بعض لوگ گوجرانوالہ حملے میں بہت زیادہ نقصان ہونے کی جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں۔ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ مگر پاکستان کی طرف سے کل کے حملوں کا جواب نہ دیے جانے کی وجہ سے انڈیا نے پاکستان کو توجہ دلوانے کیلیے چھوٹا موٹا ضرور کیا ہے۔
تاریخ یہ چہرے یاد رکھے گی جنہوں نے ناانصافی پر مبنی فیصلہ دے کر انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا دی ہے۔ کیا انہیں موت اور یوم حساب بھی بھول چکا ہے کیا یہ اب اپنے رب سے بھی نہیں ڈرتے؟
آج ایک بار پھر بھارت کی جانب سے پاکستان کے ایک اور شہر گوجرانوالہ کے قریب حملہ کیے جانے کی واحد وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے بھارت کے گزشتہ روز کے میزائل حملوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔
یہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی سنگین ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
فوری طور پر ایک نیا آرمی چیف مقرر کیا جانا چاہیے — اور اس کے لیے کسی پیشہ ور اور باصلاحیت فوجی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
یہ فضول بات ہے کہ جنگ کے دوران جرنیل تبدیل نہیں کیے جاتے۔ شخصیات نہیں ادارے اہم ہوتے ہیں۔ اداروں کا ڈسپلن اہم ہوتا ہے۔ پاک فوج بالکل بھارت کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ بزدل نہیں، کسی شیر دل پروفیشنل سولجر کو آرمی چیف بنایا جانا چاہیے۔ ایسا سولجر جو دشمن پر حملہ کرنے کی ہمت رکھتا ہو نہ کہ اپنے ہی شہریوں کے گھروں پر حملہ کرنے کی۔
یہ نہایت ضروری ہے کہ سویلین قیادت آگے بڑھے اور ملک کے تحفظ کی اپنی ذمہ داری پوری کرے۔
اب اقدام کا وقت ہے — یا پھر کبھی نہیں۔
D چوک پر تو تحمل کا درس نہیں دیا گیا جناب سے۔ دشمن نے پاکستان کے اندر 4 شہروں میں کئی مقامات پر درجنوں شہریوں کو نشانہ بنایا اور یہ نمونے مودی سے تعلق نبھاتے ہوئے تحمل کی تلقین کرتے رہے۔ شاباش