X (formerly Twitter) Space
As part of our 3-day online protest campaign, the Baloch Yakjehti Committee is hosting a X Space tomorrow at 8:00 PM to bring attention to this serious human rights crisis. We will discuss the unlawful detentions, the larger pattern of state repression in Balochistan, and the global responsibility to speak out against these injustices.
We urge everyone, journalists, human rights defenders, students, and concerned citizens worldwide to join the conversation and raise the call for justice.
SPEAKERS
1. Imaan Mazari
2. Munizae Jahangir
3. Asad Toor
4. Dr Sabiha
5. Israr Baloch
🗓 Date: 17th October 2025
🕗 Time: 8:00 PM - PST
#EndUnfairTrialOfBYCLeaders
#ReleaseBYCLeaders
The unlawful detention of Dr. Mahrang Baloch and fellow Baloch Yakjehti Committee activists is a blatant act of political repression. For more than six months, they have been held without due process, denied fair trial rights, and silenced for peacefully defending human rights. Their only “crime” is speaking out against enforced disappearances and state violence in Balochistan.
This arbitrary detention violates fundamental principles of justice under the Universal Declaration of Human Rights and the International Covenant on Civil and Political Rights, both of which Pakistan is bound to uphold. Conducting judicial proceedings inside jail premises further strips these activists of transparency, fairness, and dignity, turning the justice system into a tool of intimidation.
Dr. Mahrang Baloch and her colleagues represent the courage of a people demanding truth and accountability. Their continued imprisonment is not just a legal violation, but a moral failure of the state. The international community must raise its voice now to ensure their immediate release and to protect the right to peaceful dissent in Balochistan.
#EndUnfairTrialOfBYCLeaders #ReleaseBYCLeaders
گزشتہ چھ مہینوں سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ، بیبرگ بلوچ، شاہ جی بلوچ، بیبو بلوچ اور گلزادی بلوچ کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔ ان کے خلاف پہلے تھری ایم پی او جیسے قانون کا غیر قانونی استعمال کیا گیا، پھر سیاسی ایف آئی آرز کے تحت بغیر کوئی رپورٹ پیش کیے ریمانڈ کا ایک طویل سلسلہ جاری رکھا گیا۔ اب، جب انہیں جوڈیشل کر دیا گیا ہے، تو ان کی آئندہ پیشیوں میں بلاوجہ تاخیر کی جا رہی ہے۔ مزید یہ کہ اب بغیر کوئی وجہ بتائے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان کی باقی پیشیاں عدالت کے بجائے جیل کے اندر ہوں گی۔
یہ ہتھکنڈہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کے ذریعے عوامی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان رہنماؤں کی عوامی پذیرائی سے خوفزدہ حکومت، جب جیل میں قید کے باوجود عدالت میں ان سے ملنے والی عوامی حمایت کو ختم نہ کر سکی، تو اب یہ نیا حربہ اختیار کیا گیا ہے کہ بغیر کسی قانونی جواز کے پیشیاں جیل میں کروائی جائیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی اس عمل کو غیر قانونی اور جابرانہ سمجھتی ہے اور اس عمل کے خلاف ایک آن لائن احتجاجی مہم کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ آج سے تین روزہ احتجاجی مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس مہم میں حصہ لے کر اپنا احتجاج ریکارڈ کریں اور جبر کے نظام کے خلاف آواز بلند کریں۔
#EndUnfairTrailOfBYCLeaders
#ReleaseBYCLeaders
They stood for truth now truth itself is behind bars.
Six months of unlawful silence.
No justice. No accountability.
Stand up,speak up,break the silence
#EndUnfairTrailOfBYCLeaders#ReleaseBYCLeaders
Today, the families of Baloch Yakjehti Committee (BYC) leaders and victims of enforced disappearances will launch a social media campaign to demand:
The immediate release of BYC leaders and an end to enforced disappearances in Balochistan
We call upon people from all walks of life journalists, lawyers, human rights defenders, and civil society members across Pakistan, to join us in raising truth against injustice and exposing the lawlessness in Balochistan.
🕕 Time: 6:00 AM to 12:00 PM
Your voice matters. Stand with the families.
28 days on, Baloch families in Islamabad braving heat & denied a camp near the Press Club stand firm against enforced disappearances, demanding BYC leaders’ release.
https://t.co/8pd3V0MNi2
سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق، @ShireenMazari1 نے اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے قریب ہمارے دھرنے کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے، جو بی وائی سی (BYC) کے غیر قانونی طور پر گرفتار رہنماؤں کی رہائی اور بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف جاری ہے۔
𝗗𝗮𝘆 𝟮𝟴 – 𝗜𝘀𝗹𝗮𝗺𝗮𝗯𝗮𝗱 𝗦𝗶𝘁-𝗜𝗻
Today marks the 28th consecutive day of the Baloch families’ sit-in in Islamabad, as they demand the immediate release of Baloch Yakjehti Committee (BYC) leaders and an end to enforced disappearances in Balochistan.
Despite the oppressive summer heat, elderly women, children, and students remain on the roadside without shelter. The Islamabad Press Club, historically a place for victims to voice their grievances, remains sealed off by authorities.
Instead of responding to the families’ legitimate demands, the state persists with road blockades, intimidation, and constant surveillance. Yet, the families’ determination remains unbroken — they refuse to leave without justice.
#StopBalochGenocide
#ReleaseBYCleaders
#EndEnforcedDisappearances
میرے بھائی آصف اور رشید کی گمشدگی کو اس اگست میں سات سال پورے ہوگئے جنکی گرفتاری سی ٹی ڈی کےنام سے ظاہر ہوئی تھی عدالتوں،کمیشنوں کہی سےہمیں انصاف نہیں ملا کیا اب بھی دنیا پاکستان سے سوال نہیں کرےگی کیا انسانی حقوق کے اداروں کےسامنے ہماری زندگیوں کی کوئی اہمیت نہیں؟
@amnestysasia
Today is the fourth day of the ongoing protest camp by the family of Zahid Ali, a 25-year-old International Relations student at the University of Karachi, who was forcibly disappeared by Pakistani forces on 17th July 2025 from Karachi.
Zahid’s family, led by his sick father, Abdul Hameed is still camped outside the Karachi Press Club, demanding his immediate and safe release.
Zahid, a part-time rickshaw driver supporting his family through financial hardship, has now been enforcedly disappeared for 22 days.
We urge the people of Karachi, rights groups, student, and media to join the sit-in, raise your voice, and demand an end to this inhumane practice.
#EndEnforcedDisappearances
#StopBalochGenocide
اسلام آباد میں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کے احتجاج کو آج بائیس روز مکمل ہو چکے ہیں۔
ریاستی دارالحکومت میں جاری اس پُرامن احتجاج کو نہ تو اقتدار کے ایوانوں سے کوئی توجہ حاصل ہوئی، اور نہ ہی اربابِ اختیار کی جانب سے کوئی سنجیدہ ردعمل سامنے آیا۔
تاہم، ریاستی بے حسی اور مسلسل جبر کے باوجود، یہ مائیں، بہنیں اور بیٹیاں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے گرفتار رہنماؤں کی رہائی اور جبری گمشدگیوں جیسے سنگین انسانی المیے کے خلاف مسلسل سراپا احتجاج ہیں، اور اپنے مؤقف پر ثابت قدمی سے قائم ہیں۔
اسلام آباد میں موجود سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکنان، طلبہ، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور ضمیر رکھنے والے تمام افراد سے اپیل ہے کہ وہ اس احتجاجی دھرنے کا ساتھ دیں، اس میں شرکت کریں، اور اپنے وجود، آواز اور یکجہتی سے اس جدوجہد کو تقویت بخشیں
ہماری خاموشی ظلم کو تقویت دیتی ہے، اور ہماری شرکت مظلوموں کو حوصلہ۔ اب وقت ہے کہ ہم خاموش تماشائی بننے کے بجائے اس اجتماعی مزاحمت کا حصہ بنیں۔
#ReleaseBYCLeaders
“میں ریاست پاکستان، عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، اور ہر اس شخص سے اپیل کرتی ہوں جو انسانیت پر یقین رکھتا ہے۔ ہم انصاف مانگتے ہیں، انتقام نہیں۔ ہم اپنے والد کو واپس مانگتے ہیں، کسی کے خلاف نفرت نہیں۔ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کیا جائے۔
ہر انسان کو جینے کا حق ہے، ہر انسان کو اپنی فیملی کے ساتھ رہنے کا حق ہے، ہر شخص کو قانون کے مطابق سنا جانے کا حق ہے۔ ہم اپنے والد کی بازیابی کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فریاد کر رہے ہیں۔
میں صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ میں اپنے والد کی بیٹی ہوں، میں نے ان کی کمی کے ساتھ اپنی پوری زندگی گزاری ہے۔ لیکن میں آج بھی یقین رکھتی ہوں کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔ میں آج بھی یقین رکھتی ہوں کہ میری فریاد حکام تک پہنچے گی، میرا درد سنا جائے گا، اور شاید کوئی دل پگھلے گا۔
میں اپیل کرتی ہوں کہ میرے والد امیر بخش بلوچ کو بازیاب کیا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو عدالت میں پیش کریں، اور اگر بے گناہ ہیں تو فوری طور پر رہا کریں۔ ہم صرف اپنے پیارے کو گلے لگانا چاہتے ہیں، اس کے بغیر زندگی کا ہر لمحہ ادھورا ہے” صدف امیر بخش
#ReleaseAmeerBaksh
𝗗𝗮𝘆 𝟮𝟬 – 𝗜𝘀𝗹𝗮𝗺𝗮𝗯𝗮𝗱 𝗦𝗶𝘁-𝗜𝗻:
Today marks 20 days since Baloch families, mothers, sisters, and children of forcibly disappeared persons and detained BYC leaders arrived in Islamabad to demand justice. Their call is simple: Release the Baloch Yakjehti Committee (BYC) leaders and put an end to enforced disappearances in Balochistan.
Yet, instead of being heard, these families continue to face intimidation, mistreatment, and restrictions.
Despite their peaceful protest, Pakistani authorities have explicitly told them they will not be allowed to sit in front of the Islamabad Press Club, a space that is a platform for victims and dissenting voices. In a deeply ironic twist, the very institution meant to protect freedom of expression has been sealed off from the oppressed.
Not only is the main road to the Press Club still blocked, but now families are also being told to vacate the nearby road where they are currently holding their sit-in.
#ReleaseBYCleaders
#StopBalochGenocide
پریس کانفرنس
تاریخ: 3 اگست 2025
معزز صحافی حضرات!
آج ہم اسلام آباد میں ایسے وقت میں جمع ہوئے ہیں جب اس ریاست میں انصاف کی آواز کو دبانے کی کوششیں اپنے عروج پر ہیں۔ ہم، بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی قیادت کے اہل خانہ اور جبری گمشدگیوں کے شکار افراد کے اہل خانہ، گزشتہ 19 دنوں سے شدید بارش، جھلسا دینے والی گرمی، سخت دھوپ اور ریاستی دباؤ کے باوجود یہاں دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ ہمارا مقصد کسی سیاسی فائدے یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں، بلکہ صرف اپنے پیاروں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کے لیے ہے، جو کسی قانونی جرم کے بغیر ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں۔
ہماری یہ پریس کانفرنس آج اس لیے بھی اہم ہے کہ کل BYC کی قیادت کو ایک بار پھر کوئٹہ میں عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں انصاف کے تقاضوں کو بری طرح پامال کیا گیا۔ اس عدالتی کارروائی کی تفصیل ہم آگے بیان کریں گے مگر یہ واضح ہے کہ اب ظلم صرف سڑک پر نہیں، عدالت کے اندر بھی جاری ہے۔
19 دن گزر چکے ہیں اور ہم نے ہر لمحہ کھلے آسمان تلے گزارا ہے۔ بارش میں بھیگتے ہوئے، کپکپاتے ہوئے اور گرمی میں پسینے سے تر ہوتے ہوئے ہم نے پرامن طریقے سے اپنی آواز بلند کی، مگر افسوس کہ حکومت اور ریاستی ادارے اب تک مکمل بے حسی کا مظاہرہ کرتے رہے۔ کسی نے ہمارے دکھ کو سنجیدگی سے نہیں سنا، کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ ہم سوال کرتے ہیں کہ کیا اس ملک کے شہری ہونے کے باوجود ہمارے لیے انصاف کا دروازہ ہمیشہ بند ہی رہے گا؟
اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کا رویہ ہمارے ساتھ نہ صرف غیر ہمدردانہ بلکہ افسوسناک حد تک غیر انسانی رہا ہے۔ پُرامن احتجاج کے باوجود ہمیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے، بلوچ طلبہ اور نوجوانوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، ان کے اہل خانہ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ کئی بار طاقت کے ذریعے دھرنا ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ کیا پُرامن احتجاج کرنا جرم ہے؟ ہم نے نہ کسی سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، نہ کوئی غیر قانونی حرکت کی، پھر بھی ہمارے خلاف جبر کے تمام حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ہم دنیا کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ یہ صرف بلوچ عوام کی نہیں بلکہ ہر اس شہری کی لڑائی ہے جو جمہوری حقِ احتجاج استعمال کرنے پر ریاستی جبر کا شکار ہوتا ہے۔
معزز صحافی حضرات!
اب ہم عدالتی کارروائی کی تفصیلات آپ کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔
گزشتہ روز ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر قائدین کو انسدادِ دہشتگردی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں پولیس کی جانب سے کوئی واضح شواہد یا پیش رفت نہ ہونے کے باوجود بار بار جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی جا رہی ہے۔ ہماری قانونی ٹیم نے عدالت کے سامنے یہ مؤقف رکھا کہ انسدادِ دہشتگردی ایکٹ (ATA) کے تحت 14 دن سے زیادہ جسمانی ریمانڈ صرف ٹھوس شواہد کی بنیاد پر دیا جا سکتا ہے، مگر اس بنیادی قانونی اصول کو نظرانداز کرتے ہوئے پہلے 10 دن، پھر 15 دن، اور اب مزید 20 دن کا ریمانڈ دیا گیا ہے۔
بلوچستان کی عدالتیں، جو انصاف فراہم کرنے کی بجائے ریاستی دباؤ اور سازشوں کے تابع دکھائی دیتی ہیں، اب آئینی اصولوں کو پسِ پشت ڈال کر جبر کے نظام میں شریکِ جرم بن چکی ہیں۔ عدلیہ کا کام آئین کا تحفظ اور شہریوں کو انصاف فراہم کرنا ہے، مگر بلوچستان میں عدلیہ خود نوآبادیاتی ذہنیت کے تحت فیصلے سنا رہی ہے۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور BYC کی قیادت کا واحد جرم یہ ہے کہ وہ پُرامن اور آئینی طریقے سے اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان پر دہشتگردی جیسے جھوٹے الزامات عائد کیے گئے ہیں، اور انہیں ان قید خانوں میں رکھا گیا ہے جہاں دہشتگردوں کو رکھا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل تمام بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ہم یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اسلام آباد انتظامیہ ہم پر مکمل کریک ڈاؤن کرنے پر آمادہ ہے۔ اسلام آباد پریس کلب کے تمام راستے بند کیے گئے ہیں اور ہمیں طرح طرح کی اذیتیں دی جا رہی ہیں۔ تاہم، ہم اب بھی پرامن ہیں اور پرامن ہی رہیں گے۔
ہم اسلام آباد پولیس انتظامیہ سے آپ سب کی موجودگی میں بات کریں گے۔ اُن سے درخواست ہے کہ ہمیں اسلام آباد پریس کلب کے سامنے کیمپ لگانے کی اجازت دی جائے، تاکہ راستے بند نہ ہوں اور اسلام آباد کی عوام اور تاجروں کو مزید پریشانی نہ ہو۔ ہمیں امید ہے کہ ہمیں پریس کلب کے سامنے پُرامن طریقے سے احتجاج کرنے سے نہیں روکا جائے گا۔
شکری
تنظیمی رہنماؤں کی ریمانڈ میں توسیع بلوچستان کے آواز کو دبانے کے لیے عدلیہ اور ریاستی اداروں کی مشترکہ گٹھ جوڑ ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
آج انسدادِ دہشتگردی عدالت نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کی پولیس ریمانڈ میں مزید 20 روز کی توسیع کر دی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف قانون و انصاف کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ پاکستان میں عدلیہ کی آزادی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ یہ واضح ہو چکا ہے کہ عدالتیں ریاستی و عسکری دباؤ کے سامنے جھک رہی ہیں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو انصاف دینے کے بجائے جابرانہ قوتوں کے ہاتھ مضبوط کر رہی ہیں۔ اس فیصلے نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کے بحران میں عدلیہ بھی بالواسطہ شریکِ جرم ہے۔
بلوچستان میں عدلیہ کا کردار انتہائی مایوس کن رہا ہے۔ تھری ایم پی او کے تحت بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کی گرفتاری کے خلاف ہم نے شروع دن سے بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کیا، لیکن عدالت نے بار بار ریاستی دباؤ میں آکر کبھی کیس کو ہوم ڈیپارٹمنٹ منتقل کیا، کبھی مسترد کر دیا، اور اب بغیر کسی قانونی جواز کے مسلسل رہنماؤں کو ریمانڈ پر بھیجا جا رہا ہے۔ عدالت نے شہری آزادیوں کے مقابلے میں ریاستی مؤقف کو ترجیح دے دی ہے۔
انسدادِ دہشتگردی عدالت نے پولیس کی جانب سے کوئی واضح پیش رفت نہ ہونے کے باوجود بار بار ریمانڈ میں توسیع دی۔ ہماری قانونی ٹیم نے نشاندہی کی کہ انسدادِ دہشتگردی قانون (ATA) کے تحت 14 دن سے زائد جسمانی ریمانڈ صرف ٹھوس شواہد پر دیا جا سکتا ہے، لیکن اس قانونی حد کو نظرانداز کرتے ہوئے پہلے 10 دن، پھر 15 دن اور اب مزید 20 دن کا ریمانڈ دیا گیا ہے۔
بلوچستان میں عدالتیں انصاف فراہم کرنے کے بجائے عسکری خواہشات اور سازشوں پر عمل درآمد کر رہی ہیں۔ عدلیہ کا کام آئین اور قانون کا تحفظ اور شہریوں کو انصاف فراہم کرنا ہے، لیکن بلوچستان میں عدلیہ خود کالونیل دور کے طرز پر آئینی اصولوں کی دھجیاں اڑا رہی ہے اور جبر کے اس کھیل میں شریکِ جرم بن چکی ہے۔
ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کا واحد “جرم” یہ ہے کہ وہ پُرامن اور جمہوری اصولوں کے تحت بنیادی انسانی حقوق اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مگر ریاست نے ان پر دہشتگردی جیسے بے بنیاد الزامات عائد کر کے انہیں مجرموں کی طرح قید کر رکھا ہے۔ یہ طرزِ عمل بین الاقوامی انسانی حقوق اور انصاف کے تمام معیارات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ہم اقوامِ متحدہ، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بلوچستان میں جاری ریاستی ظلم و جبر اور عدالتی ناانصافی کے اس سلسلے کا فوری نوٹس لیا جائے۔
#ReleaseBYCLeaders
#StopBalochGenocide
2 اگست 2025 کو صبح دس بجے سانحہ بلوچ راجی مچی نوشکی کو ایک سال مکمل ہونے کی مناسبت سے شہداء کی قبروں پر حاضری دی گئی، چادر کشائی اور پھول نچھاور کیے گئے۔
سانحہ بلوچ راجی مچی 2 اگست 2024 کو پیش آیا، جب بی وائی سی کی جانب سے بلوچ راجی مچی پر ہونے والے غیر قانونی کریک ڈاؤن کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی پریس کلب نوشکی سے لے کر اسٹیشن تک نکالی گئی تھی۔ مظاہرین سے خطاب کے دوران آرمی اور ایف سی نے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں حمدان بلوچ موقع پر شہید ہو گئے جبکہ فضل بلوچ اور حکمت بلوچ شدید زخمی ہوئے۔ بعد ازاں حکمت بلوچ 13 ستمبر 2024 کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
اسی مناسبت سے 2 اگست 2025 کو شام چھ بجے جائے سانحہ (اسٹیشن نوشکی) پر ایک یادگاری تقریب منعقد کی گئی جس میں تمام شہداء کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ ان میں وہ شہداء بھی شامل تھے جو بلوچ راجی مچی تحریک کے دوران مختلف مقامات پر شہید ہوئے جن میں نصیر بلوچ (27 جولائی 2024 کو تلار میں فورسز کی فائرنگ سے شہید) اور اصغر بلوچ (28 جولائی کو گوادر میں فورسز کے سے شہید) شامل ہیں۔
نوشکی اسٹیشن کے مقام پر شہداء کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں ان کی تصاویر پر پھول نچھاور کیے گئے اور بی وائی سی کی جانب سے جاری کردہ پمفلٹ کو براہوئی زبان میں آڈیو کی صورت میں اسپیکر پر چلایا گیا۔
اس موقع پر جائے سانحہ پر ایک یادگاری بورڈ بھی نصب کیا گیا جسے شہداء چوک (شہدائے بلوچ راجی مچی چوک) کے نام سے منسوب کیا گیا۔
#BalochNationalGathering