Pakistan has done for the world what no other powerful nuclear country could do. Pakistan not only saved 90 million lives but also protected an entire civilization and stopped World War III. Thank you Pakistan 🇵🇰
Israel is bombarding, literally bombarding, two Middle East capitals, Beirut and Tehran, killing 100s of civilians, and yet the US and UK media continue to portray Iran as the threat to the region.
Israel has nukes, but Iran is the nuclear threat.
We live in Orwellian times.
🇪🇸 Spainish PM on Gaza —
“Ladies and gentlemen, repeat after me, what is happening in Gaza is a genocide”
🇪🇸 Spain to Trump when asked to use their bases to attack Iran —
“Go Fück Yourself” 🔥
Spain teaching the world how to stand for Humanity. Viva España 🫡
72-year-old Muhammad Aziz has spent more than 43 years reading books every day — 6–8 hours a day. According to him, he has read more than five thousand books in his lifetime.
His shop is right on the street. The books are open, without locks or security.
When asked if he is afraid that the books will be stolen, Muhammad simply smiled and replied with a well-known Arabic proverb:
"A reader does not steal, and a thief does not read."
This phrase encapsulates a whole world.
A quiet faith in people, respect for knowledge, and the feeling that a book chooses its own reader.
Sometimes it seems that such people are the last guardians of a calm, unhurried world where trust is still more important than locks.
مشتاق صاحب نے اس معاملے پر موضع موریاں میں جاکر مقامی افراد کیساتھ اظہار یکجہتی کیا ۔ دعا ہے کہ علاقے کے عوام کا یہ مسئلہ حل ہو۔ مشتاق بھائی کا بہت بہت شکریہ دلی دعائیں
سینیٹر مشتاق موضع موریاں کڑی روڈ پہنچ گئے جہاں ملکیتی زمین پر تعمیر شدہ لوگوں کے ایک ھزار کے قریب گھروں کو بغیر نوٹس مسمار کرنے کا عمل شروع کرنے کی کوشش کی ہے
اھم پہلو یہ ھے کہ سی ڈی اے اپنے ھی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نجی ھاوسنگ سوسائٹی کے ساتھ مل کر زمین ڈویلپ کررھی ھے سی ڈی اے کا بنیادی مقصد کم آمدنی والے طبقہ کو رھائشی سہولیات فراھم کرنا ھے جبکہ ترقیاتی کام کے بعد یہ پلاٹ کروڑوں روپے کی مالیت کے ھوں گے ۔
@AzazSyed
ڈاکٹر ضمیر اختر نقوی مرحوم سے ایک بار ایک ٹی وی پروگرام میں سوال کیا گیا کہ آپ ہر وقت اہل بیت اطہار سلام اللہ علیہم کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہیں ، آپ کی طرف سے کبھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی شان میں کچھ بیان نہیں ہوتا ؟؟
ڈاکٹر ضمیر اختر نقوی صاحب نے فی البدیہ جواب دیا تھا کہ ہم سے تو اہل بیت رسول ﷺ کے فضائل ہی مکمل نہیں ہو رہے
جب ہو جائیں گے تو پھر کسی اور کے بارے میں بات کریں گے :
مجھ سمیت لاکھوں لوگوں نے یہی گمان کیا کہ ڈاکٹر ضمیر اختر نقوی صاحب محض خطیبانہ لحاظ سے ایسی بات کر رہے ہیں
مگر درحقیقت ڈاکٹر ضمیر اختر نقوی صاحب نے سو فیصد درست فرمایا تھا ،
آج اپنے کسی کام سے ایک لائبریری میں جانا ہوا تو وہاں پر ڈاکٹر ضمیر اختر نقوی صاحب کی کتابیں نظر آئیں ، سب کی سب شان اہل بیت رسول ﷺ پر تھیں اور جب ان کتابوں کو گنا تو یہ 42 کتابیں تھیں ، بڑی حیرت ہوئی کہ ڈاکٹر ضمیر اختر نقوی صاحب ماشاء اللہ کیا بلند پایہ عالم تھے اور وہ محض زبانی کلامی نہیں ، واقعی زندگی بھر اہل بیت رسول ﷺ کے فضائل و مناقب بیان کرتے رہے
حیات مہلت دیتی تو اور بھی لکھتے،
ایک درویش طبع آدمی کہ جس کا لوگ تمسخر اڑایا کرتے تھے ،کتنا بڑا علمی ذخیرہ چھوڑا گیا ہے ؟؟