نئی حکومت کو تنقید کرنا آسان ہے،لیکن ہمیں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ملک کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، ہمارا مقصد موافق اوربہتر مستقبل ہے،تا کہ ملک میں تبدیلی آۓ
#Oscars#RamadanKareem#KateMiddleton#Haiti#Cryptocurency
ملتان کور کے زیر اہتمام اوکاڑہ گیریژن میں پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مشترکہ عسکری ٹریننگ کا آغاز کردیا گیا
مشترکہ ٹریننگ کے آغاز پر دونوں ممالک کے فوجی دستوں نے بہترین عسکری ڈرل پیش کی
اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی پرچم کی رونمائی کے دوران قومی ترانوں کی دھُن بھی بجائی گئی
تقریب کے مہمان خصوصی گیریژن کمانڈر تھے
مشترکہ تربیتی پروگرام کے ذریعے دونوں ممالک کی افواج کے دستوں کو کلاس روم سیشنز اور اجتماعی جنگی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع ملے گا
افتتاحی تقریب کے آخر میں مہمان خصوصی نے دونوں ملکوں کی افواج کے افسروں اور جوانوں کو مشترکہ ٹریننگ کے بیجز لگائے
#PakistanArmy
#COAS
#DGISI
#DGISPR
#ISPR
#PakistanZindabad
#Nation_StandsWith_Army
#Thread 🧵
انٹرنیشنل میڈیا ویب سائٹس کی منافقانہ پالیسی اور PTI کا گٹھ جوڑ 🚨🚨
#NetBlocks کے نام سے چلنے والا X اکاؤنٹ جو پاکستان میں انٹرنیٹ کی بندش کو رپورٹ کرتے ہوئے
سابق وزیراعظم عمران خان کا نام لے کر پوسٹ لگاتا ہے
اور اُنکے لئیے لفظ #Persecuted یعنی مظلوم کا لفظ استعمال کرتا ہے
یہ ملک ستائیس رمضان کو اللہ اور اللہ کے رسول کے حکم سے بنا، علامہ محد اقبال کو بشارت ہوئی اور مولانا شبیر عثمانی صاحب کو دیدار مبارک ہوا جس میں نبی پاک صل اللہ علیہ والہ وسلم نے کہا کے محمد علی جناح میرا مجاہد ہے۔
#ISPR#AsimMunir#COAS#Pakistan
اللہ پاک نے اس ملک کی حفاظت کے لیے افواج پاکستان کو مامور کیا جو حسینی فوج ہے کیونکہ شہادت ان کی اولین خواہش ہے، جس میں شجاعت مولا علی کی نسبت سے ہے اور نشان ان کا حیدری ہے، ان کا فہم اور نیت کا اخلاص حضرت ابوبکر کی صداقت سے منسوب ہے، ان کے رعب میں حضرت عمر کی فاروقیت ہے، ان کے دل حضرت عثمان کی سخاوت سے لبریز ہیں۔ اسی لیے جب بھی کسی نے اس کی طرف دیکھا اس کو منہ کی کھانی پڑی۔
حالیہ تاریخ میں بھارت نے 26 فروری کو دو درخت اور کوا مارا بدلے میں فوج نے ان کے دو جہاز، ایک ہیلی کاپٹر، چار ڈپو فارغ کئے اور ابھینندن کو چائے پلائی۔
پاسداران انقلاب ایران نے امتحان لیا تو اس کا جواب سب نے دیکھا۔
اس حسینی فوج کا چاہنے والا وہ مومن ہے جس کو اللہ پہ بھروسہ ہے، اس کے مخالف آپ کو نبی کریم صلی الله علیه و سلم کے غلاموں میں کوئی نہیں ملے گا، سوائے مغرب زدہ سرخے اور بن باپ کی وہ اولادیں جن کو ابلیس کی مشینوں پہ بھروسہ ہے.
اس فوج کا ہر سپاہی بس یہی دہراتا ہے
شاہ مرداں شیر یزداں قوت پروردگار
لا فتح الا علی لا فتح الا ذولفقار
مسئلہ بلوچستان کی تفصیل
(حصہ سوم)
بلوچستان کی محرومی اور وسائل کی حقیقت
کوئی شک نہیں کہ بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بلوچستان میں ضروریات زندگی کے کئی بنیادی مسائل ہیں پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح۔
لیکن یہ کہنا کہ بلوچستان کے وسائل پاکستان کھا گیا یا پاکستان نے دیگر صوبوں کی بہ نسبت بلوچستان کو محروم رکھا یا بلوچستان کی پسماندگی کی وجہ پاکستان ہے بہت بڑا جھوٹ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
جن علاقوں میں پانی نایاب ہو وہاں انسانی آبادیاں کم ہوتی ہیں اور وہ ہمیشہ نسبتاً پسماندہ رہتے ہیں۔ بلوچستان کے ساتھ بھی یہی مسئلہ تھا۔ بلوچستان کی تمام معلوم تاریخ میں یہ سندھ، پنجاب اور کے پی کے کے مقابلے میں ہمیشہ پسماندہ ہی رہا۔ حتی کہ چودہ سو سال پہلے حضورﷺ کے ایک صحابی یہاں سے ہوکر گئے تو حضورﷺ کو اپنی جو کارگزاری سنائی اس میں بھی اس علاقے کی ویرانی کا خصوصاً ذکر کیا تھا۔
قیام پاکستان کے وقت بھی یہی حال تھا البتہ قیام پاکستان کے بعد ہزاروں سال کے ویران اس بلوچستان کو پاکستان نے وہ سب کچھ دیا جو ممکن تھا، سڑکیں، ڈیمز، کالجز، یونیورسٹیاں اور ان شاءاللہ عنقریب یہاں سے دنیا بھر کے لیے تجارت بھی ہوگی۔
بلوچستان میں پانی نہیں ہے نہ زرخیز زمینیں ہیں۔ آبادی بھی بہت تھوڑی ہے تقریباً 2 کروڑ کے قریب۔ اسی لیے یہ علاقے اپنی خوارک کے لیے ہمیشہ سے سندھ اور پنجاب پر انحصار کرتے رہے ہیں۔ البتہ بلوچستان معدنیات سے مالامال ہے۔ بلوچستان میں گیس اور تیل کے ذخائر بھی ہیں۔
سب سے پہلے گیس کی بات کرتے ہیں کیونکہ اسی پر زیادہ پراپیگنڈہ کیا گیا ہے۔ پاکستان میں پہلی بار گیس بلوچستان میں ہی دریافت ہوئی تھی۔ 1995ء میں جب بلوچستان میں گیس کی پیدوار اپنے عروج پر تھی اس وقت بلوچستان پاکستان کی کل ضرورت کی 56٪ گیس پیدا کر رہا تھا۔
آج پاکستان کی روزانہ گیس کی ضرورت 4000 ملین کیوبک فٹ سے زیادہ ہے۔ پاکستان میں گیس کی کل پیدوار 3597 ملین کیوبک فیٹ روزانہ ہے۔ جس میں بلوچستان 359 ملین کیوبک فیٹ گیس پیدا کررہا ہے۔
یعنی بلوچستان اس وقت پاکستان کی کل ضرورت کا 9٪ گیس پیدا کررہا ہے۔ جس میں 6٪ خود بلوچستان میں استعمال ہوتی ہے اور 3٪ باقی پاکستان کو سپلائی کی جاتی ہے۔ پاکستان کی ضرورت کی 91٪ گیس باقی صوبے پیدا کررہے ہیں یا باہر سے منگوائی جاتی ہے۔
پاکستان میں تیل کی روزانہ ضرورت ساڑھے 5 لاکھ بیرل ہے۔ لیکن پاکستان میں تیل کی پیدوار 80 تا 90 ہزار بیرل روزانہ ہے۔ یہ 80 یا 90 ہزار بیرل تیل باقی تینوں صوبےپیدا کرتے ہیں۔ بلوچستان میں تیل کی پیدوار فلحال زیرو ہے۔ پاکستان اپنی ضرورت کا باقی ساڑھے 4 لاکھ بیرل تیل باہر سے خریدتا ہے۔ اسی تیل سے بلوچستان کی ضرورت بھی پوری کی جاتی ہے جو اس گیس سے کہیں زیادہ ہے جو بلوچستان سے پاکستان کے باقی علاقوں کو دی جاتی ہے۔ یا پھر افغانی ایران سے تیل سمگل کر کے بلوچستان لاتے ہیں جس کا نقصان پاکستانی معیشت کو ہوتا ہے۔
پاکستان باہر سے جو تیل خریدتا ہے وہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے لیا جاتا ہے۔ اس ٹیکس کا بوجھ بلوچستان پر کتنا ہے اس پر آگے بات کرتے ہیں۔
تیل اور گیس کے بعد بلوچستان کی تیسری اہم ترین چیز کاپر (تانبے) اور سونے کے ذخائر ہیں۔ اس کے لیے سینڈک میں کام ہورہا ہے اور ریکوڈک میں جلد شروع ہوجائیگا ان شاءاللہ۔ ان ذخائر کے حوالے سے آپ نے شائد یہ سنا ہوگا کہ 500 ارب ڈالر یا 1000 ارب ڈالر کے ہیں، پاکستان کا قرضہ اتار سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ شائد آپ کو کسی نے نہیں بتایا ہوگا کہ ان کو نکالنے اور پراسیس کرنے کی لاگت اتنی زیادہ ہےکہ یہاں سے نکالنے کی نسبت باہر سے امپورٹ کرنا سستا پڑتا ہے۔ یا پرانا استعمال شدہ کاپر دوبارہ پگھلا کر استعمال کرنا اس سے بھی سستا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1995ء میں بے نظیر نے سینڈک پراجیکٹ پر کام رکوا دیا تھا کہ مارکیٹ سے زیادہ مہنگا پڑ رہا تھا۔ البتہ آج دنیا میں کاپر کی طلب بڑھی ہے اور قیمتیں بڑھی ہیں تو امید ہے کہ اب وہاں سے کاپر مائننگ کا فائدہ ہوگا۔
سینڈک میں سونا نکالنے کا ضرور کچھ فائدہ ہورہا ہے۔ لیکن اس پر بھی بہت سی وجوہات کی بنا پر کام رکا رہا۔ لیکن اگر بھرپور کام کیا جائے تو سینڈک سے سالانہ 72000 اونس سونا نکالا جا سکتا ہے جس پر اخراجات نکال کر 10 سے 12 ارب روپے بچتے ہیں۔ جن میں سے آدھا نکالنے والی چینی کمپنی کا ہے یعنی 5 تا 6 ارب روپے۔ باقی جو 5 یا 6ٌ ارب روپے بچیں گے وہ حکومت بلوچستان اور وفاقی حکومت آپس میں تقسیم کرینگے۔
سب سے زیادہ ریکوڈک سے امیدیں ہیں کہ وہاں سے بلوچستان اور پاکستان دونوں کا کچھ بھلا ہوسکتا ہے۔ ریکوڈک سے سالانہ ڈھائی لاکھ اونس سونا پیدا ہو سکتا ہے جس سے اخراجات نکال کر 50 تا 60 ارب روپے سالانہ بچ سکتے ہیں۔ اس میں کمپنی کا آدھا حصہ نکالیں تو سالانہ 25 تا 30 ارب روپے بلوچستان اور وفاقی حکومت کو بچیں گے جو طے کیے گئے فارمولے کے حساب سے آپس تقسیم کرینگے۔ ریکوڈک میں بڑی مقدار میں تانبا بھی نکالا جاسکتا ہے اور اس کا ابھی دیکھنا ہوگا کہ منافع بخش ثابت ہوگا یا نہیں۔
یعنی ریکوڈکٹ اور سینڈک وغیرہ کا کل ملا بھی سالانہ 40 ارب روپے سے اوپر نہیں جاسکتا۔ جس میں کچھ بلوچستان کو ملے اور کچھ مرکزی حکومت کو۔ دوسری جانب پنجاب کے صرف ایک چھوٹے سے شہر سیالکوٹ کی ہاتھوں سے بنائی جانی والی اشیاء کی سالانہ برآمدات 4 ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ یعنی کم از کم بھی 1100 ارب روپے سالانہ پاکستان کو دے رہا ہے۔ شائد ریکوڈک اور سینڈک جیسے 20 پراجیکٹس کے برابر۔
ان کے علاوہ بلوچستان میں کوئلہ، بیرائٹ، کرومائٹ، جپسم اور ماربل بھی پایا جاتا ہے۔ ان میں سے کوئی ایک چیز وفاقی حکومت نکال رہی ہے نہ ہی باہر کی کوئی کمپنی۔ سارا کچھ بلوچستان کے مقامی لوگ خود نکال رہے ہیں۔ بلکہ کرومائٹ اور کوئلے پر تو زیادہ تر افغانیوں کا قبضہ ہے جو پاکستان پناہ لینے آئے تھے۔
تو کوئی بتا سکتا ہے کہ بلوچستان کے وہ کون سے وسائل ہیں جو پاکستان کھا رہا ہے؟؟
بلوچستان تقریباً 20 لاکھ ٹن گندم استعمال کرتا ہے جب کہ 12 لاکھ ٹن پیدا کرتا ہے۔ بلوچستان کی گندم کی آدھی ضرورت پنجاب اور سندھ پوری کرتے ہیں۔ اسی طرح بلوچستان کی چاؤل کی ضرورت 10 لاکھ ٹن سے اوپر ہے جس میں سے 4 لاکھ 98 ہزار ٹن پیدا کرتا ہے اور باقی ضرورت سندھ اور پنجاب سے پوری کرتا ہے۔
یہی حال باقی چیزوں کا بھی ہے۔ بلوچستان کی دودھ، چینی، دوائی اور کپڑے کی ضرورت بھی دوسرے صوبے پوری کرتے ہیں۔
اگر وسائل کی بات کی جائے پاکستان نے سال 2021ء میں 2 کروڑ 70 لاکھ ٹن گندم پیدا کی۔ اس میں 1 کروڑ 70 لاکھ ٹن گندم پنجاب نے پیدا کی یہ ملک کی کل پیدوار کا 62٪ بنتی ہے۔ یہ وہ روٹی ہے جو ہم سب کھاتے ہیں۔ اسی طرح پنجاب پورے پاکستان کا 55٪ چاول پیدا کرتا ہے۔ کپڑا، دودھ اور گوشت کا بھی سب سے بڑا حصہ پنجاب پیدا کرتا ہے۔ یہ ضروریات زندگی کی سب سے بنیادی چیزیں ہیں۔
بلوچستان میں قیام پاکستان سے پہلے بجلی بنانے کا کوئی نظام نہ تھا۔ پاکستان نے بلوچستان میں ڈھائی ہزار میگاواٹ بجلی بنانے کے 5 یونٹس لگائے ہیں۔ جب کہ بلوچستان کی کل ضرورت اس وقت تقریباً 1400 میگاواٹ ہے۔ لیکن یہ سچ ہے کہ بلوچستان میں باقی تمام صوبوں سے زیادہ لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے اور اس کی ایک بہت ٹھوس وجہ ہے۔
پورے پاکستان میں بجلی کی سب سے زیادہ چوری بلوچستان میں ہوتی ہے۔ سول اور عسکری قیادت کو پیش کی گئی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بلوچستان کو فراہم کی گئی 132ارب روپے کی بجلی میں سے 97 ارب کی بجلی چوری کرلی گئی ہے۔ صرف کوئٹہ میں 14 ارب کی بجلی چوری ہوئی ہے۔ یعنی بلوچستان میں سالانہ کم و بیش 100 ارب روپے کی صرف بجلی چوری ہوتی ہے۔ یہ رقم دیگر صوبوں سے پوری کی جاتی ہے۔ مکران، خضدار، آواران، ماشکیل، پنجگور کے علاقوں میں تو بل دینے کا رواج ہی نہیں ہے۔ کیسکو حکام کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں بجلی کی چوری زیادہ ہے وہیں لوڈ شیڈنگ کرتے ہیں۔ جس کے بعد مقامی آکر سڑکیں بند کر دیتے ہیں تو بجلی دوبارہ آن کر دی جاتی ہے لیکن مجال ہے جو کوئی بل دینے کا سوچے بھی۔ مفت بجلی تو امریکہ اور چین بھی نہیں دے سکتے۔
جیسا کہ شروع میں کہا کہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ پانی ہے۔ بلوچستان میں پورے پاکستان میں سب سے کم بارشیں ہوتی ہیں اور سطح مرتفع ہونے کی وجہ سے زیر زمین پانی بہت نیچے ہے۔ پانی کی فراہمی کا واحد طریقہ ڈیم اور نہریں ہیں۔
قیام پاکستان کے وقت بلوچستان میں صرف ایک ڈیم تھا۔ قیام پاکستان کے بعد بلوچستان میں اب تک 66 مزید ڈیم بنائے جا چکے ہیں اور پاکستان 100 ڈیم بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
قیام پاکستان کے وقت بلوچستان کی دو تین لاکھ ایکڑ زمین کاشت ہورہی تھی۔ پاکستان کے بنائے گئے آپباشی کے منصوبوں اور دھڑا دھڑ بنائے جانے والے ڈیموں کی بدولت یہ رقبہ 10 لاکھ ایکڑ سے تجاؤز کر چکا ہے۔
پاکستان نے بلوچستان کی پیاس بجھانے کے لیے کالا باغ ڈیم کا منصوبہ بنایا تھا جو واحد منصوبہ تھا جس سے بلوچستان کی زمین سیراب ہوسکتی تھی۔ اس منصوبے سے بلوچستان کی 7 لاکھ ایکڑ پنجر زمین سیراب ہونی تھی جس کے بعد شائد اپنی تاریخ میں پہلی بار بلوچستان خوراک میں خود کفیل ہوجاتا۔ لیکن اس منصوبے پر بلوچ سرخوں نے اعتراض کر دیا اور فرمایا کہ اس منصوبے سے بلوچستان کو تو کوئی نقصان نہیں لیکن ہم سندھ اور کے پی کے کے ساتھ اخلاقًا کھڑے ہیں۔
اس عظیم اخلاق کا مظاہرہ کرنے کے بعد یہی سرخے گھڑے اٹھائے بلوچ خواتین کی تصاویر کے ساتھ ہر جگہ روتے بھی ہیں کہ جی دیکھیں بلوچستان میں پینے کا پانی تک نہیں۔
اس کے بعد پرویز مشرف نے بلوچستان کو کچی کنال کے ذریعے سیراب کرنے کا منصوبہ بنایا۔ جس میں پنجاب سے پانی بلوچستان تک پہنچانا تھا۔ یہ منصوبہ بڑی حد تک مکمل ہوچکا ہے اور اس سے بھی بلوچستان کی 5 تا 7 لاکھ ایکڑ زمین سیراب ہوگی ان شاءاللہ۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ بلوچستان کا زیر کاشت رقبہ تین گنا کر دیا جائے تاکہ بلوچستان خوراک میں خود کفیل ہوسکے۔
بلوچستان میں آبادیاں کم اور دور افتادہ ہونے کے باؤجود پورے پاکستان میں سب سے اچھی سڑکیں بنائی گئی ہیں جس کے لیے میں کہہ سکتا ہوں کہ کبھی بلوچستان میں سفر کر کے دیکھیں۔ صرف پچھلے تین سال میں بلوچستان میں 3732 کلومیٹر نئی سڑکیں بنائی گئی ہیں۔
قیام پاکستان کے وقت بلوچستان میں ایک بھی یونیورسٹی نہیں تھی۔ پاکستان اب تک بلوچستان میں 24 یونیورسٹیاں بنا چکا ہے۔ جو بدقسمتی سے بی ایس او جیسی سرخوں کی دہشتگرد تنظیوں کا گڑھ بن گئی ہیں اور وہاں سے نوجوانوں کو ڈاکٹر انجنیر بنانے کے بجائے سرمچار بنا کر پاکستان کے ہی خلاف لڑنے کے لیے پہاڑوں میں بھیجا جاتا ہے۔ اسی طرح بڑی تعداد میں سکول اور کالجز بھی بنائے گئے ہیں۔ بلوچ جوانوں کو پورے پاکستان کی یونیورسٹیوں میں سکالرشپ پر مفت تعلیم دی جاتی ہے جہاں دیگر پاکستانیوں کو لاکھوں روپے فیس دینی پڑتی ہے۔
اسی طرح پاک فوج میں بھی بلوچ نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے لیے پورے پاکستان میں سب سے نرم شرائط ہیں۔
بلوچستان میں قیام پاکستان کے وقت صرف کوئٹہ میں ایک سرکاری ہسپتال تھا۔ اس وقت بلوچستان میں 134 ہسپتال، 574 ڈسپنسریاں اور 95 زچگی کے مراکز بنائے جا چکے ہیں۔ بلوچستان کی سوا کروڑ آبادی کے لیے 4015 ڈاکٹرز بشمول 1057 سرجن ہیں جو 3000 لوگوں کے لیے ایک ڈاکٹر بنتا ہے۔
یہ بلوچستان کی بدقسمتی ہے کہ ان کے اپنے مقامی ڈاکٹر حکومت سے نتخواہ لے کر بھی ہسپتالوں میں نہیں بیٹھتے بلکہ بہت سے تو پاکستان سے باہر پریکٹس کرتے ہیں اور ان کی تنخواہیں چل رہی ہوتی ہیں۔ اگر کوئی کاروائی کی جائے تو 'ڈاکٹروں کا احتجاج' شروع ہوجاتا ہے۔ باقی ڈاکٹرز سیاسی تحریکیں چلانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔
اس کے بعد بھی اگر آپ کو لگتا ہے کہ بلوچستان میں سکول، ہسپتال یا بجلی وغیرہ کے معاملات ٹھیک نہیں ہیں تو اٹھاوریں آئینی ترمیم کے بعد یہ صوبوں کی ذمہ داری بن گئی تھی۔ 14 سال میں بلوچستان کو کئی ہزار ارب روپے کا بجٹ ملا ہے جو ان کی ضرورت سے ہمیشہ زیادہ رہا ہے۔ وہ بجٹ کہاں صرف کیا گیا؟؟ کتنی سڑکیں، سکول اور ہسپتال بنائے گئے؟؟ بلوچستان کی عوام اپنے منتخب نمائندوں سے کرینگے سوال؟
بلوچستان کی قسمت بدلنے کا سب سے بڑا منصوبہ گوادر پراجیکٹ ہے جس کو سی پیک کی مدد سے چین سے ملایا جارہا ہے۔ گوادر بلوچستان کا حصہ نہیں تھا۔ یہ سلطنت عمان کا حصہ تھا۔ یہ پاکستان نے عمان سے پیسوں کے عوض خریدا اور پھر 20 سال بعد بھٹو کے دور میں اس کو بلوچستان میں شامل کر دیا۔ جس کا فائدہ اب پورے بلوچستان کو ہوگا۔
باقی وسائل پر بات ہوگئی اب آخر میں ٹیکسز پر بات کرتے ہیں کیونکہ کوئی سرخا کہہ سکتا ہے کہ ٹیکسز کے پیسے اگر بلوچستان میں لگتے ہیں تو وہ ہمارے اپنے پیسے ہیں کوئی احسان نہیں۔ احسان تو واقعی نہیں کیونکہ پاکستان سب کا ہے۔ لیکن چونکہ یہ لوگ بلوچوں کو اکساتے ہی انہی چیزوں پر ہیں تو آج ہر بات واضح ہوجائے۔
آئیں آپ کو ایک چھوٹا سا لم سم حساب بتاتے ہیں۔ پاکستان نے سال 2020/21 میں کل 4725 ارب روپے ٹیکس جمع کیا جس میں بلوچستان سے بمشکل 100 ارب روپے جمع ہوا۔ یہ پاکستان کے کل جمع کردہ ٹیکس کا محض 2٪ بنتا ہے۔ لیکن بلوچستان کو کل جمع کردہ ٹیکس میں سے 584 ارب روپے ملے اور کسی صوبے نے اعتراض نہیں کیا کہ کیوں؟ یہ کل بجٹ کا 8٪ بنتا ہے۔
ایک اور حساب بھی سن لیں۔
584 ارب روپے اگر بلوچستان کی کل آبادی 2 کروڑ پر تقسیم کریں تو فی لاکھ آبادی 2 ارب 92 کروڑ بنتے ہیں۔ لیکن اگر پنجاب کا کل بجٹ 2653 ارب روپے پنجاب کی 13 کروڑ آبادی پر تقسیم کریں تو یہ فی لاکھ 2 ارب 4 کروڑ روپے بنتے ہیں۔ یعنی بلحاظ آبادی بلوچستان کو پنجاب سے دگنا بجٹ ملتا ہے۔ وہ بھی جب وہاں سے ٹیکس کلیکشن یا دیگر کوئی آمدن نہ ہونے کے برابر ہے حتی کہ بجلی کے بل تک ادا نہیں ہوتے۔
اس مضمون میں پیش کیے گئے حقائق اور اعداوشمار کو کسی بھی طرح چیک کر لیں۔ پھر مجھے بتائیں کہ کیا واقعی پاکستان بلوچستان کے وسائل کھا رہا ہے یا پاکستان بلوچستان کو کھلا رہا ہے؟
اور کیا واقعی بلوچستان محروم ہے؟
جاری ہے ۔۔۔۔
تحریر شاہد خان
نوٹ ۔۔۔ یہ سیریز دنیا نیوز پر بھی شائع کی گئی ہے۔
#Balochistan
#سرمچار_بلوچستان_کے_غدار
السلام علیکم
پاکستان
پاکستان کے ٹکڑے کرنے والوں کی خواہش کا انجام اللہ تعالیٰ بہت برا کرنے والا ہے
آنے والے وقت میں پاکستان مخالف قوتیں بھرپور پراپیگنڈا اور فیک نیوز چلائیں گے
فیک ویڈیوز اور جھوٹی خبریں تو ابھی یہ اپنے مختلف ہینڈلز سے سوشل میڈیا پر پھیلا ہی رہے ہیں جن کو سوشل میڈیا پر موجود محب وطن پاکستانی کائونٹر کر رہے اور دنیا کو ان کی اصلیت دکھا رہے ہیں
آنے والے وقتوں میں پی ٹی آئی جو دہشتگردوں اور پاکستان دشمنوں کا سیاسی ونگ بن چکا ہے بہت زہر پھیلائیں گے سوشل میڈیا پر
تمام محب وطن پاکستانی تیار رہیں ان کی ملک دشمنی عیاں کرنے کے لئے
ہماری افواج پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ملک کی معیشت اور امن و امان بھی دیکھ رہی ہے ملک کے دیگر سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر
انشاءاللہ تمام محب وطن پاکستانی اپنی افواج اور سیکیورٹی اداروں کی مدد سے دشمن کو جلد شکست فاش دیں گے
پاکستان زندہ باد
افواج پاکستان زندہ باد
#Nation_StandsWith_Army
#PakistanZindabad
📌فری یونٹ کا لالی پاپ
📌جماعت غیر اسلامی کی منافقت
📌میئر کراچی کی مدد کریں کراچی کے مسائل کے حل کے لئے
کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کو کے الیکٹرک بیچنے والے کردار
📌کراچی کی بجلی چوری میں جماعت غیر اسلامی کا کردار
📌 دہشتگردوں کے سیاسی ونگ کی مورثی سیاست میں حلیم عادل شیخ کا کردار
📌چیف جسٹس آف پاکستان کے لئے پیغام
📌 جسٹس اطہر من اللہ وہی ہیں جنھوں نے نواز شریف کی زندگی کی گارنٹی مانگی تھی
ہماری بہادر افواج امن و سلامتی کی ضامن ہے
آج کے ویلاگ میں یہ سب دیکھیں 😎
#Nation_StandsWith_Army
#PakistanZindabad
#ISPR
#پی_ٹی_آئی_نا_رہی
#Election2024Pakistan
*آپریشن گولڈ سمتھ پلان بے نیقاب*
📌نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا پہ شائع ہونے والی کچھ دنوں سے خبروں کے تجزیے اور باوثوق ذرائع کے انکشاف سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ تاریک انصاف کے فارن یہوتیوں نے گولڈسمتھ خاندان کے پیسوں اور تعلقات کو استعمال کر کے امریکی اور یورپی لابنگ فرمز اور میڈیا کے کارندوں کی خدمات کڑوڑوں ڈالرز کے عیوض حاصل کی ہیں.
📌 یہ لابنگ فرمز انکے پلان C منصوبے پر کام شروع کر کرچکی ہیں جسے *آپریشن گولڈ سمتھ* کا نام دیا گیا ہے۔
📌اس میں ڈیجٹل اور پرنٹ میڈیا کے مخصوص عالمی جریدوں کے لکھاریوں اور نامہ نگاروں (جو صیہونی ایجینڈے کو پروموٹ کرنے میں بھی پیش پیش ہوتے ہیں) کو استعمال کیا جارہا ہے ۔
📌اس منصوبے کے تحت لابنگ فرمز ریاست پاکستان ، پاکستان کی افاج اوع انٹیلیجنس اداروں کے خلاف ایک مہم شروع کررہی ہے،
📌یہ مہم 20 فروری تک جاری رہے گی. ان تمام لوگوں کو 20 فروری تک کی پیشگی ادئیگی کی جا چکی ہے۔ ضرورت پڑنے پر مزید کڑوڑوں ڈالر بھی خرچنے کے لیے تیار ہیں۔
📌اس مہم میں بی بی سی، وال اسٹریٹ جرنل، گارڈین اور نیویارک ٹائمز جیسے جریدوں کے نامہ نگار سرفہرست ہیں۔
📌اس مہم کے آغاز کے طور پر ایک قسط بی بی سی پر فرحت جاوید نامی ایک سرخی نامہ نگار کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔
📌یہ سب جریدے اور ان کے نامہ نگار وہ ہیں جن کی غزہ میں جاری اسرئیلی جارحیت پہ مجرماناں خاموشی اور اسرئیل کے حق میں بیانات روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔
📌انشاللہ اگلے کچھ دنوں میں ہم اس پورے پلان کا پوسٹ مارٹم بھی کریں گے اور ان کے پیچھے چھپے کرداروں کو بےنقاب بھی کریں گے۔
📌لیکن ایک بات تو طے ہے کہ امریکی غلامی نامنظور کے چورن والے اس وقت پوری طرح امریکہ اور صہیونیوں کے غلام بن کر ان کے میڈیا سے مدد کی بھیک مانگ رہے ہیں پر اس بار ان کا سامنا ایک پرعزم قوم اور افواج سے ہے۔
📌پاکستان کی حکومت، اس کے انٹیلیجنس ادارے اور اس کی بہادر افواج جس کا سپہ سالار ایک سچا، نڈر سید ہے ان کی ترجیح صرف اور صرف ملک کی بقا اور ترقی ہے۔ ہمارے سپہ سالار نے تمام قوتوں کو بتا دیا کہ ہماری ریڈ لائین پاکستان ہے اور ہم کسی بھی بیرونی طاقت کو اپنے اندرونی معملات میں مداخلت نہیں کرنے دیں گے.
(Copy)
#OperationGoldsmith
#مرگ_بر_سرمچار
#Nation_StandsWith_Army
#PakistanZindabad
#ISPR
ناظرین کرام!
ڈپٹی اندرون شہرلندن سےخبرلایاہےکہ بیرون ملک جمع کی گئی شوکت خانم کینسرکی زکوۃ کےخرچےپر،دنیاکےبڑےاخبارات پر ہمارے ملک اوراس کے اداروں کے خلاف لکھوائے گئے آرٹیکل کی اشاعت کا آغازپیرسےہواچاہتاہے،جس پر پی ٹی آئی کلی لت پہ دھمال ڈالے گی۔
#OprationGoldsmith
ذرائع کا دعوی ہے عمران خان جس پلان سی کا ذکر کرتے ہیں اس پلان سی کا ایک نقطہ یہ بھی ہے کہ امریکہ میں جو لابنگ فرمز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں ان فرمز اور گولڈ سمتھ خاندان کے وسیع عالمی تعلقات کے ذریعے ریاست پاکستان کے اداروں کے خلاف ڈیجٹل اورانٹرنیشنل اداروں کے ذریعے مہم چلائی جائے جو انتخابات کے پولنگ تاریخ اور الیکشن نتائج تک جاری ر کھی جائے گی
اس مہم میں وال اسٹریٹ جرنل، گارڈین اور نیویارک ٹائمز جیسے و دیگر صحافتی اداروں سے آرٹیکلز لکھوائے گئے ہیں ریاستی اداروں خلاف اس مہم کے نتائج آئندہ چند روز میں سامنے آنا شروع ہو جائیں گے
ملک ریاض اور اسکا بیٹا اشتہاری ہیں
اس لئے کورٹ نے ان کی تمام جائیدادوں کو بحکم سرکار ضبط کرنے احکامات دے دیئے ساتھ تمام جائیدادوں کی تفصیلات جاری کر دی گئی جنھیں ضبط کرنے کے احکامات دیئے گئے ہیں
ملک ریاض نے اپنے تمام تر روابط کو استعمال کیا کہ کسی طرح میری خلاصی کرو
لیکن آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر صاحب نے واضح طور پر کہہ رکھا ہے کہ مافیاز کو بلکل نہیں بخشا جائے گا چاہے وہ کتنا کی طاقتور ہو اور کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو
یہ پیغام ہے ایسے تمام لوگوں کے لئے جو شاید اس امید میں کہ پاکستان مخالف مہم اور پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا کر کے وہ بچ جائیں گے تو وہ زہن نشین کر لیں کہ ملک ریاض جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ہر سیاسی وزیراعظم کو گود لے لیتا ہے جیسے اس نے عمران نیازی کو گود لے رکھا تھا
اور سابق وزیراعظم اور اس کی زوجہ کو ہیرے جواہرات اور زمینیں رشوت میں دی تھی اور اس نے اپنی فرنٹ وومن فرح گجر گوگی کو اس کام کے لئے استعمال کیا
وہی فرح گجر گوگی جس کی کرپشن کا دفاع بدکردار ہوس پرست گھڑی چور کرپشن میں لتھڑا ہوا عمران نیازی کرتا تھا اور ہے
یہ پیغام ہے ہر پاکستان دشمن کے لئے
جس نے پاکستان کو نقصان وہ سزا کا حقدار ہے صاف اور سیدھی بات
#Nation_StandsWith_Army
#مرگ_بر_سرمچار
#ISPR
#حافظ_صاحب_تن_کر_رکھو
The Empress Market, established in 1886, owes its existence to the events of the first war of Independence in 1857. During this period, 38 sepoys who participated in the Independence movement were captured in Karachi. Eight of them lost their lives during an attempted escape, and the remaining sepoys faced death sentences. In a documented account by Sir Bartle Frere, it is noted that the rebel sepoys exchanged congratulations before their executions.
In response to the perceived rebellion, the British, angered by their actions, sought to make an example of the sepoys. Rather than the customary firing range execution, they used the sepoys as cannon fodder on the grounds where the Empress Market now stands. Upon learning of this execution method, the citizens expressed their disapproval by placing flowers and lighting candles at the site, gradually turning it into a memorial for the freedom fighters.
To counter the potential construction of a monument by locals honoring the sepoys, the British authorities decided to build the Empress Market at the location. The market was conceived as a commemorative structure for Queen Victoria instead, serving as a strategic measure to suppress the growing homage to the sepoys and redirect public sentiment.
السلام علیکم
پاکستان
ہم کو چھیڑو گے پھر ہم تم کو اتنا چھیڑیں گے
کہ تمہاری چھیڑخانی کی تمنا ہی مر جائے گی
افواج پاکستان ہر مشکلات سے لڑنے اور نکلنے میں اپنی مہارت رکھتی ہے
" آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر صاحب کے تاریخی الفاظ "
پوری قوم اور افواج پاکستان ایک تھے ایک ہیں اور ایک رہیں گے
انشاءاللہ
#PakistanZindabad
#Nation_StandsWith_Army
#مرگ_بر_سرمچار
#ISPR
مسئلہ بلوچستان کی تفصیل
(حصہ دوم)
بلوچستان ایجنسی کا پاکستان کے ساتھ الحاق
بلوچستان کے حوالے سے دوسرا سب سے بڑا اور تاریخی جھوٹ یہ بولا جاتا ہے کہ قلات یا بلوچستان کے علاقوں کو پاکستان نے جبراً ضم کیا۔ جب کہ سچ یہ ہے کہ بلوچستان کے کچھ نواب تو الحاق میں تاخیر پر قائداعظم سے ناراض ہوگئے تھے۔ صرف 'خان آف قلات' میر احمد یار خان نے زیادہ اثرونفوذ یا فوائد حاصل کرنے کے لیے پاکستان سے الحاق میں تاخیر کی لیکن آخر کر لیا تھا۔
قانون ازادی ہند کے تحت ہندوستان میں تمام شاہی ریاستوں (princely states) کو اختیار دیا گیا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق الحاق کریں۔ ہندوستان میں 1947ء میں 565 (princely states) تھیں، جو انگریز کی باجگزار تھیں۔
قانون آزدی ہند کے تحت تمام شاہی ریاستوں نے پاکستان یا انڈیا میں سے کسی ایک کا چناؤ کرنا تھا۔ آزادی کا آپشن کسی ریاست کو نہیں دیا گیا۔ آزاد صرف دو ریاستیں ہورہی تھیں پاکستان اور انڈیا۔ یہ دو ریاستیں ہی تاج برطانیہ کی successor stateؔ تھیں۔ ایسی کوئی تیسری آزاد ریاست نہ تھی۔ انہی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ اس انتخاب میں جغرافیے، آبادی اور مذہبی معاملات کو ملحوظ رکھنا تھا کیونکہ انڈیا کی تقسیم مذہب کی بنیاد پر ہورہی تھی۔
قلات کی 98 فیصد آبادی مسلمان تھی اور جغرافیہ پاکستان کے اندر ہی تھا۔ لہذا اسکا پاکستان کے ساتھ الحاق طے تھا۔ جوناگڑھ ہندو اکثریتی ریاست نے پاکستان سے الحاق کیا لیکن بھارت نے اسے تسلیم نہیں کیا اور قبضہ کر لیا۔ ہندو اکثریتی حیدرآباد دکن نے ازاد رہنے کا فیصلہ کیا لیکن بھارت نے اسے بھی تسلیم نہیں کیا اور قبضہ کر لیا۔
بلکل اسی طرح قلات کے پاس آزاد رہنے کا کوئی آپشن نہ تھا نہ ہی وہ انڈیا کے پاس جاسکتی تھی۔ ریاست قلات برٹش انڈیا کا حصہ تھی اور پاکستان برٹش انڈیا کی"successor state" تھی۔ قلات پاکستان میں شامل نہ ہوتا تو ریاست قلات کے پاس واحد آپشن انڈیا کے ساتھ الحاق کرنے کا تھا جو جغرافیائی اور مذہبی لحاظ سے ممکن نہ تھا۔
لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کے 3 جون 1947 کے تقسیم ہند کے پلان کےمطابق 18 جولائی 1947 کو برطانوی سیکریٹری آف سٹیٹ فار انڈیا نے ہندوستان میں برطانوی زیر حفاظت تقریباً 565 راجوں مہاراجوں اور نوابوں کی ریاستوں کے بارے میں کہا کہ اِن ریاستوں کو آزادممالک تسلیم نہیں کیا جائےگا بلکہ یہ ریاستیں اپنی جغرافیائی اور مذہبی وابستگی کے حوالے سے پاکستان یا ہندوستان کےساتھ الحاق کر سکتی ہیں۔
برٹش بلوچستان میں اکثریتی پشتون کاکڑ قبائل کے علاوہ مری بگٹی اور مینگل قبائل کے علاقے شامل تھے۔ یہ سارے براہ راست برطانوی حکومت ہند کے ماتحت تھے۔ جس کے سیاسی امور کوئٹہ میونسپلٹی اور پشتون و بلوچ سرداروں کی نمائندہ تنظیم شاہی جرگہ کی مشاورت سے چلائے جاتے تھے۔
ان سب علاقوں کو پاکستان میں ضم کرنے کے لیے مسلم لیگ بلوچستان کے نمائندوں نے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق میں پورے بلوچستان میں پرجوش مہم چلائی۔ موجودہ بلوچستان کے ہزاروں لوگ اس وقت ان ریلیوں میں شرکت کرتے تھے۔
29 جون 1947 کو برٹش بلوچستان کے پاکستان یا ہندوستان میں شامل ہونے کے لیے کوئٹہ کے ٹاؤن ہال میں صبح دس بجے بلوچستان کے شاہی جرگہ اور کوئٹہ میونسپل کمیٹی کے منتخب ارکان کا مشترکہ اجلاس ہوا۔ اس مشترکہ اجلاس میں کل 54 ارکان شامل ہوئے۔ سب نے متفقہ طور پر پاکستان کے حق میں ووٹ دیا۔ آٹھ غیر مسلم اراکان اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے۔
سوائے ریاست قلات کے بلوچستان کے تمام عمائدین نے پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ متفقہ طور پر کیا۔ صرف ایک سردار دوست محمد مینگل نے اِس موقع پر کہا کہ وہ ریاست قلات کےساتھ جانا چاہتے ہیں لیکن جب اُنہیں گورنر جنرل نے بتایا کہ رائے شماری صرف پاکستان یا ہندوستان میں شامل ہونے کےلئے ہے تو سردار دوست محمد مینگل نے کہا کہ پھر ہم پاکستان کےساتھ جائنگے۔
خان آف قلات تاخیر کرتا رہا اور 11 اگست 1947ء کو الحاق کی شرائط پر بات کرنے کے لیے قائداعظم کے ساتھ ایک 'سٹینڈ سٹل' ایگریمنٹ کیا۔ جسے ماؤنٹ بیٹن نے فوری طور پر مسترد کر دیا۔ کیونکہ اس وقت قائداعظم کسی 'شاہی ریاست' کی حیثیت کا تعین نہیں کر سکتے تھے۔ ریاستوں کی حثییت کا تعین تاج برطانیہ نے ہی کرنا تھا۔
خاران مکران اور لسبیلہ نے بھی اس 'سٹینڈ سٹل' ایگریمنٹ کو مسترد کردیا اور واضح کیا کہ وہ قلات کا حصہ یا زیر نگیں ریاستیں نہیں ہیں اور خان آف قلات ان کا نمائندہ نہیں ہے۔
خاران، لسبیلہ اور مکران کے حکمرانوں نے فوری طور پر قائداعظم کو الحاق کے لیے درخواستیں بھیج دی تھیں۔ لیکن قائداعظم نے جب ان درخواستوں پر قلات کی وجہ سے دستخط کرنے میں تاخیر کی تو خاران کے میر حبیب اللہ خان نوشیراونی باقاعدہ غصے اور افسوس کا اظہار کیا اور قائداعظم کو ایک اور خط لکھا کہ "خاران کے لوگ قلات سے آزاد ہیں اور پاکستان کے لیے مریں گے۔"
ریاست لسبیلہ پر موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کے دادا جام غلام قادر خان کی حکومت تھی۔ اس نے برطانوی راج کے خاتمے کے بعد قائداعظم کو خان آف قلات کے لسبیلہ پر دباؤ ڈالنے والی سیاست سے آگاہ کیا اور کئی خط لکھے جن میں پاکستان سے فوری الحاق کا مطالبہ کیا۔
مکران پر نواب بائی خان گچکی کی حکومت تھی۔ اس نے قائداعظم سے الحاق کی درخواست پر فوری دستخط کرنے پر بار بار اصرار کیا اور جب بےصبری بڑھی تو قائداعظم کو دھمکی دی کہ "اگر پاکستان جلد ہی مکران کا الحاق قبول نہیں کرتا تو ہم دوسروں سے رجوع کر سکتے ہیں۔" خاران، مکران اور لسبیلہ کے حکمرانوں نے مارچ 1948ء میں اسی سلسلے میں قائداعظم سے ملاقاتیں بھی کیں۔
خان آف قلات پر قلات میں موجود انڈین نیشنل کانگریس کے نمائندوں کا دباؤ تھا۔ جیسے باچا خان نے صوبہ سرحد کے ریفرنڈم میں آزاد رہنے کا آپشن رکھنے کا مطالبہ کیا تھا یہاں بھی کانگریسی خان آف قلات سے تاج برطانیہ سے آزادی کا آپشن دینے کا مطالبہ کر رہے تھے جسے مسترد کیا جا چکا تھا۔ 'خان آف قلات' جانتے تھے کہ یہ ممکن نہیں لیکن وہ تاخیری حربوں کے ذریعے نئی بننے والی ریاست پاکستان میں زیادہ سے زیادہ اثرورسوخ اور فوائد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ قلات سے ملک سعید خان دہوار، گل خان نصیر، عالیجاہ غوث بخش مینگل، غوث بخش بزنجو کانگریسی تھے اور پاکستان کے ساتھ الحاق کے خلاف تھے۔
اس کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ قلات کا الحاق فروری 1948ء تک موخر ہوگیا۔ جس کے بعد قائداعظم نے بلاآخر خاران، لسبیلہ اور مکران کی زیر التواء الحاق کی درخواستیں قبول کر لیں اور قلات پاکستان کے وسط میں ایک چھوٹی سی الگ تھلگ شاہی ریاست رہ گئی۔
آل انڈیا ریڈیو نے 27 مارچ 1948ء کو خبر نشر کی کہ خان آف قلات احمد یار خان نےدو ماہ قبل ہندوستان سے الحاق کرنے کی درخواست کی تھی لیکن ہندوستان نے جغرافیائی وجوہات کی بناء پر اسے قبول نہیں کیا۔ یہ خان آف قلات ی بہت بڑی سبکی تھی لہذا اس نے بھارت سے رابطوں کی تردید کرتے ہوئے فوری طور پر پاکستان سے الحاق کا اعلان کر دیا۔ 31 مارچ 1948 کو قلات کا انسٹرومنٹ آف ایکسیشن قائد کو پیش کیا گیا جسے انھوں نےتسلیم کر لیا۔
خان اف قلات کا دعوی تھا کہ اس نے قلات کا پاکستان کے ساتھ الحاق خواب میں حضورﷺ کی ہدایت پر خود کیا تھا۔ خان آف قلات کے پوتے پرنس عمر نے متعدد ٹی وی پروگرامز میں اس کا اظہار کیا کہ میرے دادا نے خواب میں حضور پاک کی ہدایت پر پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔
خان آف قلات احمد یار خان کا بھائی پرنس کریم بھی کانگریسی سرخا تھا۔ پاکستان سے الحاق کے خلاف تھا۔ الحاق پر اپنی افغانی بیوی کے ساتھ افغانستان فرار ہوا اور وہاں افغان حکومت کی مدد سے پاکستان کے خلاف پہلا دہشتگردی کا کیمپ بنایا۔ تین ماہ بعد پاکستان پر پہلا حملہ کیا اور مار کھا کر بھاگا۔ اس کے ٹریننگ کیمپ کا حصہ بننے والے لوگ بلوچستان کے اولین 'مسنگ پرسنز' تھے۔
قوم پرست سرخوں کی طرف سے ایک سنگین غلط بیانی یہ بھی کی جاتی ہے کہ احمد یار خان کو پاک فوج نے گرفتار کر کے اس سے بندوق کی نوک پر الحاق پر دستخط کروائے تھے۔ جب کہ سچ یہ ہے کہ انہیں 1948ء میں نہیں بلکہ 6 اکتوبر 1958ء کو ایوب خان کی حکومت کی طرف سے ون یونٹ کی عوامی مخالفت پر گرفتار کیا گیا تھا۔ 1948ء میں تو خان آف قلات کو پاکستان کے ساتھ الحاق کے بعد شاہی لقب دیا گیا اور انہیں بلوچستان کی نو تشکیل شدہ قبائیلی کونسل کا رسمی "خان اعظم" مقرر کیا گیا۔ یوں سمجھیں بلوچستان کے بہت بڑے حصے کا حاکم بنایا گیا۔
یہ سب کچھ اسی دور کے پاکستان مخالف قوم پرست راہنماؤوں میر غوث بخش بزنجو، میر گل خان نصیر حتی کہ خود میر احمد یار خان کی اپنی کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔ وہاں کہیں بھی آپ کو کسی زور زبردستی کا کوئی ایک حوالہ نہیں ملے گا۔
سچ یہی ہے کہ بلوچستان کے تمام شاہی ریاستوں اور تمام نمائندوں نے ہنسی خوشی اور اپنی رضامندی بلکہ ضد پر پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا اور اس کے لیے کسی پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا تھا۔
گوادر کو حکومت پاکستان نے 1958ء میں سلطنت عمان سے خریدا اور 20 سال بعد میں اس کو صوبہ بلوچستان کا حصہ بنا دیا۔ گوادر بلوچستان کا حصہ نہیں تھا۔ یعنی یہ بلوچستان کو موجودہ شکل پاکستان نے دی۔
جاری ہے ۔۔۔۔
تحریر شاہد خان
نوٹ ۔۔۔ یہ مضمون دنیا اخبار میں بھی شائع کیا گیا ہے۔
#Balochistan
#سرمچار_بلوچستان_کے_غدار