پیر کے روز انشاءاللہ پشاور یونیورسٹی میں متحدہ طلباء محاذ کا عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ ہوگا ۔طلبہ کے بازیابی کیلئے انشاءاللہ ہر صورت احتجاج کریں گے
پشاور یونیورسٹی اکیڈیمیک بلاک
ایسی کہانیوں پے حیرانگی ہوتی ہے یہ سب کیسے کر لیتے ہیں ۔۔
11 اکتوبر سے ایک ہفتے پہلے اور 11 اکتوبر سے اب تک حکومت وقت کے وزرا گورنر لیڈر شپ سب نے یک زبان ہو کر پوری دنیا کو بتایا ہے ٹی وی چینلز پر پریس کانفرنسز چلیں ہیں کہ خیبرپختونخواہ میں اتنی دہشتگردی ہے اتنی دہشتگردی ہے کہ منتخب حکومت اس پر قابو پانے میں ناکام ہو گئی ہے اس لئے ہمیں مجبوری میں ایمرجنسی و گورنر راج کا اختیار استعمال کرنا پڑا
اتنے تمغے خیبرپختونخواہ کے چہرے پر سجانے کے بعد آج گورنر کے پی دعوت دے رہے ہیں کہ غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کار ، خیبرپختونخواہ میں سرمایہ کاری کریں
اب بندہ پوچھے پہلے تو سرمایہ کاری کی بات تب آئی جب یہ نظام آچکا پیلے تو بتایا گیا تھا دہشتگردی کے خاتمے کے لئے ہم آرہے ہیں
دوسری بات یہ کہ جب آپ نے خود یہ بیانیہ پھیلایا کہ کے پی دہشتگردی زدہ ہے تو اس صورت میں کیسے سرمایہ کار آئے گا ؟؟
تیسرا یا پھر چھ دنوں میں کیا دہشتگردی ختم ہو گئی ہے جو سرمایہ کار کو بلا رہے ہیں ؟؟؟
پشاور: خیبر پختونخوا میں لانگ مارچ کی نگرانی کے لیے ایکشن کمیٹی قائم، ایم این اے اقبال آفریدی کمیٹی کے سربراہ مقرر۔
کمیٹی کے ارکان میں شاہد خٹک، عبدالغنی آفریدی، مینا خان آفریدی، شفیع جان، کامران بنگش، تیمور سلیم جھگڑا، عرفان سلیم، شکیل خان، آئی ایس ایف اور یوتھ کے صدور سمیت تمام ریجنز اور اضلاع کے صدور و جنرل سیکریٹریز شامل ہیں۔
جنید اکبر اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی گرفتاری کے بعد یہ کمیٹی لانگ مارچ کی نگرانی کرے گی۔
زنجیروں میں جکڑے پی ٹی آئی کے نہتے کارکنوں کی ضمانتوں کے بعد مچلگے جمع ہورہے ہیں!!
پشاور ہائی کورٹ آئی ایل ایف کے وکلا کا بہت شکریہ ضمانت بھی دلوائی، کھانا بھی کھلایا اور دوا بھی دی، سلامت رہیں
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے اقدام کے خلاف 20 اکتوبر کو پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ہوگی۔تحریک انصاف کو چاہیے کہ وہ سماعت کی براہِ راست کوریج کے لیے بھی ایک متفرق درخواست دائر کرے، تاکہ پوری قوم دیکھ سکے کہ وفاقی حکومت عدالت میں دہشت گردی کو بنیاد بنا کر گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے حق میں کیا دلائل دیتی ہے، اور یہ اقدام کیوں اور کن وجوہات کی بنا پر ضروری قرار دیا گیا۔
مریم نواز، طلال چودھری، خواجہ آصف، عظمیٰ بخاری کی تنقید کے بعد مولانا فضل الرحمان کا لاہور سے جواب، پوچھ رہے ہیں کہ نواز شریف اور مریم نواز کے پرانے بیانات کس کھاتے میں جائیں گے ؟؟؟ ویسے یہ پریس کانفرنس قومی میڈیا پر نہیں چل رہی
میرا آج بھی وہی مطالبہ ہے انشاءاللہ آرٹیکل چھ ہی لگےگ زہنی مریض پے جب تک زندہ ھین سچ کا ساتھ دیں گئےساری فیملی بھی اٹھا کے مار بھی دے پیچھے نہیں ہٹنے والا
خالد خورشید عدالت میں پیش
پولیس کیجانب سے خالد خورشید کے 30 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا۔ عدالت نے پولیس کی استدعا کو مسترد کردیا۔ خالد خورشید کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم۔
جو ذمہ داری عائشہ گلالئی کو دیگئی تھی ، وہی ذمہ داری اس بار مریم نواز اور عظمی بخاری کو دیگئی ہے ، لیکن فلم وہی ، اسکرپٹ وہی ، ہدایت کار وہی ، بس کردار اپڈیٹ ہوگئے، نئے فنکاروں اور اداکاروں کو مبارک ہو۔۔
جو باتیں میں آپ کو تین سال سے بتا رہا ہوں، وہ آج سب کہنے اور ماننے پر مجبور ہیں۔
حل صرف عوامی انقلاب ہے۔ اور افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عوامی انقلاب اسی وقت آتا ہے جب بھوک گھر کے دروازے توڑ کر داخل ہوتی ہے۔
اللہ کامیاب کرے۔ کوشش پوری کریں۔ کامیابی ناکامی اللہ کے ہاتھ میں ہے- کم از کم ایک بھرپور کوشش ہونی چاہیئے۔ اللہ آپکا حامی و ناصر ہو۔
میں آپکا شکریہ ادا کرتا ہوں اس سارے کرائسس میں آپ ورکرز کے ساتھ جڑے رہے۔ روز بات کی۔ امید دی۔
سپہ سالار کے بارے میں مولانا صاحب کے الفاظ نے ہر پاکستانی کا دل دکھا دیا،،(مریم نواز ٹویٹ)
مریم صاحبہ : یاد کیجئیے، کل جنرل باجوہ اور جنرل فیض پر نام لے کر آپ کے پاپا نوازشریف کی تنقید سے آپ محظوظ ہوتی تھیں،بلکہ لطف اندوز ہوتی تھیں،،
گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ شدید ناراض ہیں۔ یہ وہی سیاستدان ہیں جو ماضی میں کئی دہائیوں تک اسٹیبلشمنٹ کے سہارے سیاست کرتے رہے۔ ان کا یہ حال تھا کہ اپنی سیاسی جماعت کے ہوائی ٹکٹ بھی اسٹیبلشمنٹ سے بنواتے تھے۔ ایسے سیاستدانوں کو آج دوسروں پر انگلیاں اٹھانا زیب نہیں دیتا۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن غیر شائستہ زبان اور الزام تراشی کی بجائے دلائل اور حقائق کی بنیاد پر بات ہونی چاہیے، وزیر داخلہ محسن نقوی کی لاہور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو
اصل توجہ طالب معاملات؛
تین سال سے زائد عرصے سے عمران خان جعلی کیسز میں سزا بھگت رہا ہے۔ ۹ مہینے سے عمران خان کو غیر انسانی قیدِ تنہائی میں ڈال رکھا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اُن کو ان کا بنیادی علاج کا حق نہیں دیا جارہا۔ ان کی اہلیہ، بہنوں، رشتہ داروں کو ناجائز قید کا سامنا ہے۔
پاکستان کی واحد، عوامی منتخب کردہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر معطل کیا گیا جس کی واپسی کے منصوبوں کے متعلق ان کے آرمی چیف سے لے کر وزراء تک کے بیانات موجود ہیں۔ آج اسی کے بہانے پی ٹی آئ کو کرش کیا جارہا ہے۔
۴ کروڑ عوام کا منتخب نمائندہ، ان کا وزیر اعلی لاپتہ اور حبس بے جاء میں ہے۔ صوبائ اسمبلی کے سپیکر سے لے کر وزراء، منتخب نمائندگان، ایک سابق وزیر اعلی اور سیاسی کارکنان اغوا ہیں۔ ان کے عیال کے جان و مال غیر محفوظ ہیں۔
خیبر پختونخواہ کے عوام کی بلی چڑھا کر بیرونی آقاؤں کی خوشنودی مطلوب اور یہاں کی عوام اور ان کے وسائل کا سودا کیا جارہا ہے۔
عاصم منیر اور اس کے حواری ۲۵ کروڑ عوام کے مجرم ہیں۔ ان کی زندگیوں ان کے ملک اور اس کے وسائل کا سودا کرکے اپنی طاقت کو دوام دے رہے ہیں۔ ملک میں آئین و قانون اور بنیادی حقوق معطل ہیں اور بدترین فسطائیت کا دور ہے۔
باقی مافیہ کی تکلیف اور چیخ و پکار بھی بے معنی نہیں ہے، اکتوبر کا مہینہ ہے اور ایک مظلوم کا بہیمانہ قتل چار سال سے انہیں سکون کی نیند سونے نہیں دیتا میں نے تو کہا تھا کہ یہ خون تیزاب بن کر تمہاری رگوں میں اترے گا۔