الحمدللہ
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے مسلم لیگ (ن) کے لاہور سے قومی اسمبلیNA-127 سے عطاءاللہ تارڑ صاحب کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا.
@TararAttaullah
@AzharSiddique Kis tarha k wakeel hain ap janab, jazbaat ko sambhal kar rakhain or ap jesay waqula nay Adliya or qanoon ka mazak banaya hoa ha…ek azad candidate pay ap kis tarha article 63-A lagwa saktay hain…khuda ka khoof krain qoom k sath or kitna khilwaar karna ha ap nay..
@KhalidKLodhi@SIYASIDERA Numbering dekh Youthiya g name k sath Adv likhnay say banda wakeel nahi ban jata.. read constitution of Islamic Republic Pakistan part 4 chapter 2 Article 106
خواجہ آصف اور عطا تارڑ جس طریقے سے الیکشن لڑے ہیں، چاہے وہ گراؤنڈ ہو یا سوشل میڈیا خراج تحسین کے مستحق ہیں ان سے اور سیاستدانوں کو بھی سیکھنا چاہیے۔
@TararAttaullah@KhawajaMAsif
@Tahirmughalpml8 سرحد حافظ صاحب نے سنبھال لی
آئین قاضی فائز عیسی نے سنبھال لیا اور معیشیت کے لیے میاں نواز شریف آچکا ہے
کہہ دو پاکستان کے دشمنوں سے
( وَ تُعِزُّ مَنْ تَشاءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشاءُ)
مصر میں مسلمانوں کی سب سے بڑی یونیورسٹی جامعة الازہر جانے کا اتفاق ہوا۔
ہر لیکچر کے آخر میں کانفرنس کے شرکا علماء سے اس سے بھی زیادہ سخت سوال کر رہے تھے
جو بچپن سے میرے دل میں تھے
اور عالم جو دراصل جامعۃ الازہر کے پروفیسرز تھے
ہر سوال کا خندہ پیشانی سے جواب دے رہے تھے۔
ایک صاحب نے وہی سوال پوچھ لیا
جس کی بنیاد پر میرے علاقے کے مولانا نے محمود صاحب کو گستاخ قرار دے دیا تھا۔
میری حیرت کی انتہاء نہ رہی جب پروفیسر نے کہا میری خواہش تھی کوئی یہ سوال کرے
اور پھر قرآن کی آیات سے سوال کا جواب دیا۔
اب میری بھی ہمت بڑھی
میں نے پوچھا
جناب جب خدا جسے چاہے عزت دے جسے چاہے ذلت دے جسے چاہے ہدایت دے
جسے چاہے گمراہی میں مبتلا کر دے
تو میں اسے مانوں نہ مانوں کیا فرق پڑتا ہے۔
پروفیسر صاحب تھوڑے سے مسکرائے اور بولے
قُرآن میں احکامات دو طرح کے ہیں
ایک مُحکمات
اور دوسرے مُتشابہات۔
ضروری ہے کہ مُتشابہات کو مُحکمات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے
جن آیات میں یشا ء اور تشاء آتا ہے
ان کا ترجمہ آپکے ہاں مُتشابہات و مُحکمات کے عام اُصول کے تحت نہیں کیا جاتا
اس لئے انڈیا اور پاکستان کےمسلمان خدا کے تصور کو غلط سمجھتے ہیں۔
اس کا عربی مفہوم یہ ہے کہ *جو چاہتا ہے اللہ اسے عزت دیتا ہے*
*اور جو چاہتا ہے اللہ اسے ذلت دیتا ہے*۔
*جو چاہتا ہے اللہ اسے ہدایت دیتا ہے*۔
انہوں نے کہا اس آیت کو آپ ایک اور آیت کے مطابق دیکھیں جو مُحکمات میں سے ہے
جس کا مطلب ہے کہ *انسان کو وہی کچھ ملتا ہےجس کے لئے وہ کوشش کرے*۔
میں نے پھر بودا سا سوال کیا کہ
میں نے تو ہمیشہ عُلماء سے یہی سُنا ہے کہ اللہ توفیق دے تو ہی مُجھ سے کوئی نیکی ہو سکتی ہے۔
کانفرنس روم میں قہقہہ گُونجا
پھر پروفیسر صاحب نے سورہ رعد کی آیت پڑھی کہ
*اللہ لوگوں میں کُچھ نہیں بدلتا جب تک وہ خود میں تبدیلی نہ لائیں*۔
میں پروفیسر صاحب کا جُملہ مُکمل ہونے سے پہلے بول پڑا کہ
یہ سب جو میں اس کانفرنس میں دو دن سے سُن رہا ہوں
اُس اسلام سے بالکُل مُختلف ہے جو میں آج تک عُلماء سے سُنتا آیا ہوں۔
اس پر پروفیسر صاحب نے سورہ بقرہ کی آیت پڑھی
*اور جب اُن سے کہا جائے اللہ کے اُتارے پر چلو تو کہیں گے ہم تو اُس پرچلیں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا۔ چاہے اُن کے باپ دادا نہ کُچھ عقل رکھتے ہوں نہ ہدایت*
کہنے لگے قرآن اللہ نے میرے اور تُمہارے لیے ہی اُتارا ہے
اسے خود پڑھتے اور سمجھتے کیوں نہیں
میرے یا کسی بھی مولوی کے محتاج کیوں ہوتے ہو۔
قرآن عین انسانی عقل کے مُطابق بات کرتا ہے۔
میں نے پھر سوال کیا کہ مُجھے تو آج تک علماء نے یہی بتایا ہے کہ
ایمان اور استدلال یعنی ریزن (reason) الگ الگ چیزیں ہیں
اور ریزنگ بھٹکا دیتی ہے۔
اس بار پروفیسر صاحب نے انڈین اور پاکستانی عُلماء کی کم علمی اور تنگ نظری کی وجوہات پر بات کی
اور سورہ انفال کی ایک آیت پڑھی کہ
*اللہ کی نظر میں وہ جانوروں سے بھی بد تر ہیں جو گُونگے بہرے بنے رہتے ہیں اور استدلال نہیں کرتے۔*
*بس پھر میں جیسے گُونگا ہو گیا۔*
*میرے سامنے سےجیسے اندھیرے چھٹ گئے۔*
میں نے بڑے خلوصِ دل سےکلمہ پڑھا کہ واقعی میرا خدا تو بالکل ویسا ہے
جیسا ایک خالق کو ہونا چاہیے ۔
کانفرنس کے اختتام پر پروفیسر صاحب نے قرآن کی انگلش ترجُمے والی کاپی گفٹ کی ۔
ہر آیت مُجھے خود سے مُکالمہ کرتی سنائی دیتی۔
کچھ عرصہ بعد ایک نو مسلم گورے سےکینیڈا کی ایک یونیورسٹی میں ملاقات ہوئی۔
وہ اسلام کی پہلی دو صدیوں کے حوالے سے پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔
اُس کے ساتھ مل کر کُچھ سال اسلام کی ابتدائی اُٹھان
اور پھر اس میں فرقے بنتے ٹُکرے ہوتے تاریخ کی نظر سے دیکھا۔
یہ بھی دیکھا کہ کیسے لوگ قُرآن جیسا خزانہ چھوڑ کر روایات کی تلاش میں دہائیوں تک بھٹکتے پھرے۔
آج شیعہ کروڑوں میں ہیں
اور کروڑوں ہی سنّی
کہیں مالکی ہیں
کہیں حنبلی اور کہیں شافعی۔
ہر فرقے میں مزید تقسیم اور فرقے در فرقے ہیں۔
افسوس کہ ایسے لوگ کہیں مُشکل سے نظر آتے ہیں
جو وہابی ہوں نہ دیو بندی،
بریلوی ہوں نہ اہل حدیث
جن کا دین صرف اسلام ہو۔
جو قرآن و سُنّت میں استدلال کریں۔
سورہ یونس کی سویں آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ *عقل کا استعمال اور استدلال ایمان کی بُنیادی شرط ہے* ۔
اب میں فرقوں میں بٹے اپنی اپنی انا میں مدہوش مُسلمانوں کو دیکھ کر سوچتا ہوں کہ
کیا یہ دُنیا بھر میں ہوتی اپنی ذلّت کو نہیں دیکھتے
کیا یہ اب بھی نہیں جان پائے کہ اللہ کی رسی چھوڑ کر یہ ٹُکروں میں بٹ چُکے ہیں۔
شاید دل مُردہ ہونے سے اپنی ذلّت کا احساس ہی نہ ہوتا ہو۔
جاری ہے