے خلاف جنگ اور معیشت اور امن کی جنگ منتخب حکومت کو ختم کر کے اور عوام کے منتخب نمائندوں کو جبری طور پر لاپتہ کر کے نہیں جیتی جا سکتی۔
قانون صرف غریب اور کمزور کے لیے؟
عوام کے ووٹوں پر پلتے آئے اب عوام کے پیٹ پر لات بڑے پراعتماد طریقے سے مارتے ہیں کیونکہ یہ مینڈیٹ چور مسلط کئیے گئے ہیں۔
"تجاوزات ختم کرنے" کے نام پر روزانہ محنت مزدوری کرنے والے ریڑھی بانوں کے رزق پر بلڈوزر چلانا انتہا درجے کا ظلم اور انتظامی منافقت ہے۔ دوسری طرف طاقتور قبضہ مافیا اور مراعات یافتہ طبقے پر کوئی ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں کرتا۔
اگر قانون کی بالادستی قائم کرنی ہے تو شروعات طاقتور سے کریں، نہ کہ مجبور اور غریب سے۔
#FreeImranKhanAndFamily
سر جی۔ ملزمان کے چہرے اس لیے چھپائے جاتے ہیں کہ یہ قانونی ضرورت ہے۔ قانون کے تحت اس کی شناخت بھی تفتیش کا حصہ ہوتی ہے جب وکٹم/گواہوں سے کہا جائے گا کہ وہ شناخت کرے وہی بندہ ہے ؟
اگر اس کا چہرہ پولیس سوشل میڈیا ٹی وی پر دکھائے گی تو ملزم کا وکیل اس کا فائدہ اٹھا سکتا ہے کہ گواہوں نے اس کی تصویر سوشل میڈیا پر دیکھی ہے لہذا یہ گواہی دے رہے ہیں ورنہ انہیں علم نہ تھا ۔ ہاں اگر “سوشل میڈیا انصاف” کرانا ہے جیسے ملتان اور اسلام آباد میں سی سی ڈی نے کیا ہے تو پھر ویڈیو/تصویر دکھا دیں۔ اگر قانونی انصاف کرنا ہے تو پھر شناخت کے لیے فیس یہاں blur کرنا ضروری ہے۔
کمال ہوگیا مریم صاحبہ ۔۔۔ ایک شخص نے قانون ہاتھ میں لیا ۔۔ پولیس نے اسے قانون کے تحت گرفتار کرلیا یہاں تک سب درست اور قابل تحسین ہے لیکن اسکے بعد جو آپ نے کیا وہ اور جو اس غریب انسان سے کروایا وہ دونوں کام قابل افسوس ہیں ۔۔۔ تھانے کے اندر ایک شخص سے ویڈیو بنوائی جارہی ہے پہلے سے سیٹ ماحول میں اس ملزم کو لاکر تھپڑ لگوائے جاتے ہیں ۔۔۔ اور باقاعدہ اسکی وڈیو بناکر وزیراعلی کو بھیجی جاتی ہے اور وہ موصوفہ اسے ٹوئیٹ کرکے داد وصول کرنے کا آرزو رکھتی ہیں ۔۔۔ قانون کی خلاف ورزی کروا کر آپ کیا پیغام دے رہی ہیں ۔۔ ؟ کیا لوگ اسی طرح ایک دوسرے سے انتقام خود لیں ؟ قانون اور عدالت فیصلے نہ کرے ۔۔؟
Is vigilante justice now official policy in Punjab?An assault should be punished through due process, not retaliatory slaps staged at a police station. As Chief Minister,your duty is to uphold the rule of law,not glorify revenge. the rule of law cannot be replaced by public humiliation. Shocking!!
President Donald Trump played a historic role in advancing peace between Azerbaijan and Armenia at the Washington Peace Summit he hosted on August 8, 2025.
In recognition of his outstanding contribution to the peace process, Azerbaijan and Armenia jointly nominated President Trump for the Nobel Peace Prize at my initiative.
We sincerely hope that President Trump’s historic efforts to secure lasting peace in our region will receive due recognition in this year’s Nobel Peace Prize decision.
@realDonaldTrump@WhiteHouse@NobelPrize
Two parties that benefitted from Form 47 have set up a committee for electoral reforms.
An African proverb I read yesterday says: if the judge sells meat, goats will not get justice.
https://t.co/a3w4M11iky
اب وزیر مکرم صاحب ذرا یہ بتائیے کہ ساڑھے 3 سو کی اسمبلی میں 37 سیٹیں جیت کر اقتدار پر قابض ہونے والوں کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے۔۔۔
چور اور ڈاکو کی سزا شریعت میں کیا ہے جس نے 25 کروڑ عوام کا حق حکمرانی پر ڈاکہ ڈالا اور مینڈیٹ چوری کیا؟؟
ٹرمپ جن کے ہاتھوں سے فلسطینیوں کا خون ٹپک رہا ہے اس کو امن کا پیامبر کہنا اور نوبل انعام کے لیے بار بار نامزد کرنے کے بار میں شریعت کیا کہتی ہے؟؟؟
فلسطینیوں کے قاتل جینوسائیڈ کے مرتکب نیتن یاہو کے ساتھ ٹیبل شریک کرنے کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟؟
اقبال نے شاید اس کیلئے کہا تھا
احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسر
تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پازند
Happy Birthday, to my brother, mentor and leader Imran Khan.
A leader imprisoned, but never defeated.
A voice silenced, but heard by millions.
A man in chains, whose spirit remains free.
May this be your last birthday behind bars.
Pakistan awaits you. 🇵🇰
#HappyBirthdayImranKhan
Supporters of jailed former Pakistani prime minister Imran Khan have launched a long march towards Islamabad, demanding his release.
Thousands gathered in Khyber Pakhtunkhwa, where Khan’s Pakistan Tehreek-e-Insaf party governs, after talks to prevent the protest stalled.
Pakistan's finest cricketer and one of the game's all-round greats, he led the country to World Cup glory in 1992 🏆
The legendary Imran Khan turns 74 today
Leaving all other issues and much noise aside, the primary reason for the failure of the talks around 3am this morning between the government team and the PTI-TTAP team was the following: the PTI-TTAP team stood firm on its principled position that anti-terorrism actions in KPK would be based on agreement between the federal government and the KPK government and would be framed on the basis of consultation with, and the buy-in of, the different political parties represented in the KPK assembly. This was not acceptable to the government team that insisted that all actions unilaterally initiated by it would have to be owned by the provincial government. The PTI-TTAP team was clear that we have zero tolerance for terrorism and are committed to rooting it out. We also have a clear position against so-called collateral damage in the form of innocent lives and internal displacement of the local population. Policies and actions aimed at fighting terror must have the support of the local population and be based on ground intelligence. The wisdom provided by the jirga held in the KPK assembly of all the political and tribal notables of the province, including the merged districts, must be heeded. This was not acceptable to the federal government.
یہ فراڈ الزامات ہیں۔۔۔ناکامی کا ملبہ صوبائی حکومت پر ڈالنے کا پہلے سے طے شدہ منصوبہ ہے،ایمرجنسی/گورنر راج لگانے کی پہلے سے ترتیب شدہ سکرپٹ ہے۔۔۔دہشتگردی کیخلاف سب سے زیادہ قربانیاں خیبر پختون خوا کے عوام،پولیس اور حکومت نے دی ہیںاور ابھی تک دے رہی ہیں،خیر پختون خوا حکومت/پولیس دہشتگردی کیخلاف فرنٹ لائن میں ہے اور فرسٹ ڈیفنس لائن کا کردار ادا کررہی ہے ۔۔۔گزشتہ 24 سالوں میں 24 ملٹری آپریشنز اور 7 معاہدے کیوں ناکام ہوئےوفاق پہلے خیبر پختون خوا کے عوام کو اس کو جواب دے۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ حکومت پی ٹی آئی مذاکرات میں پی ٹی آئی کی طرف سے غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ مارچ کی تاریخیں مؤخر کرنے اور مارچ کے مستقبل کے حوالے سے بات چیت کے لیے صرف دو شرائط رکھی گئی ہیں: اول، عمران خان سے ملاقات؛ اور دوم، عمران خان کی بہنوں کی رہائی۔ عمران خان سے ملاقات ان کا قانونی حق ہے، جو گزشتہ ایک طویل عرصے سے بلاجواز غیر قانونی طور پر معطل ہے۔ اسی طرح عمران خان کی بہنوں کو نوآبادیاتی دور کے قانون MPO کے تحت چادر اور چاردیواری کا تحفظ پامال کرکےگرفتار کیا گیا ہے، جو ایک غیر قانونی اور بلاجواز اقدام ہے۔ اس کے باوجود اگر حکومت ان دو انتہائی ابتدائی، معمولی اور جائز مطالبات کو بھی پورا نہیں کر سکتی تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ حکومتی مذاکرات ایک ڈھونگ اور فراڈ ہے، جنہیں حکومت تاخیری حربے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ مزید برآں، حکومت اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ پی ٹی آئی پر ڈالنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ ایمرجنسی لگانے،جمہوری مارچ کو کچلنے کی اپنی غیر قانونی اقدامات کے لیے جواز تراشے۔
سہیل آفریدی کا قافلہ لکی مروت سے کرک پہنچ گیا ہے ان علاقوں میں کافی عرصے سے عصر یا مغرب کے بعد سڑک پر سفر محال ہے لیکن چار اکتوبر کی رات کے وقت اس قافلے کا کرک پہنچنا ایک غیر معمولی واقعہ ہے اگر وفاق اور صوبائی حکومت مل کر کام کریں تو ان علاقوں میں امن بحال کرنا کوئی مشکل نہیں ہے
مزاکراتی کمیٹی کو میرا بھیجا گیا ڈرافٹ یہ ہے جسے میں اپنی قوم کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہئیے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے۔ ہمارے ساتھ ریاست ہر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ یہ ہمارے ڈیمانڈز تھے، ہیں اور رہیں گے۔
ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل، قومی یکجہتی، امن و امان کے قیام اور تمام سیاسی و قومی معاملات کو باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے درج ذیل امور پر اتفاقِ رائے کیا جائے گا:
1۔وزیرِ اعظم پاکستان اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں ملک کو درپیش تمام اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات، بالخصوص زیرِ التوا امور، پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
فریقین اس امر کے پابند ہوں گے کہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے مذکورہ امور کے حل کے لیے دو ماہ کے اندر مؤثر اور قابلِ عمل پیش رفت یقینی بنائی جائے۔
2۔وزیرِ اعظم پاکستان حکومتی اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل ایک مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیں گے۔
یہ کمیٹی اپوزیشن کے ساتھ قومی و سیاسی معاملات، باہمی اختلافات اور دیگر اہم امور پر مسلسل مذاکرات کرے گی اور باہمی اتفاقِ رائے سے قابلِ عمل حل تلاش کرے گی۔ جمہوریت، سیاست، عدالت اور صحافت کی مکمل آزادی ہوگی۔
کمیٹی اپنے قیام کے بعد ایک ماہ کے اندر مذاکرات اور حل کے حوالے سے قابلِ ذکر پیش رفت یقینی بنائے گی اور اپنی سفارشات متعلقہ قیادت کے سامنے پیش کرے گی۔
3۔ جیل مینول، آئینِ پاکستان اور مروجہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو حاصل تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق بلاامتیاز فراہم کیے جائیں گے۔
ان کے علاج و معالجے کے سلسلے میں، جہاں قانوناً قابلِ اطلاق ہو، ان کے ذاتی/نامزد ڈاکٹروں کی طبی رائے، ہدایات اور مشوروں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ضروری طبی سہولیات اور علاج معالجے کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
4۔جیل مینول اور متعلقہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اپنے اہلِ خانہ، نامزد وکلاء اور مجاز/نامزد رفقاء سے ملاقات کا حق فراہم کیا جائے گا۔
ملاقاتوں کا انعقاد قانون اور جیل قواعد و ضوابط کے مطابق ہوگا۔ تاہم ملاقات کی سہولت کو کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے سیاسی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا جو قانوناً ممنوع ہوں۔
5۔عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، معمر اور بیمار قیدیوں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی جانب سے سزاؤں کے خلاف دائر درخواستوں اور دیگر قانونی درخواستوں پر آئین و قانون کے مطابق دس دن کے اندر غور کا عمل شروع/مکمل کیا جائے گا، جہاں قانوناً ایسا ممکن ہو۔
تمام مقدمات کا فیصلہ متعلقہ عدالتیں اور قانونی فورمز آئین، قانون، شفاف عدالتی طریقۂ کار اور انصاف کے اصولوں کے مطابق، بلاجواز تاخیر کے بغیر، کریں گے۔
خواتین جو سیاسی قید کاٹ رہی ہیں جن میں بزرگ یاسمین راشد اور بشری بی بی سرفہرست ہے اُن کو انسانی ہمدردی دکھاتے ہوئے جلد رہا کیا جائے۔
6۔خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مستقل و پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔
وفاقی اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرکے باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کریں گے۔
اس حکمتِ عملی پر آئین و قانون کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے عمل درآمد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔
7۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مذکورہ بالا یقین دہانیوں اور طے شدہ اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف موجودہ لانگ مارچ کو منسوخ کرنے کا اعلان کرے گی۔
تاہم اگر وفاقی حکومت طے شدہ یقین دہانیوں، مذاکراتی عمل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرے یا مذاکراتی عمل کو بلاجواز تعطل کا شکار کرے تو پاکستان تحریکِ انصاف آئین و قانون کے مطابق اپنے پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کے حق کو محفوظ رکھے گی۔
Pakistan’s total debt in first 75 years was Rs 44 trillion (till April 2022). But in only last 4 & a half years, this government has added Rs 43 trillion. Now total debt stands at 87 trillion (44 +43=87)
Great performance under Shahbaz Sharif.