It was, indeed, a moment of honor and pleasure to meet @AseefaBZ. I found her to be receptive and serious about the agenda and issue of the meeting. She is determined to improve things related to the subject discussed. I’m convinced she will accomplish what she wills.
یہی تو ان گٹکا خوروں کی سیاست ہے دھمکیاں دو
خوف پھیلاؤ اور پھر معصوم بن جاؤ۔
بوری بند لاشیں دیکھ سکو گے جیسے الفاظ زبان پر لانے والوں کے خلاف وزیر داخلہ سندھ کا انکوائری کا فیصلہ بالکل درست ہے۔ کراچی کو دوبارہ خوف کے اندھیروں میں دھکیلنے کا خواب دیکھنے والے یاد رکھیں یہ 90 کی دہائی نہیں۔
اور بھائی ڈرا کس کو رہے ہو؟ ہم پیپلزپارٹی والے ہیں دھمکیوں سے نہیں ڈرتے ان کا مقابلہ کرتے ہیں
@SindhGovt1
#Karachi
گلگت میں جو بدمعاشی ہورہی ہے اس کا
مطلب تو آپ بھی جانتے ہیں میں بھی
جانتا ہوں سارا پاکستان جانتا ہے، کائرہ صاحب
کائرہ صاحب میں نہیں جانتا مجھے سمجھا دیں؟
مفاہمت کی مجبوری
#HBDShaheedBenazir#FSDinfoPPP
پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی
سپیکرپنجاب اسمبلی کے لقمہ کہ کیا سندھ میں بھی صوبہ بننا چاہئے
علی حیدر گیلانی کا خوبصورت جواب سنیئے👇
پنجاب کی تقسیم ہونی ہی ہونی ہے
سرائیکی اور پوٹھوہار صوبہ بننا ہی بننا ہے
واضع اور دو ٹوک موقف
@ahaidergilani86@KasimGillani
گلگت بلتستان الیکشن پیپلز پارٹی واحد اکثریتی جماعت ہے اور حکومت بنانا اسکا حق ہے پیپلز پارٹی نے بازار نہیں لگایا اگر لگاتی تو آزاد امیدوار کسی ایسی تانگہ پارٹی میں نہ جاتے جسکا گلگت بلتستان میں وجود ہی نہیں ہے-سحر @SeharKamran کامران
شاہراہ بھٹو وجییہ ثانی کی وجہ سے بنا ،
کریم آباد انڈر پاس وجیہہ ثانی کی وجہ سے بنا ،
عظیم پورہ فلائی اوور برج وجیہہ ثانی کی وجہ سے بنا ،
منور چورنگی وجیہہ ثانی کی وجہ سے بن رہا ہے ،
پہلوان گوٹھ سے صفوراں چورنگی وجیہہ ثانی کی وجہ سے بن رہا ہے ،
وجییہ ثانی کی آواز پر بننے والے کئی منصوبوں کی فہرست ہے ۔
ایڈا وڈا تو وجیہہ ثانی اپوزیشن لیڈر ہے ۔
اور جناب راتب خور پنجاب یا دوسرے صوبوں کے لیئے اٹھائے آواز کا کوئی ایک ٹویٹ تو دکھاؤ ۔
@wajih_sani
ایک بندہ غلط ہو سکتا دو غلط ہو سکتے مگر یہاں تو وہ لوگ جو تیس چالیس سال سے پارلیمنٹ کور کر رہے وہ صحافی کہہ رہے کہ یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے قبضے جیسا معاملہ ہے اور وہ حیران رہ گئے ہیں کہ حکومت کی ہر سطح پر اس بل پر کسی نے کوئی اعتراض نہی کیا ہے
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ میں مجوزہ ترمیمی بل میں غیرآئینی شقیں 27 اے ون کو دفعہ 2 کی ضمنی دفعہ qb کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو حکومت اور حکومتی سوشل میڈیا ٹیم کا یہ جھوٹ بے نقاب ہوتا ہے کہ بل کے اندر عام شہری کی جائیداد زبردستی زیر استعمال لانے کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ میں مجوزہ ترمیمی بل میں غیرآئینی شقیں 27 اے ون کو دفعہ 2 کی ضمنی دفعہ qb کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو حکومت اور حکومتی سوشل میڈیا ٹیم کا یہ جھوٹ بے نقاب ہوتا ہے کہ بل کے اندر عام شہری کی جائیداد زبردستی زیر استعمال لانے کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔
جن وفاقی وزیروں، فیڈرل سیکرٹریز نے خود یہ متنازعہ ٹیلی کام بل بنایا یا ان سے ٹیلی کام کمپنیوں کے “جنات” نے بنوایا یا ٹیلی کمپنیوں کے گھوسٹ نے بنا بنایا ایک پرنٹ انہیں دے دیا جسے انہوں نے من و عن ایک کاما اور فل اسٹاپ تبدیل کیے بغیر چپکے سے قومی اسمبلی سے پاس بھی کرالیا لیکن سینٹ میں شور مچنے پر اب انہی وزیروں/سیکرٹریز کی کمیٹی بھی بنا دی جن کے خلاف دراصل وزیراعظم، کابینہ ارکان اور پارلیمنٹ کو گمراہ کرنے پر ایکشن لینا تھا کہ یہ انہوں نے ون سائیڈ سب کچھ کیا۔
ٹیلی کام کمپنیوں کے پاس بڑا پیسہ ہے۔ صاف لگ رہا ہے یہ بل بہت بڑی لابنگ کے بعد وجود میں آیا ہے جہاں سب جرمانے، سزائیں یا پاورز کمپنیوں کے پاس ہیں، ملک میں ہزاروں ہاوسنگ سوسائٹیز یا سرکاری ادارے جن کے پارکس ہیں یا جن کے پاس پبلک سپیس ہے، ان سب کے پاس ایک ہی حل ہے کہ وہ ٹیلی کام کمپنیوں کی شرائط پر ڈیل کریں ورنہ جرمانوں کا سامنا کریں۔
ٹیلی کام سیکٹر کی سمجھداری اور منصوبہ بندی ملاحظہ فرمائیں کہ پہلے جاز کمپنی کے ایک سابقہ ملازم ضرار ہاشم خان کو کنٹریکٹ پر سیدھا 22 گریڈ کے برابر فیڈرل سیکرٹری آئی ٹی لگوایا اور پھر اس کے زریعے ہی یہ بل بنوایا، کابینہ میں بھیجا اور پھر لابنگ کے بعد اسمبلی سے بغیر چوں چراں کے پاس بھی کرا لیا۔
اب وہی کردار اس کمیٹی میں جج ، جیوری اور جلاد بھی خود ہیں۔ ان کے خلاف انکوائری یا مقدمے میں ان سب کو ہی جج بنا کر بٹھا دیا کہ اپنا فیصلہ خود کر لو۔ یہ ہے ہمارے وزیراعظم شہباز شریف صاحب کا ماڈل آف ایکشن، انکوائری اور انصاف۔ 😎
@BBhuttoZardari@CMShehbaz@PalwashaKhan18@naveedqamarmna@MIshaqDar50@AyazSadiq122@JunaidAkbarMNA@BarristerGohar@DrTariqFazal@HinaRKhar@ShaziaAttaMarri@sherryrehman@SyedAliZafar1@AzamNazeerTarar@MoitOfficial@ShazaFK@KhSaad_Rafique@sharmilafaruqi
شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 73ویں سالگرہ کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔
شہید محترمہ بینظیر بھٹو صرف اسلامی دنیا کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم نہیں تھیں بلکہ ایک متحد، جمہوری اور ترقی پسند پاکستان کی علامت اور “وفاق کی زنجیر” تھیں۔ انہوں نے آمریت، جبر اور ناانصافی کے خلاف بے مثال جدوجہد کی اور آئین کی بالادستی، مضبوط وفاق، عوامی حقوق اور مساوات پر مبنی معاشرے کا خواب قوم کو دیا۔
آج بھی اُن کا مشن ہر اس پاکستانی کے دل میں زندہ ہے جو جمہوریت، انسانی حقوق اور بہتر مستقبل پر یقین رکھتا ہے۔ آئیں آج یہ عہد کریں کہ ہم بی بی شہید کے وژن اور عوامی خدمت کے مشن کو پوری ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔