Public reacts, breaks security protocol after being made to stand on the street for half an hour
Location: Bilawal Chowrangi, Karachi
Video credits: @DialoguePak
Ex MNA Nisar Panhwar and his son Mohsin Panhwar were abducted together.
71 days of pain.
No FIR.
No call.
No sign of life.
This is not “missing.”
This is an enforced disappearance.
How much longer must one family suffer even in ramazan?
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar ASAP
ایم کیو ایم کے بانی وقائد جناب الطاف حسین کو آج بروز جمعرات مورخہ 19 فروری 2026 کو لندن کے اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔
#GetWellSoonAltafBhai
جناب الطاف حسین گزشتہ 19 دنوں سے شمال مغربی لندن کے ایک اسپتال میں زیرعلاج تھے۔ جناب الطاف حسین کو یکم فروری 2026 کو طبیعت کی ناسازی کے باعث لندن کے مقامی اسپتال لے جایا گیا تھا جہاں ان کے مختلف ٹیسٹ کئے گئے جس کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرلیا تھا۔ اسپتال میں جناب الطاف حسین کو جسم میں آئرن کی کمی کے پیش نظر ڈرپ چڑھائی گئی اور خون کی بوتلیں بھی چڑھائی گئیں۔اس کے علاوہ ان کے دیگر ٹیسٹ بھی کئے گئے اور ان کی رپورٹ کی روشنی میں انہیں دوائیں دی گئیں ۔ اس علاج کے بعد ان کی طبیعت میں بہتری آتی گئی۔ اس دوران اسپتال کے سینئر اسپیشلسٹ اور دیگر ڈاکٹرز بھی مسلسل ان کا چیک اپ کرتے رہے۔ طبیعت میں بہتری کے پیش نظر آج بروز جمعرات جناب الطاف حسین کو اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔
جناب الطاف حسین نے ان کی صحتیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ہے۔ انہوں نے تحریک کے تمام کارکنوں، ماؤں ، بہنوں ، بزرگوں، نوجوانوں، یوتھ اور معصوم بچوں بچیوں کا بہت شکریہ ادا کیا ہے جو ان کی صحتیابی کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور خصوصی دعائیں کرتے رہے،صدقات، خیرات ادا کرتے رہے۔ جناب الطاف حسین نے ان کے لئے دعائیں اور نیک خواہشات کا اظہار کرنے والے پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم خیر خوا ہوں کا بھی خصوصی شکریہ
ادا کیا
قائد تحریک الطاف حسین کےخلاف ہرزہ سرائی کرنے والی نسرین جلیل صاحبہ جس گھرمیں رہتی ہیں وہ قائد تحریک الطاف حسین کی مرہون منت ہے مگر محترمہ احسان فراموشی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔اگر ان میں زرہ برابر اخلاقی جرات ہے تو وہ قوم کےسامنے اس سوال کا جواب دیں۔ عاطف شمیم
#نسرین_جلیل_جواب_دیں
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین کو آج بروز پیر لندن کے مقامی اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ سے روم میں شفٹ کردیا گیا ہے اور ڈاکٹروں کی ٹیم کی نگرانی میں ان کا علاج کیا جارہا ہے۔
#GetWellSoonAltafBhai
جناب الطاف حسین کو طبیعت بگڑنے کے باعث اتوار کی شام اسپتال لایا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے ان کاچیک اپ کرنے کے بعد بلڈ ٹیسٹ اور مختلف ٹیسٹ تجویز کئے تھے۔ بلڈ ٹیسٹ کی رپورٹ کی روشنی میں جناب الطاف حسین کو اتوار کی شب خون کی دو بوتلیں چڑھائی گئیں۔
جناب الطاف حسین گزشتہ 35برسوں سے مسلسل دکھ اورصدمات کا سامنا کرتے آرہے ہیں، اپنے ساتھیوں کے ماورائے عدالت قتل، گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں، حتیٰ کہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی امدادکرنے والے کارکنوں تک کی گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اورقوم کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں کے واقعات سے بھی جناب الطاف حسین شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا ہیں، اسی ذہنی دباؤکی کیفیت میں وہ بغیر آرام کئے مسلسل 18 سے20 گھنٹے کام کررہے ہیں جس نے ان کی صحت پر اثرڈالا ہے۔
رابطہ کمیٹی نے تحریک کے کارکنوں اورعوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بانی وقائد جناب الطاف حسین کی صحتیابی کے لئے دعائیں کریں۔
ایم کیو ایم کے بانی وقائد جناب الطاف حسین کا اتوار کی شب ڈاکٹروں نے لندن کے اسپتال میں طبی معائنہ کیا، انہیں انجیکشن لگایا گیا اور جسم میں نقاہت کے پیش نظر ڈرپ چڑھائی گئی۔کل بروزپیر ڈاکٹروں کی ٹیم جناب الطاف حسین کا تفصیلی معائنہ کرے گی۔
#GetWellSoonAltafBhai
جناب الطا ف حسین کوطبیعت کی ناسازی کے باعث اتوار کی شام اسپتال لے جایا گیا تھا جہاں ابتدائی معائنہ کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں اسپتال میں داخل کرلیاہے۔
ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی نے کہاہے کہ بانی وقائد جناب الطاف حسین کی صحت کے حوالے سے جیسے جیسے تازہ ترین معلومات حاصل ہوتی رہیں گی،ہم ویسے ویسے کارکنان وعوام کو آگاہ کرتے رہیں گے۔
@OfficialMQM@rehanibadat یا اللّٰہ قائد تحریک الطاف حسین بھائی کو صحت تندرستی والی لمبی زندگی عطا فرمائے آمین🤲۔ یا اللّٰہ قائدِ تحریک کا سایہ ہم مہاجروں کے سروں پر قائم رکھنا
آمین
@OfficialMQM اللّٰہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ مظلوم اقوام کے قائد کو جلد ازجلد اور مکمل صحتیابی و تندرستی عطاء فرمائے۔
آمین 🤲 ثمہ آمین یا ربّ العالمین
@OfficialMQM پروردگار سے دعاگو ہوں کہ میرے قاعد میرے روحانی والد جناب الطاف حسین بھائی کو جلد از جلد صحتیاب فرمائے ۔
آمین الٰہی آمین
جئے الطاف حسین بھائی
@AltafHussain_90
@OfficialMQM اللہ تعالی الطاف بھائی کو ہمارے سروں پر سلامت رکھے۔
اللہ تعالی بھائی کو جلد اور مکمل صحت و تندرستی اور عمر خضر عطا فرمائے۔ آمین ثمہ آمین
سب سے درخواست ہے کہ بھائی کی صحت و تندرستی کے لئےدُعا کے ساتھ “یا سلامُ” کا وِرد جاری رکھیں۔
@OfficialMQM اے مالکِ دوجہاں،
اپنے حبیبِ پاک محمد ﷺکےصدقے
الطاف حسین بھائی کو مکمل صحت، تندرستی اور زندگی عطا فرما اور تمام وفاپرستوں اور مظلوموں کے سروں پر ان کا سایہ ہمیشہ قائم و دائم فرما۔
آمین ثمہ آمین۔
🚨متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین کی طبیعت ناساز ہوگئی۔ اسپتال میں داخل کرلیا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین کی شدید ذہنی دباؤ(Too much stress) ٹینشن اور 18سے 20 گھنٹے تحریکی کاموں میں دن رات مصروف رہنے کی وجہ سے طبیعت خراب ہوگئی ہے۔ طبیعت کی ناسازی کے باعث انہیں آج مورخہ یکم فروری بروزاتوار طبی معائنے کیلئے لندن کے مقامی اسپتال لے جایا گیا جہاں ان کے مختلف طبی ٹیسٹ کئے گئے جس کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرلیا ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے تحریک کے کارکنان اورعوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بانی وقائد جناب الطاف حسین کی صحتیابی کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور خصوصی دعاکریں۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سانحہ گل پلازہ پر وفاق سے مدد نہ ملنے کا شکوہ کررہے ہیں ، کوئی اس بچومڑے میئر سے پوچھے کہ وفاق پاکستان کا سربراہ کون ہے؟
یہ جو صدر مملکت آصف زرداری ہیں وہ کس مرض کی دوا ہیں؟
کیا وہ پانامہ کےصدر ہیں؟
انہوں نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی مدد کے لئے کیا کیا؟
صدر آصف زرداری سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی مدد تو خیر کیا کرتے انہوں نے کراچی آنے کی زحمت تک گوارا نہ کی بلکہ اپنے بیٹے، بیٹیوں ، داماد اور دوستوں کو لیکر متحدہ عرب امارات کے شیخوں سے زاتی اور خاندانی بزنس ڈیل کرانے کے لئے ابوظہبی چلے گئے۔
گریبان میں جھانکنے کے لئے آنکھیں ہیں؟
حکومت سندھ نے سانحہ گل پلازہ کے موقع پر ایم اے جناح روڈ پر ٹریفک کی روانی متاثر ہونے پر ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کو عہدے سے ہٹادیا۔
یہ نمائشی اور ڈرامے بازی کے اقدامات کرکے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش نہ کریں ۔ اس وزیر بلدیات اور میئر کو کیوں نہیں ہٹاتے جن کی نااہلی کی وجہ سےگزشتہ پانچ سال سے ایم اے جناح روڈ پر گرین لائن کا منصوبہ مکمل نہ ہوسکا جو ٹریفک جام کا سبب بنا ہوا ہے؟
سانحہ گل پلازہ 17جنوری کو رونما ہوا، 9 روز گزرجانے کے باوجود ابھی تک آگ لگنے کے سانحات کی روک تھام کے لیے حکومت سندھ کی جانب سے کسی قسم کے سنجیدہ عملی اقدامات اور منصوبوں کا اعلان نہیں کیاگیا اور نہ ہی اس سلسلے میں ہونے والی پیشرفت کو عوام کے سامنے لایا گیا۔ سانحہ گل پلازہ کے معاملے پرحکومت سندھ مکمل غیرسنجیدگی کامظاہرہ کررہی ہے۔حکومت سندھ کراچی کے شہریوں پر نت نئے ٹیکس لگا کر اور نئے نئے قوانین بنا کر شہریوں سے پیسہ تو وصول کر لیتی ہے لیکن شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے معاملے پر جوابدہی کے بجائے دوسروں پرالزام عائد کرکے اپنی نااہلی چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر حکومت سندھ ٹیکس کی مد میں شہریوں سے بھاری رقوم وصول کرے لیکن ان کی جان و مال کا تحفظ نہ کرے تو یہ حکومت کی سفاکیت بے حسی اور نہ اہلی کی بات ہے۔ماضی میں ہونے والے حادثات جس میں قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوتا تھا اس میں کم از کم فوری طور پر حکمرانوں اور انتظامیہ کی جانب سے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جاتا تھا اور ان حادثات سے بچنے کے لیے بات چیت کی جاتی تھی لیکن یہ افسوسناک بات ہے کہ پیپلزپارٹی کے وزرااوررہنماؤں کی جانب سے سانحات کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور سانحہ گل پلازہ کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنا اس کی واضح مثال ہے۔
سانحہ گل پلازہ رونما ہونے کے باوجود تاحال فائر سیفٹی نظام کے سلسلے میں کسی قسم کا کوئی پلان عوام کے سامنے نہیں لایا گیا اور نہ ہی کمرشل عمارتوں میں فائر سیفٹی نظام اور فائر ایگزٹ گیٹس کے لیے نوٹسز جاری کیے گئے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔
میں اپنے اس مطالبے کودہراتاہوں کہ سانحہ گل پلازہ کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے اور تحقیقات میں وزیراعلی سندھ، صوبائی وزیر بلدیات،میئرکراچی سے پوچھ گچھ کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ تحقیقات میں حکومت سندھ کے ساتھ ساتھ گل پلازہ کی انتظامیہ اورمارکیٹ یونین کے عہدے داران کو بھی شامل تحقیق کیا جائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 383 ویں فکری نشست خطاب
کراچی کی آبادی اور رقبے کے پیش نظرشہر میں 80 فائراسٹیشنزقائم کئے جائیں
سانحہ گل پلازہ کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات ہونی چاہئیں
#GulPlazaFire#GulPlazaTragedy
کراچی کی آبادی اس وقت چار کروڑ سے زائد ہے اورشہرکارقبہ بھی بہت بڑا ہے لیکن کراچی جواپنی آبادی اوررقبے کے لحاظ سے دنیا کے کئی ممالک سے بڑاہے لیکن اتنے بڑے شہر میں صرف 28فائراسٹیشن ہیں جو تمام کے تمام مکمل طورپرکام بھی نہیں کررہے ہیں لہٰذا میرا مطالبہ ہے کہ کراچی کی آبادی اور اس کے رقبے کے پیش نظرشہر میں 80 فائر اسٹیشنزقائم کئے جائیں۔
کراچی سمیت پورے سندھ کانظام بگڑا ہوا ہے،یہاں کے ہرشعبے اورہرمحکمے میں بے انتہا کرپشن او ر بہت بے قاعدگیاں ہیں۔جس طرح بہت سے گھوسٹ اسکول ہیں جوصرف کاغذات میں ہیں اوروہاں کام کرنے والے بھی گھوسٹ ملازمین ہیں جوصرف تنخواہ لینے آتے ہیں اسی طرح بعض فائراسٹیشنز بھی گھوسٹ ہیں،جوبرائے نام ہیں، جہاں کے ملازمین بھی گھوسٹ ملازمین ہیں اورصرف تنخواہ لیتے ہیں۔فائربریگیڈ انتہائی اہم محکمہ ہے جس کاکام آگ بجھانا اور شہریوں کی جان ومال کوآگ سے بچانا ہے لیکن اس انتہائی اہم محکمے کوبھی حکومت سندھ نے اقرباء پروری کی بھینٹ چڑھایا ہوا ہے، کراچی کے موجودہ چیف فائرافسر کودوسال قبل کسی دوسرے محکمے سےٹرانسفر کرکے عارضی طورپر چیف فائر افسر مقررکیاتھا، وہ اب بھی عارضی ہیں اورانہیں چیف فائرافسر کاکوئی تجربہ نہیں ہے۔ جبکہ فائربریگیڈ میں 30، 30، 25،25 سال سے کام کرنے والے تجربہ کارافسران موجودہیں لیکن ان کے بجائے اقرباپروری کامظاہرہ کرتے ہوئے دوسرے محکمہ سے افسرکولاکرتعینات کیا گیا۔یہ اقربا پروری ہے،رشوت ستانی اور غنڈہ گردی ہے۔ اس کے علاوہ جوباقی عملہ ہے اس کی بھی نہ تومستقل کوئی ڈرل کی جاتی ہے اورنہ ہی فائربریگیڈ کوجدید آلات سے لیس کیاگیاہے۔ 1988ء میں، میں نے فائر بریگیڈ کے عملے میں بھی اضافہ کیااور فائربریگیڈ کے لئے بیرون ملک سے اسنارکل بھی منگوائی تھیں۔ میں مطالبہ کرتاہوں کہ کراچی میں 80فائراسٹیشن قائم کئے جائیں اورفائربریگیڈ کوجدید گاڑیوں،آگ بجھانے والےجدید آلات اورفائرفائٹرز کے لئے جدید حفاظتی سامان منگوایاجائے۔چوری چکاری ختم کی جائے۔
میں مطالبہ کرتا ہوں کہ سانحہ گل پلازہ کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات ہونی چاہئیں اور اس عدالتی تحقیقات میں حکومت اور اداروں کی مجرمانہ غفلت کے ساتھ ساتھ گل پلازہ کی یونین کوبھی دائرہ تحقیقات میں لایاجائے اوران سے بھی پوچھاجائے کہ جب شاپنگ پلازہ کی دکانیں کھلی ہوئی تھیں تو پلازہ کے گیٹ کیوں بندکئے گئے؟ پلازہ کا سیکوریٹی کاعملہ کہاں تھا؟ اوریونین نے ایسےحالات سے نمٹنے کے لئے کیارول بنائے تھے؟
میں تمام متاثرین سے ہمدردی کااظہار کرتاہوں اورمطالبہ کرتاہوں کہ تمام متاثرین کے نقصانات کاازالہ کیاجائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر382 ویں فکری نشست سے خطاب
24 جنوری 2026ء
میں جبری گمشدگیوں سے متعلق مقدمات کی پیروی کرنے والی انسانی حقوق کی ممتاز وکیل ایمان مزاری @ImaanZHazir اور اُن کے شوہر ہادی علی چھٹہ @AdvHadiali کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں ۔
#ReleaseImaanAndHadi#ReleaseImaanMazariAndHadiAli
ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی گرفتاری، آئین، قانون، جمہوریت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور ریاستی ظلم وبربریت کی تاریخ میں سیاہ باب کااضافہ ہے۔
اس قسم کے ظالمانہ ہتھکنڈوں سے جبری گمشدگیوں کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو نہ تو ڈرایا جاسکتا ہے اور نہ ہی دبایا جاسکتا ہے۔
میں ارباب اختیار سےمطالبہ کرتا ہوں کہ ایمان مزاری اور انکے شوہر ہادی علی کو فی الفور رہا کیاجائے اور انسانی حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کے خلاف ظلم وجبر کاسلسلہ بند کرایا جائے۔
الطاف حسین