شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس شہید کردیئے گئے،
ان للہ وانا الیہ راجعون۔۔
شیخ کی شہادت کی خبر نے دل انتہائی رنجیدہ کردیا ہے،
یہ بدترین دہشتگردی ہے،منبر و محراب ،مسجد و مدرسہ اور مرکز اسلام پر حملہ ہے،وہ ایک عظیم خادم قرآن و سنت تھے،قرآن وسنت کا ایک عظیم چراغ بجھا دیاگیا،اس سانحہ عظیم پر تعزیت کیلئے الفاظ نہیں، یہ امت کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔
کیا صوبائی، وفاقی حکومتیں ،سیکیورٹی ادارے،انٹلی جنس ایجنسیاں بتا سکتی ہیں کہ خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کب ختم ہوگی؟؟؟؟علماء، قبائلی مشران سے لیکر چھوٹے بچوں تک کوئی بھی دہشتگردوں سے محفوظ نہیں۔
اللہ تعالٰی شیخ ادریس شہید کی شہادت قبول فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔
🛑 ایک خبر جو دنیا کے لیے "غیر اہم" ہے…
سوڈان کے شہر الفاشر میں 429 سے زائد بچے
غذائی قلت اور دواؤں کی کمی کے باعث جاں بحق ہو گئے۔
یہ ہمارے مسلمان بھائی اور معصوم بچے ہیں —
ان کے لیے آواز اُٹھائیں، ان کے دکھ کو محسوس کریں 💔
کرم میں آج پاک فوج کے ریٹائرڈ سپاہی کا کپتان ڈاکٹر بیٹا بھی شہید ہو گیا۔ محنتی باپ کا بہادر اور لائق بیٹا، کیپٹن ڈاکٹر نعمان سلیم شہید۔ 29 اکتوبر 2025 کو کرم میں وطن کی خاطر جان نثار کرنے والوں میں کیپٹن ڈاکٹر نعمان سلیم بھی شامل تھے، جن کا تعلق میانوالی کے ایک سادہ مگر باہمت گھرانے سے تھا۔ وہ پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ سپاہی، محمد سلیم کے فرزند تھے وہی محمد سلیم جنہوں نے اپنے محدود وسائل اور ان گنت قربانیوں سے اپنے بیٹے کو ڈاکٹر بنانے کا خواب پورا کیا۔ کیپٹن ڈاکٹر نعمان سلیم کی عمر محض چوبیس برس تھی، اور فوج میں شامل ہوئے ابھی ایک سال اور چھ ماہ ہی ہوئے تھے۔ یہ سوچ کر دل بھر آتا ہے کہ ایک سپاہی باپ نے برسوں کی محنت سے اپنے بیٹے کو ڈاکٹر بنایا، مگر وہی بیٹا آج اپنی جان قربان کر کے وطن کی زندگی بچانے والوں میں شامل ہو گیا۔ خوارج کے خلاف لڑتے ہوئے کیپٹن نعمان نے وہی کیا جو ایک سچا سپاہی کرتا ہے اپنی قوم، اپنی سرزمین اور اپنے عہد سے وفا۔ کیپٹن ڈاکٹر نعمان سلیم بھی انہی داستانوں کا ایک روشن باب بن گئے ایک ایسا باب جو آنے والی نسلوں کو یہ سبق دیتا رہے گا کہ وطن کی محبت سب سے بڑی عزت ہے، اور شہادت سب سے بڑا انعام ہے۔
🩸کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ
میجر سبطین حیدر سات دہشتگردوں کو درابن کے علاقہ میں جہنم واصل کرنے کیبعد شہید
🇵🇰آج پھر وطن کا بیٹا پاکستان پر قربان
🤲پوری قوم ان غازیوں اور شہیدوں کی مقروض ہے جو ہمارے مستقبل کے لیے اپنا آج قربان کر رہے ہیں
🚨شہادتوں کا یہ سلسلہ آخر کب تک؟