He recalled a neighbouring restaurant offering a bribe - only to have its fine doubled. Is this greater discipline among women officers - or does patriarchy make male traders less able to initiate the bargaining through which rules are diluted? Either way, the public gains.
CM @MaryamNSharif, a small but telling Rawalpindi story: my naan-wala’s clean tandoor and proper oil brush led to an explanation - @PFAHQOfficial inspects 2–3 times a week. He says its female inspectors neither bargain nor take bribes. This is what visible governance looks like.
دنیا کی سیاست میں یہ غیر معمولی نہیں کہ جب کوئی مقبول رہنما جیل میں ہو تو اس کا خاندان سیاسی آواز بن جائے۔ منڈیلا، بیلاروس، روس اور وینزویلا کی مثالیں بتاتی ہیں کہ خاندان کا درد کبھی بڑی جمہوری تحریک کو اخلاقی چہرہ دے دیتا ہے۔
مگر یہی تاریخ ایک دوسرا سبق بھی دیتی ہے: خاندان کی آواز تب مؤثر رہتی ہے جب وہ اصل مقدمے کو وسیع کرے، محدود نہ کرے۔
علیمہ خان صاحبہ کی عوامی سیاست میں آمد ایک اہم لمحہ ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ تحریک کا مرکزی مقدمہ عمران خان کی رہائی، شفاف انصاف اور سیاسی حقوق ہے، یا جیل کے اندر علاج، ملاقاتوں اور سہولتوں کی بحالی؟
انسانی حقوق لازم ہیں، مگر کیا بیانیہ غیر ارادی طور پر “رہائی” سے “قید کی شرائط” تک محدود ہو رہا ہے؟
تحریکیں درد سے جنم لیتی ہیں، مگر منزل ہمیشہ واضح سیاسی زبان سے بنتی ہے۔
The central question is simple: can political promises now be converted into funded priorities, institutional capacity, measurable timelines and public accountability?
@MoeedNj
The oath is over. The roads are open. Now begins the less photogenic work of governing.
Gilgit-Baltistan does not need another season of mountain poetry. It needs electricity, functioning institutions, climate resilience, accountable departments and promises converted into budgets, milestones and public reporting.
My latest for @etribune:
https://t.co/gtDZ4dOYpg
The mountains have given the new government power. They will now ask for governance.
#GilgitBaltistan #Governance #Democracy
ماحولیاتی تحفظ کی اصل آزمائش اسکرین پر سبز، زرد اور سرخ نقطے نہیں، زمین پر گرد، دھواں اور ملبہ ہے۔
جدید مانیٹرنگ سسٹم، ڈیجیٹل میپنگ اور لائیو ٹریکنگ یقیناً اچھی پیش رفت ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ان اعداد و شمار کے بعد ہوتا کیا ہے؟ کتنی تعمیراتی سائٹس بند ہوئیں، کتنے جرمانے ہوئے، کتنے سرکاری منصوبوں کو بھی اسی معیار پر پرکھا گیا، اور کتنی شکایات واقعی مقررہ وقت میں حل ہوئیں؟
اگر نگرانی صرف عوام، چھوٹے ٹھیکیداروں اور نجی گاڑیوں تک محدود رہی، جبکہ بڑے سرکاری و بااثر منصوبے استثنا لیتے رہے، تو یہ ماحولیاتی نظام نہیں بلکہ ڈیجیٹل نمائش ہوگی۔
ماحولیات کو اسکرین پر مانیٹر کرنے سے زیادہ ضروری ہے کہ اسے زمین پر نافذ بھی کیا جائے۔ ورنہ آلودگی وہیں رہے گی، صرف اس کی ویڈیو ہائی ریزولوشن میں نظر آنے لگے گی۔
سڑکیں پہاڑ کاٹ کر ضرور بنتی ہیں، لیکن آبادیوں کا رابطہ کاٹ کر نہیں۔
خَلتی جھیل کے قریب ایک بڑی چٹان دھماکے سے گرا دی گئی۔ سوال یہ نہیں کہ بلاسٹنگ کیوں ہوئی، سوال یہ ہے کہ اس سے پہلے متبادل راستے، ہنگامی رسائی اور عوامی تحفظ کا کیا انتظام کیا گیا؟
یہ راستہ پھنڈر اور غذر کی دورافتادہ وادیوں کا گلگت سے واحد زمینی رابطہ ہے۔ اس کی بندش محض ٹریفک کا مسئلہ نہیں۔ کسی شدید بیمار مریض، حادثے کے زخمی، حاملہ خاتون یا کسی اور ہنگامی صورتِ حال میں یہ بندش زندگی اور موت کے درمیان فاصلہ بن سکتی ہے۔
تعمیراتی کام کے باعث پھنڈر اور قریبی وادیوں سے گلگت کا سفر، جو معمول کے حالات میں تقریباً چار گھنٹے کا تھا، اب بعض اوقات دس سے بارہ گھنٹے تک پہنچ جاتا ہے۔ ایسے میں کسی بڑے دھماکے سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے تھا کہ ایمبولینس کہاں سے گزرے گی، متبادل راستہ کیا ہوگا، سڑک کتنے وقت میں کھلے گی اور ملبہ ہٹانے کے لیے مشینری پہلے سے کیوں موجود نہیں تھی۔
ترقی کا مطلب یہ نہیں کہ پہلے پہاڑ اڑایا جائے اور پھر سوچا جائے کہ لوگ ہسپتال کیسے پہنچیں گے۔ ذمہ دار منصوبہ بندی میں متبادل راستہ، ہنگامی گزرگاہ، مقررہ بندش کا شیڈول، فوری صفائی اور مسلسل عوامی اطلاع دھماکے سے پہلے تیار ہوتی ہے۔
غذر کے لوگ سڑک کی تعمیر کے مخالف نہیں، ایسی تعمیر کے مخالف ہیں جس میں منصوبہ سڑک کا ہو اور قیمت عوام اپنی صحت، وقت، رسائی اور سلامتی سے ادا کریں۔
@Dawn_News@ExpressNewsPK@BBhuttoZardari
دکھ اپنی جگہ، مگر اب اصل امتحان یہ ہے کہ یہ انکوائری صرف چند افراد کی گرفتاری تک محدود نہ رہے۔
سوال صرف یہ نہیں کہ چھت کیوں گری۔ سوال یہ بھی ہے کہ ایک غیر محفوظ عمارت میں بچوں کی کلاسیں کیسے چلتی رہیں؟ کس محکمے نے آنکھ بند رکھی؟ کس سطح پر معائنہ نہیں ہوا؟ اور کیا پنجاب میں تمام نجی ٹیوشن سینٹرز، اکیڈمیز اور سکول نما اداروں کا حفاظتی آڈٹ فوری طور پر ہوگا؟
بچوں کی موت کے بعد سزا ضروری ہے، مگر بچوں کی زندگی سے پہلے نگرانی اس سے بھی زیادہ ضروری تھی۔ حکمرانی کا اصل معیار تعزیتی بیان نہیں، اگلے حادثے کو روکنے کی صلاحیت ہے۔ @MaryamNSharif
ڈیٹا پر مبنی حکمرانی یقیناً اچھی بات ہے، مگر ہر اچھی چیز کا آغاز “پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار” سے کرنا بھی ایک مستقل حکومتی عادت بن چکی ہے۔
پاکستان میں قومی سماجی و معاشی رجسٹری پہلے سے موجود ہے۔ پنجاب اگر اپنی سطح پر زیادہ تازہ، مقامی اور متحرک رجسٹری بنا رہا ہے تو یہ قابلِ تحسین ہے، مگر اصل سوال ڈیٹا جمع کرنے کا نہیں، ڈیٹا کے اخلاقی، شفاف اور مؤثر استعمال کا ہے۔
کیا شہری کو معلوم ہوگا کہ اس کا ڈیٹا کہاں استعمال ہو رہا ہے؟
کیا غلط اندراج درست کروانے کا آسان نظام ہوگا؟
کیا غربت، صحت، تعلیم اور غذائیت پر فیصلے واقعی اسی ڈیٹا سے بدلیں گے؟
یا پھر یہ بھی ایک خوبصورت ڈیش بورڈ بن کر رہ جائے گا، جہاں غربت رنگین گراف میں تو کم ہوتی نظر آئے گی مگر گلی، گھر اور چولہے تک تبدیلی دیر سے پہنچے گی؟
شواہد پر مبنی پالیسی صرف سروے کا نام نہیں، جوابدہی، رازداری، اپیل، آزاد جانچ اور بجٹ کے درست استعمال کا نام ہے۔
ضم شدہ اضلاع کے ساتھ اصل مسئلہ یہی ہے کہ انہیں آئینی انضمام تو دیا گیا، مگر مالی، انتظامی اور ترقیاتی انضمام ابھی تک وعدوں، فائلوں اور اجلاسوں میں پھنسا ہوا ہے۔
وفاق کو وہاں سہولتیں، روزگار، انفراسٹرکچر، امن اور بجلی پہلے پہنچانی چاہیے تھی، ٹیکس بعد میں۔ مگر ہماری حکمرانی کا کمال دیکھیے کہ جہاں سکول، اسپتال، سڑک، روزگار اور بجلی ادھوری ہوں، وہاں ٹیکس کا نظام سب سے پہلے بالغ ہو جاتا ہے۔
خیبر پختونخوا کا مقدمہ صرف پارٹی سیاست نہیں، وفاقی انصاف کا مقدمہ ہے۔ این ایف سی، اے آئی پی اور کرنٹ بجٹ کے واجبات خیرات نہیں، آئینی اور انتظامی ذمہ داری ہیں۔ ضم شدہ اضلاع کو دیوار سے لگانا صرف ایک صوبے کو کمزور کرنا نہیں، قومی یکجہتی کے زخم کو دوبارہ چھیڑنا ہے۔
یہ حادثہ نہیں، بچوں کی حفاظت کے نظام کی اجتماعی ناکامی ہے۔
کاہنہ میں 14 بچوں کی موت صرف ایک کمزور چھت کا ملبہ نہیں؛ یہ اس سوال کا ملبہ بھی ہے کہ رہائشی عمارتوں، تنگ کمروں اور غیر محفوظ جگہوں میں چلنے والے تعلیمی مراکز کی نگرانی کون کرتا ہے؟
والدین بچے علم کے لیے بھیجتے ہیں، خطرے کے لیے نہیں۔
تعزیت ضروری ہے، مگر کافی نہیں۔ ہر ضلع میں نجی سکولوں، اکیڈمیوں اور ٹیوشن مراکز کا فوری حفاظتی آڈٹ، عمارتوں کی تصدیق، ذمہ داروں کا تعین، اور بچوں کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول یقینی بنانا ہوگا۔
بچوں کی جان کسی اجازت نامے، کرائے کے کمرے یا انتظامی غفلت سے چھوٹی نہیں ہو سکتی۔
یہ قابلِ تحسین قدم ہے، مگر صحت عامہ میں اصل سوال یہ نہیں کہ دوائی کتنے گھروں تک پہنچی؛ اصل سوال یہ ہے کہ کتنے مریضوں کی صحت بہتر ہوئی۔
تقریباً دس لاکھ مریضوں تک مفت دوائی پہنچانے کا دعویٰ ایک بڑی پالیسی ذمہ داری بھی ہے۔ اس کے لیے مسلسل فراہمی، دوائی کا معیار، درست نسخہ، دوبارہ معائنہ، ضلع وار مساوات، شکایات کا مؤثر نظام، اور شفاف عوامی اعداد و شمار ناگزیر ہیں۔
اچھی حکمرانی اعلان سے نہیں، قابلِ پیمائش نتائج سے پہچانی جاتی ہے۔
اگر پنجاب اس منصوبے کو شفاف نگرانی اور مریضوں کے نتائج سے جوڑ دے تو یہ صرف سیاسی کریڈٹ نہیں، صحت عامہ کا ایک مضبوط ماڈل بن سکتا ہے۔
اگر یہ واقعہ درست ہے تو یہ صرف ایک سیاسی رہنما کے ساتھ بدسلوکی نہیں، حکومتی اختیار کے استعمال پر سنجیدہ سوال ہے۔
اختلافِ رائے رکھنے والا شخص بھی شہری ہے، منتخب نمائندہ بھی ہے، اور انسانی وقار کا مستحق بھی۔ قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ کو سڑک پر یوں بے توقیر کرنا قانون کی عمل داری نہیں کہلا سکتا۔
حکومت کی طاقت راستے روکنے یا مخالف کو تھکانے سے نہیں بڑھتی؛ حکومت تب باوقار ہوتی ہے جب اپنے ناقد کے ساتھ بھی آئین، قانون اور احترام کے دائرے میں برتاؤ کرے۔
@MKAchakzaiPKMAP اچکزئی صاحب کی زبان سخت ہو سکتی ہے، مگر نکتہ بنیادی ہے: جس معاشرے میں ووٹ بیچنے اور خریدنے والے محب وطن، اور اس کھیل پر سوال اٹھانے والے غدار کہلائیں، وہاں جمہوریت صرف عمل نہیں، اخلاقی بحران بھی بن جاتی ہے۔
پاکستان کو غداری کے فتوے نہیں، آئین، ووٹ اور پارلیمان کی بالادستی چاہیے۔
پیرا فورس کو مہذب بنانے کی ہدایت اچھی ہے، مگر ریاستی طاقت کا مسئلہ بدتمیزی نہیں، عدم توازن ہے۔ “اوئے سامان اٹھاؤ” کی جگہ اگر “محترم، سامان ضبط کیا جا رہا ہے” آ جائے تو شہری وقار کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا۔
اصل سوال یہ ہے کہ پیرا چھوٹے دکاندار، ریڑھی والے اور کمزور شہری کے لیے قانون بنے گی یا بڑے تجاوزات، مصنوعی مہنگائی، ذخیرہ اندوزی اور بااثر قبضہ نیٹ ورکس کے سامنے بھی اتنی ہی بہادر رہے گی؟
ننانوے فیصد کامیابی کا دعویٰ متاثر کن ہے، مگر جمہوری ریاست میں کامیابی کا معیار صرف conviction rate نہیں ہوتا؛ due process، proportionality، appeal، transparency اور انسانی وقار بھی ہوتے ہیں۔
قانون کی بالادستی تب قائم ہوگی جب شہری کو پیرا سے ڈر نہیں، اعتماد ہو۔ ورنہ یہ بھی وہی پرانی انتظامیہ ہوگی، بس اس بار ڈنڈے کے ساتھ ڈیش بورڈ بھی ہوگا۔
اس باپ کے جملے میں صرف غم نہیں، وفاق پر ایک لرزتا ہوا سوال ہے۔
بلوچستان پاکستان ہے، اور بلوچستان کے عوام ہمارے اپنے ہیں؛ مگر اگر ایک شہری اپنے ہی ملک میں راستہ بھول کر موت کے منہ میں چلا جائے تو یہ صرف امن و امان کا مسئلہ نہیں، ریاستی اعتماد کا بحران ہے۔
اس سانحے کو بلوچ عوام کے خلاف نفرت میں نہیں بدلنا چاہیے؛ عام بلوچ بھی اسی خوف، محرومی اور تشدد کے یرغمال ہیں۔ اصل مطالبہ یہ ہونا چاہیے کہ ہر شاہراہ محفوظ ہو، ہر شہری محفوظ ہو، قاتل گرفتار ہوں، اور ریاست یہ ثابت کرے کہ پاکستان کا کوئی خطہ اپنے شہریوں کے لیے اجنبی نہیں۔
ایک باپ کو یہ نہ کہنا پڑے کہ “وہاں نہ جائیں”؛ ریاست کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ہر شہری فخر سے کہہ سکے: یہ پورا ملک میرا ہے۔
سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر کسی قیدی کی صحت کو بحث، قیاس یا طاقت کے کھیل کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
عمران خان صرف ایک سیاسی رہنما نہیں، ایک خاندان کے بھائی، والد اور بزرگ شہری بھی ہیں۔ اگر ان کی صحت کے بارے میں خدشات موجود ہیں تو ریاست کا بہترین جواب خاموشی یا تردید نہیں، شفاف طبی معائنہ، خاندان کو اعتماد میں لینا، اور علاج تک باوقار رسائی ہے۔
قانون کی طاقت اسی وقت معتبر رہتی ہے جب وہ اپنے سب سے بڑے مخالف کے ساتھ بھی انصاف، وقار اور انسانی حق کے مطابق برتاؤ کرے۔
"پہلی بار" کا دعویٰ سن کر پاکستانی سیاست مسکرا دیتی ہے۔ یہاں ہر نئی جماعت خود کو تاریخ کا آغاز سمجھتی ہے، اور چند ماہ بعد پتا چلتا ہے کہ تاریخ نے صرف نیا لوگو پہن لیا تھا۔
شہر، دیہات، کالج، مدارس، مڈل کلاس، شعور، امید، تبدیلی، یہ سب الفاظ بہت خوبصورت ہیں۔ مگر اصل امتحان وہی پرانا ہے: پارٹی کے اندر جمہوریت، میرٹ، شفاف فنڈنگ، مقامی قیادت اور اختلاف برداشت کرنے کا حوصلہ۔
ورنہ "عوام راج" بھی ایک دن دفتر کے باہر بورڈ ہوگا، اندر فیصلے پھر چند لوگ کر رہے ہوں گے۔
امجد ایڈووکیٹ صاحب، قیادت کا اعتماد اعزاز ہے، مگر گلگت بلتستان کے عوام کا اعتماد امتحان ہے۔
اس وقت گلگت بلتستان کو ایک ایسی حکومت درکار ہے جو فتح کو عاجزی، اختیار کو خدمت، اور سیاست کو ادارہ سازی میں بدل سکے۔ آئینی حقوق، قومی نمائندگی، شفاف حکومت، میرٹ، نوجوانوں کے روزگار، توانائی، صحت، تعلیم اور مقامی وسائل پر عوامی حق، یہی وہ نکات ہیں جن پر نئی قیادت کو تاریخ اپنے ترازو میں تولے گی۔
آپ کے لیے اصل کامیابی یہ ہوگی کہ آنے والے برسوں میں لوگ یہ کہیں کہ گلگت بلتستان میں صرف حکومت نہیں بدلی، طرزِ حکمرانی بھی بدلا ہے۔
نیک خواہشات۔