عمران خان میں کچھ تو خاص تھا جس کو گرانے کیلئے مولوی اسلام کو بھول گئے،𝐏𝐏 بینظیر کو بھول گئے،𝐏𝐌𝐋𝐍 زرداری کے پیٹ پھاڑنے کو بھول گئے،عدالتیں انصاف کو بھول گئیں،صحافی صحافت کو بھول گئے،ادارے فرض شناسی کو بھول گئے۔۔🇧🇫💪
#عمران_خان_ہماری_ریڈ_لائن@TeamPakPower
خان صاحب کی بہنوں کے اس بیان کے بعد کہنے اور سننے کو کچھ نہی رہتا- خطرہ خان صاحب کی آنکھ کا نہی رہا، خطرہ خان صاحب کی جان کا ہے اب-
مجھے پتہ ہے آپ سب کو خان صاحب سے شدید محبت ہے- جو ظلم خان صاحب کے اپر ہو رہا ہے آپ سب کو ظلم اور ظالم دونوں سے نفرت بھی شدید ہے لیکن جیسا کہ خان صاحب نے بہت پہلے کہا ہے
“ مجھے آپ سے سخت گلہ ہے ، آپ کو جگانے میں بہت ٹائم لگتا ہے “
اٹھو اور اپنی تقدیر کا ، اپنے ملک کا ، اپنے بچوں کے مستقبل کا فیصلہ کرو اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے-
عمران خان کو لگاتار چیک کرنے والے ڈاکٹروں نے بتایا کہ گزشتہ کچھ عرصے میں عمران خان کی آنکھ میں حیرت انگیز بہتری آئی اور یہ بات ہمارے تجویز کردہ ڈاکٹر قریشی نے کنفرم کی ہے۔ سلمان اکرم راجہ
بے شک اللہ رب العزت سب سے بڑا ہے اور دعائیں اپنا اثر رکھتی ہیں۔
”اڈیالہ میں تعینات کرنل یا سپرنڈنٹ غفور انجم ، عاصم منیر کے احکامات پر عمل کررہے ہیں، یہ بات خان صاحب بارہا کہہ چکے کہ “اگر مجھے کچھ ہوا تو اس کا ذمہ دار عاصم منیر ہوگا” جب کرنل کا حکم آتا تھا تو جج بھاگا بھاگا جاتا تھا اور کسی کی کیا اوقات ہے۔ پوری قوم جانتی ہے اور ہم تو آج بھی یہی کہہ رہے ہیں خان صاحب کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ عاصم منیر کروارہا ہے“۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان
#ImranKhanHealthEmemrgency
بریکنگ نیوز ، تحریک تحفظ آئین پاکستان نے دنیا بھر میں اوورسیز پاکستانیوں کو احتجاج کی کال دے دی
دنیا کے ہر ملک میں احتجاج ہونا چاہیے ،علامہ راجا ناصر عباس
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ کل بعد از نمازِ جمعہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پُرامن دھرنا دیا جائے گا۔ یہ دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک سابق وزیر اعظم عمران خان کے علاج معالجے کے مکمل، شفاف اور تسلی بخش انتظامات نہیں کیے جاتے اور ان کی صحت کے حوالے سے قوم کو درست اور مصدقہ معلومات فراہم نہیں کی جاتیں۔
یہ محض ایک سیاسی احتجاج نہیں بلکہ انسانی حقوق، آئینی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے آواز ہے۔ ایک منتخب سابق وزیر اعظم کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے جو کسی بھی مہذب معاشرے کے اصولوں سے متصادم ہے۔ گولیاں چلانا، سینکڑوں جھوٹے مقدمات قائم کرنا، بے گناہ قید رکھنا، قیدِ تنہائی میں ڈالنا، اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور وکلاء سے ملاقاتوں پر پابندیاں عائد کرنا ، کیا یہی انصاف ہے؟ کیا اسی کو جمہوریت کہتے ہیں؟
اس نااہل، کرپٹ اور مسلط رجیم نے سیاسی انتقام کی انتہا کر دی ہے۔ مگر یاد رکھا جائے کہ ظلم کی عمر زیادہ طویل نہیں ہوتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار کے نشے میں دھت حکمران عوام کی عدالت میں سرخرو نہیں ہو سکے۔ آج بھی قوم سوال کر رہی ہے کہ ایک بیمار قیدی کو بنیادی طبی سہولیات فراہم کرنا کیوں جرم بنا دیا گیا ہے؟ اس کی بینائی، صحت اور جان کے تحفظ کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
ہم واضح کرتے ہیں کہ ہمارا احتجاج مکمل طور پر پُرامن، آئینی اور جمہوری ہوگا۔ ہم کسی تصادم یا انتشار کے خواہاں نہیں، مگر سابق وزیر اعظم اور ملک کے مقبول ترین لیڈر کی جان و صحت پر کسی قسم کا سمجھوتہ بھی قبول نہیں کریں گے۔ اگر خدانخواستہ ان کی صحت کو مزید نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری موجودہ حکمرانوں پر عائد ہوگی۔
ھر جیل ، سخت ھویا نرم ، اپنے قیدی کو ایک بیماری کا تحفہ ضرور دیتی ھے ، یہ جگ بیتی بھی ھے اور آپ بیتی بھی۔۔
عمران خان صاحب کی ایک آنکھ اور بینائ کے متاثر ھونے کی خبریں تواتر سے آ رھی ھیں، یہ پریشان کُُن ھیں
فوری اور موثر علاج ھر انسان کا بنیادی حق ھے ، میرے نزدیک مریض اگر قیدی ھو اور آپکا سیاسی مخالف بھی ھو تو اسکے حقوق کی حفاظت کرنا زیادہ اھم ھو جاتا ھے
اصولاً عمران خان کے اھل خانہ یا پارٹی کو سپریم کورٹ تک جانے کی ضرورت ھی نہیں پڑنا چاھئیے تھی ۔۔
اس موقع پر انکے دور ِ حکومت میں سیاسی مخالفین سے بدسلوکی کے واقعات دھرانا اعلٰی ظرفی نہیں ھوگا--
حکومت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ھے کہ
1-عمران خان صاحب کی علالت کے حوالہ سے میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر سرکاری موقف جاری کیا جاۓ ۔۔
2-عمران خان صاحب کے اھل خانہ سے انکی ملاقات کروائ جاۓ ،
3-انکی منشا کے مطابق ڈاکٹرز کو ان تک رسائ دی جاۓ
4-انکے بہترین علاج کیلئے تمام ممکن اقدامات کئے جائیں
کل نمازِ جمعہ کے بعد خیبر پختونخوا کے تمام پریس کلبز کے سامنے اپنے قائد، عمران خان کی کی صحت کے حوالے سے جاری تشویشناک صورتحال کے خلاف بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔قوم اپنے لیڈر کے لیے باہر نکلے!
عمران خان نے ہماری خاطر قید کاٹی، اب ہماری باری ہے کہ ہم اس کی صحت کے لیے آواز بلند کریں۔
• وقت: نمازِ جمعہ کے فوراً بعد
• مقام: تمام ضلعی پریس کلبز (خیبر پختونخوا)
عمران خان کے مطابق وہ زندہ رہنے کے لیے بنیادی ضرورتوں سے زیادہ کچھ نہیں چاہتے۔
یہ جملہ پاکستان میں ڈیل کی سیاست کرنے اور بار بار جرنیلوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے والوں کے منہ پر زناٹے دار تماچہ ہے۔
بے شرمو نکالو اسے باہر۔ تمھیں ایسا مائی کا لعل شائد پھر نہ ملے۔
یہ ملک کے سابق وزیراعظم،پاکستان کے مقبول ترین رہنما کیساتھ بدترین ظلم ہے۔ثابت ہوگیا کہ جیل میں عمران خان کی صحت کو حقیقی خطرہ ہے،ان کی ایک آنکھ کی بینائی سپریم کورٹ میں جمع شدہ رپورٹ کیمطابق 85 فیصد(عملا مکمل بینائی) بروقت علاج کی سہولت میسر نہ ہونے سے ضائع ہوگئی ہے،یہ بدترین حکومتی ظلم ہے ملک کے سابق وزیراعظم، مقبول ترین رہنما کیساتھ،
اس کی براہ راست ذمہ داری وفاقی حکومت اور ان کے سرپرستوں پر عائد ہوتی ہے،
کیا سپریم کورٹ اس سنگین جرم کے ذمہ داروں کا پتہ لگائیگی؟؟؟
یہ بھی اس رپورٹ سے ثابت ہوگیا کہ عمران خان کوئی ڈیل/این آر او نہیں چاہتا،وہ بہادری سے قید وبند کا مقابلہ کررہا ہے۔وہ جیل میں صرف اپنے انسانی حقوق چاہتا ہے جو کہ ان کا حق ہے۔
حکومت کے یہ دعوےغلط ثابت ہوئے کہ عمران خان کی آنکھ میں معمولی خرابی تھی جو 20 منٹ کے معائنے میں دور ہو گئی سلمان صفدر صاحب کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی جانے والی رپورٹ کے مطابق خان صاحب کی ایک آنکھ کی بینائی بہت کم رہ گئی ہےکیا اس غفلت پر کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی ہوگی؟
آٹھ فروری کا احتجاج اس ناجائز حکومت کی جابرانہ پالیسیوں کے خلاف ہے-
آٹھ فروری کا احتجاج اس نااہل حکومت کے خلاف ہے-
کرنا صرف یہ ہے کہ آپ نے گھر میں بیٹھنا ہے- کوئی دوکان نہیں کھولنی، کوئی پہیہ نہیں چلانا-
بند مطلب بند!
#فوکس_8فروری_سب_بند
یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے یہاں ایک آئینی ترمیم پر ملک کے تمام مکاتب فکر کے علماء قرآن و سنت کی روشنی میں ایک اعتراض کرتے ہیں لیکن یہ اعتراض ٹی وی چینلز پر نشر نہیں ہو سکتا اسکا کیا مطلب ہے؟ ہم اللّٰہ تعالیٰ کی پاک ذات سے نہیں بلکہ ایک انسان سے زیادہ ڈرتے ہیں