Assalāmu ʿAlaikum wa Rahmatullāhi wa Barakātuh.
A blessed and beautiful Friday morning to you.
Sending Salām and blessings (Durood) upon the Holy Prophet ﷺ is such a noble act that you are not merely reciting it you are being chosen for it. Even having your voice heard in Salām and Durood is equal to being present at the blessed court of the Messenger ﷺ.
Peace and blessings be upon him and his noble family.
Let us strive to present as many beautiful flowers of Salām and Durood in the sacred presence of our beloved Master ﷺ. Send Salām and Durood yourself, and encourage your family members to do the same.
Recite with love and devotion:
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍوَّعَلَى آلِ 🥀مُحَمَّدٍكَمَاصَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌمَجِيد
اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍوَّعَلَى آلِ مُحَمَّدٍكَمَابَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌمَّجِيد🥀
I❤️
محمد ﷺ
MUHAMMAD
I❤️
محمد ﷺ
MUHAMMAD
I❤️
محمد ﷺ
MUHAMMAD
I❤️
محمد ﷺ
MUHAMMAD
I❤️
محمد ﷺ
MUHAMMAD
I❤️
محمد ﷺ
MUHAMMAD
I❤️
محمد ﷺ
MUHAMMAD
I❤️
محمد ﷺ
MUHAMMAD
I❤️
محمد ﷺ
MUHAMMAD
I❤️
محمد ﷺ
MUHAMMAD
صلوا على خير البشر محمـــــد ﷺ 💞
صلوا على خير البشر محمـــــد ﷺ 💞
صلوا على خير البشر محمـــــد ﷺ 💞
صلوا على خير البشر محمـــــد ﷺ 💞
صلوا على خير البشر محمـــــد ﷺ 💞
صلوا على خير البشر محمـــــد ﷺ 💞
I admire Muhammad ﷺ
My hero Muhammad ﷺ
My role model Muhammad ﷺ
My guide Muhammadﷺ
My motivation Muhammadﷺ
My teacher Muhammadﷺ
My leader Muhammadﷺ
My Prophet Muhammad ﷺ
I follow Muhammad ﷺ
I love Muhammad ﷺ
We are Ummah of Muhammad ﷺ🤎
بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے قسم اٹھائی تھی کہ شادی کرنے سے پہلے سو آدمیوں سے مشورہ کروں گا۔ چنانچہ اس نے ننانوے آدمیوں سے مشورہ کیا، ایک باقی رہ گیا۔
اس نے عزم کیا کہ کل صبح جو سب سے پہلے آدمی ملے گا، اس سے مشورہ کروں گا۔
صبح ہوتے ہی گھر سے نکلا تو سب سے پہلے جو شخص ملا وہ مجنون اور پاگل تھا، بچوں والے لکڑی کے گھوڑے پر سوار تھا اور اسے گلیوں میں ادھر اُدھر دوڑا رہا تھا۔
وہ آدمی بڑا پریشان اور غمگین ہوا کہ پاگل سے کیا مشورہ کروں؟ مگر اس نے پختہ عہد کیا ہوا تھا کہ سب سے پہلے ملنے والے ہی سے مشورہ کروں گا۔
چنانچہ وہ اس مجنون کے قریب ہونے کی کوشش کرنے لگا تو اس مجنون نے کہا: میرے گھوڑے کے آگے سے ہٹ جائیں، کہیں گھوڑا تمہیں لات نہ مار دے۔
اس آدمی نے کہا کہ میں نے تم سے ایک مشورہ کرنا ہے، ذرا اپنا گھوڑا روک دیں۔ تو اس نے روک دیا۔ پھر اس نے اپنی قسم کا سارا قصہ سنایا اور اپنا عزم بھی بیان کیا اور پوچھا کہ آپ کا اس بارے میں کیا مشورہ ہے؟
مجنون نے کہا: عورتیں تین قسم کی ہیں۔ ایک وہ جو ساری تیرے لیے ہے، دوسری وہ جو ساری کی ساری تیرے لیے مضر ہے، تیسری وہ جو مضر و نافع دونوں ہو سکتی ہے۔ پھر مجنون نے کہا: گھوڑے سے بچئے، کہیں تمہیں لات نہ مار دے، اور چلا گیا۔
اس شخص کو حیرت ہوئی کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ اس نے اس کی تفصیل یہاں نہیں کی۔ چنانچہ پھر اس کے پیچھے بھاگا اور کہا: ٹھہریں، مجھے اپنی بات کا مطلب تو سمجھا کر جائیں۔
اس نے کہا: جو عورت ساری تیرے لیے ہے وہ کنواری عورت ہے، اس کا دل اور محبت تیرے لیے ہے کیونکہ تیرے علاوہ کسی اور کو نہیں جانتی۔ جو عورت تیرے لیے مضر ہے وہ شادی شدہ، صاحبِ اولاد ہے۔ وہ مال تیرا کھائے گی اور روئے گی اپنے پہلے خاوند پر۔
اور جو عورت تیرے لیے نافع اور ضرر دونوں کا احتمال رکھتی ہے وہ بے اولاد شادی شدہ عورت ہے۔ پس تو اگر اس کے پہلے خاوند سے بہتر ثابت ہوا تو وہ تیرے لیے نافع ہے، ورنہ وہ تیرے لیے مضر ہے۔
پھر وہ چلا گیا تو اس آدمی نے کہا: آپ کا کلام تو داناؤں جیسا ہے اور عمل مجنون جیسا ہے۔
تو مجنون نے جواب دیا کہ بنی اسرائیل نے مجھے قاضی بنانا چاہا، میں نے انکار کیا مگر انہوں نے اصرار کیا، تو میں نے اس معاملے سے جان چھڑانے کے لیے اپنے آپ کو مجنون بنایا۔
ایک یہودی روس چھوڑ کر اسرائیل کیلیے روانہ ہوا۔۔۔ ائیر پورٹ پر اسکے سامان کی تلاشی لی گئی تو لینن کا ایک مجسمہ بر آمد ہوا۔ انسپکٹر نے پوچھا: یہ کیا ہے۔۔؟
یہودی نے کہا: جناب آپ نے غلط سوال کیا ہے۔۔۔آپ کو کہنا چاہیئے تھا یہ کون ہے۔۔؟
یہ لینن ہے، جس نے اشتراکیت کے ذریعے روسی قوم کی خدمت کی، میں ان کا بڑا فین ہوں اس لیے یادگار کے طورپر انکا مجسمہ اپنےساتھ لےجارہا ہوں، روسی انسپکٹر بڑا متاثرا ہوا اور کہا:
جاؤ ٹھیک ہے۔۔
یہودی روس سے تل ابیب ائر پورٹ پر اترا تو ان کے سامان کی تلاشی لی گئی اور وہی مجسمہ برآمد ہوا تو انسپکٹر نے پوچھا : یہ کیا ہے۔۔؟
یہودی: آپ کا سوال غلط ہے، آپ کو کہنا چاہیے تھا کہ یہ کون ہے۔۔؟
یہ مجرم لینن ہے۔۔۔یہی وہ پاگل ہے،جس کی وجہ سے میں روس چھوڑنے پر مجبور ہوا۔۔!!
اس کا مجسمہ یادگار کے طور پر میں اپنے ساتھ لایا ہوں، تاکہ صبح و شام اس کو دیکھ کر اس پر لعنت بھیج سکوں۔۔
اسرائیلی انسپکٹر متاثرا ہوا اور کہا: جاؤ ٹھیک ہے۔۔
یہودی اپنے گھر میں داخل ہو تا ہے اور مجسمہ نکال کر گھر کے ایک کونے میں سنبھال کر رکھتا ہے۔۔
خیریت سے اسرئیل پہنچنے پر اس کے رشتہ دار ملنے آتے ہیں اور اس کا ایک بھتیجا بھی آتا ہےجو اس سے پوچھتا ہے: یہ کون ہے۔۔؟
یہودی چھوٹے سے کہتا ہےکہ تمہارا سوال غلط ہے، یہ کہنا چاہیے تھا کہ یہ کیا ہے۔۔؟
یہ دس کلو سونا ہے اس کو بغیر کسٹم کےلانا تھا،میں نے اسکا مجسمہ بنوایا اور بغیرکسی ٹیکس اور کسٹم کے لانے میں کامیاب ہوگیا۔۔
یہودی ایسے ہوتے ہیں😁
(منقول)
ایک امریکی جس نے صدر صدام حسینؒ کی پھانسی کے عمل میں شرکت کی، کہتا ہے کہ وہ آج تک اس واقعہ پر غور و فکر میں ہے اور اکثر یہ پوچھتا ہے کہ اسلام موت کے بارے میں کیا کہتا ہے۔
اس نے کہا: صدام ایسا شخص ہے جو احترام کے لائق ہے۔
رات دو بجے (گرینچ کے مطابق) صدام حسین کی کوٹھڑی کا دروازہ کھولا گیا۔
پھانسی کی نگرانی کرنے والے گروہ کا سربراہ اندر آیا اور امریکی پہریداروں کو ہٹنے کا حکم دیا، پھر صدام کو بتایا گیا کہ ایک گھنٹے بعد اسے پھانسی دی جائے گی۔
یہ شخص ذرا بھی گھبرایا نہیں تھا۔ اس نے مرغی کے گوشت کے ساتھ چاول منگوائے جو اس نے آدھی رات کو طلب کیے تھے، پھر شہد ملا گرم پانی کے کئی پیالے پئے، یہ وہ مشروب تھا جس کا وہ بچپن سے عادی تھا۔
کھانے کے بعد اسے بیت الخلا جانے کی پیشکش کی گئی مگر اس نے انکار کردیا۔
رات ڈھائی بجے صدام حسین نے وضو کیا، ہاتھ، منہ اور پاؤں دھوئے، اور اپنے لوہے کے بستر کے کنارے بیٹھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرنے لگے، یہ قرآن انہیں ان کی اہلیہ نے بطور تحفہ دیا تھا۔ اس دوران پھانسی دینے والی ٹیم پھانسی کے پھندے اور تختے کا جائزہ لے رہی تھی۔
پونے تین بجے مردہ خانہ کے دو افراد تابوت لے کر آئے اور اسے پھانسی کے تختے کے پاس رکھ دیا۔
دو بج کر پچاس منٹ پر صدام کو کمرۂ پھانسی میں لایا گیا۔ وہاں موجود گواہان میں جج، علما، حکومتی نمائندے اور ایک ڈاکٹر شامل تھے۔
تین بج کر ایک منٹ پر پھانسی کا عمل شروع ہوا جسے دنیا نے کمرے کے کونے میں نصب ویڈیو کیمرے کے ذریعے دیکھا۔ اس سے قبل ایک سرکاری اہلکار نے پھانسی کا حکم پڑھ کر سنایا۔
صدام حسین تختے پر بلا خوف کھڑے رہے جبکہ جلاد خوفزدہ تھے، کچھ کانپ رہے تھے اور بعض نے اپنے چہرے نقاب سے چھپا رکھے تھے جیسے مافیا یا سرخ بریگیڈ کے افراد ہوں۔ وہ لرزاں اور سہمے ہوئے تھے۔
امریکی فوجی کہتا ہے:
"میرا جی چاہا کہ میں بھاگ جاؤں جب میں نے صدام کو مسکراتے دیکھا، جبکہ وہ آخری الفاظ میں مسلمانوں کا شعار پڑھ رہے تھے: لا إله إلا الله محمد رسول الله۔
میں نے سوچا کہ شاید کمرہ بارودی مواد سے بھرا ہوا ہے اور ہم کسی جال میں پھنس گئے ہیں۔ کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں لگتا کہ کوئی شخص اپنی پھانسی سے چند لمحے پہلے مسکرا دے۔
اگر عراقی یہ منظر ریکارڈ نہ کرتے تو میرے امریکی ساتھی سمجھتے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں، کیونکہ یہ ناقابلِ یقین تھا۔
لیکن راز یہ ہے کہ اس نے کلمہ پڑھا اور مسکرایا۔
میں یقین دلاتا ہوں کہ وہ واقعی مسکرایا، جیسے اس نے کوئی ایسی چیز دیکھی ہو جو اچانک اس کے سامنے ظاہر ہوگئی ہو۔ پھر اس نے مضبوط لہجے میں کلمہ دوبارہ کہا جیسے کوئی غیبی طاقت اسے کہلا رہی ہو۔"
💢 صدام حسین کے بارے میں چند حقائق
1- وہ پہلا حکمران تھا جس نے اسرائیل کے شہر تل ابیب پر میزائل برسائے۔
2- اس نے یہودیوں کو خوف زدہ کر دیا کہ وہ بلیوں کی طرح بنکروں میں چھپ گئے۔
3- وہ جنگوں میں بھی عرب قومیت کے نعرے لگاتا تھا۔
4- اس نے جج سے کہا: "یاد ہے جب میں نے تمہیں معاف کیا تھا حالانکہ تمہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی!" جج گھبرا گیا اور استعفیٰ دے دیا، پھر رؤوف کو لایا گیا۔
5- اس نے کہا: "اے علوج! ہم نے موت کو اسکولوں میں پڑھا ہے، کیا اب بڑھاپے میں اس سے ڈریں گے؟"
6- اس نے شام و لبنان کو کہا: "مجھے ایک ہفتہ اپنی سرحدیں دے دو، میں فلسطین آزاد کرا دوں گا۔"
❣️ آخری لمحے
پھانسی سے قبل امریکی افسر نے صدام سے پوچھا:
"تمہاری آخری خواہش کیا ہے؟"
صدام نے کہا:
"میری وہ کوٹ لا دو جو میں پہنتا تھا۔"
افسر نے کہا: "یہی چاہتے ہو؟ مگر کیوں؟"
صدام نے جواب دیا:
"عراق میں صبح کے وقت سردی ہوتی ہے، میں نہیں چاہتا کہ میرا جسم کانپے اور میری قوم یہ سمجھے کہ ان کا قائد موت سے خوفزدہ ہے۔"
پھانسی سے قبل اس کے لبوں پر آخری کلمات کلمہ شہادت تھے۔
اور اس نے عرب حکمرانوں سے کہا تھا:
"مجھے امریکہ پھانسی دے گا، مگر تمہیں تمہاری اپنی قوم پھانسی دے گی۔"
یہ کوئی معمولی جملہ نہ تھا بلکہ آج ایک حقیقت ہے۔
منقول
ایک دن حضرت عمر بن خطابؓ مدینہ کی گلیوں میں معمول کے مطابق گشت کر رہے تھے۔
اچانک آپؓ کی نظر ایک بوڑھے یہودی پر پڑی جو دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے بھیک مانگ رہا تھا۔
بڑھاپا، کمزور بینائی، اور کپکپاتے ہاتھ صاف ظاہر تھا کہ عمر بھر کی محنت کے بعد یہ شخص بے سہارا ہو چکا ہے۔
حضرت عمرؓ رک گئے۔ غور سے دیکھا اور پوچھا:
“تم کیوں مانگ رہے ہو؟”
بوڑھے نے جواب دیا:
“میں جزیہ دیتا تھا، اب بوڑھا ہو گیا ہوں، کام کے قابل نہیں رہا، اس لیے مانگ رہا ہوں۔”
یہ سن کر حضرت عمرؓ کا چہرہ بدل گیا۔ آنکھوں میں نمی آ گئی۔ فوراً فرمایا:
“یہ انصاف نہیں کہ ہم تم سے جوانی میں جزیہ لیں اور بڑھاپے میں تمہیں چھوڑ دیں۔”
آپؓ اس یہودی کو اپنے ساتھ بیت المال لے گئے، اسے مستقل وظیفہ مقرر کروایا اور حکم دیا:
“ایسے تمام غیر مسلم بزرگوں کا خرچ بیت المال سے دیا جائے جو کام کے قابل نہیں رہے۔”
پھر وہ تاریخی جملہ فرمایا جو عدلِ اسلامی کی اصل روح ہے:
“ہم نے تمہارے ساتھ انصاف نہیں کیا اگر تمہیں بے سہارا چھوڑ دیا جائے۔”
یہ واقعہ کیوں غیر معمولی ہے؟
یہ واقعہ نہ جنگ سے جڑا ہے، نہ سیاست سے
یہ کسی مسلمان کے بارے میں نہیں، بلکہ ایک غیر مسلم شہری کے لیے ہے
اس میں عبادت نہیں، بلکہ ریاست کی اخلاقی ذمہ داری بیان ہوئی ہے
یہ دنیا کا شاید پہلا سوشل سیکیورٹی سسٹم ہے جو مذہب سے بالاتر ہو
مسجد اقصیٰ کا وہ اصل اور قدیم حصہ جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنّات سے تعمیر کروایا تھا آپ ملاحظہ کرسکتے ہیں اس وڈیو میں۔
اس میں ایک محراب ہے جس کے متعلق دو روایات ہیں ایک یہ کے حضرت زکریا علیہ السلام اس میں عبادت فرمایا کرتے تھے اور دوسری روایت کہ اس محراب میں معراج کی رات امام الانبیاء صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے انبیاء کرام علیھم السلام کی امامت فرمائی تھی۔
#شب_معراج
#قومی_زبان
برقعے میں لپٹی چہرے پر نقاب لیے ایک مسلمان عورت فرانس کی ایک سپر مارکیٹ میں خریداری کر رہی تھی، ٹرالی میں مطلوبہ سامان ڈالنے کے بعد وہ کیش کاونٹر کی طرف ادائیگی کیلئے بڑهی. ایک چست لباس پہنے ہوئے سیلز گرل جو اپنےنقش ونگار سے عرب لگ رہی تھی. اس نے حجاب میں لپٹی اس عورت کو ایک حقارت کی نظر سے دیکھا اور بڑبڑاتے ہوئے اس کا حساب بنانے لگی. حجاب عورت خاموش کهڑی تهی، لیکن اس کی خاموشی سیلز گرل کیلئے مزید جنجھلاہٹ کا باعث بنی. بولی. پہلے کیا کم مسائل ہیں فرانس میں ہم مسلمانوں کیلئے، روز ایک نئی مصیبت کهڑی ہوتی ہے، تمہارا یہ نقاب ہی تو ان مسائل کی جڑ ہے.
ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہم یہاں تجارت یا سیاحت کیلئے آتے ہیں، دین کی اشاعت اور اسلاف کی تاریخ بیان کرنے نہیں.
اگر تم اتنی ہی دیندار ہو تو واپس جاو اپنے وطن اور جیسے چاہو رہو. ہماری جان چهوڑو.پردہ دار خاتون نے اپنا پرس کاونٹر پر رکھا اور اپنے چہرے سے نقاب ہٹادیا. نیلی آنکھیں، سنہرےبال..یورپی نقوش.کہنے لگی، میں خاندانی فرانسیسی ہوں، یہ فرانس تمہارا نہیں، میرا وطن ہے، پر میرا دین اسلام ہے. بات اور کچھ نہیں ہے، بات صرف یہ ہے کہ تم نے اپنے دین کو بیچ دیا ہے..اور میں نے اسے خرید لیا ہے
منقول