As we mark 50 years since the unification of the UAE’s armed forces, I extend my deepest appreciation to the courageous men and women who continue to safeguard the security and stability of our nation and the safety of its people. Your unwavering dedication and sacrifice is a source of endless pride to everyone who calls the UAE home, and I congratulate you on the anniversary of this defining moment in our history.
دخلت دولة الإمارات الأزمة الأخيرة متحدة .. وخرجت منها وهي أكثر اتحاداً والتفافاً وولاءً.. مواطنين ومقيمين .. صغاراً وكباراً .. عسكريين ومدنيين .. حكوميين واقتصاديين .. الجميع متحد تحت راية الدولة وعلمها ورمز وحدتها ..
علم الإمارات رمز القوة والفخر .. ندعو أبناء الإمارات والمقيمين على أرضها الطيبة أن يرفعوه فوق المنازل والمؤسسات والمباني..
فخورين بدولتنا .. فخورين برئيس دولتنا ..فخورين بقواتنا المسلحة .. فخورين بقوة اقتصادنا .. فخورين بفرق عملنا .. فخورين بجميع مواطنينا والمقيمين على أرضنا .. فخورين بعلمنا 🇦🇪..
لنرفع العلم شامخاً فوق كل بيت ومبنى .. دليل محبتنا .. ورمز ولائنا لرئيس دولتنا.. وراية وحدتنا وتوحدنا ..
حفظ الله الإمارات وشعبها وأدام بالعز رايتها ومجدها ..
#فخورين_بالإمارات 🇦🇪
کبھی کبھار سوشل میڈیا پر ایسی باتیں سامنے آتی ہیں جن میں متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے درمیان “اختلافات” کا ذکر کیا جاتا ہے۔
لیکن حقیقت شور و غوغا سے کہیں زیادہ سادہ ہے:
United Arab Emirates اور Pakistan کے درمیان تعلقات اتنے گہرے ہیں کہ انہیں کسی افواہ یا عارضی تجزیے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ 🇦🇪🇵🇰
Out of love and responsibility for the UAE 🇦🇪
Whether you are an Emirati or a resident on this land, we all share a duty to act with awareness and commitment. Refrain from photographing military sites or movements, or sharing images of missile debris or any sensitive material. This is not just guidance, it is a national responsibility that protects us all.
Always rely on official sources for information. Our country has no room for rumors.
The UAE needs loyal people who respect the law and place its security above all else. 🤍🇦🇪
In Dubai downtown RIGHT NOW
Restaurants are full
People walking around
Business as usual
Zero fear outside
Only keyboard warriors spreading fear when they don’t even live here
There is no panic. Life here in the UAE is normal just like other days. People are heading to work or coming back home just like any regular day.
The UAE is our second home. May Allah never allow even the smallest harm to come to it. May the UAE always remain full of life and prosperity. 🇦🇪 #Iran #War #UAE
@Fayazchohanpk پانچ بندے گھر سے نکلے ہو کہ خوب تیار
رستے میں ایک لڑکی مل گئی جو تھی مست مال
پا نچوں بندے چڑھ گئے اس پر نکالا اپنا مال
نتیجے میں جو بچہ نکلا وہ تھا فیاض چوہان
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اہم پیغام
(۲ اگست، ۲۰۲۵)
“تمام پاکستانیوں کو ملک پر مسلط ظلم کے نظام کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک آزاد قوم بن سکیں۔ ہم یکجا ہو کر مقابلہ کریں گے تو یہ ظلمت کا نظام ضرور زمین بوس ہو گا۔
پانچ اگست کو شروع ہونے والی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ملک میں جمہوریت اپنی اصل روح کیساتھ بحال نہیں ہو جاتی۔ اب عوام نڈر ہو چکے ہیں، ہر خوف کا بت ٹوٹ چکا ہے- 5 اگست کے بعد 14 اگست کی تاریخ بھی اس سلسلے میں اہم ترین ہے۔ 14 اگست 1947 کو ہم نے بیرونی غلامی سے آزادی حاصل کی تھی۔ اب ہمیں غلامی کی اس سے بھی بدتر صورتحال کا سامنا ہے جہاں تمام اداروں کو اپاہج کر کے سارے بنیادی حقوق معطل کر دئیے گئے ہیں۔ جیسے ہمارے آباؤاجداد نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کر کے آزادی حاصل کی تھی ہمیں بھی اس کرپٹ نظام سے آزاد ہونا ہے اور غلامی کو ٹھکرانا ہے۔
پیپلز پارٹی اور نون لیگ عاصم منیر کے لیے ویسا ہی کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہی ہیں جیسا ق لیگ نے مشرف کے لیے کیا تھا۔ ان کا کردار سیاسی جماعت کا نہیں اسٹیبلشمنٹ کے پولیٹیکل فرنٹ کا ہے۔ اسی آڑ میں کرپشن اور لوٹ مار کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
77 سال لگا کر پاکستان میں مشکل سے چند ادارے کھڑے ہوئے تھے- یہاں بار بار مارشل لاء لگتے رہے جس نے اس عمل کو دشوار بنایا مگر پھر بھی ادارے موجود تھے لیکن عاصم منیر کے مارشل لاء نے صرف اپنے اقتدار کی طوالت کے لیے ان اداروں کو بھی ایک ایک کر کے تباہ کر دیا ہے۔ سب سے پہلے انتخابی فراڈ کر کے عوام کا ووٹ چوری کیا گیا اور چوروں کو ملک پر مسلط کر کے جمہوریت کا خاتمہ کیا گیا۔ پھر میڈیا کا گلا گھونٹا گیا، ملک میں بدترین سنسر شپ لگائی گئی۔ اور اب عدلیہ کو چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے ایک سرکاری ادارہ بنا دیا گیا ہے۔ اوپر سے لکھی لکھائی سزائیں ججز کے ہاتھ میں تھما دی جاتی ہیں۔ جج خود اسکا اعتراف کرتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے جو ہمیں تھما دیا جاتا ہے ہم اسی پر سائن کر کے دے دیتے ہیں۔ اس وقت ملک میں عدلیہ مکمل مفلوج ہے۔ یہاں کینگرو کورٹس چل رہی ہیں جو ہر طرح سے قانون کی دھجیاں بکھیر رہی ہیں۔ ان عدالتوں سے انصاف کی کوئی توقع نہیں ہے۔ یہ عدالتیں قانون کی نہیں صرف عاصم لا کی پیروی کرتی ہیں۔ اسی کے مطابق سب ٹرائل چلیں گے اور سزائیں ہوں گی۔ یہ سب ٹرائل آن ریکارڈ ہیں آج نہیں تو کل سب پر حقیقت عیاں ہو گی کہ کس جج نے انصاف کی پیروی کے بجائے یزیدِ وقت کی پیروی کی۔
راولپنڈی، لاہور، سرگودھا اور فیصل آباد کی عدالتوں کے ذریعے ہمارے پارٹی رہنماؤں، ممبران اسمبلی اور کارکنان کو جھوٹے کیسز میں سزائیں دلوا کر ہماری تحریک کا راستہ روکنے کی ایک اور ناکام کوشش گئی ہے۔ حق پرستی کی پاداش میں سزاؤں کی حق دار ٹھہرنے والی پارٹی لیڈرشپ اور کارکنان کو خصوصی خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
سکندر سلطان راجہ نے ہائیکورٹ کی اپیلوں کا انتظار کیے بغیر ہمارے ممبران اسمبلی کو نا اہل قرار دیا۔ تاریخ جب لکھی جائے گی سکندر سلطان راجہ کا نام سیاہ ترین حروف میں درج ہو گا۔ اس شخص نے ڈیڑھ سال میں 17 سیٹوں والی جماعت کو دو تہائی اکثریت دلوانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ملک کا نظام ان کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے جنھوں نے عوام کا ووٹ اور پیسہ دونوں چرایا۔ جو لوگ آئین اور جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہوئے ان کو جیلوں میں ڈال دیا گیا تاکہ اس ملک میں کوئی جمہوریت کا نام لیوا نہ ہو۔
ہمارے جو ممبران اسمبلی ناجائز طریقے سے نااہل کیے گئے ہیں ان کی جگہ ضمنی انتخابات میں کسی کو کھڑا نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ ان لوگوں نے کئی طرح کی مشکلات جھیل کر انتخاب لڑا تھا اور مسلسل تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے رہے۔ لہذا ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف حصہ نہیں لے گی۔
علی امین کو واضح پیغام دیتا ہوں کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں وفاق کو ایک اور فوجی آپریشن کی ہرگز اجازت نہیں دینی چاہیئے۔ فوج اور عوام کے آمنے سامنے آنے سے فوج کا ادراہ تباہ ہوتا ہے۔ آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ وہاں کے نظام کے مطابق بات چیت سے مسائل حل کریں۔ افغانستان ہمارا مسلمان ہمسایہ ملک ہے۔ ان کے ساتھ بھی تعلقات بہتر ہونے چاہئیں اور مسائل پر بیٹھ کر بات کرنی چاہیے-“
میں PTI کے کارکنوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنے اکابرین کو تنگ نا کریں کہ بس بسم اللہ جلدی نکلو ورنہ ہم ایسا کرینگے۔
آپ ہمارے بچے ہیں۔ ہم آپ کو اس طرح نہیں جلاسکتے جیسے کوئی ملنگ سپلنی جلاتا ہے۔ ہم اپنی خواہشات کیلئے تمہیں موت کے حوالے نہیں کرسکتے
تحریک ہم نے مل کر چلانی ہے