صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں اپنے ناک کے نیچے سٹی نالہ کے کسی منشیات فروش کو بلوچستان پولیس فورس نے اس طرح سڑکوں پر نہیں گھسیٹا جس طرح اپنے حق کیلئے آواز بلند کرنے والے پروفیسرز گھسیٹے گئے۔ شیم محافظوں شیم
صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں اپنے ناک کے نیچے سٹی نالہ کے کسی منشیات فروش کو بلوچستان پولیس فورس نے اس طرح سڑکوں پر نہیں گھسیٹا جس طرح اپنے حق کیلئے آواز بلند کرنے والے پروفیسرز گھسیٹے گئے۔ شیم محافظوں شیم
اس قسم کے جج صاحبان پورے سسٹم کے لئے نفرت بڑھا رہے ہیں نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے غصے اور بے چینی کی وجہ اسی قسم کے طاقتور لوگ ہیں جن کو اپنی پکڑ پر بڑا ناز ہے یہ اللّٰہ کی پکڑ سے نہیں ڈرتے اور نیپال سے بھی سبق نہیں سیکھتے
اسلام آباد کی تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں کے بیچ، شہرِ اقتدار کی سڑکوں پر بلوچ مائیں اور جبری گمشدہ افراد کے لواحقین مسلسل دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ نہ انہیں خیمہ لگانے کی اجازت ہے، نہ سر پر کوئی چھت یا سائبان۔ اسلام آباد پریس کلب کی دیوار سے محض چند قدم کے فاصلے پر یہ احتجاج جاری ہے، مگر صحافیوں کو بھی قریب آنے اور ان کے درد کو دنیا تک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
یہ سب کچھ صرف امید اور حوصلے کے سہارے جاری ہے۔ تعداد میں یہ لواحقین چاہے کم ہیں، مگر ان کا وجود اور استقامت ہزاروں آوازوں سے زیادہ طاقتور ہے۔ گزشتہ48 دنوں سے وہ اسلام آباد کی سڑکوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ دھمکیوں، رکاوٹوں اور ہر طرح کی مشکلات کے باوجود ان کا احتجاج جاری ہے۔
ان ماؤں اور بہنوں کے حوصلے اس ریاست اور اس کے حکمرانوں کے لیے کھلا چیلنج اور شرم کا مقام ہیں۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ طاقت، دھوپ، بارش اور ظلم بھی ان کے عزم کو شکست نہیں دے سکے۔ یہ وہ زوردار طمانچہ ہیں جو اس گمان کو توڑ دیتا ہے کہ ان ماؤں کے حوصلے جھکائے جا سکتے ہیں۔
#ReleaseBYCLeaders
ایمان مزاری ہماری ایک طاقت ور کامریڈ اور آواز ہیں۔ یہ لڑکی وہ سپاہی ہے جو تنہا ایک آمریت کے خلاف لڑ رہی ہے۔ ہمیں اپنی اس دوست پر فخر ہے۔ یہ ہم سب کا ضمیر ہیں۔
@ImaanZHazir more power to you 🙌
میں بانی تحریکِ انصاف @ImranKhanPTI کی بہنوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے آج اسلام آباد میں ہمارے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا۔ ان کی حمایت اور بلوچستان کے عوام بالخصوص لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے ساتھ اظہارِ ہمدردی قابلِ قدر ہے۔
تاہم، میں تحریکِ انصاف @PTIofficial کی قیادت کو یاد دلانا چاہتی ہوں کہ یہ حمایت اور ہمدردی اُس وقت بھی قائم رہنی چاہیے جب آپ کے اپنے معاملات ملک کے بااختیار حلقوں کے ساتھ طے پا جائیں۔ ہمیں یاد ہے کہ محترمہ مریم نواز شریف اور دیگر اپوزیشن رہنما جب اپوزیشن میں تھے تو لاپتہ افراد کے کیمپوں کا دورہ کیا کرتے تھے مگر آج وہی افراد ان متاثرین کو روز نئے القابات سے نوازتے ہیں اور ان کی مخالفت میں پیش پیش ہیں۔
تحریکِ انصاف نے بھی اقتدار میں ہوتے ہوئے ایسے رویے اپنائے تاہم ہم اُن پرانے زخموں کو چھیڑنا نہیں چاہتے۔ ہم صرف یہی امید رکھتے ہیں کہ یہ موجودہ حمایت وقتی نہ ہو بلکہ آنے والے وقت میں بھی قائم و دائم رہے چاہے سیاسی حالات جیسے بھی ہوں۔
ماہ رنگ، اب تو درد بھی عید نہیں مناتا…
جب بابا زندہ تھے… تو بھی گویا ہم یتیم ہی تھے۔ وہ ہوتے ہوئے بھی ہم سے دور ہوتے، اکثر کسی سلاخوں کے پیچھے، کسی قید کی تاریکی میں۔ ہمیں ان کی غیر موجودگی کی عادت سی ہو گئی تھی، لیکن ان کی شہادت کے بعد… وہ کمی ایک چیخ بن کر ہمارے وجود میں گونجنے لگی۔
اور پھر، ماہ رنگ نے ہمارا ہاتھ تھام لیا، وہ خود بھی بچی تھی، آنکھوں میں خوابوں کے بجائے اندیشے تھے، دل میں ہنسی کے بجائے سوال تھے، اور کاندھوں پر بچپن نہیں، پورا خاندان رکھا تھا۔ وہ ہم سب کی بڑی بہن نہیں، گویا ہمارے شہید باپ کی روح تھی، جو کسی لڑکی کا روپ لے کر ہم میں زندہ رہی۔
ماں نے اپنی جوانی، اپنی ہنسی، اپنا سب کچھ ہمارے لیے قربان کیا، لیکن اگر ماہ رنگ نہ ہوتی… تو وہ صبر کی چادر بھی شاید کب کی پھٹ چکی ہوتی۔ وہ اکیلی لڑکی جو راتوں کو جاگتی، ماں کو سونے دیتی، ہم بہنوں کے ہاتھوں پر مہندی لگاتی، ہماری عیدوں کو عید بناتی، اور پھر صبح کے وقت بغیر سائے کی طرح سب کام سنبھال لیتی، جیسے وہ کوئی انسان نہیں، کوئی فرشتہ ہو، یا شاید ماں باپ دونوں کا مرکب۔
عید کے دن وہ گھر کے کام کرنے کی بعد پریس کلب کے سامنے چلی جاتی، دن بھر احتجاج میں مظلوم ماؤں کو سینے سے لگاتی، ان کے درد بانٹتی، ان کے آنسو پونچھتی، جیسے وہ صرف ان سب کے دکھوں کی وارس ہو، وہ اپنی زندگی اس اجتماعی درد کے لئے وقف کرچکی ہے۔
اب… جب وہ جیل میں ہے… تو ماں کہتی ہے:
“مجھے سمجھ نہیں آتا، میں کیا کروں… میری بچی ہوتی تھی تو سب سنبھال لیتی تھی…”
ماں، جو باپ کی شہادت پر بھی پتھر بنی رہی، آج ماہ رنگ کی کمی پر بکھر جاتی ہے۔ جیسے اب اس کی سانسیں بھی ماہ رنگ کی یاد پر چلتی ہیں۔
ماہ رنگ! تمہاری محبت، تمہاری قربانی نے ہمیں سہار دیا، مگر شاید اتنا سہارا دے دیا کہ اب تمہارے بغیر ہم بلکل بے سہارا ہو گئے۔
یہ دوسری عید ہے… اور ہم بس خالی آنکھوں سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہ جاتے ہیں… نہ خوشی، نہ رونق… نہ تم۔
اور تم جانتی ہو؟
وہ مائیں… وہ مجبور بہنیں… جو تمہیں دیکھ کر اپنا دکھ ہلکا کر لیتی تھیں، اب وہ اپنے درد اور تکلیف کے اظہار کے لئے بھی تمہاری راہ دیکھ رہے ہیں۔
اب تو ان کے آنسو بھی تمہیں ڈھونڈتے ہیں…
اور اب تو درد کی عید بھی نہیں ہوتی۔
#ReleaseMahrangBaloch
پاکستان سمیت دنیا بھر میں مسلمان عید کو عقیدت و احترام مہذہبی جذبے سے منا رہے ہیں مگر بلوچستان میں لوگ اس دن بھی گھر کے آنگن میں بیٹھے اپنے پیاروں کی عقوبت خانوں سے واپس لوٹ انے کی آس لگائے ہوئے ہیں
کوئی اپنے شوہر کوئی اپنے بھائی کوئی اپنے بیٹے تو کوئی بیٹی اپنے والد کے واپس زندان سے زندہ سلامت لوٹ آنے کی آس لگائے ہوئے ہیں۔ ۔اس بار تو ایک بہن بھی اپنے بھائی کے ساتھ جبری گمشدگی کا نشانہ بنائی گئی ہے تاحال لاپتہ ہے
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت 3MPO کے تحت پاپند سلاسل ہے
ہر سو ایک کرب کا عالم ہے ہر دوسرا گھر اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے ماتم کناں ہے
اور میں سمی دین بلوچ گزشتہ 16 سال اپنے والد کی بازیابی کے لیے جدوجہد کرتی ہوئی شاہد بھول گئی ہوں کہ عیدیں اور عید کی خوشیاں کیا ہوتی ہیں
بلوچستان جل رہا ہے مسخ شدہ لاشیں جعلی انکاؤنٹر کا سلسلہ 2014 کے بعد دوبارہ شروع کردیا گیا ہے
موجودہ حکمرانوں نے جبری گمشدگی کو اب کالے قانون کے تحت قانونی بنانے کا بل بھی پاس کردیا ہے جن وارداتوں نے بلوچستان کو اس نہج تک پہنچایا ہے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے انھیں زخموں کو کرید کر تازہ زخم دیے جارہے ہیں
#ReleaseBalochMissingPersons