🔴 یہ سعودی عرب کی مسجد ہے جو اپنی 8 ہزار مربع میٹر کی وسعت کے باوجود اندرونی حصے میں کسی بھی ستون کے نہ ہونے کی وجہ سے منفرد ہے۔
اس مسجد میں بیک وقت تقریباً 3 ہزار 500 نمازی نماز ادا کر سکتے ہیں۔
میں تمام وفاپرست کارکنوں اور عوام کو عیدالاضحٰی کی مبارکبادپیش کرتاہوں اوران سے کہتا ہوں کہ وہ عیدالاضحٰی کے موقع پر جب قربانی کریں تو گوشت کی تقسیم میں شہیدوں کے لواحقین، لاپتہ اوراسیر ساتھیوں کے اہل کوضرور یادرکھیں، اورقربانی کے جانوروں کی کھالیں فروخت کرکے اس کی رقم وفا فاؤنڈیشن کے اکاؤنٹ میں جمع کرادیں یا متعلقہ ساتھیوں کویہ رقم پہنچادیں تاکہ مستحقین کی مدد کی جاسکے۔
الطاف حسین
رابطہ کمیٹی کےسابق رکن واسع جلیل بھائی کو بانی و قائد جناب الطاف حسین کی MQM فیملی میں دوبارہ شمولیت پر خوش آمدید کہتا ہوں اور مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ امید ہے کہ تحریکی قافلے میں واسع جلیل بھائی کی دوبارہ شمولیت تحریک کے لئے نیک شگون ثابت ہوگی۔ اور وہ
وہ بانی و قائد جناب الطاف حسین کی قیادت میں تحریک کی بہتری اور اس کے کاز کو آگے بڑھانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
@WasayJalil
پیپلز پارٹی وہ حرامخور پارٹی ہے جس نے اپنی حرامخوریوں کے دفاع کے لئے بھی اپنے جیسے ہی حرامخور رکھے ہیں۔ مطلب یہ خود مان رہی ہے پچھلے اٹھارہ سال میں پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا، اور شاہراہ بھٹو کے علاوہ پورے کراچی کی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں۔
بینظیر انکم سپورٹ پر پلنے والی ایک بھولڑی نے ٹویٹ کیا تو دوسرے راتب خور بھولڑے نے اسے آرٹی کر دیا۔ 🤣
#بااختیار_کراچی
#پیپلز_پارٹی_چور_ہے
بانی وقائد جناب الطاف حسین کی توثیق اور دعاؤں کے ساتھ واسع جلیل بھائی کو تحریک میں واپسی پر خوش آمدید کہتے ہیں
انشااللہ یہ واپسی تحریک کیلئے نیک شگون ثابت ہوگی
الطاف حسین بھائی زندہ باد
الطاف حسین بھائی کا نظریہ پائندہ باد
آپ کہیں آفیشیلی لکھا کہا دکھا دیں کہ الطاف حسین کو غدار قرار دیا گیا ہو ؟ نہیں کہہ سکتے کیونکہ واحد لیڈر جنھوں نے ایک لاکھ کارکناں پیش کیئے ، بانیانِ پاکستان ہوں یا انکی اولاد ہمیشہ ٹرینڈ رہے ہیں
امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سین ڈیاگو میں مسجد پر فائرنگ اورشہریوں کی ہلاکتوں کا واقعہ قابل مذمت اور انتہائی تشویشناک ہے۔ میں فائرنگ کے واقعہ میں جاں بحق ہونے والے بے گناہ افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ فائرنگ کے اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کی جانی چاہیے اور شہریوں کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے۔
الطاف حسین
لندن
19 مئی 2026ء
اگر ہر معاملے میں شہری سندھ اور دیہی سندھ کا کوٹہ الگ الگ ہو سکتا ہے تو اِن کی اسمبلیاں اور بجٹ بھی الگ لگ کیوں نہیں ہو سکتے ؟ سوچنے کی بات ہے!!
#PPPChorHai
جیسا انہوں نے اکابرین علماء کرام کا تذکرہ فرمایا ۔۔ نجم ملت نے خود بھی اسی کیفیت میں دنیا سے پردہ فرمایا۔
*یعنی زندگی کی اخری شب بھی درس حدیث فرمایا*
#Mufti_Ilyas_Rizvi_Sahab
ایم کیوایم نے کراچی اورسندھ کے شہری علاقوں میں عوامی انقلاب برپا کیا
تمام وفاپرستوں کوایم کیوایم کا42 واں یوم تاسیس مبارک ہو
#MQM42YearsWithAltaf
آج ایم کیوایم کا42 واں یوم تاسیس ہے اور میں ایک ایک یونٹ، سیکٹراورزون کے تمام وفاپرست ساتھیوں، ماؤں،بہنوں، بزرگوں، بچوں اورساتھیوں کے تمام اہل خانہ کوڈھیروں مبارکباداوردعائیں پیش کرتاہوں۔
ایم کیوایم سے قبل 11جون 1978ء کو آل پاکستان مہاجراسٹوڈینٹس آرگنائزیشن APMSO قائم ہوئی جس نے مہاجرطلبہ کے حقوق کے لئے آوازبلند کی جس پر طلبہ میں اس کی حمایت اورمقبولیت تیزی سے بڑھی تو مخالفین نے طاقت اور بندوق کے ذورپر ہمیں تعلیمی اداروں سے نکال دیا، ہم نے علاقوں میں تحریک کا پیغام پھیلانا شروع کردیا، مہاجروں کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں، حق تلفیوں کے خاتمے اورمسائل کے حل کے لئے 18مارچ 1984ء کو ایم کیوایم کی بنیاد ڈالی۔گلی گلی جاکرلوگوں کو تحریک کاپیغام دیا،انہیں متحد کیااور پھر پورے ملک نے دیکھاکہ ایم کیوایم نے غریب ومتوسط طبقہ کے اُن پڑھے لکھے نوجوانوں کو بلدیات اورقومی وصوبائی اسمبلیوں کاممبربنایا جوالیکشن لڑنے کے لئے کاغذات نامزدگی کی فیس جمع کرانے، اپنی انتخابی مہم کے لئے بینرزتک لگانے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، ان کے کاغذات نامزدگی کی فیس تک MQM نے جمع کرائی، ایم کیوایم نے کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں میں ایک عوامی انقلاب برپاکیا، عوام نے امیدواروں کے نہ نام دیکھے اورنہ ہی چہرے دیکھے بلکہ انہوں نے صرف یہ دیکھاکہ یہ الطاف حسین کانامزد کردہ ہے، انہوں نے MQM کاپرچم اور اس کاانتخابی نشان دیکھااور گمنام نوجوانوں کواقتدارکے ان ایوانوں میں پہنچایاجس کاوہ تصور تک نہیں کرسکتے تھے۔
کراچی اورسندھ کے شہری علاقوں میں غریب ومتوسط طبقہ کایہ انقلاب دیکھ کر ہمارے پاس پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا،گلگت بلتستان، آزادکشمیر اوراندرون سندھ سے وفودآنے لگے کہ ہم نے پاکستان میں ایم کیوایم جیسی سچی عوامی جماعت نہیں دیکھی جواس طرح عوام میں انقلاب برپاکررہی ہو، ہم بھی ایم کیوایم میں شامل ہوناچاہتے ہیں۔لہٰذاہم نے ایم کیوایم کادائرہ پورے ملک تک پھیلانے اورتمام پورے ملک میں غریب ومتوسط طبقہ کاانقلاب برپاکرنے کے لئے ایم کیوایم کومتحدہ قومی موومنٹ میں تبدیل کیا۔
ہوناتویہ چاہیے تھاغریب اورمتوسط طبقہ کے وہ نوجوان جو MQM کے پلیٹ فارم سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے اور بینرپوسٹرتک بنانے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے،جوغربت، تنگدستی کے ماحول سے آئے تھے اور انہیں ایم کیوایم نے بڑے بڑے ایوانوں میں پہنچایاتھاوہ اپنی ایم کیوایم کے شکرگزار ہوتے، اپنے نظریہ پر مضبوطی سے قائم رہتے اور غریب ومتوسط طبقہ کے حقوق کے حصول اورفرسودہ جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کے لئے جدوجہد جاری رکھتے لیکن جب وہ اسمبلیوں میں جاگیرداروں، وڈیروں اوربڑے بڑے سرمایہ داروں کے ساتھ بیٹھے تو اپنے نظریہ پرقائم رہنے اور جاگیرداروں وڈیروں کاذہن بدلنے کے بجائے خودبدل گئے، جو دو بدی کی چپلوں میں آئے تھے،ان کے دماغ عرش پر پہنچ گئے، وہ اپنی تحریک، اپنے نظریہ اور شہیدوں کوبھول گئے اورپھر غداریوں پر غداریاں ہونے لگیں، وہ جس ایم کیوایم کے نام سے ایوانوں میں پہنچے، دشمنوں کے ساتھ ملکر اُسی ایم کیوایم کودفن کرنے کے اعلانات کرنے لگے، جس الطاف حسین کی بدولت اسمبلیوں کی رکنیت، وزارتیں، میئرشپ ملی،احسان فراموشی کرتے ہوئے اسی پربیہود الزامات لگانے لگے، گالیاں دینے۔22 اگست 2016ء کے بعد الطاف حسین کی ایم کیوایم پر قبضہ کرلیا،ایم کیوایم کے بانی کا نام ہی تحریک کے آئین سے نکال دیا، ایم کیوایم کے مرکز اورمہاجروں سمیت تمام محروم قوموں کی امیدوں، محبتوں اورچاہتوں کے مرکز نائن زیرو کوسیل کیاگیا اور آگ لگانے کے بعد بلڈوزکیا گیا توتحریک سے غداریاں کرنے والے اس پر خوشیاں مناتے رہے۔اورایم کیوایم کوختم کرنے کی کوششیں کرنے والی قوتوں کے ساتھ ملکریہ اعلانات کرتے رہے کہ ہم ایم کیوایم کودفن کریں گے،وہ ایم کیوایم پرپابندی کے مطالبے کرتے رہے۔
اس کے باوجودوہ ساتھی جنہوں نے اپنے نظریہ اورظرف وضمیر کاسودانہیں کیا، جو اپنی وفاپر قائم رہے اورتمام تر جبروستم کے باوجود جدوجہد کرتے رہے اورآج ایم کیوایم کا42واں یوم تاسیس منارہے ہیں۔ میں ایسے تمام وفاپرستوں کوایم کیوایم کے یوم تاسیس کی مبارکبادپیش کرتاہوں اور ان کی ثابت قدمی پر سلام تحسین پیش کرتاہوں۔ 1/2
ایران سعودی عرب کا احترام کرتا ہے اور اسے برادر ملک سمجھتا ہے۔ ایرانی کارروائیاں جارح قوتوں کےخلاف ہیں، جو نہ عربوں کا احترام کرتے ہیں نہ ایرانیوں کا اور نہ ہی وہ سکیورٹی دے سکتے ہیں۔ ذرا دیکھیں کہ ہم نے ان کے فضائی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے ساتھ کیا کیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ امریکی فورسز کو خطے سے نکالا جائے۔ عباس عراقچی، ایرانی وزیرخارجہ
- `کرنل ابراہیم ذوالفقاری`
🟠 *ایران کے فوجی ترجمان:*
🔸 ریاضی میں بیچلر
🔸 ریاضی میں ماسٹرز
🔸مغربی فلسفہ میں پی ایچ ڈی
🔸 حافظ قرآن
🔸فارسی انگلش عربی عبرانی زبانوں کا ماہر ہے
زندگی تو یہ جی رہے ہیں ہم تو بس گزار رہے ہیں۔
رواں مالی سال میں وفاقی کابینہ اراکین بشمول مشیر اور معاونین 40 کروڑ 72لاکھ 16ہزار روپےتنخواہوں، الاؤنس کی مد میں وصول کر چکے ہیں۔وزراء، مشیران، معاونین خصوصی کیلئے 100 سے زائد گاڑیوں کے استعمال، مرمت اور پٹرول پر 26 کروڑ 64 لاکھ روپےخرچ ہوچکے ہیں۔اس سال وفاقی کابینہ کے اراکین اور مشیران و معاونین کیلئے 68 کروڑ 87 لاکھ 27ہزارروپے رکھے گئے ہیں:رانا غلام قادر/جیو نیوز
دنیا کے لیے ایک سبق خاص کر خلیج ممالک کے حکمران کے لیے !
جنھوں نے اربوں ڈالر خرچ کرکے امریکہ پہ بھروسہ کیا اسکی غلامی کی وہ آج کبھی پاکستان تو کبھی یوکرائن سے دفاعی معاہدے کررہے ہیں اور زلیل ہورے ہیں وہی امریکہ انکی تضحیک بھی کررہا ہے اور پروٹیکشن کی قیمت طلب کررہا ہے
کئی سالوں سے سینکشن کے باوجود ایران نے صرف ایک اللہ پہ بھروسہ کیا اس نے دنیا کی سپر پاور ، خطے کی پاور سمیت سارے خلیج ممالک کو گھٹنوں پہ جھکا دیا ہے !
Allah is the Greatest!
طاقت سے علاقے فتح ہوسکتے ہیں مگر دِلوں کوتسخیر نہیں کیا جاسکتا
بندوق کی نوک پر نہ تومسائل حل ہوسکتے ہیں نہ ہی لوگوں کےدِلوں میں گھرکیاجاسکتا
بلاشبہ
بانی وقائد جناب الطاف حسین آج بھی مہاجروں سمیت ملک بھر کےمظلوم عوام کے دلوں کی دھڑکن ہیں
#MQM42YearsWithAltaf
الطاف بھائی زندہ باد
افغانستان ہمارا پڑوسی اسلامی ملک ہے، پاکستان کی جانب سے افغانستان پر حملے تشویشناک اورسمجھ سے بالاتر ہیں۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ کچھ عرصہ قبل پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی جس میں صدرٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انہیں افغانستان کا بگرام ایئربیس چاہیے۔اس کے بعد سے افغانستان سے لڑائی کاسلسلہ شروع ہوگیا ہے اور پاکستان کی جانب سے افغانستان میں حملے کئے جارہے ہیں۔
افغانستان سےپاکستان کی کبھی جنگ نہیں تھی،جب 1979ءمیں افغانستان میں سوویت یونین کی آمد کے خلاف افغانیوں نے لڑائی شروع کی تو وہ پاکستان کی لڑائی نہیں تھی لیکن بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لئے اس لڑائی کوجہاد کانام دیاگیا اور اس کا مرکز افغانستان سے اٹھاکرپاکستان لے آیاگیا، روس کے خلاف افغان مجاہدین کوتیار کیاگیا،انہیں اسلحہ اورٹریننگ دی گئی، اس کے لئے پاکستان کے قبائلی علاقوں کوچنا گیا، پاکستان کے تمام شہروں میں جہادی مدرسے قائم کئےگئے، علمااورمفتیوں کی جانب سے افغان جہاد میں شرکت کے فتوے جاری کئے گئے،ملک بھرمیں مذہبی جماعتوں کی جانب سے کیمپ لگائے گئے اورلوگوں کوافغانستان میں جہاد میں شرکت کے لئے کھلی دعوت دی گئی، ان کے نام لکھے گئے اورافغان جہاد کے نام پر انہیں ٹریننگ دیکرسوویت یونین کے خلاف لڑنے کے لئے افغانستان بھیجا گیا، اس مقصد کے لئے بوریوں میں بھر بھر کے ڈالر ملے۔حالانکہ وہ پاکستان کی جنگ نہیں تھی لیکن بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لئے پاکستان کو اس جنگ میں جھونک دیا گیا اورپاکستان کواس جنگ کا اڈہ بنادیا گیا۔آج پھرپاکستان کوبیرونی طاقتوں کے مفادات کی لڑائی کا اڈہ بنایا جارہا ہے اور افغانستان پر حملے کئے جارہے ہیں اورپاکستان کامیڈیا اس حوالے سے بڑی بڑی بریکنگ نیوز دے رہاہے۔
میں پاکستان کے حکمرانوں سے کہتا ہوں کہ امریکہ اورمغربی طاقتوں نےبھی کئی برسوں تک افغانیوں سے لڑائی کی اورپھربالآخر انہیں وہاں سے نکلناپڑا۔ اب پاکستان کی جانب سے افغانستان سے لڑائی کی جارہی ہے۔ میں پاکستان کےحکمرانوں سے کہتا ہوں کہ افغانستان ہماراپڑوسی اسلامی ملک ہے، اس سے جنگ نہ کریں، اس پر حملے نہ کریں، بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لئے جنگیں نہ کریں۔آخر ہم کب تک غیروں کے مفادات کی لڑائی لڑتے رہیں گے اوراپنانقصان کرتے رہیں گے؟ خداکے لئے یورپ سے سبق حاصل کریں جنہوں نے برسوں تک جنگیں کیں، جن میں لاکھوں لوگ مارے گئے، بالآخر انہوں نے جنگیں ختم کیں، امن کے راستے پرچلے اور ایک دوسرے سے جنگ وجدل کے بجائے آپس میں بہترتعلقات قائم کئے۔ آپ بھی افغانستان سے جنگ وجدل کے بجائے بات چیت کرکے معاملات کوطے کریں اور بہتر تعلقات قائم کریں۔
ایک طرف تو افغان باشندوں کوپاکستان کے قبائلی علاقوں سے نکالاجارہاہے اور انہیں ٹرکوں میں بھربھر کے افغانستان واپس بھیجا جارہا ہے، انہیں وہاں رہنے تک کی اجازت نہیں ہے لیکن دوسری طرف وہ افغان باشندے جو کراچی میں بڑے بڑے کاروبار کررہے ہیں، جن کے عالیشان کاروبارہیں انہیں نہ صرف کراچی میں رہنے سہنے کی آزادی ہے بلکہ ہرطرح کاکاروبارکرنے کی کھلی اجازت ہے، میں حکومت اورفوج کے حکام کودعوت دیتاہوں کہ وہ خود کراچی کادورہ کرکے دیکھ لیں کہ وہاں بڑے بڑے کاروبار کون کررہاہے۔ یا توافغان باشندوں کوافغان جنگ ختم ہونے کے بعد ہی ان کے ملک واپس بھیج دیاجاتا لیکن اب جبکہ انہیں یہاں رہتے ہوئے 40سال ہوگئے ہیں توانہیں واپس بھیجاجارہا ہے۔
میں یہی سمجھتاہوں کہ افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے اس سے جنگ کسی بھی طرح درست نہیں لہٰذا میں پاکستان اور پاکستان سے باہررہنے وا لوں سے کہتاہوں کہ وہ افغانستان پر حملوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔اس وقت پاکستان کوامن و استحکام اوریکجہتی کی ضرورت ہے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 389 ویں فکری نشست سے خطاب
16 مارچ 2026ء
یہاں ایسے بھی منافق دیکھنے کو ملے ہیں جو پاکستان میں 80 ہزار انسانوں کے قتل کے زمہ دار افغانڈو شدت پسندوں کے مرنے پر تو غمزدہ ہیں لیکن ایرانیوں کے مرنے پر اسے امریکہ و اسرائیل کی فتح قرار دیتے ہیں۔
کیسے کر لیتے ہو یہ حرامی پن ؟
#ٹوٹ_بٹوٹ
پاکستان کے یوں انڈر ورلڈ ڈان بننے والی باتیں سن کر بہت فخر اور خوشی ہوتی ہے۔ دنیا کا سپر پاور انسان پوری دنیا کی منتیں کر رہا ہےکہ ہرمز سے بحری جہاز گزارنے میں مدد کرو تب ہرمز سے فقط ایک جہاز اعلان کرکے گزرا اور اُس کو کسی نے ہاتھ تک نہیں لگایا ہے۔
اُس جہاز کا نام ہے "کراچی"