اس پھدو کو لگتا تھا جی ایچ کیو والی پریزینٹیشن کو رٹا لگا کر ٹرمپ کو سنانے سے اگلے سال 16 ارب ڈالرز کی معدنیات بیچوں گا اور ملک کا سارا قرضہ اتار دوں گا۔
بھارت شریک ہے لیکن پاکستان کو امریکہ نے منرلز کانفرنس میں شرکت کی دعوت ہی نہیں دی۔
یہ رہی سواتی کی پریس کانفرنس جس سواتی رو پڑا تھا۔۔
فوجیوں کا گندی وڈیو سنٹر پہلے سواتی جیسوں کی وڈیو بناتا تھا اب بلوچوں کی بنا رہا ہے۔۔۔
شاید یہ رات کو اپنی ماں باپ کی کاروائی کی وڈیو بھی بناتے ہوں گئے۔۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر فوج کے ہاتھوں تباہ شدہ بدحال ملک لیبیا کے دورے پر پہنچ گیا ھے
بہت جلد لیبیا کے مظلوم عوام پر پاکستانی فوجی طریقے سے قہر ڈھایا جائے گا، ڈکٹیٹر عاصم یزید کے سائے لیبیا کو بھی نگل جائیں گے
یہ کھکھلاتے اور قہقہے لگاتے مولانا حضرات بیویوں کو نکاح خارج کروانے کا مشورہ تو دے رہے ہیں مگر کیا یہ بھی بتائینگے کہ اُنکے شوھروں کو جبری گمشدہ کرنے والوں کے بارے میں انکا مذھب کیا کہتا ہے؟
بلوچستان کا وزیر تعلیم ایک ٹریکٹر ڈرائیور ہے ان کا بھائی نااہل ہوا تو نہ صرف انہیں جتوایا گیا بلکہ انہیں وزیرتعلیم بنا دیا گیا انہوں نے بلوچستان کی تعلیم کا بیڑہ غرق کر دیا ! بایزید خروٹی ۔۔
”میں اپنا قصور پوچھتا ہوں ، کوئی مجرم ہوں؟ منشیات فروش ہوں؟ بھتہ خور ہوں؟ قبضہ مافیا ہوں؟ اس سب کے تو آپ سرپرست ہیں، میں تو ایک پرامن سیاست کرتا ہوں“۔
رات گئے بغیر وارنٹ اور لیڈی پولیس گھر کے دروازے توڑ کر کراچی پولیس اور چند نامعلوم کی جانب سے پی ٹی آئی رہنما سعید آفریدی کے گھر کی چادر چار دیواری کے تقدس کی پامالی پر گفتگو
یاد رہے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں کی کراچی آمد کے موقع پر سعید آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، سٹی کورٹ نے ان تمام رہنماؤں کی عبوری ضمانت خارج کردی تھی، سندھ ہائیکورٹ سے ضمانت حاصل نہ کرلیں کئی دن تک سندھ ہائیکورٹ کے اطراف میں پولیس موبائل گرفتاری کے لیے موجود رہی۔اس وقت کوئی 170 پی ٹی آئی ورکرز/رہنما گرفتار باقیوں کے گھر چھاپے جاری ہیں۔
بچوں ہو ساتویں کلاس سے سیاسی تعلیم دیں،
انہیں بتائیں ایک ایگزیکٹو ہوتی ہے، ایک عدالت ہوتی ہے اور ایک قانون ساز اسمبلی ہوتی ہے،
یہ تینوں الگ الگ ادارے ہوتے ہیں، اگر ایک بھی کرپٹ ہو جائے تو سب کرپٹ ہو جاتے ہیں، زورین نظامانی
آج غیر آئینی عدالت نے ارشد شریف شہید کا کیس بند کر دیا گیا۔ اگر کبھی وقت بدلا۔ ہماری آواز میں اللہ نے طاقت دی تو شہید ارشد شریف کو نشان حیدر دلوانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔
جج نے اوریا مقبول جان کی کتاب یہ اعتراض لگا کر عمران خان کو نہیں بھیجی کہ یہ اردو میں ہے اور عمران خان اردو کتابیں نہیں پڑھتے
بندہ پوچھے یہ فیصلہ پڑھنے والے نے کرنا ہے یا آپ نے؟
ہمیں کہا جاتا ہے کہ جو طاقتور حلقوں کے خلاف آواز بلند کرے گا ق کردیا جائے گا
موت ایک دن آنی ہے مگر جو ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے ہیں تو کیا وہ تاقیامت زندہ رہتے
صدیق جان
یآ اللہ میاں رحم فرمائیں
پیپل پالٹی کو اسرائیل کی حکمرانی دے کر تباہ وبرباد فرمادے
اکیلے تو نے ہمیں اس امتحان کیلئے ہی کیوں چنا ہے
پیارے اللہ میاں کم ازکم کچھ نہیں تو پنجاب میں ہی پیپل پالٹی کی حکومت نازل فرمادے
بند کمروں میں بیٹھ کر کشمیر کا سودا کرنے والے جرنیل قوم کو کشمیر ڈے منانے کا چورن بیچتے رہے۔
"مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں کہ ہم کشمیر سے دستبردار ہو چکے ہیں، کشمیر سے دستبرداری قومی مفاد میں ھے"
( سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی)
#KashmirSolidarityDay
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے قوم کے نام اہم پیغام
“آٹھ فروری کو آپ کا مینڈیٹ چرایا گیا لہذا اس روز کو بطور یوم سیاہ منانے کے لیے آپ سب کو نکلنا ہو گا۔
کسانوں، مزدوروں، وکلاء اور ملک کے ہر مکتبہ فکر سے منسلک افراد کو 8 فروری کو نکل کر اپنے حق پر ڈالے گئے ننگے ڈاکے کے خلاف احتجاج کرنا ہو گا کیونکہ غلام قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا اور غلامی سے نجات کے لیے جدوجہد ضروری ہوتی ہے ۔
آٹھ فروری کو اس قوم کا مینڈیٹ چرا کر ملک کو اندھیروں میں دھکیلا گیا۔ پاکستانی قوم نے تمام تر مشکلات کے باوجود جوق در جوق نکل کر تحریک انصاف کے حق میں ووٹ ڈالا مگر آپ کے ووٹ کو پیروں تلے روند کر جمہوریت پر شب خون مارا گیا۔ ملک میں جمہوریت کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔
اوورسیز پاکستانی جمہوریت کی بحالی تک ترسیلات زر میں کمی لا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں-
جمہوریت بچانے کے لیے انصاف ناگزیر ہے، 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن کا ہمارا مطالبہ اسی لیے ہے تاکہ ان واقعات کے متاثرہ افراد اور خاندانوں کو انصاف مل سکے۔ انصاف دینے کے لیے اخلاقی جرأَت کا ہونا اہم ہے۔ جہاں اخلاقی قوت موجود ہو گی وہاں انصاف بھی ہو گا۔ ایک حقیقی لیڈر میں اخلاقی قوت موجود ہوتی ہے۔ جمہوریت کی بنیاد ہی اخلاقیات پر ہے۔ موجودہ حکومت اخلاقیات سے بالکل عاری ہے کیونکہ انھوں نے اپنے ہینڈلرز کے ساتھ مل کر تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ مار کر عوام کو ان کے نمائندگان چننے کے حق سے محروم کیا۔ اس ڈاکے کی پردہ پوشی کے لیے مسلسل جعلی اور نا مکمل پارلیمان کے ذریعے قانون سازی کی جا رہی ہے تاکہ حق اور سچ سامنے نہ آئے اور ان کے جھوٹے اقتدار کو طول ملتا رہے۔ ملک میں آئین کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں، آزادی اظہار رائے پر پابندی ہے، پیکا جیسے قوانین منظور کیے گئے ہیں تاکہ کوئی ان کی فسطائیت کے خلاف آواز نہ اٹھا سکے، الیکٹرانک میڈیا کے بعد سوشل میڈیا پر پابندی لگا کر ملک کو اربوں کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے، 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کے پر کاٹ دئیے گئے ہیں، ججز پر دباؤ ڈالا گیا اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی جا رہی ہے۔ پر امن سیاسی کارکنان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔
خفیہ اداروں کا اصل کام سرحدوں کا تحفظ اور دہشتگردی سے بچاؤ ہے، اگر وہ پولیٹیکل انجنئیرنگ اور تحریک انصاف کو توڑنے میں ہی لگے رہیں گے تو سرحدوں کا تحفظ کون کرے گا؟
بلوچستان میں دہشتگردی پنپ رہی ہے اور وہاں کے مسئلے کا کوئی سیاسی حل نہیں نکال رہا۔ بلوچستان سمیت ملک بھر میں جب تک عوامی اعتماد پر مشتمل حکومت نہیں لائی جائے گی، استحکام ممکن نہیں ہے”