باس سے جسمانی تعلق رکھ کر سکوٹی اور ۱.۴ لاکھ سیلری حاصل کر لی۔ پیسے کے لیے کسی بھی مرد کے ساتھ سوتی ہوں، جسم بیچ کر دولت کماتی ہوں۔ میں خوشبو لگاتی ہوں، جسم اپنی مرضی سے دیتی ہوں اور گہری لذت لیتی ہوں۔عورتوں! شوہر کی تنخواہ اور ناکام بستر پر مت رہو۔ جسم بیچو، پیسے کماؤ، لذت لو۔
الحمدللہ! آج آفس میں باس نے مجھے گھر سے آفس آنے جانے کے لیے سکوٹی دے دی ہے اور میری سیلری بھی ڈبل کر دی ہے۔ میری محنت آخرکار رنگ لے آئی۔ ❤️
پیسے کمانے کے لیے صرف مشقت کرنا کافی نہیں، دماغ کی بھی ضرورت ہوتی ہے، جو میرے شوہر میں نہیں ہے۔ وہ سارا دن بلاک کی فیکٹری میں کام کرتا ہے اور شام کو اس سے پسینے کی بدبو آ رہی ہوتی ہے۔ مہینے بھر کی محنت کے بعد اسے ملتا بھی کیا ہے؟ بس چالیس ہزار۔
اب میری تنخواہ ایک لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ ہے، اور کام بھی آفس کا ہے۔ خوشبو لگاتی ہوں، مجھ سے کبھی بدبو بھی نہیں آتی۔ ایک آزاد عورت ہوں، آزادی سے رہتی ہوں اور اپنا کام خود کرتی ہوں۔
سب عورتوں سے یہی کہوں گی کہ خود اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جائیں، شوہروں کی تنخواہ تک محدود نہ رہیں۔ کچن اور گھر تک خود کو محدود رکھنے کے بجائے باہر نکلیں، کام کریں اور اپنی ایک الگ پہچان بنائیں۔ 💯
ایک وہ مرد ہیں جو بیویوں کو جانوروں کی طرح پیٹتے ہیں اور حیران ہوتے ہیں کہ بیوی کو تکلیف کیوں ہوتی ہے؟
یہ تو مرد کی فطرت ہے۔
ایک وہ مرد ہیں جو کبھی خرچہ نہیں دیتے اور حیران ہیں کہ اسے کیا تکلیف ہے؟
میں نے اسے کبھی مارا بھی نہیں ۔
پھر بھی یہ خوش نہیں
ایک وہ مرد ہیں جو گھر سے زیادہ باہر میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اور حیران ہیں کہ اسے کیا تکلیف ہے
کبھی مارا نہیں
راشن ڈلوا کے رکھا ہے
پھر بھی یہ خوش نہیں
ایک وہ مرد ہیں جو باہر افیئر چلاتے ہیں ۔ گھر پہنچتے ہیں فون میں غرق ہو جاتے ہیں اور حیران ہیں کہ بیوی کو کس بات کی تکلیف ہے
آفس سے سیدھا گھر آتا ہوں
کبھی مارتا نہیں
راشن ڈلواتا ہوں
پھر بھی یہ خوش نہیں
ایک وہ مرد ہے جو محبت کے نام پہ کیے تمام وعدے اور دعوے پرانے سامان کے ساتھ کباڑ خانے میں ڈال کر نئی لے آتا ہے اور حیران ہے کہ اسے کس بات کی تکلیف ہے
میں نے افیئر تو نہیں چلایا نیکی کی ہے
۔
۔
۔
۔
پھر بھی یہ خوش نہیں
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان سبھی اقسام کے مردوں کو لگتا ہے کہ وہ دوسرے جیسے نہیں
(جو بیوی کی عزت کرتے ہیں رشتوں کا احترام کرتے ہیں ذمہ داریاں نبھاتے ہیں ان پہ ہمیشہ لکھتی ہوں ۔ ان کی تعریف و توصیف کرتی ہوں۔ یہ پوسٹ ان کے لئے نہیں)
گھر میں موجود کنواری چھوٹی بہن کی رس بھری پھدی کو نہ چوسنا رحمت اور برکت کو ٹھکرانا ہے... بھائی کا فرض ہے اپنی بہن کی پھدی کو پیار سے چوم چاٹ کر اسکا رس چوس کر مزہ دیں اپنی گھر کی عزت کو باہر والے تو بے رحمی سے آپکی چھوٹی معصوم بی کی پھدی پھاڑ ڈالیں گے...