“If anyone is doing politics that has some impact in Balochistan,then that’s the Baloch students,but they face a lot of issues: There’s [the] academic burden,[and a] lack of facilities,”said Dr. Sabiha Baloch, chairperson of Baloch Student Action Committee https://t.co/A8nK0Mn6Rb
@DrShakilBaloch یہ ہیں وہ دوغلے اور منافق انسان جو ریاستی کیمپ میں سرینڈر ہوئے،ریاستی آلاکار بنےاور پھر تنظیم پر الزامات لگاتے رہے۔ یہ ریاستی دلال ہیں جو ہفتے پہلے پروپیگنڈہ کر رہے تھے کہ مرکزی چیئرپرسن نے استعفی دیا اور اب آ کے ایسے بیان دیتے ہیں۔
زامز کی لاش کو تو آپ کے لیڈر ذاتی مفادات کی حصول کے بعد اٹھا کر لے گئے ہیں۔ اب کسی کے ذاتی مفادات کے سامنے قومی مفادات کا گلا تو گھونٹا نہیں جا سکتا۔ معذرت
چند لوگوں کے درمیان سڑک پہ پڑی معصوم رامز کی لاش پہ آج بلوچستان میں بلوچ سیاست کے بیشتر علمبرداروں نے ایسی شرمناک اور مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے گویا معصوم رامز کسی بلوچ ماں کا جگر گوشہ نہیں تھا۔ اگر سیاست اِسی غلاظت اور نفرت کا نام ہے تو اِس قابلِ نفرت سیاست سے پناہ۔۔۔۔۔
@Habib_Kareem_ واجہ گُڈا وھدے بلوچستان ریاست بیت ءُ قبضہ گیر دستءَ چہ در کئیت بلوچ لس مھلوک وت ڈیفائن کنت کہ کجام سیاسی ءُ معاشی نظام زورگی اِنت۔ شما بلوچستان آزادی جہدءَ مئے گوما گون بہ بئیں وھدے کہ آزاتی گِپتگ گُڈا من ءُ تو آوار سوشلسٹ انقلاب جہد کناں۔
@Habib_Kareem_ باقی ایسا ڈیمانڈ دکھائیں جو جنرلائز ڈیمانڈ ہوں۔ ایسا ڈیمانڈ جو ظریف کے گھر کی چار دیواری سے باھر کسی کو آسرا دے۔ ظریف ذاتی مفادات نکال کر رفو چکر ہوگئے باقی زامران، بلیدہ، کیچ ، بلوچستان والے بھاڑ میں جائیں۔
@Habib_Kareem_ اگر ڈیمانڈ زاتی تھے تو اس کو قومی مسلا بنا کیوں پیش کیا گیا۔ تاج بی بی کی بات کی گئی کلثوم پر بات کی گئی اور فورسز کے دیگر ظلم وستم پہ بات کی گئی پر بات نہیں کی گئی تو یاسر ظفر پر نہیں کی گئی۔یہاں تضاد کیوں؟؟ جب مذاکرات کیے گئے تو ظریف خود کے حفاطت کی سرٹیفکٹ لے کے گئے ہیں۔